چڑیا والے پنکچر بابا کی نوٹنکی سے لاہور پنکچر

12,114

ایک حکایت ہے کہ ایک آدمی کسی راستے سے گزر رہا تھا۔ اس نے ایک بھوک سے نڈھال بندر دیکھا۔ اس شخص کو ترس آیا اور بندر کو اپنے ساتھ لے لیا۔ اس کو کھانا کھلایا۔ کھانا کھاتے ہوئے بندر کے منہ پر مکھیاں بیٹھنے لگیں۔ اس شخص نے ایک چھڑی پکڑی اور اس کو آہستہ سے بندر کے منہ پر رکھا جس سے مکھیاں اڑ گئیں۔ کھانے کے بعد تپتی گرمی میں آدمی نے سوچا کہ کچھ گھڑی کیلئے نیند لے لوں۔ وہ ایک درخت کے نیچے لیٹ گیا۔ سوتے ہوئے کچھ مکھیاں اس شخص کے چہرے پر بیٹھنا شروع ہو گئیں۔ جب بندر نے دیکھا کہ مکھیاں اس کے محسن کے چہرے پر بیٹھ رہی ہیں۔ اس کو فوراً وہ عمل یاد آگیا جو کچھ دیر پہلے اس کے ساتھ ہوا تھا۔ بندر کیوں کہ جانور تھا اس کو اتنی عقل نہیں تھی۔ قریب ہی ایک ڈنڈا پڑا ہوا تھا۔ بندر نے وہ ڈنڈا اٹھایا اور مکھیاں اڑانے کی خاطر زور سے اس شخص کے چہرے پر مارا اور وہ وہیں دم توڑ گیا۔ اس حکایت کا اخلاقی سبق یہ ہے کہ نادان کی دوستی ہمیشہ خسارے اور گھاٹے کا سودا ہوتا ہے۔

اس حکایت کو پڑھ کر راقم کو چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کی یاد آگئی جن کی بے وقوفی اور ضد کی وجہ سے ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والا شہر لاہور گزشتہ کچھ دنوں کے لیے بند ہو کر رہ گیا تھا۔ راقم نے ورلڈ الیون کی آمد پر ایک کالم بعنوان ‘نجم سیٹھی بمقابلہ سنی لیون’ لکھا تھا جس کے بعد گمان تھا کہ شاید نجم سیٹھی کو کچھ ہوش آ ہی جائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔ میری ناقدین سے گزارش ہے کہ اُس کالم اور موجودہ کالم کو بغور پڑھیں تاکہ کہ تعریف و تنقید کرتے ہوئے آپ کو دقت نہ پیش آئے۔

میں ایک مزدور ہوں۔ روز دیہاڑی کرتا ہوں۔ پورا دن محنت کرکے اپنی روزی کماتا ہوں۔ شام کو پیسے بیوی کو لاکر دیتا ہوں۔ وہ سالن روٹی بناتی ہے اور سب گھر والے کھانا کھا کر رب کا شکر ادا کرتے ہیں۔ پھر اگلی صبح اٹھ کر نئی روزی کی تلاش میں نکلتا ہوں۔ مگر آج تو سنا ہے کہ لاہور میں کرکٹ کا میچ ہو رہا ہے۔ سڑکیں بند ہیں۔ میں گھر سے تو نکل پڑا ہوں لیکن اندر سے ڈر رہا ہوں کہ میچ کی وجہ سے شاید مجھے دیہاڑی نہ ملے۔ ایسا ہوا تو آج کسی دوست سے 50 روپے ادھار مانگ لوں گا۔ ایک کلو آٹا لے لوں گا۔ ایک پودینہ کی گٹھی لے لوں گا۔ اس کی چٹنی سے روٹی کھالیں گے۔

کل میچ نہیں ہوگا۔ کل دیہاڑی لگی تو وہ 50 روپے قرض واپس کر دوں گا۔ میں تو چٹا اَن پڑھ ہوں مگر ایک سوال اٹھ رہا ہے دماغ میں۔ اگر پورا شہر بند کرکے لاکھوں افراد کی روزی روٹی پر لات پر مار کر میچ کرایا جا رہا ہے تو کیا ہے ٹھیک ہے؟ پر سوال سے کیا ہوتا ہے میرے جیسے غریب کی کس نے سننی ہے۔

میں ایک ملازمت پیشہ شخص ہوں۔ میں مارکیٹنگ کا کام کرتا ہوں۔ سارا دن موٹر سائیکل پر شہر بھر میں پھرتا ہوں۔ میرا دفتر مجھے ایک ماہ کا پٹرول دیتا ہے۔ لیکن تنخواہ نہیں دیتا۔ میں جتنی مارکیٹنگ کرتا ہوں اس پر مجھے کمیشن ملتا ہے۔ ایک دن کا کمیشن کبھی 500 روپے تو کبھی 700 بن جاتا ہے کبھی محنت کے باوجود 100 یا 200 روپے ملتے ہیں۔ آج بھی گھر سے نکل رہا ہوں۔ مگر کچھ زیادہ پریشان ہوں۔ سنا ہے آج لاہور میں میچ ہورہا ہے۔ ٹی وی پر تو بڑے بڑے لوگ آکر کہتے ہیں کہ کرکٹ آگئی ہے۔ اس بار بہتر انتظامات ہیں، سڑکیں کھلی رہیں گی۔ مگر سب جھوٹ ہے، ایک ایک کلومیٹر کیلئے تین تین گھنٹے تک ٹریفک پھنسی رہتی ہے۔ کہتے ہیں کہ اسٹیڈیم کے اطراف کی سڑکیں بند ہیں۔ لیکن اسٹیڈیم بھی تو شہر کے مرکز میں ہے۔ چاروں طرف سے آنے والی لاکھوں گاڑیاں اور موٹرسائیکل نکلیں کدھر۔ آج تو بجلی کے بل کی بھی آخری تاریخ ہے۔ آج تو ہر صورت کمیشن بنانا ہے۔ ویسے پورا شہر بند کرکے دنیا کو کیوں پیغام دیا جا رہا ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے؟ چلو کیا فرق پڑتا ہے، میں تو ایک غریب آدمی ہوں۔ میرے بولنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟

میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ آج میری بیٹی کا نویں جماعت کا بورڈ کا پیپر ہے۔ دوپہر کو پرچہ ہے۔ میں نے باس سے چھٹی مانگی مگر اس نے کہا دفتر آؤ، دوپہر کو آدھی چھٹی لیکر بیٹی کو چھوڑ آنا۔ میں دفتر میں موجود ہوں۔ گھر 6 کلومیٹر دور ہے۔ اور آج رات کو لاہور میں میچ ہے۔ مگر تمام ٹریفک سیکورٹی کے نام پر ابھی سے ان علاقوں میں بین کر دی گئی ہے۔ میری بیٹی کے مستقبل کا سوال ہے۔ یا اللہ مجھے گھر پہنچنا ہے۔ گھر میں کوئی بھی نہیں، بیٹی اکیلی بھی پیپر دینے نہیں جا سکتی۔ میچ کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی۔ رکشے ٹیکسی کوئی بھی گاڑی ان علاقو ں میں جانے کیلئے تیار نہیں کیونکہ آج میچ ہے۔ کیا میچ اتنا ضروری ہے کہ ڈیڑھ کروڑ عوام کی خوشیوں اور مصروفیات کو قید کر کے ایک آزاد اور پرامن ملک کا تاثر دیا جائے؟ خیر میرے کہنے سے کیا ہوتا ہے میں ایک معمولی آدمی ہوں۔

والد صاحب کو گلے کا کینسر ہے۔ ان کا آپریشن ہونا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے فوری آپریشن کی ضرورت ہے۔ ان کی طبیعت بہت خراب ہے۔ ہسپتال ہے تو کچھ ہی دور مگر آج تو میچ ہے۔ میرے پاس گاڑی نہیں۔ ایک ٹیکسی منگوائی ہے۔ پچھلے تین گھنٹے سے ادھر ادھر گھوم رہا ہوں اپنے والد کو ٹیکسی میں لیکر مگر ہسپتال جانے کیلئے راستہ ہی نہیں مل رہا۔ ہر سڑک اور ملحقہ گلیوں میں ٹریفک جام ہے۔ قناتیں لگا کر اور خار دار تاریں لگا کر راستے بند کیے ہوئے ہیں ۔ ٹیکسی میں والد صاحب کی حالت بھی خراب ہو رہی ہے۔ وہ شوگر کے مریض بھی ہیں۔ ان کو واش روم جانے کی حاجت ہو رہی ہے مگر یہ سب ٹیکسی میں کس طرح ہو۔ یہ نجم سیٹھی کتنا بے حس ہے۔ دنیا کو ٹی وی کے ذریعے پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان آئو اور دیکھو پاکستانی کتنے پرامن ہیں۔ نجم سیٹھی اپنی عوام کا گلا گھونٹ کر کونسا امن قائم کیا جاتا ہے؟ تمہیں کسی بیمار یا مجبور کا احساس نہیں؟ جی چاہتا ہے تمہارا خون پی جاؤں۔ اگر میری جگہ نجم سیٹھی تم ہوتے اور تمہارا بزرگ بیمار باپ یوں موت اور زندگی کی کشمکش میں ہوتا تو میں پوچھتا کہ کرکٹ کتنی ضروری ہے۔ مگر کیا کروں میں ایک مڈل کلاس ہوں۔ میرے کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔

میں ایک پولیس اہلکار ہوں میری تعیناتی ضلع خانیوال میں ہے۔ میں ڈیوٹی کیلئے لاہور میں موجود ہوں کیونکہ آج لاہور میں کرکٹ میچ ہے۔ سنا ہے اسٹیڈیم میں 26 ہزار تماشائی ہوں گے اور میچ کیلئے 18 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ اتنی زیادہ سیکیورٹی دے کر ہم کیا ثابت نہیں کر رہے کہ ہم واقعی ایک غیر محفوظ ملک ہیں۔ ہمیں ایک میچ کرانے کیلئے 18 ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہے، اس سے زیادہ غیر محفوظ ہونے کی نشانی اور کیا ہوگی۔ سنا ہے بابا نجم سیٹھی کو نواز شریف نے انعام دیا ہے اور چیئرمین بنوا دیا ہے۔ عمران خان تو کہتا ہے 35 پنکچر کا انعام ہے۔ اللہ جانے کیا ہے۔ مگر دیکھو میں تو اپنی ڈیوٹی کر رہا ہوں، عوام راستہ مانگنے کی ضد کر رہے ہیں اور گالم گلوچ کر رہے ہیں۔ آخر یہ مجھے کیوں گالیاں دے رہیں ہیں، میں بھی تو ان کی طرح غریب آدمی ہوں۔ گالی دینی ہے تو ان کو دو جنہوں نے یہ تماشا لگایا ہے۔

میں ایک شادی شدہ خاتون ہوں۔ میرے میاں فوت ہوگئے ہیں۔ چار بچوں کی پرورش کر رہی ہوں۔ ان کا مستقبل بنانے کیلئے رزق حلال کما رہی ہوں۔ روزانہ کی بنیادوں پر فیکٹری میں کام کرتی ہوں۔ آج میں بیمار ہوں اور موسم بھی خراب ہے۔ 250 روپے دیہاڑی ملی ہے۔ میرا گھر فیکٹری سے 8 کلومیٹر دور ہے۔ آج تو کوئی وین ہی نہیں مل رہی۔ سنا ہے آج کرکٹ کا میچ ہو رہا ہے لاہور میں۔ بارش ہورہی ہے۔ میں بیمار ہوں اور بارش میں بھیگتی اپنے گھر جا رہی ہوں پیدل۔ کوئی سواری ہی نہیں مل رہی۔ یہ کیسے بڑے لوگ ہیں جن کو کسی غریب کا خیال نہیں، کسی کی مجبوری کا خیال نہیں۔ ایک میچ کا بھلا ہم غریبوں سے کیا تعلق۔ کہتے ہیں میچ ہوگا تو پاکستان کا نام ہو گا۔ بھلا میری جیسی غریب کو اس سے کیا فائدہ۔ مجھے تو فیکٹری سے 250 روپے ہی دیہاڑی ملے گی۔ مجھے میچ کا کیا فائدہ؟ خیر میرے کوسنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ غریب کی یہاں کون سنتا ہے۔ بڑے لوگوں کیلئے تو غریب کیڑا مکوڑا ہی ہوتا ہے۔

معزز پاکستانیو! شاید 21 کروڑ کی آبادی میں زیادہ تر لوگ اس کو نہ سمجھ سکیں کیوں کہ میچ صرف لاہور میں ہی ہو رہے ہیں اور اب کراچی میں ہونے جا رہے ہیں۔ آپ ٹی وی اور میڈیا پر سب اچھا کی تصویر دیکھتے ہیں۔ میرا مؤقف یہ ہے کہ سالانہ نہیں بلکہ سال میں 365 دن پاکستان میں کرکٹ میچ کراؤ، ہاکی میچ کرائو اور جو مرضی کرائو۔ ایک طرف دیکھا جائے تو قذافی اسٹیڈیم میں 26 ہزار تماشائیوں کی گنجائش ہے۔ اور لاہور کی آبادی ڈیڑھ کروڑ۔ جس روز میچ ہوتا ہے اس روز اسٹیڈیم کے علاوہ پورا لاہور مسائل ہی مسائل کا شکار ہوتا ہے۔ مریض، خواتین ، بیمار، بوڑھے، طالب علم، ملازمت پیشہ، ہر شخص ٹریفک مسائل سے گزرتا ہے۔ اس روز اکثریت اپنے روزگار سے محروم ہوتا ہے۔

