کیمرون ہائی لینڈ۔۔۔ شائد ہی کہیں اور ہو

6,413

میرے چاروں طرف سبزہ ہے، پھول ہیں اوربھینی بھینی خوشبو سانسوں میں اتر رہی ہے۔ میں اس وقت سطح سمندر سے چھ ہزار فٹ بلندی پر بیٹھا ہوں۔ تا حد نظر چائے کے باغات ہیں۔ فضا میں چائے کے باغات سے اٹھنے والی خوشبو پھیلی ہے جو دل و دماغ کو سکون بخش رہی ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ ہوا بہت تیز ہے لیکن اس میں بھاری پن نہیں ہے۔ ہوا کا رویہ شفیق ماں جیسا ہے۔ جیسے کوئی ماں اپنا ہاتھ اپنے بیمار بیٹے کے ماتھے پر رکھ دے، محبت کی تاثیر رگ و پے میں اتر جاتی ہے۔ ٹھیک ویسے ہی یہ ہوا بڑی نرمی سے مجھے چھو کر میری روح کے اس پار اتر رہی ہے اور مجھے معطر کر رہی ہے۔

آپ کو اکثر تجربہ ہوا ہو گا کہ جب کسی جگہ تیز ہوا چلے تو اس کی شدت سے آپ کی آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں اور جیسے دھکے سے لگتے ہیں۔ لیکن یہاں کی ہوا میں عجب سی نرمی ہے جو آپ کو چھوتی تو ہے لیکن نہ تو آپ کی آنکھیں بند ہوتی ہیں اور نہ ہی جھٹکے لگتے محسوس ہوتے ہیں۔ اس ہوا کے اندر رچی خوشبو آپ کو مسحور کر دیتی ہے۔ شائد یہاں آلودگی کا نہ ہونا اس کی وجہ ہو۔ یہ جگہ کیمرون ہائی لینڈ کہلاتی ہے۔

cameron-highland-boh_tea_plantation

پاہانگ میں واقع یہ وادی ملیشیاء کی مشہور ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ باقی ملک کے بر عکس اس کا درجہ حرارت دن میں عموما 18 سے  14 کے درمیان رہتا ہے جبکہ راتیں مزید ٹھنڈی ہو تی ہیں اوردرجہ حرارت 12 سے 8 تک کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔ کیمرون ہائی لینڈ 1885ء میں برطانوی راج کے دوران دریافت ہوا۔ تیتی وانگسا کے پہاڑی سلسلوں میں سر سبز و لہلہاتی کھیتیوں کو پار کرتے ہوئے پہاڑوں میں ڈھکی یہ وادی ولیم کیمرون کی توجہ کا مرکز بنی۔ اسی نسبت سے اسے کیمرون ہائی لینڈ کہا جاتا ہے۔

چالیس سال بعد سر جارج میکس ویل نے اس علاقے کو آباد کرنے کے لئے یہاں اسپتال سکول اور گالف کلب بنوا دئے۔ ملک بھر سے کسانوں کو یہاں لا کر اس نے چائے اور سٹرابری کے باغات کی کاشت شروع کروا دی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے یہ جگہ سیاحوں کی پسندیدہ ترین تفریحی مقام میں بدل گئی۔

cameron-highland-strawberry

کیمرون ہائی لینڈ میں باغوں کے بیچ و بیچ چائے کی مختلف کمپنیوں نے اپنی فیکٹریوں کے ساتھ ساتھ کیفے بھی بنا رکھے ہیں۔ جہاں دنیا بھر سے آئے سیاح تازہ پتیوں سے بننے والی چائے نوش کرتے ہیں اور باغات سے آنے والی خوشبو دار ہواؤں کے مزے لیتے ہیں۔ آپ کتنے ہی تھکے ہوئے کیوں نہ ہوں۔ اس چائے کی خاص بات یہ ہے کے اس کے دو گھونٹ ہی آپ کوتر و تازہ کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ یہ چائے یہاں مصالحہ چائے کے نام سے مشہور ہے۔

