پتریاٹہ کی سیر

2,536

ہواؤں کے سنگ اڑنا ہو، بلندی سے فطرت کے بیش بہا حسن کا مشاہدہ کرنا ہو، سبز رنگ کی بہار دیکھنی ہو یا اڑن کھٹولوں میں بیٹھنے کا خواب پورا کرنا ہو تو پتریاٹہ چلئیے۔

پتریاٹہ اپنی کیبل کار اور چئیر لفٹ کے باعث سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔ چئیر لفٹ کا کل فاصلہ 7 کلومیٹر ہے۔ گلہرہ گلی سے شروع ہونے والا یہ سفر جادوئی دل کشی لیے ہوئے ہے۔

patriata road

patriata 3

چئیر لفٹس کا سنسنی خیز سفر زندگی کے لطیف ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ یہ سفر اس حد تک محفوظ ہے کہ ٹورسٹ کو بیلٹ تک نہیں باندھنا پڑتا۔ البتہ چئیر لفٹ پر بیٹھتے ہوئے ذرا دھیان دینا پڑتا ہے۔

پتریاٹہ کی چئیر لفٹ دنیا کی جدید ترین چئیر لفٹس میں شمار ہوتی ہے۔ چئیر لفٹ پر خوبصورت اور سکون بخش نشستیں متحرک رسّوں سے بندھی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں پہلی چئیر لفٹ ایوبیہ میں ایوب خان دور میں لگی۔ پنڈی پوائنٹ (مری) میں 1988ء میں چئیر لفٹ کی تنصیب ہوئی۔ مری موٹر وے کی طرح پتریاٹہ ”روپ ویز” کا سہرہ بھی نواز شریف کے سر ہے جنہوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے 1990ء میں پتریاٹہ (نیو مری) چئیر لفٹ کا آغاز کیا اور اس کا ٹھیکہ گلوکارہ طاہرہ سید کو دیا۔

patriata5

patriata-murree-6

جیسے جیسے لفٹ بلند ہوتی جاتی ہے لطافت، جوش اور سرشاری بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سیاح فطرت کے سرسبز طلسم میں کھو جاتے ہیں۔ نیچے دور تک مری کے باسیوں کے مکانات کی چھتیں اور صحن دیکھے جا سکتے ہیں۔ مکانات کے ساتھ ساتھ نیچے بل کھاتی سرمئی سڑک کا نظارہ بھی قابلِ دید ہے۔ پہلے اسٹیشن پر چئیر لفٹ کا سفر مکمل ہونے پر ٹورسٹس کیبل کار میں بیٹھ جاتے ہیں جو انہیں پتریاٹہ ٹاپ کے دلکش پلیٹ فارم پر اتارتی ہے۔

patriata 6

Patriata 7

20170322_152721

پتریاٹہ ٹاپ کی خوبصورت راہداریاں اور آسمان کو چھوتے درخت چہل قدمی کو یادگار بنا دیتے ہیں۔ سیاح بے پناہ نظارے اور گھڑ سواری سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ایک رنگا رنگ بازار بھی ہے جس میں مسافر نوازوں نے سیاحوں کی ضرورت کی ہر چیز رکھی ہوئی ہے۔

پتریاٹہ بازار سے تھوڑا اوپر بری امام ؒ کی چلہ گاہ (بیٹھک) ہے۔ رنگ روغن، جھنڈے، جھنڈیاں، دھجیاں ، اگربتیاں، چراغ ؛ عقیدت نے میلہ لگایا ہوا ہے۔

چلہ گاہ بری امام

چلہ گاہ سے آگے پی ٹی ڈی سی نے واکنگ ٹریکس، ویو پوائنٹس اور بیٹھنے کے لیے بنچ نصب کیے ہوئے ہیں۔ یہاں سے 15 منٹ کی مسافت پر محکمہ جنگلات کا ریسٹ ہاؤس ہے۔ چار کمروں پر مشتمل یہ ریسٹ ہاؤس 1913ء میں تیار ہوا اور اب بھی بہتر حالت میں ہے۔

ریسٹ ہاؤس سے کشمیر ویو پوائنٹ تک جانے والا راستہ کچا لیکن بہتر حالت میں ہے۔ دیوداروں کی شاہانہ ہم سفری کا سفر کو یادگار بنا دیتی ہے۔ پتریاٹہ بازار سے اس پوائنٹ تک 3 کلومیٹر فاصلہ گھوڑوں پر بھی طے کیا جا سکتا ہے۔

11892026_1039140279438585_4776072536655238934_n

فارسٹ ریسٹ ہاؤس، پتریاٹہ

20170322_142238

مری میں کشمیر پوائنٹ اور پتریاٹہ میں کشمیر ویو پوائنٹ پنجاب کے بلند ترین مقامات ہیں۔ دونوں جگہوں سے اطراف کا لافانی نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ فضا ابر آلود ہو تو ماحول اور بھی نشہ آور ہو جاتا ہے۔ مطلع صاف ہو تو تاحدِ نظرنظارہ کیا جا سکتا ہے۔ برفیلی رتیں منظر کو جادوئی بنا دیتی ہیں۔ ساون میں بادل آپ کے پاؤں میں لوٹتے ہیں۔

کشمیر ویو پوائنٹ سے کشمیر کی برفیلی چوٹیوں کا نظارہ اتنا دلفریب تھا کہ واپسی مشکل تھی لیکن پتریاٹہ سے سیاحوں کو موسمِ سرما میں پانچ بجےلازماً پلٹنا پڑتا ہے۔ اس لیے یہ بتانا مشکل ہے کہ یہاں کی راتیں کتنی قیامت خیز ہیں۔

مصنف اردو گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں لیکچرار ہیں۔ اس کے علاوہ صدر کہوٹہ لٹریری سوسائٹی بھی ہیں۔ سابق مدیر کالج میگزین امکان۔ ادب، سیاحت اور تاریخ سے خصوصی لگاؤ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.