عمران خان کا الزام تھا کہ 2013ء الیکشن میں نجم سیٹھی نے بطور نگران وزیراعلیٰ پنجاب 35 سیٹ نواز شریف کو جتوائیں۔ اور اس کو 35 پنکچر کا نام دیا۔ یہ تو شاید الزام ہی تھا پتہ نہیں سچ تھا یا جھوٹ۔ لیکن ایک بات سو فیصد ٹھیک ہے کہ نجم سیٹھی نے کرکٹ کے نام پر لاہور کو پنکچر کر دیا ہے۔

ایک ہی راگ آلاپ دیا جاتا ہے کہ دنیا کو پاکستان کی پر امن تصویر دکھائو۔ میرا صرف یہ کہنا ہے جو اصل تصویر ہے وہی دکھائو۔ میچ تفریح کا ذریعہ ہوتا ہے، ایک فیسٹیول ہوتا ہے۔ اس شہر کیلئے خوشیوں کا پیغام ہوتا ہے۔ یہاں زبردستی کی خوشحالی دکھائی جاتی ہے۔ کوئی شخص 50 سال ڈرائیونگ کرتا رہے اور کہے کہ اتنے تجربے کے بعد میرا ایکسیڈنٹ نہیں ہوسکتا تو یہ جھوٹ ہے۔ پاکستان میں ابھی مکمل دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہوا۔ کچھ دن پہلے رائیونڈ دھماکا اس کی مثال ہے۔ اللہ کرے یہ پورا ایونٹ اور ویسٹ انڈیز کا دورہ بھی کامیابی سے مکمل ہو لیکن ذرا ایک لمحے کیلئے سوچیں کہ اگر اس دوران سانحہ سری لنکن کرکٹ ٹیم جیسا کوئی واقعہ رونما ہو گیا تو پھر پاکستان کرکٹ کتنے سال پیچھے چلی جائے گی۔

ایک بات میں مکمل ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں اور جتنے سپورٹس صحافی ہیں وہ بھی میری بات کی سچائی کی گواہی دیں گے کہ چھوٹی ٹیموں کے دورہ پاکستان کی پیش کش پہلے بھی موجود تھی مگر اس وقت کے چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ، ذکا اشرف نے حامی نہیں بھری۔ کیوں کہ ان کو بھی پتہ تھا کہ پاکستان میں ابھی سیکیورٹی کی تسلی بخش صورتحال نہیں۔ اس پیشکش کو نجم سیٹھی نے قبول کر لیا اور سہرا لیا کہ انہوں نے کرکٹ بحال کرادی۔ چلو سہرا تو سجا لیا اپنی اچھائی کا مگر جو چیئرمین پی سی بی کی ڈھٹائی کی وجہ سے ڈیڑھ کروڑ لاہوریوں کو کرب اور تکلیف کا سامنا ہے اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ آپ تو نواز شریف کے منظور نظر ہو کر چیئرمین پی سی بی بن گئے۔ آپ کے ساتھ تو پروٹوکول ہی ہے تو آپ کو لاہور اچھا ہی لگنا ہے۔ ان سے پوچھیں جو 5، 5 گھنٹے سڑکوں پر میچ کی وجہ سے بارش میں زبردستی بھیگنے پر مجبور تھے اور آپ کو صلواتیں سنا رہے تھے۔

پہلے جنگیں ہوتی تھیں۔ سپاہی لڑ کر شہید ہوتے تھے۔ قومیں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی تھیں۔ جو عام لوگ جان قربان کرتے وہ بھی شہید کہلاتے مگر اب اشرافیہ نے شہید کیلئے بھی کئی اصطلاح متعارف کرادی ہیں۔ جیسے پی ایس ایل میچ ہورہا ہے۔ اس دن ٹریفک کے رش میں پھنس کر جو مریض ایمبولینس میں دم توڑ گیا وہ ملک میں امن کی بحالی کیلئے جان دینے والا ‘شہید ‘ ہے۔ جو طالب علم میچ کی وجہ سے اپنا بورڈ کا پیپر دینے سے رہ جاتا ہے اور فیل ہو جاتا ہے۔ اس کا فیل ہونا بھی ملک و قوم کیلئے ‘قربانی ‘ ہے۔ جس مزدور کا روزانہ کی بنیاد پر چولہا چلتا ہے، جس دن میچ کی وجہ سے اس کی دیہاڑی نہ لگے اور اس کے بیوی بچے اس روز فاقہ کریں، ان کا فاقہ ملک و قوم کیلئے ‘قربانی ‘ ہے۔

طاقت اور دولت کا اپنا نشہ ہوتا ہے۔ اس میں بے ضمیر اور نااہل شخص اپنی اوقات سے باہر ہوجاتا ہے۔ نجم سیٹھی صاحب بطور صحافی ٹی وی پر آکر اپنی چڑیا کے ذریعے ملک کے ساتھ کھلواڑ کرتے تھے۔ اب چیئرمین پی سی بی بن کر عملی طور ڈیڑھ کروڑ لاہوریوں اور اب دو کروڑ کراچی والوں کو پنکچر لگا رہے ہیں۔

اگر ان صاحب میں تھوڑی سی بھی عقل ہے تو آئندہ میچ کرانے سے قبل ایسی حکمت عملی بنائیں جس سے ڈیڑھ کروڑ عوام ان کو ‘یاد ‘ نہ کریں وگرنہ ڈیڑھ کروڑ عوام میں سے کوئی تو ایک ایسا مظلوم ہوگا جس کی ہائے اس پنکچر بابا کو لگ جائے گی۔

یہ نہ سمجھا جائے کہ میری چڑیا والے بابا جی سے کوئی ذاتی دشمنی ہے۔ جس روز یہ ایک ایسا میچ کرائیں گے جس کی وجہ سے اس شہر کے عوام خوش ہوں گے تو یہی راقم ان کی تعریف میں بھی کالم لکھے گا۔ لیکن ان صاحب کی حرکات و سکنا ت سے لگتا ہے کہ ہنوز دلی دور است۔ قوم کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کے بارے میں صرف یہی رائے ہے

داغ دل گر نظر نہیں آتا
بُو بھی اے چارہ گر نہیں آتی

مرتے ہیں آروز میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی

کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی ! ! !