سیاحوں کی زیادہ تعداد گوروں پر مشتمل ہے۔ یورپ بھر سے ہزاروں کی تعداد میں سیاح یہاں موجود ہیں۔ اور قدرت کے حسین مناظر اپنے کیمروں میں محفوظ کر رہے ہیں۔ سیاح چائے کی چسکیاں لے رہے ہیں اور اپنی یاداشت رقم کرنے کے لئے نوٹس بھی بنا تے جا رہے ہیں۔ ہوا کو آلودگی سے بچانے کے لئے یہاں سگریٹ پینے پر پابندی عائد ہے۔ اگر آپ مجھ سے پوچھتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ پابندی نہ بھی ہوتی تو بھی مسحور کر دینے والے مناظر کے درمیان جہاں شفاف ہوا کے اندر ایسی تازگی ہو تو آپ کبھی نہیں چاہیں گے کہ آپ کے پھیپھڑوں میں ایسی روح افزاء ہوا کی جگہ سگریٹ کا دھواں جائے۔

cameron-highlands-BOH-Tea-Plantation-Factory
اس وادی میں آپ کسی بھی طرف نکل جائیں، قدم قدم پر قدرت اپنی تمام تر جولانیوں کے ساتھ حسن بکھیرتی نظر آتی ہے۔ ہر منظر آپ کو مبہوت کر دیتا ہے۔ آپ ضرور حیران ہوتے ہیں کہ اللہ کی بنائی یہ دنیا کس قدر خوبصورت ہے۔ آپ کسی ایک جگہ رکتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ “آہ۔۔۔ یہ جگہ سب سے پیاری ہے اس سے دل نشین جگہ کیمرون ہائی لینڈ میں شائد ہی کوئی اور ہو”۔ لیکن جب آپ تھوڑا اور آگے جاتے ہیں تو آپ اپنے دل میں ضرور سوچتے ہیں کہ “ارے یہ منظر جو میں ابھی دیکھ رہا ہوں یہ تو پچھلے مناظر سے بھی بڑھ کر ہے”۔

ہر منظر پچھلے منظر سے زیادہ دلکش ہے۔ کہیں چائے تو کہیں سٹرابری کے باغات نظر آتے ہیں، کہیں شہد کی مکھیوں کے فارمز نظر آتے ہیں، پہاڑوں میں بہتے جھرنوں کی دل موہ لینے والی موسیقی ہر لحظہ جاری ہے، رنگ برنگے پرندے اور تتلیاں فضا کو رنگین کئے ہوئے ہیں۔ جس طرف بھی نگاہ اٹھتی ہے ، آپ مسحور رہ جاتے ہیں، نظر ہٹانا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہاں آپ براہ راست باغات سے اپنی من پسند سٹرابری توڑ سکتے ہیں، خالص ترین شہد آپ کی دسترس میں ہے۔

باغوں کے اندر بنے آؤٹ لٹس میں سے آپ چائے کی پتی خریدئے۔ یہاں کے لوگ بہت خوش مزاج اور مہمان نواز ہیں۔ جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ چوبیس گھنٹوں میں کسی بھی وقت باہر نکلئے ، ٹھنڈی ہوا کے مزے لیجئے، آپ کی جان و مال مکمل طور پر محفوظ ہے۔

cameron highlands

باغات سے ذرا آگے نکل آئیے، یہاں مزید بلندی پر ایک لمبی سڑک ہے۔ جس کے اطراف میں مارکیٹس، ہوٹلز اور انواع ااقسام کے ریسٹورنٹس موجود ہیں۔ اس سڑک کو آپ ہماری مری کی مال روڈ سے مشابہہ سمجھ لیں۔ سیاحوں کا رش بھی اسی طرح ہے۔ لیکن ہمارے مال روڈ کے بر عکس یہاں سیاح اپنے پسندیدہ مشاغل میں مگن ہیں۔ یہاں نہ تو نوجوانوں کے ٹولے خواتین پر آوازے کستے نظر آتے ہیں۔ اور نہ ہی کوئی یہاں لڑ رہا ہے۔ یہاں پر گاڑیوں کی تعداد بھی مری میں آئی گاڑیوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ لیکن آپ کو کہیں کوئی ٹریفک بلاک نہیں ملے گا۔

