میرے رشکِ قمر

6,403

کہا جاتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں ایک ایسے بزرگ تھے جن کی دعا قبول ہوتی تھی۔ ایک دن حجاج نے ان بزرگ کی خدمت میں درخواست کی کہ میرے حق میں دعا فرمائیے۔ حجاج کی یہ بات سن کر بزرگ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا، اے اللہ ! اس شخص کو موت دے دے۔ حجاج یہ دعا سن کر بہت حیران ہوا اور شکایت کے لہجے میں بولا، آپ نے میرے حق میں یہ کیسی دعا مانگی؟ بزرگ نے فرمایا، تیرے اور مسلمانوں کے لیے یہی دعا سب سے اچھی ہے۔ وہ اس لیے کہ جلد موت آ جائے گی تو تیرا نامہ اعمال مزید سیاہ نہ ہو گا اور عام مسلمانوں کے لیے یوں کہ تو مر جائے گا تو انھیں ظلم وستم سے نجات مل جائے گی۔ کمزور تیری وجہ سے تنگ ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس ظلم سے تو باز آئے۔ لائق فخر نہیں تیر ی یہ شان و شوکت ایسے جینے سے تو اچھا ہے کہ تو مر جائے۔

نشہ کسی بھی شے کی لت کو کہتے ہیں۔ نشہ کوئی بھی ہو اس کی لت انسان کو تباہ کر دیتی ہے۔ چاہے وہ لت منشیات کی ہو یا اقتدار میں رہنے کی۔ نواز شریف 1980ء سے کسی نا کسی صورت پنجاب اور پاکستان کے اقتدار کے مالک رہے ہیں۔ 37 سال کسی بھی شخص کی زندگی کا بڑا حصہ ہوتے ہیں۔ دو بار وزیراعلیٰ پنجاب، تین بار وزیراعظم بن کر بار بار اپنی حرکات اور کم فہمی کے باعث اقتدار سے ہاتھ دھوتے رہے اور اب شکوہ کرتے ہیں کہ انہیں موقع ملتا تو وہ ملک کی تقدیر سنوار دیتے۔

اس سے بڑا نااہل شخص کون ہوگا جو 37 سال قوم کی تقدیر نہ سنوار سکا۔ کتنے ہی لاکھوں کروڑوں لوگ ہوں گے جن کی کل عمر 37 سال نہیں ہوتی اور وہ فوت ہو جاتے ہیں۔ امریکی صدر 4 سال کیلئے اور زیادہ سے زیادہ 8 سال کیلئے آتا ہے اور ایسے ایسے کام کر جاتا ہے جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

دنیا بھر میں کہیں بھی کوئی حادثہ یا سانحہ یا نااہلی ثابت ہو تو متعلقہ وزیر یا سربراہ فوری استفعیٰ دیکر دوسرے کیلئے راستہ چھوڑ دیتا ہے کہ میری وجہ سے ملک و قوم کا نقصان ہوا جس کا ذمہ دار میں ہوں۔ لہٰذا اپنا عہدہ چھوڑ کر دوسرے کو موقع دیتا ہوں تاکہ وہ اپنے مطابق ملک و قوم کو آگے لیکر جا سکے۔ لیکن میاں صاحب کو ایسا نشہ چڑھا اقتدار کا جسے وہ تاحیات اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔ ان کو تو 37 سال اقتدار کے ملے اس کے باوجود وہ کچھ نہ کر پائے۔ کچھ کیا بھی تو صرف اپنے خاندان کیلئے۔

نواز شریف صاحب ہر تقریر میں ایٹمی دھماکوں کا سہرا اپنے سر باندھتے ہیں۔ موٹر ویز اور اب سی پیک کا سہرا اپنے سر باندھتے ہیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اپنے سر باندھتے ہیں۔ اس میں کنجوسی سے کام نہیں لینا چاہیئے۔ بلاشبہ اس میں میاں صاحب کا کردار ہے لیکن تمام تر کریڈ ٹ اپنے سر سجا لینا درست نہیں۔

ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا سہرا وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر عبد القدیر خان کے سر ہے۔ اگر نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ امریکی صدر کلنٹن نے ان پر دباؤ بڑھایا کہ دھماکے نہ کریں اور وہ ڈٹ گئے ایسا بالکل نہیں۔ نوازشریف صاحب دھماکے کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ اس وقت پاک فوج نے ان پر دباؤ بڑھایا کہ امریکا کے سامنے نہ جھکیں۔ نامور صحافی مجید نظامی صاحب نے کہا تھا میاں صاحب دھماکے کر دیں ورنہ قوم آپ کا دھماکا کر دیگی۔ تب جا کر کہیں میاں صاحب نے دھماکے کیے۔ نواز شریف صاحب جلسوں میں دھماکوں کا بتاتے ہیں کبھی ایک آدھ بار زحمت کرکے دھماکوں کی اندرونی کہانی بھی بتا دیں کہ انہوں نے فوج اور عوامی دباؤ پر دھماکوں کا حکم دیا تھا۔

موٹر وے بلاشبہ ایک بہت بڑی سہولت ہے۔ لیکن اس کے پیچھے اصل کہانی یہ ہے کہ کئی بڑے بڑے سیاستدانوں کی جانب سے کئی کئی سو ایکڑ بنجر و ویران اراضی سستے داموں خریدی گئیں اور ان زمینوں کے اوپر موٹر وے کا منصوبہ سجایا گیا۔ کوڑیوں کے بھاؤ خریدی گئی اراضی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مہنگے داموں بیچ دی گئی جس کا تمام تر پیسہ ان سیاستدانوں کی جیبوں میں گیا۔
ذکر کریں سی پیک اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا تو جناب دیگر اقوام اور رہنما اپنے ملک کا مفاد سب سے پہلے دیکھتے ہیں۔ سی پیک چین نے اپنے مفاد کیلئے بنایا ہے۔ جس سے اس کے تجارتی سفری اخراجات 70 فیصد تک کم ہو جائیں گے۔ چین کی اس ‘سہولت ‘ سے ظاہر ہے پاکستان بھی فائدہ اٹھالے تو چین کو کیا اعتراض ہو گا۔ اس حوالےسے راقم کا کالم ‘سی پیک، کئی ممالک کے مفادات کی جنگ‘ بھی شائع ہو چکا ہے۔

چین جو اتنی بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے، وہ ایک ایسے ملک پر تو رسک نہیں لے سکتا جہاں اندھیروں کا راج ہو۔ اس لیے بجلی کی پیداوار کے نصف سے زائد منصوبوں کی رقوم سی پیک منصوبے کی رقم سے ہی حاصل کی جا رہی ہے۔ چنانچہ لوڈشیڈنگ کے خاتمہ میں بھی بالواسطہ چین ہی کا کردار ہے۔ اگر نوازشریف صاحب یہ کریڈٹ لیں کہ یہ ان کے دور حکومت میں ہوا تو غلط ہے کیوں کہ اس کی بنیاد اس وقت صدر پاکستان آصف زرداری نے رکھی تھی۔ زرداری دور میں پہلی بار پاک روس تعلقات بہترین ہوئے اور چین پاکستان پر بھاری سرمایہ کاری کرنے پر رضامند ہوا۔ اس کے علاوہ نواز شریف کے درجنوں دعوے جھوٹ ثابت کیے جا سکتے ہیں لیکن وقت اور جگہ کی گنجائش کم ہے۔

نواز شریف کے 37 سال اقتدار میں رہنے میں ان کا کوئی کمال نہیں اور نہ ہی ان میں صلاحیت تھی کہ وہ اتنا بڑا عہدہ سنبھال سکیں۔ دعا دیں اپنے والد میاں محمد شریف صاحب کو جنہوں نے ان کو وزیراعظم بنوا دیا۔ میاں شریف ایک خوش قسمت انسان تھے۔ ان کی اولاد تابعدار تھی۔ انہوں نے ضیا الحق سے قربت اختیار کرکے اپنے بیٹے نوازشریف کو میدان سیاست میں لا کھڑا کیا اور بعد میں وزیراعظم تک بنوا دیا۔ چھوٹے بیٹے کو وزیراعلیٰ بنوا دیا۔ میاں شریف کے جیتے جی اسٹیبلشمنٹ ایک لاڈے کے طور پر نواز شریف کے نخرے اور کوتاہیاں برداشت کرتی رہی لیکن ان کی رحلت کے بعد نواز شریف حقیقت میں بھی یتیم ہو گئے اور سیاسی طور پر بھی۔ نواز شریف کی دوسری سیاسی زندگی میں بھی ان کا اپنا کوئی کردار نہ تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو صدر پرویز مشرف کے سامنے ڈٹ گئیں اور پاکستان آنے کی ٹھان لی۔ مشرف کو نا چاہتے ہوئے بھی بے نظیر بھٹو پاکستان آنے کی اجازت دینا پڑی۔ بے نظیر بھٹو کی اوٹ میں نواز شریف بھی پاکستان آگئے۔