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

56 تبصرے

  1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    انتہائی ناقص اور غیر حقیقی بلاگ. پتہ نہیں کون اس بےوقوف کو لکھنے کی اجازت دیتا ہے. اس چڑیے کو اتنا نہیں پتہ کہ سیکورٹی دینا یا راستے بند کرنا نجم سیٹھی کا کام نہیں. نجم سیٹھی کا کام کرکٹ پاکستان لانا تھا اور اپنا کام وہ اچھی طرح کر رہا ہے. کینسر کی بیماری والد کو اسی روز تشخیص ہوئی تھی اور میچ کے دوران ہی علاج ہونا تھا؟ ایک سے ایک پھوہڑ مثال دی ہے. تبھی 2000 سے اب تک جہان سے چلے تھے وہیں کھڑے ہو. تمھارے ساتھ کے تو اب تک کہاں کے کہاں پہنچ گئے . مفر تمھاری ترقی نہ ہوئی تم سب ایڈیٹری ہی کرتے جانا تادم مرگ. بے عقل ترین انسان

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      جاوید صدیقی صاحب لگتا ہے آپ بے حد صدمے میں ہیں ۔ کمنٹس سے لگتا ہے آپ نجم سیٹھی کے پی اے رہ چکے ہیں ۔ نجم سیٹھی کا کام کرکٹ لانا ہے ۔باقی سیکورٹی دوسروں اداروں کا م ہے ۔ بالکل آپ کو ایک اور پھوہڑ سی مثال دیتا ہوں ۔ آپ کے گھر میں فاقے پڑے ہوں ۔آپ کمائی نہیں کر رہے ہوں آپ کی جیت میں پھوٹی کوڑی تک نہ ہو اور آپ گھر مہمان لے آئیں 15 سے 20 اور اپنی بیوی سے کہیں کہ مزیدار سا کھنا پکاؤ کیوں کہ کھانا پکانا تمہاری ذ٘مہ داری ہے ۔ جناب والا آپ اپنی بیوی کو اسی صورت روٹی پکانے کا کہیں گے اگر گھر میں کچھ کما کر سودا سلف بھی ڈالیں گے ۔ اگر بے روزگار ہو کر بھی مہمان لائیں گے تو آپ کی بے عزتی ہی ہونی ہے ۔ امید ہے شاید اب آپ سمجھ جائیں گے ۔ میچ کراو لیکن پہلے موافق حالات پیدا کرو ۔ اور دوسری بات یہ کہ لاہور کے کسی بھی پرانے صحافی سے میرے بارے میں معلومات لے لیں ، لاہور پریس کلب اور پاکستان یونین آف جرنلسٹ بڑے فورم ہیں ۔وہاں جا کر میرے بارے میں پتہ چل جائے گا ۔ دوسری بات یہ کہ دنیا کا بڑے سے بڑا صحافی بھی سب ایڈیٹر ہوتا ہے ۔ کیوں کہ جو سب ایڈیٹر نہیں وہ صحافی نہیں ۔ اور اس سے اگلی بات یہ کہ میں آج سے 12/13 سال پہلے سب ایڈیٹر تھا آج نہیں ہوں ۔ الحمد للہ بہت اچھی پوسٹ ہے جو آپ کو بتانا ضروری نہیں ۔ کمنٹس کیلئے شکریہ

      1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

        واقعی پھوہڑ مثال ہے. کیا فاقے ختم کرنے نجم سیٹھی کی ذمہ داری ہے؟ کیا افغانستان، سری لنکا،ویسٹ انڈیز، انڈیا کی اکانومی بہت مضبوط ہے؟ ان کو اس لئے کرکٹ نہیں کھیلنی چاہئے کیونکہ وہاں فاقے ہیں؟ جیسے آپ نے بلا تحقیق آپ کی پوسٹ پسند نہ کرنے پر مجھ پر الزام لگا دیا یہی آپ اپنی پوسٹ کے ساتھ کررے ہیں. واللہ آپ سب سے برا لکھنے والوں کے امام ہیں. میں ایڈیٹر ہوں تو آپ کی پوسٹ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا.
        یہی اس کا اصل اور میرٹ پر ٹھکانہ ہے

        1. محمد علی میو کہتے ہیں

          اسی لیے آپ ایڈیٹر نہیں ہیں ، میں آپ کی صحتیابی کیلئے دعا گو ہوں شکریہ

        2. محمد علی میو کہتے ہیں

          میں صرف یہی گمان کر رہا تھا کہ آپ صرف میرے کالم پر ہی ایسی باتیں لکھ رہے ہیں ۔ لیکن افسوس ہوا کہ آپ دیگر لکھاریوں کے بلاگز پر بھی ایسی ہی فضولیات لکھ رہے ہیں ۔

      2. جاوید صدیقی کہتے ہیں

        آپ کی یہ بات بھی غلط ہے. آپ کے حساب سے تو پھر اعظم چوہدری، گوہر بٹ، میاں حبیب، معین اظہر، عارف بھٹی، شاداب خان، دنیا ہی کے زاہد عابد، سلیم شیخ،
        شہزاد حسین بٹ، زولفقار میتھو(، ہزاروں نام ہیں جو گنوا سکتا ہوں. آپ اور کچھ بھی نہیں صرف ایک زہنی مریض ہیں

        1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

          کیوں کہ انہوں نے کبھی سب ایڈیٹری نہیں کی ان کو صحافی نہ مانا جائے اور آپ جیسے کلرک کو اور احساس کمتری کے شکار شخص کو حامد میر اور کاشف عباسی مان لیا جائے. میری بات پوری ہو گئی اب میں آپ کے کسی بات ما جواب نہیں دوں گا. جتنی توانائی یہاں خرچ کر رہے ہو. اپنی جاب پر محنت کرتے تو عارف حمید میاں حبیب اعظم چوہدری گوہر بٹ بن گئے ہوتے. ے وقوف انسان. لائسنسی بےوقوف ہیں آپ

          1. محمد علی میو کہتے ہیں

            آپ کے علم میں شاید کمی ہے ۔ جو آپ نے اوپر نام گنوائے ہیں وہ سب رپورٹرز ہیں ۔ اور ان سب نے کہیں نہ کہیں سب ایڈیٹنگ بھی کی ہوئی ہے ۔ جب ایک رپورٹر اپنی تحریر لکھتا ہے تو کئی بار اس کی نوک پلک کرتا ہے ۔ اور یہی عمل سب ایڈیٹنگ کہلاتا ہے