میری چھٹیاں ختم ہو چکی ہیں۔ میں کوالالمپور واپسی کے لئے رختِ سفر باندھ چکا ہوں۔ واپسی کے سفر کے دوران ایک بار پھر گاڑی چائے کے باغات سے گزرتی ہے تو میں گاڑی کا ائیر کنڈیشنڈ بند کر کے شیشہ کھول لیتا ہوں۔ میں خنک اور خوشبو دار ہوائیں اپنی سانسوں میں بھر لینا چاہتا ہوں۔ سامنے بنے کیفے میں بیٹھ کر چائے کا ایک آخری کپ پینے کا ارادہ ہے۔ ایسی چائے جو اس سے پہلے کبھی پینے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔

قدرت کا سحر انگیز حسن مجھے روک رہا ہے کہ کچھ دیر ہی سہی لیکن یہاں مزید وقت گزار لوں۔ میں جاتے ہوئے ان لمحوں کو روکنا چاہتا ہوں لیکن غمِ روز گار کی دل فریبی مجھے اپنی طرف بلاتی ہے۔ اب مجھے جانا ہے۔ میری نظریں ان نظاروں کو الوداع کہہ رہی ہیں۔ گاڑی کی رفتار گاہے بڑھ رہی ہے اور خوشبوؤں کی سفیر اس وادی کے مناظر تیزی سے پیچھے چھوٹ رہے ہیں۔

واصف ملک شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹر، کالم نگار، اور بلاگر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

108 تبصرے

  1. Nadia کہتے ہیں

    آپ کا پچھلا بلاگ پڑھ کر سوچا تھا کہ ملائشیا کے پاس سے بھی نہیں گزرنا کبھی. اور یہ پڑھ کر یہ پڑھ کر رہا نہیں جا رہا. دل چاہتا کہ جلد سے جلد کیمرون ہائی لینڈ تو دیکھ آئیں. تحریر بہت خوبصورت ہے اور تصاویر بھی.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      محبت ہے آپ کی.

      1. Nadia کہتے ہیں

        You welcome.

      2. Jamshed asad کہتے ہیں

    2. Jamshed asad کہتے ہیں

  2. Shaikh waseem کہتے ہیں

    Lo G Bhai G
    Ye hy Zabardast Zubano Biyan
    Kamal Ki Kaat hy Lafzon me
    Aaj Ap Javed Ch ko Peechay Chhor Gaey
    Kiya Samaan Bandha hy Ap Ne Wahan Ka
    Lagta hy K Banda Wahin hy
    Aaj Ka Blog Ap K Pichhlay Sab Columns aur Article ko Peechay Chhor giya

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      شکریہ یا شیح

      1. Shaikh waseem کہتے ہیں

        Thanks ya habeebi

    2. Jamshed asad کہتے ہیں
    3. Nadia کہتے ہیں

      Agree with shaikh waseem.

  3. Sajid khan aurakzai کہتے ہیں

    کیمرون ہائی لینڈ کولالمپور سے کتنے گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے؟ کیا پبلک بسس جاتی ہے؟

  4. Wasif malik کہتے ہیں

    Thank u miss nadia

  5. واصف ملک کہتے ہیں

    خان صاحب بالکل جاتی ہیں بسیں. بلکہ بہت آرام دہ ہوتی ہیں. قریب قریب چار گھنٹے کی ڈرائیو بن ہی جاتی ہے.

    1. Sajid khan aurakzai کہتے ہیں

      یہ تو بڑی اچھی بات ہے.

    2. Nadia کہتے ہیں

      Cameron highland. The ultimate destination.

    3. Jamshed asad کہتے ہیں

      Thik hai.

  6. سید عابد زیدی کہتے ہیں

    میاں جانتے ہو محبت کیا ہوتی ہے. محبت ایک نازک سا احساس ہے بالکل تمھارے لفطوں کی طرح حسین. یہ وہ احساس ہے جو سیکھا جا سکتا ہے نہ سکھایا جا سکتا ہے. یہ تو دین ہوتی ہے اوپر والے کی. اس دین سے ہمیشہ پازیٹو کام لینا. اور یوں چلتے جانا. اللہ تمھارا نگہبان ہے.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      شکریہ سر. محبت کیا ہوتی ہے. اس کو جاننے کا دعوی تو نہیں کر سکتا سر. لیکن محبت کرنے والے لوگ سر انکھوں پر بیٹھا رکھتا ہوں. اپ کی محبتوں کا شکریہ.شاہ صاحب

      1. سید عابد زیدی کہتے ہیں

        خوش رہو

        1. واصف ملک کہتے ہیں

          اللہ آپ کو بھی خوش رکھے سر. آمین

    2. Jamshed asad کہتے ہیں
  7. Abdul Qadir mughal کہتے ہیں

    I oftenly read travel stories and articles. This is one of the most readable and informative article. Charming

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      Thank you abdul Qadir.

