فکس اٹ ۔ گٹر پر ڈھکن

5,783

آپ نے اکثر ایسی خبریں اخبارات اور ٹیلی وژن پر دیکھی ہوں گی کہ بغیر ڈھکن کے گٹر میں بچہ گر کر جاں بحق ہو گیا۔ کبھی کوئی بڑا بھی ایسے گٹر میں گر جاتا ہے جس پر ڈھکن موجود نہ ہو۔ گٹروں کے اوپر ڈھکن ہونا بہت ضروری ہے ورنہ اس طرح کے حادثات روزانہ کا معمول بن جاتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل کراچی میں ایک مہم فکس اٹ کے نام سے شروع ہوئی جس کے روح رواں جناب عالم گیر خان ہیں۔ انہوں نے میڈیا اور دنیا کی نظریں اس مہم پر مبذول کروانے کے لیے گٹروں کے ساتھ اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی تصاویر سڑک پر بنانا شروع کر دیں اور کراچی کے گٹروں پر ڈھکن لگوانے کا مطالبہ کیا۔ نتیجہ حیران کن نکلا۔ پیپلز پارٹی نے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کو وزارت اعلیٰ سے ہٹا کر مراد علی شاہ کو لگا دیا۔ گٹروں کے ڈھکنوں کے بارے میں اس کے بعد کچھ سننے میں نہیں آیا۔

ڈھکن مختلف اقسام، رنگ اور جسامت کے ہوتے ہیں۔ کسی بھی چیز کا ڈھکن اس کی مناسبت سے ہی لگایا جاتا ہے۔ ڈھکن کو اردو میں سرپوش بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی ڈھکن اس شے کا نام ہے جس سے کسی چیز کو چھپانے، پوشیدہ رکھنے یا ڈھانکنے کا کام لیا جاتا ہے۔ عام طور پر ڈھکن کو ہمیشہ اس چیز کے اوپر ہی لگایا جاتا ہے جس کو ڈھانکنا مقصود ہو۔ ڈھکن گول بھی ہو سکتا ہے اور چوکور بھی۔ بیضوی ڈھکن بھی مشاہدے میں آجاتے ہیں اور مخروطی ڈھکن بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

جو چیز جتنی زیادہ سنبھال کر رکھنے والی ہو اس پر اتنی ہی مضبوطی سے ڈھکن جمایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر شراب کی بوتل کا ڈھکن خوب مضبوطی سے بند ہوتا ہے تاکہ بوتل میں موجود گیس بوتل سے باہر نہ نکل سکے۔ جب کہ دودھ کی دیگچی پر ڈھکن کو ایویں رکھ دیا جاتا ہے اور دودھ ابل ابل کر دیگچی سے باہر گرتا رہتا ہے۔ حالانکہ دودھ شراب سے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ یہی حال ہمارے ملک کا ہے۔ جو چیز سنبھال کر رکھنے والی ہو اس پر سرے سے ڈھکن ہی نہیں لگایا جاتا جبکہ فالتو اشیا ڈھکنوں سے بھری پڑی ہیں۔

ڈھکن لوہے، شیشے، پلاسٹک اور گوشت پوست کے ہوتے ہیں۔ گوشت پوست کے ڈھکن ہمارے معاشرے میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ہم آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ چلتے پھرتے انسانوں کو ڈھکن کیوں کہا جاتا ہے۔ آج تک ہم نے کسی انسان کو کسی ایسی شے کے اوپر سختی سے ٹکا ہوا نہیں دیکھا جس کو پوشیدہ رکھنا منظور ہو۔ ہاں البتہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ شاید ہمارے ملک میں ڈھکن ایسے شخص کو کہا جاتا ہو جو کسی کی سننے اور ماننے کا عادی نہ ہو۔