          2. محمد علی میو کہتے ہیں

            محترم جاوید صدیقی صاحب مجھے محسوس ہو رہا ہے شاید آپ کو ذاتی رنجش ہے جس کی بنا پر آپ سیخ پا ہو رہے ہیں ، کالم سے متعلق لکھیں اور رائے دیں ذاتیات پر نہ آئیں تو زیادہ مناسب ہے ۔ مجھے لگ رہا ہے آپ اپنے حواس میں نہیں ہیں ۔ اگر کوئی معاملہ ہے تو آپ مججھ سے پریس کلب میں آکر مل سکتے ہیں ۔شکریہ

        2. محمد علی میو کہتے ہیں

          یہ سب میرے سینیئر اور محترم ہیں ۔ آپ کے تعصب کا جواب نہیں دے سکتا ۔

  2. Rahat Javed کہتے ہیں

    It’s always give me great pleasure and chance to glimpse at the real side of the picture to see which sometimes we ignore, after reading Ali Mayo’ s authentic and informative columns. Thank you for being with us through this forum.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Rahat Javed thanks A lot for you compliment . regards

  3. کاشف احمد کہتے ہیں

    سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کے لوگ اتنے تنگ نظر نہیں ہیں میں خود گواہ کراچی میں لوگ خوشی خوشی اپنا کاروبار اور دیہاڑیاں بند کرنے کو تیار ہیں صرف اپنے ملک میں کرکٹ کی بحالی کے لیئے اور دوسری بات ہم نے بھی سب کچھ دیکھا کوئی پورا شہر بند نہیں ہوتا صرف گراٶنڈ کے اطراف کی سڑکیں بند ہوتی ہیں اور تیسری بات یہ کہ کچھ ہونہ جائے کوئی حادثہ وغیرہ ہوا تو کرکٹ پیچھے چلی جائے گی واہ بھائی ڈر ڈر کے زندگی نہیں گزاری جاسکتی حالات تو کبھی ٹھیک نہیں ہونگے کیونکہ یہ ہمارے ملک کے خلاف باقائدہ سازش ہورہی ہے کرکٹ کو نشانہ بنایا جارہا اور یہ ہمیشہ بنایا جاتا رہے اور نشانہ بنانے کے لیئے لوگ ہم خود ان کو مہیا کرتے ہیں اپنے لوگوں پہ اتنا ظلم کرتے ہیں کہ وہ دشمنوں سے جا ملتے ہیں اس وقت کیوں نہیں سوچتے آپ یہ تو وہی بات ہوگئ کے عرصے سے غلط پالیسیاں رکھی گئ جب بنگلہ دیش بن گیا تو ملبہ شیخ مجیب اور بھٹو پہ ڈال دیا بھا ئی کچھ بھی ایک دن میں نہیں ہوتا میں پھر یہ کہونگا کہ مسئلہ صرف یہ ہے کہ کرکٹ کی بحالی کریڈٹ حکومت کو نہ جانے پائے بس یہ مقصد ہے اور جب بھی پی ایس ایل کو اچھے لفظوں میں یاد کیا جاتا ہے تو کریڈٹ کسی خاص ادارے کو دیا جاتا اور برے پہلوو ں پہ بات ہوتی ہے تو حکومت اور نجم سیٹھی آسان ہدف ہوتے ہیں میں پھر یہی کہوںگاکہ سطحی باتیں کی آپ نے معذرت کے ساتھ

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      کاشف صاحب ، میرا خیال ہے آپ کا تعلق لاہور سے نہیں ۔اگر ہوتا تو شاید اس طرح نہ کہتے ۔ میں بھی پاکستانی ہوں اور چاہتا ہوں کہ پورا پی ایس ایل پاکستان میں ہو۔ دنیا کی ٹیمیں بھی آئیں ۔ لیکن اول تو یہ کہ ملکی حالات ابھی اس قابل نہیں ہوئے ۔ اور دوسری بات یہ کہ اگر میچ کرائے بھی جائیں تو انتظامات اتنے ناقص نہیں ہونے چاہیئں ۔ اتنی سیکیورٹی اور حفاظتی اقدامات فراہم کرکے اور اتنی ایمرجنسی لگا کر ہم خود دنیا کو ثابت کر رہے ہیں کہ یہاں حالات نارمل نہیں ۔ سطحی باتیں نہیں تھیں غور سے پڑھیں ان لوگوں کے مسائل اجاگر کیے ہیں جو سطحی لحاظ سے اتنے مضبوط نہیں اور عام و غریب شہری ہیں ۔ شکریہ

      1. Zahid کہتے ہیں

        My brother Mayo, I think you also never seen Lahore because you saying Qaddafi Stadium is in its Center. I travel 15-17 km twice daily for job. I never saw any unusual traffic blockades on Mall Road, Wahdat Road, Canal Road, Ferozepur Road and Multan Road (My way to office). You spent too much time and efforts on a useless thing. We are thankful to the cricketers who came to Pakistan against the efforts of our enemies and its our duty to protect them and make them feel safe.

        1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

          My Dear Borther Zahid I am lahori , i was born in lahore ,i studied in lahore i am doing my job in lahore . me too travel twice a day from home to my duty .and if you start yourself from Shahdra and travel till Kahna Nau then you will judge that the Center of Lahore is situated between Gulberg .so Stadium is at Gulberg.
          the other point that i am talking about the Match days .the Traffic was jam was huge in those days . i am surprised that you are the only person among 15 Million lahoris who is saying that there was no Blockage on roads . really surprised

    2. محمد علی میو کہتے ہیں

      کاشف صاحب ، جاوید صدیقی صاحب بھی آپ کی حمایت میں بول چکے ہیں ۔

  4. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    میرا تعلق لایور سے ہے اور میں بھی کاشف احمد سے متفق ہوں اس سے بےوقوفانہ بلاگ ناممکن ہے. پتہ نہیں آپ کو کس نے کہہ دیا کہ آپ بھی کالم لکھ سکتے ہیں. آپ کا زیرو نالج ہے. معزرت کے ساتھ. نجم سیٹھی کہ ذمہ دار کرکٹ کی بحالی ہے نہ کہ سیکورٹی کے معاملات دیکھنا. ناں ہی راستے سیٹھی کے حکم سے بند ہوتے ہیں. وہ سچھا کام کر رہا ہے. آپ ایک بے عقل شخص ہیں جو فضولیات لکھتے رہتے ہیں. کینسر کیا میچ کے دن ہوا تھا اور ڈاکٹر نے یہ کہا تھا کہ اگر دوران میچ نہ یک کروایا تو والد نہیں.بچے گا. آپ کون ہوتے ہیں پورے شہر کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرنے والے کہ سب نا خوش ہیں. ہم لاہور کے ہیں اور بہت خوش ہیں.چاہتے ہیں کہ بہت میچز ہوا کریں. آپ کو چایئے کسی ڈاکٹر کو دکھائیں. تا کہ آپ اس طرح کی گھٹیا تنقید بند کر سکیں. آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو نہ تو خود ک ھ کرتے ہیں مہ کسی کو کرتے دیکھنا چایتے ہیں.
    شرم تم کو مگر نہیں آتی. سو فیصد آپ کے بارے میں ہے.