  8. شاہدہ لطیف کہتے ہیں

    آج کل سفر نامے لکھنے کا رواج زور پکڑ چکا ہے. جابجا ہم کو سفری روداد پڑھنے کو ملتی ہیں. کم کم ہی کوئی دل کو چھو پاتی ہے. ایمانداری سے کہتا ہوں آپ کی یہ تحریر براہ راست دل خو چھو گئی. دنیا نیوز کے ہت بہت شکرگزار ہیں . کہ بہت اچھے لکھنے والے رکھے ہوئے ہیں. قاری کے لئے سب کچھ ہے اس ویب سائٹ پر. صاحب تحریر کو بھی سلام.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      تھینک یو میم، واعلیکم اسلام. شاہد ہ لطیف

      1. شاہدہ لطیف کہتے ہیں

        میں گزشتہ کئی سال سے اوورسیز پاکستانیوں کے لئے میگزین نکال رپی ہوں. اگر آپ انگلش میں بھی لکھتے ہیں تو اپنی اینٹریز مجھے بھجوا سکتے ہیں. آپ کی ای میل پر تفصیلات بھیج دی ہیں

        1. واصف ملک کہتے ہیں

          اگر فرصت ملی تو بحوشی لکھوں گا. میں شکر گزار ہوں آپ نے اس لائق سمجھا. محبتوں خا شکریہ.

        2. Jamshed asad کہتے ہیں
  9. Jamshed asad کہتے ہیں

    ۔ اس سڑک کو آپ ہماری مری کی مال روڈ سے مشابہہ سمجھ لیں۔ سیاحوں کا رش بھی اسی طرح ہے۔ لیکن ہمارے مال روڈ کے بر عکس یہاں سیاح اپنے پسندیدہ مشاغل میں مگن ہیں۔ یہاں نہ تو نوجوانوں کے ٹولے خواتین پر آوازے کستے نظر آتے ہیں۔ اور نہ ہی کوئی یہاں لڑ رہا ہے۔ یہاں پر گاڑیوں کی تعداد بھی مری میں آئی گاڑیوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ لیکن آپ کو کہیں کوئی ٹریفک بلاک نہیں ملے گا۔

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      اللہ پاک کا شکر ہے. اپنا پاکستان بھی کم خوبصورت نہیں ہے. آپ کے پاس اگر باہر جانے کے وسائل نہیں تو آپ پاکستان کی سیر کریں. گلگت جائیں. بلےستان، کشمیر سوات. سینکڑوں جگہیں ہیں جو آپ کو تعریف کرنے پرمجبور کر دیں گی. بلکہ باہر والوں نے تو اپنے ملک کی نوک پلک سنوار کر اس کو خوبصورت بنایا ہے. ہمارا پاکستان تو قدرتی حسن سے مالا مال ہے. جمشید اسد بھائی

      1. Jamshed asad کہتے ہیں

        اس میں کوئی شک نہیں ہمارا ملک بھی بہت خوبصورت ہے. ہم کو قدر نہیں.

      2. Jamshed asad کہتے ہیں
  10. Jamshed asad کہتے ہیں

    ہر منظر پچھلے منظر سے زیادہ دلکش ہے۔ کہیں چائے تو کہیں سٹرابری کے باغات نظر آتے ہیں، کہیں شہد کی مکھیوں کے فارمز نظر آتے ہیں، پہاڑوں میں بہتے جھرنوں کی دل موہ لینے والی موسیقی ہر لحظہ جاری ہے، رنگ برنگے پرندے اور تتلیاں فضا کو رنگین کئے ہوئے ہیں۔ جس طرف بھی نگاہ اٹھتی ہے ، آپ مسحور رہ جاتے ہیں، نظر ہٹانا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہاں آپ براہ راست باغات سے اپنی من پسند سٹرابری توڑ سکتے ہیں، خالص ترین شہد آپ کی دسترس میں ہے

  11. Jamshed asad کہتے ہیں

    دنیایں کیسے حسین مقام ہیں. اللہ سب کو موقع فراہم کرے کہ سب دیکھ سکیں ایسی جگہیں.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      آمین