ہمارے ملک میں سیاست کو اکثر گٹر سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ گٹر پر ڈھکن نہ لگا ہو تو کوئی بھی جانے انجانے میں گٹر میں گر سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں حالانکہ ڈھکن موجود ہوتے ہیں مگر پھر بھی لوگ اس گٹر میں شوق سے جا گرتے ہیں۔

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ہمارے ملک کی ایک جانی پیچانی شخصیت ہیں۔ کچھ دن پہلے انہوں نے ایک بیان میں تحریک انصاف کو گٹر قرار دیا تھا۔ کل انہوں نے اسی گٹر میں چھلانگ لگا دی ہے۔ عامر لیاقت حسین کی “نغمہ سرائیاں” پوری قوم سن چکی ہے۔ کبھی وہ سوال پوچھتے نظر آتے ہیں کہ غالب فلم دیکھی ہے آپ نے، تو کبھی وہ پوچھتے ہیں کہ آم کھائے گا آم؟ کبھی وہ اس بات کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ “بہت نازک صورت حال ہے۔”

پہلے پہل تو ہمیں عامر لیاقت حسین کے اس فیصلے کی سمجھ نہیں آئی کہ جس جماعت کو وہ گٹر قرار دے چکے ہیں اسی میں کیوں شامل ہو گئے۔ تھوڑا سا غور کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ عامر لیاقت حسین یہ بات سمجھ گئے تھے کہ تحریک انصاف گٹر تو ہے مگر اس پر ڈھکن موجود نہیں تھا۔ عامر لیاقت حسین کراچی کے رہنے والے ہیں۔ یقیناً فکس اٹ مہم سے آگاہ بھی ہوں گے چناچہ انہوں نے عوامی مفاد میں اس بے ڈھکن گٹر کا انتخاب کیا ہے تاکہ اس گٹر پر آج کے بعد سے ایک ڈھکن لگ جائے اور لوگ مستقبل میں اس گٹر میں گرنے سے بچ جائیں۔

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

22 تبصرے

  1. asaf jilani کہتے ہیں

    بہت خوب

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ

  2. Shabbir کہتے ہیں

    extremely bogus column. Imran Khan is a great personality and hero of the Nation. Amir Liaquat is darama no doubt but you cannot criticize IK just for joining PTI upon his on desrires

    urther you are even not eligible to write columns. You are totally biased and extremely narrow minded that shown in the last para of this blog.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you for your comment. I am surprised where did you see the criticism on Imran Khan. If you read the column again, you will realize that only AL’s words are used in the column.
      I suggest you to read my previous columns on this website as well.

  3. واصف ملک کہتے ہیں

    زبردست

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ

  4. zahra tayyab کہتے ہیں

    hahahahahhaha amazing sir really funny how you used this gutter dhukun point how you got this idea really appreciated sir

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you :)

  5. Aisha کہتے ہیں

    بالکل درست فرمایا آپ نے

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      شکریہ

  6. Abdulla کہتے ہیں

    I read the title and knew no one else but you, Mr Owais Ahmed would have wrote this one.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      I am actually unable to understand whether it is a compliment or is it an expression of dislike.

      1. Abdulla کہتے ہیں

        Appreciation sir. Humongous applause for you. Such a great writer in you.

        1. Awais Ahmad کہتے ہیں

          In that case, I say thank you very much :)

  7. Ghazzanfar کہتے ہیں

    Great. Very true analysis

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      Thank you.

  8. نبیحہ ذھین کہتے ہیں

    بہت زبردست تحریر ہے سر جی! آپ نے بہترین اصطلاح استعمال کی ہے اور تجزیاتی انداز بھی بہت ہی کمال ہے آپ کا۔

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      بہت شکریہ نبیحہ ذہین صاحبہ۔

