عامر لیاقت کا آخری مقام، فسادی جماعت

4,143

معروف ٹی وی اینکر اور ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت حسین عمران خان کو پیارے ہوگئے۔ پچلھے برس بھی میڈیا پر خبریں گردش کر رہی تھی کہ عامر لیاقت تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں لیکن اس وقت ایسا ممکن نا ہو سکا کیونکہ تحریک انصاف کے چند اہم رہنماؤں نے عامر لیاقت کی پارٹی میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ کچھ روز قبل تحریک انصاف کے رہنما عمران اسماعیل نے میڈیا کو بتایا کہ عامر لیاقت حسین تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں، اس اعلان کے بعد تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں نے پھر اس فیصلے کی مخالفت کی اور ٹویٹر پر عامر لیاقت کے خلاف ایک ٹرینڈ بھی بنایا گیا جس میں کہا گیا “عامر نہیں چلے گا” لیکن عمران خان کی ذاتی مداخلت کے بعد بالآخر عامر لیاقت تبدیلی کے رنگ میں رنگ ہی گئے۔ عامر لیاقت نے عمران اسماعیل کی رہائش گاہ پر عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور تحریک انصاف میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کیا۔

سیاستدانوں کا ایک جماعت سے دوسری جماعت میں شامل ہونا کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں مگر جئے الطاف کا نعرہ لگانے والے عامر لیاقت نے جئے عمران کا نعرہ لگایا تو تھوڑا عجیب سا لگا کیونکہ وہ کہتے تھے ہم الطاف حسین کے چاہنے والے ہیں اور الطاف حسین کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔

عامر لیاقت وہی شخص ہیں جنہوں نے مائنس الطاف حسین کا نعرہ لگانے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”مائی نس” یعنی الطاف حسین میری نس ہے۔ کچھ روز پہلے ہی عامر لیاقت حسین ایک نجی ٹی چینل پر عمران خان کو عدت کے دوران شادی کرنے پر (بقول عامر لیاقت) تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔ عامر لیاقت تحریک انصاف کو فسادی جماعت کہتے تھے اور اب وہ خود اس فسادی جماعت کا حصہ بن چکے ہیں۔

عمران خان اور عامر لیاقت میں ایک بات مماثلت رکھتی ہے کہ دونوں کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ ایک طرف عمران خان کہتے تھے میں شیخ رشید کو اپنا چپڑاسی بھی نا رکھوں مگر خان صاحب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد شیخ رشید کو تحریک انصاف کی جانب سے وزارت عظمی کا امیدوار نامزد کیا۔ دوسری طرف عامر لیاقت کہتے تھے کہ عمران خان آپ کراچی کے لیڈر بننا چاہتے ہو مگر آپ کبھی بھی کراچی کے لیڈر نہیں بن سکتے مگر اب وہ خود عمران خان کو یقین دلا رہے ہیں کہ خان صاحب آپ کی قیادت میں تحریک انصاف پورے کراچی شہر سے کلین سویپ کرے گی۔

عامر لیاقت کو تبدیلی رضاکار بنتے دیکھ کر اس لئے بھی حیرانگی ہوئی کیونکہ وہ کہتے تھے کہ کراچی لاوارث نہیں ہے کہ عمران خان خیبر پختونخوا سے آ کر یہاں سیاست کریں۔ ممکن ہے اب عامر لیاقت کی سوچ کے مطابق کراچی لاوارث ہو چکا ہو۔ میں نے عامر لیاقت کی سوچ کا ذکر اس لئے کیا کیونکہ انکی سوچ ہر گزرتے منٹ کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔

عمران خان اور عامر لیاقت میں ایک بات اور مماثلت رکھتی ہے کہ دونوں کے نزدیک اچھا وہی ہے جو ان کے ساتھ ہو۔ مخالفت کرنے والا شخص دونوں کو پسند نہیں۔ خان صاحب کے لئے کوئی بھی سیاستدان اس وقت تک کرپٹ ہے جب تک وہ پیپلز پارٹی، ن لیگ یا دوسری کسی جماعت کا حصہ ہو، تحریک انصاف میں شامل ہوتے ہی وہ انصاف واشنگ پاؤڈر سے دھل کر صاف ہو جاتا ہے اور سارے داغ دھل جاتے ہیں۔

عامر لیاقت کے لئے بھی کوئی بھی چینل اس وقت تک اچھا ہے جب تک وہ خود اس کا حصہ ہیں۔ چینل چھوڑتے ہی وہ چینل کی برائیاں شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ چینل مالکان پر ملک دشمنی کا اور غداری کا الزام بھی لگا دیتے ہیں۔ دونوں کے درمیان ایک بات اور مماثلت رکھتی ہے کہ دونوں ہی ڈکٹیٹر ذہنیت کے مالک ہیں مگر اس معاملے میں عمران خان اپنے نئے کھلاڑی سے کافی آگے ہیں کیونکہ عمران خان کے لئے مشہور ہے کہ وہ ایک آمر کی طرح پارٹی امور چلاتے ہیں۔ امید کرتا ہوں عامر اور آمر کی یہ جوڑی کامیاب رہے گی۔

مصنف سیاست اور حالاتِ حاضرہ پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. Shabbir کہتے ہیں

    extremely bogus column. Imran Khan is a great personality and hero of the Nation. Amir Liaquat is darama no doubt but you cannot criticize IK just for joining PTI upon his on desrires.

    1. Shabbir Ahsan کہتے ہیں

      Further you are even not eligible to write columns. You are totally biased and extremely narrow minded that shown in the topic of this blog.

  2. HABIB کہتے ہیں

    KIA AAP PEOPLES PARTY KAY SAATH HAIN.

تبصرے بند ہیں.