  12. جہانزیب کہتے ہیں

    روزمرہ کی روٹین ایسی ہوتی کہ بندہ صبح شام کام دھندے میں پھسا رہتا. کب عمر گزر جاتی ہے پتہ ہی نہیں چلتا. آپ خوش نصیب ہیں جو آپ کو ایسے مواقع ملے. اور خدا نے ہنر بھی دیا کہ جو دیکھتے وہ لکھ بھی سکتے.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      زندگی ایک سفر کا نام ہے. یم رکے رہیں یا چلتے جائیں. اس نے گزر ہی جانا ہے. زندگی ایسی ہونی چاہئے . جاویداحتر کہتے ہیں
      اے زندگی، میری منزلیںجھے قرب میں نہہں دور دے
      مجھے دکھا تو وہی راستہ جو سفر کے بعد غرور دے.
      میں آپ کا مشکور ہوں جہانزیب بھائی

      1. جہانزیب کہتے ہیں

        آپ کا شکریہ واصف بھائی.

    2. Jamshed asad کہتے ہیں

  13. Nadia کہتے ہیں

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      خواہشیں جتنی کم یوں اتنا اچھا ہوتا ہے مس نادیہ

      1. nadia کہتے ہیں

        خواب دیکھنا خواہش رکھنا میرے لئے سانس لینے جیسا کام ہے جناب۔

        1. واصف ملک کہتے ہیں

          اللہ آپ کے سانس یوں ہی جاری و ساری رکھے. خواب دیکھتے رہیں. اللہ تعبیر بھی دے. آمین

          1. Nadia کہتے ہیں

            آپ کی زبان مبارک ہو. امین

  14. زاہد شیخ کہتے ہیں

    مستنصر تارڑ صاحب کو پڑھتے تھے کبھی. اب آپ کو بھی پڑھا کریں گے.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      آپ کا شکریہ شیخ صاحب، لیکن ایسا نہیں ہے. میں مستنصر تارڑ کو کبھی پیچھے نہین چجوڑ سکتا. جس لسٹ میں ان کا نام آتا ہے اس لسٹ کے آخر پر بھی میں کھڑا ہو گیا تو میں سمجھوں گا بڑی بات ہو گئی.

      1. zahid shaikh کہتے ہیں

        اللہ کرے زور پلم اور زیادہ۔

        1. Jamshed asad کہتے ہیں
      2. Nadia کہتے ہیں

        آپ کی زبان مبارک ہو. امین

        1. واصف ملک کہتے ہیں

          خیر مبارک

      3. زاہد شیخ کہتے ہیں

        اللہ کرے زور قلم اور زیادہ.

  15. کامران شیخ کہتے ہیں

    چلے ہو ساتھ تو حوصلہ نہ ہارنا واصف
    کہ منزلوں کا تصور میرے سفر میں نہیں
    واصف علی واصف

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      واہ. بہت اعلی کامران صاحب.
      واصف علی واصف نے فرمایا تھا کہ
      ” اپنی مرضی اور اللہ کی مرضی میں فرق کا نام غم ہے”

      1. کامران شیخ کہتے ہیں

        بے شک سر، درست فرمایا

  16. فرید خٹک کہتے ہیں

    کیمرون ہائی لینڈ میں باغوں کے بیچ و بیچ چائے کی مختلف کمپنیوں نے اپنی فیکٹریوں کے ساتھ ساتھ کیفے بھی بنا رکھے ہیں۔ جہاں دنیا بھر سے آئے سیاح تازہ پتیوں سے بننے والی چائے نوش کرتے ہیں اور باغات سے آنے والی خوشبو دار ہواؤں کے مزے لیتے ہیں۔ آپ کتنے ہی تھکے ہوئے کیوں نہ ہوں۔ اس چائے کی خاص بات یہ ہے کے اس کے دو گھونٹ ہی آپ کوتر و تازہ کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ یہ چائے یہاں مصالحہ چائے کے نام سے مشہور ہے۔

  17. فرید خٹک کہتے ہیں

    اچھا مضمون. سنگاپور پر بھی لکھیں. سنگاپور مجھے بہت پسند ہے.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      جلد انشاءاللہ. میری کتاب “فار اوے” سنگاپور. ملائشیا اور تھائی لینڈ کی سفری روداد ہے. امریکہ، ملسئشیا ، سنگاپور اور پاکستان میں بھی دستیاب ہے. انگلش میں ہے ابھی اردو میں بھی جلد دستیاب ہو گی. انشاءاللہ.
      بہت شکریہ فرید بھائی.