بے نظیر بھٹو عالمی سطح کی لیڈر تھیں۔ ان کی شہادت کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے پاس دوسری چوائس نہ رہی اور نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بن گئے۔ لیکن انسان کی جبلت نہیں بدل سکتی،عہدے کا غرور ان کو پھر لے ڈوبا۔ جیسے میاں شریف مرحوم نے اپنی عام درجے کی اولاد کو وزیراعظم بنوا دیا۔ نواز شریف ایسا نہ کر سکے۔ وہ اولاد کے معاملے میں بدقسمت ثابت ہوئے۔ دونوں بیٹے سیاسی نابالغ ہیں اور برطانوی شہریت لیکر وہاں کاروبار کے مالک ہیں۔ حقیقت میں وہ بطور ڈمی اس کاروبار کو چلا رہے ہیں۔ درحقیقت شریف خاندان کے تمام تر کاروبار زیرک رشتہ دار اسحاق ڈار کی زیر نگرانی ہیں۔ اسی وجہ سے شریف خاندان کے کاروبار میں ‘دن کو چار گنا ‘ اور ‘رات کو آٹھ گنا ‘ ترقی ہوتی ہے۔ پورا ملک اور پوری قوم قرض اور مفلسی کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے اور اور شریف خاندان کا جادوئی کاروبار ترقی پہ ترقی کیے جا رہا ہے۔

بیٹوں کی نااہلی دیکھتے ہوئے نواز شریف صاحب نے اپنی صاحب زادی مریم نواز کو اپنا سیاسی وارث بنایا۔ مگر اس نادان سیاسی وارث نے ڈان لیکس کے ذریعے اپنے والد کو تیسری بار وزارت عظمیٰ سے محروم کرادیا۔ رہی سہی کسر ان کے داماد نے اسلام آباد میں دھرنا کی اجازت دلوا کر پوری کر دی۔ فیض آباد دھرنے سے نوازشریف کی عوامی مقبولیت میں بری طرح کمی آئی ہے۔ اس دھرنے کی اجازت کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ذاتی ‘گارنٹی ‘ کی بنا پر دی گئی تھی۔

بھولا خبری اپنی ڈیڑھ سال پرانی پیش گوئی پر قائم ہے۔ نواز شریف کا سیاسی سورج غروب ہوگ جس کے بعد انہیں سخت سزاؤ٘ں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مریم نواز کے حوالے سے اس کی خبر اسی طرح برقرار ہے کہ وہ بھی سزا وار ہوں گی۔ تاہم بھولا خبری نے شہبازشریف کے حوالے سے ایک بڑی خبر دی ہے جو اگلے کالم میں شامل کروں گا۔ بس ہلکا سا اشارہ یہ ہے کہ شہباز شریف کو ابھی تک ‘کلین چٹ ‘ نہیں ملی۔

بھولا خبری نے آنے والے دنوں کو ملک اور حکمرانوں کیلئے انتہائی اہم اور سخت قرار دیا ہے۔ بھولے خبری کا کہنا ہے کئی بڑے بڑے سیاستدانوں کے خلاف گھیرا تنگ کر لیا گیا ہے۔ ان کے اسکینڈل آچکے ہیں جنہیں اگلے دو سے تین ماہ میں منظر عام پر لایا جائےگا۔ عوام کے سامنے ملک سے کھیلنے والے سیاستدانوں کو بے نقاب کیا جائے گا جو اگلے الیکشن کا ٹرننگ پوائنٹ ہوگا۔ تاہم اگلے الیکشن کے حوالے سے بھی بھولا نے اہم مخبری دی ہے۔ اس کا کہنا ہے جولائی اگست میں الیکشن کرانے کا فیصلہ نہیں ہو پا رہا کیونکہ ان دنوں برسات اور بارشوں کی وجہ سے سیلاب کے خطرات ہوتے ہیں۔ بھولے کا کہنا ہے پاکستان کی دونوں سرحدوں کے پار بھی گہری سازشیں ہو رہی ہیں۔ ہو سکتا ہے بھارت سمیت بیرونی قوتیں پاکستان میں الیکشن کے اعلان کے بعد افراتفری پھیلا سکتی ہیں۔