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      جاوید صاحب کاشف صاحب سے متفق ہونا آپ کا حق ہے ۔اپنی رائے دینا آپ کا حق ہے ۔ دیکھیں آپ ایک عام شہری ہیں تو کسی پر تنقید کرنا آپ کا حق ہو سکتا ہے ۔ میں تو ایک صحافی ہوں میرے پاس تو لاؕئسنس ہے کہ میں کسی بھی معاشرتی مسئلہ کو اجاگر کر سکوں ۔ آپ میری بات سے متفق نہں تو یہ آپ کا حق ہے ۔ اور رہی بات ڈاکٹرز کو چیک اپ کی تو سوشل میڈیا اتنا زیادہ ہو گیا ہے اور عوام اتنی بے لگام ہو چکی ہے کہ اپنے آپ کو حرف آخر سمجھتی ہے ۔ اپنی اصل ذمہ داری چھوڑ کر ہر اس کام میں لگ چکی ہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس اکثریت کو اپنے علاج و معالجہ کی ضرورت ہے ۔

      1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

        اور جن مو علاج کی ضرورت ہے. ان میں سر فہرست آپ ہیں. آپ کو کس نے لائسنس دیا اوٹ پٹانگ لکھنے کا؟ آپ دینا نیوز میں سب ایڈیٹر ہیں اور نیوز روم میں چجوٹی موٹی خبر ایڈٹ کرنا آپ کا کام ہے. آپ کو یہ حو کیسے مل گیا کہ اپ رائے عامہ بناتے پھریں؟ آپ کی پوسٹ صرف اس لئے پبلش ہو جاتی ہے کیونکہ آپ اسی ادارے میں کام کرے ہیں. ایڈیڑ اخلاقیات اور اچھے رویے کا ثبوت دیتے ہوئے اس کو پبلش کر دیتا ہے. میرٹ پر آپ کی پوسٹ دنیا نیوز کی ویب پر تو کیا گلی محلے میں خود ہی چھاپ کر خود ہی پڑھنے والی اخبار میں بھی نہ لگے.

        1. محمد علی میو کہتے ہیں

          جناب جاوید صدیقی ۔دوسرے پر تنقید کر رہے ہیں اور آپ مسلسل بے سرو پا اپنے مفروضوں کی بنیاد پر نشے میں بہکے ہوؤں کی طرح بولے جا رہے ہیں ، میرے بھائی میں مختلف اداروں میں چیف نیوز ایڈیٹر ۔ ،کو ایڈیٹر کام کر چکا ہوں ۔ ٹی وی میں بھی شفٹ انچارج کے طور پر کام کر چکا ہوں ۔ اور دوسری بات یہ کہ بنیادی طور پر میں سب ایڈیٹر ہی ہوں ۔ جس پر مجھ سمیت ہر صحافی کو فخر ہے ، کیونکہ جس کو سب ایڈیٹنگ نہیں آتی وہ صحافی نہیں بن سکتا ۔ اور مجھے اتنے بغض کی وجہ بھی سمجھ نہیں آرہی ۔ آپ کچھ کھل کر بتائیں شاید میں نے آپ کا ادھار تو نہیں دینا ؟

  5. Ijaz ahmed کہتے ہیں

    Lahore city can not afford the blockage of even a single road or area.it massively affects the traffic burden. But this time arrangements were better because atleast i reached home in 90 minutes .

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      agreed with you Ijaz sab .i did not mean to say that there should be no Match in Lahore . i only said that first do some good arrangements then organize matches . do not try to effect a common citizen

    2. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Ijaz Sab Ap ne Shikawa kiya tha k me ne ap k comments ka reply ni kia. me dobara dekh rha hun me ne Usi roz ap k msg ka rly kr diya tha . mgr aik bar phir ap ka shukar guzar hun . Thx A lot

  6. Zakirya کہتے ہیں

    Indeed true PCB ko aessi hikmat e amli krni chaheye jis syy aaam admi ko pareshani na ho

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Zakirya Yes this is what i meant to say . thanks

  7. abdullah کہتے ہیں

    afsosnak, sarsar sharmindgi wali tahreer

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Abdullah its your right to be disagree

  8. ضیاء کہتے ہیں

    کم از کم دهرنون اور ماتمی جلسون ک مقابله مین کم نقصان کا باعث بنا

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      ضیاصاحب موازنہ نہیں کرنا چاہیئے ۔ بطور شہری تو نقصان نقصان ہی ہے ۔ پی سی بی کو موثر حکمت عملی ترتیب دینی چاہیئے پھر میچ کا انعقاد کرائے ۔ اس وقت مجھ سمیت کسی کو بھی اعتراض نہیں ہوگا

  9. syed kashif naqvi کہتے ہیں

    Salam
    Khol aankh zamee dekh falak dekh faza dekh
    Mashriq we ubharte hue sooraj KO Zara dekh

    ?????

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      WS . Kashif Naqvi sab poetry was good . but unable to understand what you meant to say . thanks

  10. Wasif malik کہتے ہیں

    Aala column. Ali bhai.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Wasif Sab thank you

      1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

        Wasif sab how can i contact you

  11. Asif کہتے ہیں

    Dear I like your style the way you reply each comment. But your column is all about selling pain of common man but you are definitely addressing the wrong guy. Najam sethi I think is just a bridge between governments who give security plan and ICC security’s team which accepts that plan which ultimately motivate foreign players to get convinced about coming here. So real culprits should be governments who give this 3fold or 4fold security plans not just one guy.
    باقی میرے بھائی اگر کسی کے خلاف کالم لکھ ہی لیا ہے تو پھر یہ صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے کے میری اس سے دشمنی نہیں ہے.لوگ یہ اندازہ خود بھی لگا سکتے ہیں کہ یہ حب علی ہے یا بغض معاویہ.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Asif sab thanks for the appreciation for the writing style .secondly , although its is not the duty of Najam sethi to provide the security . but we can not ignore him .he is Key Entity in this whole picture.
      اور آخری بات جو آپ نے کہی حب علی یا بغض معاویہ والی تو یہ اس حوالے سے کہا تھا کیوں کہ ایک کالم میں پہلے بھی پی اییس ایل کے حوالے سے لکھ چکا ہوں نجم سیٹھی بمقابلہ سنی لیون ۔ یہ جملہ اس لیے لکھا تاکہ عام شہری یا قارئین یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ میری سیٹھی صاحب سے کوئی ذاتی دشمنی ہے ۔ میں نے صرف بطور تجزیہ کار یہ کالم لکھا ہے ۔اور کچھ اس لیے بھی وضاحت کی کیونکہ جب لوگوں سے برداشت نہ ہو تو فورا لفافہ صحافی کا ٹیگ لگا دیتے ہیں ۔
      کمنٹس کیلئے شکریہ