      1. فرید خٹک کہتے ہیں

        ضرور سر

        1. Jamshed asad کہتے ہیں

          خٹک بھائی اپ کہاں رہتے ہو

    2. واصف ملک کہتے ہیں

      تھینکس.

  18. عادل بشیر کہتے ہیں

    میرا شوق بھی یہی ہے۔ ملکوں ملکوں کی سیر کرنا لیکن ایسا لکھنا تو ہنر ہے جو میرے پاس نہیں۔

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      لکھنا مشکل کام نہیں. جس چیز کے متعلق لکھنا ہو اس پر توجہ دیں. جیسے سفر پر نکلیں تو آس پاس کے مناظر، لوگ، اور زندگی کا مشاہدہ کریں. ساتھ ساتھ پوئنٹ بناتے جائیں. اس وقت آپ جو محسوس کر رہے ، اپنی فیللنگز بھی نوٹ کررے جائیں. بعد ازاں اس جگہ کی تاریخ کا مطالعہ کریں. اور 80%آپ کے مشاہدات اور محسوسات اور 20% وہان کی تاریخ اور لوگوں کی زندگی کو شامل کریں. لیجئے مضمون تیار ہو گیا. باتوں باتوں میں آپ کومکمل فارمولہ بتا دیا.
      شکریہ عادل صاحب

      1. adil bashir کہتے ہیں

        thank you sir

    2. adil bashir کہتے ہیں

      شکریہ، کرم، نوازش

  19. آمنہ چوہدری کہتے ہیں

    اپریل میں ہمارا پلان بھی ہے۔ تھائی لینڈ کا۔ ہم اس میں ملائشیا کو بھی شامل کریں گے۔ کیمرون ضرور جائیں گے۔ اور بھی اچھی جگہوں کے بارے میں بتا دیں۔ تا کہ وہھ بھی دیکھتے آئیں۔ نوازش ہوگی۔

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
  20. واصف ملک کہتے ہیں

    مس آمنہ، ملائشیاء جا رہیں تو کولالمپور تو آپ جائیں گی ہی. اس کے علاوہ،پترا جایہ، کیمرون ہائی لینڈ، لنکاوی،
    ملاکہ،پورٹ ڈکسن، پنانگ ، کرسٹل مسجد اور پنانگ ثرور دیکھئے.

    1. adil bashir کہتے ہیں

      thanks alot

    2. Farid khattak کہتے ہیں

      And singapore?

      1. Kiran noor کہتے ہیں

        Yes yes waiting.

  21. فیصل جمیل کہتے ہیں

    جناب، ہم نےگلگت بلتستان میں ٹور اینڈ ٹریول کمپنی بنائی ہوئ ہے. دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں. آپ کو ویلکم کرتے ہیں.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      ضرور فیصل بھائی. ٹریولنگ تو میرا عشق ہے. آپ جب بلائیں.

      1. فیصل جمیل کہتے ہیں

        خوش آمدید. سر آنکھوں پر.

        1. Jahanzeb aslam کہتے ہیں

          Humin bhi moqa dein

      2. Danish کہتے ہیں

        Traveling is my passion too.

        1. Jahanzeb aslam کہتے ہیں

          Mine too.

    2. Kamran کہتے ہیں

      کس نام سے ہے کمپنی آپکی

  22. salman bin ali کہتے ہیں

    سیاحوں کی زیادہ تعداد گوروں پر مشتمل ہے۔ یورپ بھر سے ہزاروں کی تعداد میں سیاح یہاں موجود ہیں۔ اور قدرت کے حسین مناظر اپنے کیمروں میں محفوظ کر رہے ہیں۔ سیاح چائے کی چسکیاں لے رہے ہیں اور اپنی یاداشت رقم کرنے کے لئے نوٹس بھی بنا تے جا رہے ہیں۔ ہوا کو آلودگی سے بچانے کے لئے یہاں سگریٹ پینے پر پابندی عائد ہے۔ اگر آپ مجھ سے پوچھتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ پابندی نہ بھی ہوتی تو بھی مسحور کر دینے والے مناظر کے درمیان جہاں شفاف ہوا کے اندر ایسی تازگی ہو تو آپ کبھی نہیں چاہیں گے کہ آپ کے پھیپھڑوں میں ایسی روح افزاء ہوا کی جگہ سگریٹ کا دھواں جائے۔

    bhai mere liye tu mushkil ho jae gy. smoking ki purani adat hai.