بھولا خبری نے الیکشن کے حوالے سے ایک بڑی خبر یہ دی ہے وقت پر الیکشن ہونے کے امکانات بہت کم ہیں اور اگر ہوئے بھی تو اب اسٹیبلشمنٹ بھی سیاستدانوں کو ‘فری ہینڈ ‘ دے دیکر سمجھدار ہو چکی ہے۔ عام انتخابات میں وفاق اور صوبوں میں چوں چوں کا مربہ ہی ہوگا۔ کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہیں دی جائے گی۔ البتہ مجموعی طور پر اکتوبر کے بعد صورتحال کافی کلیئر ہو جائے گی۔ اس وقت تک الیکشن ہوئے تو وزیراعظم کا قرعہ عمران خان کے نام کا ہی نکلے گا مگر ان کو قابو میں رکھنے کیلئے سادہ اکثریت نہیں دی جائے گی۔ بلکہ پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کیلئے اتحادیوں کی ‘ضرورت ‘ پڑے گی۔

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

20 تبصرے

  1. zahra کہتے ہیں

    thanks nice sharing its really informative

    1. Ali Mayo کہتے ہیں

      Thank you Zahra

  2. Athar shah کہتے ہیں

    Yahan hr polirician PM bnnay k khawab daikhta hy or bary bary wadday bhi krta hy but hddd tbbb hoti hy jbb Wo wadday wafa bhi na karain or dhitai sy jalsoo me kahain k 1 moqa or dain hum andhary mita dain gain…. 100% agree with your point of view

    1. Ali Mayo کہتے ہیں

      Athar Shah Sab Thank You to understand my Point Of view

  3. شہزاد چوھدری کہتے ہیں

    سب بکواس اور لفافے کا کمال لگتا ھے

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      شہزاد صاحب کالم پر کمنٹ کرنا آپ کا حق ہے ۔لفافہ دینے والے کا نام بھی بتا دیں تو زیادہ اچھا ہوگا ۔ اور جب آپ کو لفافہ دینے والے کا پتہ ہے تو مطلب یہ بھی پتہ ہوگا کہ اس کے اندر کیا کچھ تھا ۔ جناب یہی اس عوام کی پستی کا سبب ہے کہ بنا تحقیق کہ الزامات لگا دیتی ہے ۔حقائق پر بات کیا کریں ۔ میری نواز شریف سے ذاتی دشمنی نہیں ۔ میں نے صرف حقائق بیان کیے ہیں ۔ آپ اندر سچ کو سننے اور اس کو برداشت کرنے کا حوصلہ بڑھائیں شکریہ

  4. Awais Ahmad کہتے ہیں

    Good analysis. Much realistic.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Awais Ahmad Sab , Thank you . Yes , I Journalist Must be Neutral & Realistic

  5. abrar کہتے ہیں

    ye sub siyasi tabdeeli baykaar or bay maani hai jabtak judiciary ka system theek nahi hota, public yunhi saalo saaal apne cases or insaaf ky liye bhatakti rahe gi or wakeel apni jaib bharte rahe gy, jis din islami laws ka nifaaz hogia uss din iss judiciary system ki dukan dari khatam hojaygi.. fori insaaf islami nizam ki pehchaan hai..

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Abrar Sab sirf adliya ko ni blke sab idaron ko zarort hai apni apni islah krne ki . kisi aik idray k thek honey se mulk thk ni hoga

  6. Sarosh Latif کہتے ہیں

    baat ye h k awam jise bhi vote de kr field m lati h use awam k jazbaat ka aur bharosey ka paas rakhna chahiye. hakoomat ek nasha h to ye seaton wale addicted

    good work by the way !