  9. امجد اقبال کہتے ہیں

    سچی بات تو یہ ہے کہ آپ کی پوسٹ پڑھ کر کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ آپ لکھنا کیا چاہتے ہیں. مزاح لکھنے کی کوش کر رہے ہیں یا پھر سنجیدہ تحریر لکھتے ہیں. عجب مرغوبہ سا ہوتی ہے. اگر آپ واقعی چاھتے ہیں کہ آپ کی تحریر کا نوٹس لیا جائے. تو اچھا اور واضح لکھنے کی کوشس کریں. اور سنجیدہ تحریر کو مزاح نہ بنا دیں اور مزاح لکھتے وقت اس کی بنیادی لوازمات ملحوظ رکھیں. ورنہ آپ کی محنت ضائع جائے گی. آپ ہزاروں پوسٹس لکھ لیں. وہ چھپ بھی جائیں. لیکن آپ کا نوٹس کبھی نہیں لیا جائے گا. تھوڑا لکھیں. ستھڑا لکھیں. جونئیر سمجھ کر رائے دے رہا ہوں. ناراض مت ہوئیے گا.
    والسلام

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      امجد اقبال صاحب آپ کے کمینٹ کا شکریہ۔ ہر لکھنے والے کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ ہر تحریر کو مزاح یا سنجیدگی کے رنگ میں نہیں لکھا جا سکتا۔ بعض اوقات سنجیدہ طنز لکھ کر مطلب واضح کر دیا جاتا ہے۔ اور ہر قاری اپنی سوچ اور مزاج کے مطابق تحریر کا مطلب اخذ کرتا ہے۔ اور آپ کے کمینٹ میں ناراض ہونے والی تو کوئی بات ہی نہیں ہے۔ خوش رہیئے۔

  10. شاہد علی کہتے ہیں

    امجد اقبال صاحب کی نصیحت آپ سمجھ نہیں سکے. آپ کو مطالعہ کی ضرورت ہے. دوسرا آپ کو چاہئے کہ چیزوںو گڈمڈ نہ کریں. واضح لکھیں. کیونکہ آپ کی تحریر نہ تو مزاح قرار دی جاسکتی نہ ہی سنجیدہ کیٹیگری میں اتی ہے. میں نے ایک اور مضمون کے نیچے بھی لکھا ہے کہ ایسا ہی لکھنا
    ہے تو بےشک سو سال لکھتے رہئے. آپ کو فائدہ ہو گا نہ آپ کے قاری کو سمجھ ائے گی کہ دراصل آپ کہنا کیا چاہتے ہیں. بطور ایک کرائم جرنلسٹ کے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی تحریر ہومیو پیھتک کی دوائی کی طرح ہے جس کا نہ کوئی فائدہ ہے نہ نقصان.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      اچھا اب میں سمجھا کہ آپ کن امجد اقبال صاحب کا حوالہ دے رہے تھے۔ مجھے کمینٹ یاد نہیں رہتے۔
      بہرحال میں پھر اسی بات کا اعادہ کروں گا جو میں نے آپ کے کمینٹ کے جواب میں دوسرے بلاگ میں کہی تھی۔ ہر لکھنے والے کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ میں صرف اس لیے اپنا انداز تحریر نہیں بدلنا چاہتا کہ میری تحاریر کو سنجیدہ لیا جائے یا مزاحیہ سمجھا جائے۔
      لکھنے والے کا کام لکھنا ہوتا ہے۔ پڑھنے والا اپنے مزاج کے مطابق پڑھتا ہے۔
      میں معلوماتی بلاگ نہیں لکھتا کیونکہ میں صحافی نہیں ہوں۔ معلوماتی کالمز کے لیے آصف جیلانی صاحب کے کالم نہایت عمدہ ہوتے ہیں۔
      آپ کی تنقید کو میں کس زمرے میں لوں؟ کیا آپ مجھے جنگ گروپ میں لکھنے کی دعوت دینا چاہ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس سے پہلے میں اپنی تحاریر میں “گہرائی” پیدا کروں؟ اگر تو ایسی بات ہے تب تو سمجھ میں آتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو جہاں ہزاروں لاکھوں لکھ رہے ہیں وہیں ایک میں بھی سہی۔

تبصرے بند ہیں.