    1. سلیم عابد کہتے ہیں

      سگریٹ پر تو دنیا ھر میں پابندی ہونی چاہئے

    2. Irfan ahmed کہتے ہیں

      .سگریٹ نوشی مضر صحت ہے

  23. صابر علی کہتے ہیں

    ویری نائس.

    1. wasif malik کہتے ہیں

      thank you

  24. فاحد انعام کہتے ہیں

    جیل تو جیل ہوتی ہے. پردیس کو تو ویسے بھی میٹھی جیل کہا جاتا ہے.

    1. فیصل جمیل کہتے ہیں

      میٹھی جیل بھی بہت کڑوی ہی ہوتی ہے

  25. شکیل زاہد کہتے ہیں

    I love reading articles which contains information but must be intersting. This piece is among them. Good work

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      بہت شکریہ

    2. Jahanzeb aslam کہتے ہیں

      Sir aap woo shakil zahid hain jo neo mein kam krte hain?

      1. Shakil zahid کہتے ہیں

        Yes

  26. سلیم عابد کہتے ہیں

    بہت اچھے. ہماری تو پڑھ کر ہی سیر ہو گئی.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      اللہ آپ کو ویسے بھی کرواے

  27. نعیم اکرم کہتے ہیں

    کیمرون ہائی لینڈ ، لنکاوی، پنانگ سب دیکھ رکھا ہے. میریا ایم فل ہی یو ایس ایم ملائشیاء سے ہے. پھر بھی پڑھ کر بہت مزہ آیا.

    1. واصف ملک کہتے ہیں

      بہت شکریہ نعیم صاحب. پڑھتے رہئیے

    2. Sajid khan aurakzai کہتے ہیں

      Hota tu aisa hy h

  28. Salma khalid کہتے ہیں

    پاہانگ میں واقع یہ وادی ملیشیاء کی مشہور ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ باقی ملک کے بر عکس اس کا درجہ حرارت دن میں عموما 18 سے 14 کے درمیان رہتا ہے جبکہ راتیں مزید ٹھنڈی ہو تی ہیں اوردرجہ حرارت 12 سے 8 تک کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔ کیمرون ہائی لینڈ 1885ء میں برطانوی راج کے دوران دریافت ہوا۔ تیتی وانگسا کے پہاڑی سلسلوں میں سر سبز و لہلہاتی کھیتیوں کو پار کرتے ہوئے پہاڑوں میں ڈھکی یہ وادی ولیم کیمرون کی توجہ کا مرکز بنی۔ اسی نسبت سے اسے کیمرون ہائی لینڈ کہا جاتا ہے۔

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
    2. فرید خٹک کہتے ہیں

      اصل کام تو پھر ولیم کیمرون نےکیا نہ

  29. Ali kakkar کہتے ہیں

    What about loadshedding?

  30. Ali kakkar کہتے ہیں

    بجلی تو نہیں جاتی؟

    1. Jahanzeb aslam کہتے ہیں

      Loadsheding is only for pakistan

  31. Papa's burger کہتے ہیں

    Interesting blog.

  32. Munna کہتے ہیں

    Muzmoon acha bandha hai. Pics thorri air hotin tu bahtar rahta

    1. Jamshed asad کہتے ہیں
    2. Waqar کہتے ہیں

      Pics achi khasi hei

  33. Rana farman کہتے ہیں

    Wasif bhai whatsapp your links on
    03219426606

  34. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    کب سے لکھ رہے ہو؟ پہلےکہان کہاں کام کیا ہے؟

    1. Jamshed asad کہتے ہیں

      آپ نے نوکری دینی ہےیا رشتہ؟

      1. جاوید صدیقی کہتے ہیں

        بہت عجیب بات ہے ویسے جمشید صاحب

  35. Jahanzeb aslam کہتے ہیں

تبصرے بند ہیں.