انسدادِ پولیو مہم کی راہ میں سوشل میڈیا کیوں حائل ہے؟

1,398

سوشل میڈیا، الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی موجودہ دورمیں اہمیت وافادیت سے ہر شخص واقف ہے۔ ایک وقت تھا جب اخبار کی چھپائی اور اس کی لوگوں تک رسائی ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہوا کرتا تھا۔ تاہم جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ویسے ویسے اس میں جدت آتی گئی اور آج صورت حال یہ ہے کہ ایک بٹن دبائیں اور اپنی بات پوری دنیا تک پہنچا دیں۔ پرنٹ میڈیا کی ترقی کے بعد الیکٹرونک میڈیا کا دورآیا اور اس نے بھی کم ہی عرصے میں لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی۔ جب الیکٹرونک میڈیا کو اپنی طاقت کا اندازہ ہوا تو اس نے کہیں کہیں اپنے مفادات کی خاطر اس کا غلط استعمال بھی شروع کردیا۔ جس کی دیکھا دیکھی ایک اور انقلابی دور آیا جس میں سوشل میڈیا نے نہ صرف پرنٹ میڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا بلکہ الیکٹرونک میڈیا کو بھی اپنا محتاج بنالیا۔ سوشل میڈیا الیکٹرونک میڈیا کے غلط استعمال کے باعث وجود میں آیا تاہم اب یہ ہی سوشل میڈیا ہر اچھے اور برے لوگوں کی پہنچ میں ہے, جو ہر غلط کام کو صحیح کرکے دنیا کو دکھانے پر تلے ہوئے ہیں اور اس آڑ میں اپنے مذموم مقاصد کو بھی حاصل کر رہے ہیں۔

آج جہاں سوشل میڈیا من گھڑت خبروں کا گڑھ بنا ہوا ہے وہیں یہ سوشل میڈیا کئی حقیقت اور سچائی پر مبنی خبروں کی عکاسی بھی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن بات پھر وہیں آجاتی ہے کہ اس میں کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں۔ اس میں نہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ خبر دینے والا کون ہے اور نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ اس خبر سے اس کی یا کسی اور کی زندگی یا پھر ملک کے امیج پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ بس جو دل میں آیا لکھا اور شیئر کردیا، جس سے معاشرے میں بہت سا بگاڑ سامنے آرہا ہے۔

میں جس مسئلے پر سوشل میڈیا صارفین کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں وہ ایک انتہائی نازک معاملہ ہے۔ چند روز سے سوشل میڈیا پر ایک خبر زیرِ گردش ہے کہ پولیو کے قطروں اور حفاظتی ٹیکوں سے بچوں کی جان جا رہی ہے۔ لہٰذا شہری پولیو کے قطرے پلانے والوں سے بالکل تعاون نہ کریں اور انہیں اپنے بچوں کو قطرے نہ پلانے دیں۔ ساتھ ہی حفاظتی ٹیکوں سے متعلق بھی یہی من گھڑت کہانیاں بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں جس کا یہ ردعمل نکلا ہے کہ اب گھرگھر جانے والی پولیو ٹیموں سے بہت کم لوگ تعاون کررہے ہیں اور اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکاری ہیں۔ ان تمام خاندانوں کا ایک ہی جواب سامنے آتا ہے کہ فیس بک پر ویڈیو میں دیکھا ہے کہ پولیو کے قطرے پینے سے بچے مر رہے ہیں اور حفاظتی ٹیکوں سے بچوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

یہ سب باتیں اور ویڈیوز من گھڑت اور ایک سازش کے تحت پھیلائی جارہی ہیں۔ ان لوگوں کومقصد صرف یہ ہے کہ پاکستان سے پولیو ختم نہ ہو اور پاکستان میں بچے موذی امراض سے مرتے رہیں۔