  12. سید عابد زیدی کہتے ہیں

    علی میو بھائی میں کافی دیر سے سوچ رہا ہوں کہ مجھے یہ کمنٹ کرنا چاہئیے یا نہیں ۔ کہیں آپ مائنڈ نہ کر جائیں۔ نجم سیٹھی اور سنی لیون والی پوسٹ بھی پڑھ کر ایسا ہی سوچا تھا لیکن تب کمنٹ نہیں کیا۔ آج بھی معلوم نہیں کرنا چاہیے یا نہیں ۔ لیکن پھر بھی کر رہا ہوں۔ آپ کی پوسٹ اور اس کے نیچے سب کمنٹس پڑھے۔ دیگر کئی لوگوں کی طرح میں بھی آپ کی تحریر کے متن سے متفق نہیں ہوں۔ میرا تعلق بھی لاہعر سے ہے اور میری ساری برادری بھی یہیں رہتی ہے۔ سب کی طرح ہم کو بھی دقت ہوتی ہے جب راستے بند ہوتے ہیں۔ لیکن پی ایس ایل کے لئے جب بھی رستے بند ہوتے ہیں۔ دقت کے باوجود ہم خوش ہوتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ میچز ہون۔ ہم کو یہ تکلیف قبول ہے۔ آپ کی پروفائل سے واضح ہے کہ آپ سینئیر صحافی ہیں۔ اس لئے آپ کو بہتر پتہ ہوگا کہ نجم سیٹھی کا سیکورٹی اور بند راستوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ بےوجہ ایسی تحاریر لکھ کر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ میرا نہیں خیال ک نجم سیٹھی نے آپ کا کالم پڑھا بھی ہوگا۔ جب کہ آپ کو زعم ہے کہ آپ نے پہلے بھی کلاس لی لیکن اس کو عقل نہیں آئی۔ معزرت کے ساتھ عرض ہے کہ عقل کی ضرورت اس کو نہیں آپ جیسے سینئر صحافی کو ہے۔ آپ ایک ایسے عمل کے لئے اس کو کوسنے دے رہے جس کے بارے میں بچہ بھی جانتا ہے کہ یہ اس کا کام نہیں ہے۔ اس کی جو ڈیوٹی تھی اس نے بہترین طریقے سے نبھائی ہے۔ آپ لوگوً کو لطف اندوز ہونے دیں۔ ایسے ہی اپنا خون نہ جلائیں۔ لاہور کی ڈیڑھ کروڑ آبادی جس کا آپ بارہا زکر کرتے ہیں اس میں سے چند ہزار بھی ایسے نہیں ہوں گے جو آپ سے اتفاق رکھتے ہوں۔ جبکہ آپ خود ساختہ طور پر ڈیڑھ کروڑ عوام کی آواز بنے ہوئے ہیں۔ یہ سراسر زیادتی ہے۔ بطور لاہوری میں اپ سے متفق نہیں ہوں اور مین نہیں چاہتا کہ اپ میری آواز بنیں۔ میرا خیال ہے ٩٠٪ باقی لاہوری اور پاکستانی بھی یہی چاپتے ہیں۔ یہاں اور بہت بڑے بڑے مسائل ہیں جن پر لکھنے کی ضرورت ہے۔ اپ کے پاس بہت اچھا پلیٹ فارم ہے۔ آپ اچھے اور زیادہ توجہ طلب موضوعات پر لکھئے۔ ہم آپ کی پزیرائی کریں گے۔ یہیں دنیا ہی کے پلیٹ فارم پر کچھ نوجوان بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔ میں ان کا نام نہیں لوں گا تا کہ برا لکھنے والوں ک دل آزاری نہ ہو۔ آپ بھی اچھا لکھنے کی کوشش کریں۔ تعمیری کام کرنا صدقہ جاریہ ہے۔ آپ بھی یہی کیجئے۔
    خوش رہو

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      سید عابد زیدی صاحب آپ کا حق ہے آپ بطور قاری اپنے کمنٹس کریں اور گزشتہ کالم پر بھی کریں ۔ آپ درست کہہ رہے ہیں کہ نجم سیٹھی کا براہ راست اس سیکورٹی سے تعلق نہیں لیکن ان ڈائریکٹ ضرور ہے ۔اور دوسری بات یہ کہ 2009 سے پہلے بھی پاکستان بھر میں میچ ہوتے تھے لیکن شہر بند نہیں ہوتے تھے ۔ میں خود ایک کرکٹر بھی رہا ہوں کالج کی سطح پر کرکٹ کپتان بھی رہ چکا ہوں ۔ ہر پاکستانی کی طرح میری بھی خواہش ہے کہ جیسے بھارت میں 9 ماہ کرکٹ ہوتی ہے کم و بیش میرے دیس میں بھی اتنی ہی عالمی کرکٹ ہو ۔ لیکن بھائی اس طرح ہوں کہ کوئی شہری متاثر نہ ہو۔ ایک میلے کا سماں ہو نہ کہ جیل اور اذیت کا گمان ہو۔ اس کے لیے پلاننگ کی ضرورت ہے ۔ اور نجم سیٹھی صاحب چیئرمین پی سی بی ہی نہیں ایک بہت تجربہ کار صحافی بھی ہیں اور سیاست دان بھی ہیں ۔ میرا خیال ہے ان کو مکمل استثنی دینا درست نہ ہوگا ملکی حالات سے وہ بھی واقفت ہیں
      اور آپ کی آخری بات یہ میں نے دیگر موضوعات پر بھی کالم لکھے ہیں میں گزشتہ 11-12 سال سے مختلف اخبارات میں کالم لکھ رہا ہوں ،۔دنیا نیوز کی ویب سائٹ پر میرے کالم پر میرے نام محمد علی میو پر کلک کریں تو آپ میرے دیگر کالم بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ اور بھائی جیسے حالات ہیں ویسا ہی لکھنا ہے نا ۔ اگر حقائق سے الٹ لکھ دیں تو عوام کہتے ہیں کہ سستی شہرت کیلئے جھوٹ بولتے ہں ۔سچ لکھیں تو کہاجاتا ہے کہ اتنا کڑوا سچ نہ لکھیں ۔ بہر حال شکریہ

