سفید گاڑی، سیاہ پوشاک اور کالے کرتوت

3,118

دو سو سات دن سے لاپتہ رائو انوار کی اچانک سپریم کورٹ میں پیشی نے ہر طرف واہ واہ مچا دی ہے۔ گزشتہ روز اعلیٰ عدلیہ میں معمول کے باقی مقدمہ جات کی سماعت کے ساتھ شیڈیول میں، نقیب مسعود قتل کیس کی سماعت بھی شامل تھی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے بارہا عدالت طلب کیے جانے کے باوجود رائو انوار چوہا بلی کے کھیل پر کاربند کسی خدا ترس کے مہمان تھے لیکن کل اچانک سپریم کورٹ کے صدر دروازے پر ایک سفید گاڑی آ کر رکتی ہے اور اس میں سے ماسک پہنے رائو صاحب اترتے ہیں، اُن کے گاڑی سے نکلتے ہی کیمروں کا رُخ ان کی طرف مڑ جاتا ہے اور اطلاعات گردش کرنے لگتی ہیں کہ وہ آگئے جو چھپ چھپ کر خط لکھا کرتے تھے۔

images

سنا ہے کہ ان کا بڑا رعب تھا۔ اونچی نشتوں میں بیٹھک بھی لگاتے رہے ہوں گے۔ شائد اچھے اثاثہ جات والوں سے مراسم بھی اچھے ہوئے ہوں۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنان و قائدین کو بھی گرفتار کرنے میں پیش پیش رہے، ایسے میں خود بھی کسی قدر سیاسی ہو گئے ہوں گے۔ سنا ہے کسی ایک عید پر زرداری صاحب کے مہمان بھی رہے تھے۔ آدمی کسی کا طوطا ہو جائے تو چُوری بھی اسی کی کھانی پڑتی ہے، کیا صاحب بھی چُوری کھانے میں شامل تھے؟

رائو انوار نے اپنی گمشدگی کے بعد پہلے تو دو عدد خطوط اعلیٰ عدالت کے نام لکھے کہ جناب میرے بند اکائونٹس کھول دیے جائیں۔ بھوک و افلاس کا خطرہ ہے۔عدالت نے بہرحال کہا کہ آپ اب بھی آجائیں، آپ کی حفاظت کی ضمانت ہم دیے دیتے ییں۔ جناب کی طبیعت نہ بن سکی تو کوئی توجہ نہ دی، اب جو اچانک طبیعت بحال ہوئی تو سیاہ پوش ہوئے اور عدالت کے سپرد ہوئے۔

432143_36681446

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد پورے ملک میں احتجاج کی لہر اٹھ گئی تھی جس پر اعلیٰ عدالت کو اس کیس کا از خود معاملہ سننا پڑا۔ پہلے پہل تو سندھ پولیس کے ہاں سے رائو بابو اچانک گم ہو گئے۔ جب ہر ممکن تلاش بسیار کے بعد بھی نہ ملے تو خفیہ اداروں کو سول انتظامیہ کی مدد کرنے کو کہا گیا۔ سر توڑ کوشششیں کی گئیں لیکن رائو انوار “ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم” کی تفسیر بنے اپنے میزبانوں کے پاس چھپے رہے۔ آئی جی سندھ ہر سماعت پر ‘کوشش جاری ہے’ جیسے جوابات لیے آتے، عدالت برہم ہوتی، کارروائی تیز کرنے کے احکامات صادر کرتی اور سماعت اگلی تاریخ تک ملتوی ہو جاتی۔

اگر نوجوان نقیب محسود پر کچھ شبہ تھا بھی تو کیا بندوق سے سمجھانا ضروری تھا؟ بعد از قتل اس نوجوان کے کسی ایسی تنظیم سے کوئی روابط بھی ثابت نہ ہو سکے تھے، تو وہ ایک نوجوان کیوں کر گولی کی نظر ہوا؟

اس انتہائی اقدام کے بعد رائو انوار کا اچانک گم ہو جانا اور ایسا گم ہونا کہ کوئی نشان بھی نہ پا سکے، ڈھونڈنے والوں کی اہلیت پر سوالیہ نشان نہیں؟

rao-anwar-arrested-1024

سوئی تک ڈھونڈ نکالنے میں ماہر سمجھی جانے والی سفید دنیا بھی اس معاملے میں بے چاری نطر آرہی تھی۔ ہم نے کچھ سیانے لوگوں سے سنا کہ رائو بابو محفوظ ہاتھ کے زیر سایہ ہیں۔ اب یہ محفوظ ہاتھ کس حیثیت کا تھا، اس کی کوئی خیر خبر نہ مل سکی۔ معلوم نہیں پر غالب امکان یہی لگتا ہے کہ رائو انوار صاحب دو سو سات دن کسی صاحبِ ملک کے ہاں ریاضت کرتے رہے۔ کن بنیادوں پر یہ ریاضت ختم ہوئی اور سیاہ پوش رائو بابو کو منظرِ عام پر آنا پڑا یہ تو اب وقت ہی بتائے گا۔ امید ہے جلد ہی ہمارے سوالات کے جوابات منظرِ عام پر آئیں گے۔

کیا صاحب کے کرتوت کالے نہ تھے جو رپوش ہونا پڑا؟

سندھ کے سیکیورٹی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے رائو میاں سندھ سے غائب کیسے ہوئے؟

سپریم کورٹ کی جانب سے بارہا سیکیورٹی و خفیہ اداروں کو رائو انوار کو گرفتار کر کے عدالت پیش کرنے کا کہا جاتا رہا، تب سندھ پولیس کے سیاہ پوش باوری اہلکار اور باقی سفید پوش رائو انوار کو عدالت میں کیوں نہ پیش کر سکے؟

آخر سندھ سے لاپتہ نقاب پوش، سیاہ پوش رائو انوار اسلام آباد کی بند سڑکوں سے ہوتا ہوا سفید گاڑی میں سوار سپریم کورٹ کے صدر دروازے تک کہاں سے پہنچے؟

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. salman bin ali کہتے ہیں

    bhai kahna kya chahte ho?

تبصرے بند ہیں.