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Sarosh Latif . Thank You

  7. کاشف احمد کہتے ہیں

    معذرت کے ساتھ انتہائی سطحی تحریر ہے حالت بدلنا کس کو کہتے ہیں آپ پہلے پیمانہ سیٹ کریں عام آدمی کو پانی بجلی گیس اور امن چاہیے تھا 2013 میں وہ تو ملا ہے اب چار سال میں جب آپ کے ادارے ہی آپ کی ٹانگیں کھینچیں گے تو کیا ہو گا پھر یہی ہوگا جوہورہا ہے سب کچھ ریورس ہو جائے گا ایک بات یاد رکھیں پاکستان کی ترقی کی طرف ایک ہی راستہ جاتا ہے وہ ہے استحکام کا اور اقتدار کی پر امن منتقلی صرف یہی نہیں ہونے دیا ہم نے آج تک باقی سب کرلیا ہے نواز شریف کو آپ پہلے بھی دو بار آٶٹ کر چکے اور منہ کی کھانی پڑی پھر کوئی ان سے بھی تو حساب لے جو وقت ضایع ہوا اس قوم کا 1999 سے 2013 تک اس کا کون حساب دے گا ؟ اب پھر 1999 پہ لا کھڑا کیا ہے ہمیں پہلے خوب ٹانگیں کیھچو پھر کہو کہ تم نا اہل ہو واہ بھئ واہ میں یہ پوچھتا ہوں کون سی قیامت آجاتی اگر نواز شریف 5 سال پورے کر لیتا تو ؟ بس مسئلہ صرف یہ ہے کہ ایسا ہونے کو زمینی خدا اپنی شکست ما نتے ہیں وہ لوگ صرف اپنی طاقت دکھانے کے لیئے ایسا کرتے ہیں اللہ ہم سب کو معاملہ فہمی عطا فرمائے

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      آپ کی بات درست ہے لیکن عدالتی فیصلہ ہے ۔ اور جو جتنا بڑا عہدیدار وہ اتنا ہی بڑا ذمہ دار ہے

  8. کاشف احمد کہتے ہیں

    اور رہی بات یہ کہ کریڈٹ کس کو جاتا ہے تو اصل جو مسئلہ ہے وہ ہے ہی کریڈٹ کا جو کریڈٹ لے رہے تھے وہ ایکسٹینشن چاہتے تھے جب نہیں ملی تو انا مسئلہ بنا لیا اور ایک منتخب وزیراعظم کو نااہل کروا کر اپنی خدائی منوائی گئ اور یہ کوئی منطق نہیں ہے کہ فلاں نے مشورہ دیا اور فلاں کے خوف سے کیا بھائی وزیراعظم خو گیتی بیلچہ لے کر تو کام نہیں کرے گا کام تو اداروں سے ہی کروایا جاتا ہے اور بریفینگ بھی لی جا تی ہے رائے بھی لی جاتی کوئی بھی وزیراعظم اپنی مرضی کے طابق فیصلہ نہیں کرتا ملک اور قوم کا مفاد دیکھ کرتا ہے تبھی تو جلاوطنی کی شکل میں قیمت بھی ادا کرتا ہے اور سی پیک کا ہی تو جرم جس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات بھارت اور امریکہ نے مل کر یمن کے معاملے میں سعودی عرب کو گھیر کر سعودی عرب کے ذریعے فوج کو اعتماد میں لے کر نواز شریف کو باہر کروایا اور جن کو آپ سی پیک کا کریڈٹ دے رہے ہیں وہ تو پاک ایران گیس پائپ لائن کا معاہدہ بھی کر کے گئے تھے کیا بن گئ وہ؟ بھائی کریڈٹ بھی اسی کو جائگا جو گراونڈ پر کام کرے گا کاغذ پر نہیں اور پھر اس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے کبھی نا اہلی کی صورت میں اور کبھی پھانسی کی صورت میں کبھی نااہلی کی صورت میں آپ کی سطحی باتیں لوگوں کو گمراہ کرنے کے سوا کچھ نہیں پڑھ کر بہت دکھ ہوتا ہے

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      thx for comments

  9. Danish کہتے ہیں

    Sir yeh hamari jamhooriyat ka husn he tau hai jo baar baar aisay logo ko hamara hukumraan bannay deta hai jo declared corrupt hon, incompetent hon, aur politics Jin ke liye personal business ho.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Danish ye awam hain jo apne vote ka sahi istamal ni krte

  10. Ijaz ahmed کہتے ہیں

    Analysis with a vague take home message.All the things are already written on wall.Bhola khabri seems confident about nawaz sharif departure from Siasat.Technically he was already gone even without his dismissal as his turns were over and fresh blood is ready to take command. Question is of sharif family and PMLN. I am not looking PTI on high ranking in general election. Next Govt will be a coalition Govt of PPP and PMLN.because they r always together for the survivel of “jamhoriat”

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Ijaz Sab .it would be helpful for you if you read my columns in archives . Bhola Khabri is a character in my Columns . and your point about next Govt formation is valid . but is seems too hard. i think no party will get a clear lead but i think PTI will be the ruler .Only God knows All what will happen

تبصرے بند ہیں.