      1. سید عابد زیدی کہتے ہیں

        اور یہ فیصلہ کون کرے گا کہ آپ کا موقف درست ہے یا نجم سیٹھی کا؟ ہم عوام کریں گے نہ؟ فیصلہ آپ کے کمنٹس باکس میں موجود ہے. 80% قاری نےآپ کا فیصلہ رد کر دیا ہے. اس سے بھی آپ کو سمجھ نہیں آرہی کہ آپ نے غلط ٹرین پکڑ رکھی ہے؟

        1. محمد علی میو کہتے ہیں

          عابد صاحب جی ہاں فیصلہ عوام نے ہی کرنا ہے ۔ لیکن دلیل سے بات کی جانی چاہیئے ۔ 80فیصد نے جو رد کیا ہے آپ کے بقول اس میں کسی نے کوئی دلیل نہیں دی ۔ صحافی صرف جو دیکھتا ہے وہ لکھتا ہے ۔ اور میں نے اس تحریر میں بہت سے طبقوں کی مثال دی ہے ۔ جواب میں مجھے کسی نے کوئی مثال نہیں دی ۔ اور اس سے اگلی بات یہ کہ عوام میڈیا سے چاہتی ہے کہ مسائل کو اجاگر کرے ۔ جب مسائل اجاگر نہ کیے جائیں تو کہتے ہیں ٹی وی چینلز بک گئے ہیں ۔ میں دعوی کے ساتھ کہتا ہوں اگر میڈیا سب اچھا ہی کہتا تو عوام نے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر دینا تھا کہ میڈیا اصل مسائل اجاگر نہیں کر رہا باقی آپ کی رائے میرے لیے محترم ہے شکریہ

          1. سید عابد زیدی کہتے ہیں

            متفق نہیں ہوں. جیسی مثالیں آپ نے دیں. اس سے بہتر کوئی بچہ بھی دے سکتا ہے. آپ کے کالم میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو واقعی قابل اتفاق ہو. بہرحال مرضی یے آپ کی. جنگل کے بادشاہ ہیں آپ. انڈہ دیں یا بچہ. خون رہک سکتا ہے.
            والسلام
            ڈاکٹر سید عابد زیدی
            پروفیسر اف میڈیسن

  13. Ubaid کہتے ہیں

    اس کالم کو بکواس اور فضول کہنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں
    ہیں۔ اس کالم سے ذاتی بغض کی بو آ رہی ہے۔

    اگر آپ کی باتوں کو صحیح مان لیا جائے تو پاکستان سے سارے سٹیڈیم ختم کر دئے جانے چاھئیں تاکہ نہ کبھی پاکستان میں میچز ہوں اور نہ وہ پرابلمز پیدا ہوں جن کا ذکر جناب نے کیا ہے

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      عبید صاحب میرا جناب نجم سیٹھی سے کوئی ذاتی لین دین کا معاملہ نہیں جو ان پر ذاتی تنقید کروں ۔تنقید بطور چیئرمین کرکٹ بورڈ کی ہے ۔ اور جناب آپ سے گزارش ہے کہ کالم دوبارہ پڑھیں اور دوبارہ کمنٹس کریں ۔ اس میں مسائل کا ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسائل پر قابو پا کر منجمنٹ درست کرکے میچ کرایا جائے تاکہ شہری پرسکون ذہن کے ساتھ اس تفریح کو انجوائے کر سکیں ۔ بطور صحافی یہ میرا حق ہے کہ مسائل کی نشاندہی کروں اور بطور حکمران حکومت کا فرض ہے کہ ان مسائل پر قابو پائے ۔ صحافت میں مسائل کی ہی نشاندہی کی جاتی ہے ۔اگر صرف تعریف کرنے لگ جائیں تو پھر قاریئن لفافہ صحافی کا لقب دے دہتے ہیں

    2. محمد علی میو کہتے ہیں

      ڈاکٹر صاحب آپ کی رائے سر آنکھوں پر ۔اور اصل بات یہ ہے کہ صحافی کا کام مسائل کو اجاگر کرنا ہے ۔ اور ان کی نشاندہی اسی لیے کی جاتی ہے کہ ان مسائل سے متعلقہ ارباب اختیار نمٹ سکیں ۔ شکریہ

  14. Faisal کہتے ہیں

    Har aadmi ka haq hai woh apna opinion daay sakta hai lkn Facts aur reality mn difference hota hai ..
    Damage control mn time lagy ga aur kuch takleef bhi hogi mgr acha waqt bhi aye ga
    Warna tang tu kisi waqt khench sakty hn

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Faisal Yes me apki bat se itfaq krta hun . Halaat aik dum thk nahi hotay un me waqt lgta hai. laikin sawal ye hai k Hum ne batoor Management kitnay achay treqay se kia hai. ye column isi liye lkihe jaty hain k msaail ki nishandahi ki jaye ta k mangement agli bar in ko na dohraye . shukrya

  15. Suleman کہتے ہیں

    Lanat ha aap ki is article par aur aap ki soch pr.kia is mulk ky tamam issues ki waja najam sethi ha.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Suleman sab , ap ko Rai dene ka Haq hai . me ne poray mulk ki bat ni ki sirf cricket match ki bat ki hai r ji Han is ki waja Najam sethi hi hai . q k wo Chairman PCB hai

  16. Wasif malik کہتے ہیں

    +601114473149
    Whatsapp
    Muhammad Ali bhai mujy lagta hai kay humne aik he waqt mein daily din mein start lia tha. Agr aap b 2000 mein wahan thy tu.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Thx For Number . I will contact You .Yes I was in din with Rizwan Asif in those days

      1. Wasif malik کہتے ہیں

        Rizwan mere he sath tha. Din mein.
        Mujy msg krin. Mere pas ap ka nmbr ajae ga.

        1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

          ok

  17. Wasif malik کہتے ہیں

    Rizwan mere he sath tha. Din mein.
    Mujy msg krin. Mere pas ap ka nmbr ajae ga.

  18. Shirazi کہتے ہیں

    NS ( Najam Saiti) and NS ( Nawaz Sharesf) both are Puncturing million not repairing their punctures as you are saying in your column, please make a correction. Thanks

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      shirazi , respect your comments

تبصرے بند ہیں.