پاکستان میں 2010ء میں پولیو کے 144 کیس سامنے آئے۔ جس کے بعد متعلقہ اداروں اور پولیو ورکرز کی انتھک محنت کے بعد 2017ء میں اس کی تعداد گھٹ کر صرف 8 رہ گئی ہے۔2017ء میں پنجاب میں ایک کیس، سندھ میں 2، خیبر پختونخوا میں 1، بلوچستان میں 3 اورگلگت بلتستان میں ایک کیس سامنے آیا۔ جب کہ فاٹا اور آزاد کشمیر میں  پولیو ورکرز کی انتھک محنت کی وجہ سے 2017ء کے بعد کوئی کیس سامنے نہیں آیا اور یہ سب عوام کے تعاون سے ممکن ہوا۔

پولیو کے حوالے سے دنیا کے جیدآور ممتاز عالم دین کے فتاویٰ کے باوجود آج بھی کئی گھرانے ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو پولیوکے قطرے پلانے سے انکاری ہیں۔ ان کی اس طرح ذہن سازی کی گئی ہے کہ وہ اسے نسل کشی کی دوا سمجھ بیٹھے ہیں اور یہ سب سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا ہے۔ اس میں کسی حد تک قصور الیکٹرونک میڈیا اورسائبر کرائم ڈپارٹمنٹ کا بھی ہے جو ایسی من گھڑت خبروں کو نوٹس میں نہیں لاتا اور نہ ہی اس حوالے سے عوام میں شعور فراہم کرتا ہے۔

بھارت ہم سے آبادی میں کئی گنا بڑا ملک ہے لیکن وہ اپنے اس مسئلے پر کب کا قابو پا چکا ہے۔ وہاں2011ء سے لے کر اب تک کوئی پولیو کیس سامنے نہیں آیا جس کے بعد اسے پولیو فری ممالک میں شامل کر دیا گیا ہے۔

اس وقت دنیا میں صرف 3 ممالک ایسے ہیں جہاں پولیو موجود ہے جس میں نائجیریا، افغانستان اور پاکستان شامل ہے۔ پاکستان میں پولیو کا خاتمہ نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ افغانستان سے آنے والے مہاجرین بھی ہیں جو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے گریز کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے آج تک پاکستان اس موذی بیماری سے پاک نہیں ہوسکا۔

پولیو ایک خطرناک وائرس ہے۔ جو ایک بار اس کا شکار ہوجاتا ہے، وہ ساری زندگی کے لیے اپاہج ہوجاتا ہے۔ ہم اپنی کم عقلی اور پروپیگنڈے کے سامنے سر خم کرلیتے ہیں مگر اس کا نقصان ہماری آنے والی نسلوں کو ہوتا ہے جس کا ہمیں آج بالکل بھی اندازہ نہیں۔ حکومتی ادارے دوست ممالک کے تعاون سے جہاں اس موذی بیماری کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں، وہیں معاشرے کے کچھ ناسور اس مہم کو ہمیشہ ناکام بنانے پر تلے نظرآتے ہیں۔ ہمیں ان کی باتوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے کیوںکہ اگر یہ پولیو ویکیسن نسل کشی یا پھر بچوں کی اموات کا سبب بن رہی ہوتی تو اس وقت ملک میں صرف انہیں کے بچے زندہ ہوتے جنہوں نے پولیو ویکسین اپنے بچوں کو نہیں پلائی اور اگر یہ ویکسین نسل کشی کا سبب بن رہی ہوتی تو آج پاکستان میں آبادی جس تیزی سے پھیل رہی ہے وہ اس طرح نہ پھیلتی۔

میری سوشل میڈیا صارفین سے گزارش ہے کہ وہ ایسی خبروں، تصاویر اور ویڈیوزکو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرلیں۔ میری حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی یہی گزارش ہے کہ وہ ایسی من گھڑت خبروں کا فوری نوٹس لے کر سازشی عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کا آغاز کریں تاکہ پاکستان جلد سے جلد پولیو جیسے مرض سے پاک ہوجائے۔

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.