چئیرمین سینیٹ، سیاست کے بدلتے رنگ

2,498

جیسے ہی سینیٹ کے چئیرمین کا نام سامنے آیا تو سینیٹ کے اجلاس میں “ایک زرداری سب پہ بھاری” کے نعرے لگنے لگے۔ متحدہ اپوزیشن کا نامزد کردہ امیدوار میر صادق سنجرانی جنکا تعلق بلوچستان ہے چئیرمین سینیٹ منتخب ہوگئے ہیں۔ گو کے میر صادق سنجرانی کا اسمبلی کا کوئی تجربہ نہیں لیکن پھر بھی ایک ڈمی کردار سینیٹ چئیرمین کی شکل میں سامنے آیا جسکا ریمورٹ آصف علی زرداری کے ہاتھ میں ہے۔

میر صادق سنجرانی کا مختصر سا تعارف کروائے دیتا ہوں۔ میر صادق سنجرانی کا تعلق بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی سے ہے۔ وہ 14اپریل 1978کو بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم نوکنڈی میں حاصل کی۔ بلوچستان یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ ان کے والد خان محمد آصف سنجرانی کا شمار علاقے کے قبائلی رہنما میں ہوتا ہے اور وہ ان دنوں ضلع کونسل چاغی کے رکن ہیں۔ میر صادق سنجرانی پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ ان کے ایک بھائی اعجاز سنجرانی نواب ثنا اللہ زہری کے دورِ حکومت میں محکمہ ریونیو کے مشیر بنے۔ حکومت کی تبدیلی کے باوجود وزیرِاعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے انہیں اس عہدے پر برقرار رکھا۔

32d90931f8bd4a95925eae9c4b7af105_18

میر صادق سنجرانی کے ایک بھائی محمد رازق سنجرانی سیندھک پروجیکٹ کے ایم ڈی رہے ہیں۔ میر صادق سنجرانی 1998ء میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے کواڈینیٹر رہے۔ 2008ء میں جب یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم پاکستان بنے تو ان کی جانب قائم کئےگئے شکایات سیل کا سربراہ میر صادق سنجرانی کو بنایا گیا اور وہ پانچ سال تک اس سیل کے سربراہ رہے۔ صادق سنجرانی نے تین مارچ 2018ء کو بلوچستان سے آزاد حیثیت سے سینیٹ کا الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کرکےسینیٹر منتخب ہوئے۔

متحدہ اپوزیشن میں پی ٹی آئی سب سے آگے رہی ہے۔ عمران خان جو سب سے آگے آئے اور ٹیلی ویژن اور متعدد پریس کانفرنسز میں یہ کہہ چکے تھے کہ ملک کا سب سے بڑا ڈاکو آصف علی زرداری ہے، اس کے ہوتے ہوئے ہم ووٹ نہیں دیں گے، پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے لیکن کیا کریں ‘بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح’ کی تصویر والے نوٹوں کے سامنے کسی کی بھی نہیں چلتی۔

5aa67f4801397

عمران خان نے جو اپنا ایک ٹرینڈ سیٹ کیا، کرپشن کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور ہر اس حد کو پار کیا جو ملک پاکستان کے آئین اور قانون کے خلاف تھی لیکن وہ ڈٹا رہا اور پیچھے نہیں ہٹا۔ پوری پاکستان کی عوام اسکے اس جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ایک لیڈر ہونے کی حیثیت سے اس نے جو چاہا اس ملک کی بہتری کے لیے چاہا لیکن کیا بات تھی کہ وہ اپنے بیانیے پر قائم نہیں رہ سکا۔ اپنے سارے سینیٹر بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی گود میں ڈال کر ان ڈائریکٹلی اس نے آصف علی زرداری سے ہاتھ ملایا۔

اگر عمران خان نے اپنے سینیٹرز بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی گود میں ڈال کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ پی ٹی آئی بلوچ عوام کے ساتھ ہے اور بلوچستان کے مسائل کو پی ٹی آئی سنجیدگی سے دیکھتی ہے تو یہ اقدام تب تک مفید ثابت ہوتا جب تک میر عبدالقدوس بزنجو ان سینیٹرز کی انگلی پکڑ کر آصف علی زرداری کے پاس نہ لے جاتا۔ تاثر یہ پیدا ہوا ہے کہ عمران خان نے آصف علی زرداری سے ہاتھ ملانے کے لیے بلوچستان کا استعمال کیا۔

پی ٹی آئی کے 126 دن کے دھرنے کے دوران پیپلز پارٹی نے ن لیگ کا ساتھ دیا اور اسمبلی میں کارروائیاں جاری رکھ کر اس بات کا پیغام دیا کہ ہم جمہوریت کو سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے۔ ن لیگ کا بھی موقف تھا کہ جمہوریت کی فتح ہوئی ہے۔ لیکن آج اگر وہی پیپلز پارٹی دوسرے جماعتوں کے ساتھ مل کر سینیٹ میں کامیابی حاصل کرلیتی ہے تو ن لیگ چیخ اٹھتی ہے کہ جمہوریت کو نقصان ہوگیا ہے۔ کیا جمہوریت صرف ن لیگ کی بدولت اس ملک میں قائم ہوئی تھی؟ کیا جمہوریت صرف اور صرف ن لیگ کی مرہون منت ہے؟ نہیں بالکل بھی نہیں۔

آج اگر متحدہ اپوزیشن مل کر چئیرمین سینیٹ بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے تو یہ جمہوریت کی فتح ہے۔ بے شک نواز شریف کی رضا ربانی کو چئیرمین سینیٹ بنانے کے لیے کی گئی آفر ن لیگ کے مفاد کے لیے تھی لیکن آصف علی زرداری نواز شریف کی چال کو سمجھ گئے اور پچھلے چار سالوں سے جو فرینڈلی اپوزیشن کا دھبہ وہ اپنے دامن میں لگائے بیٹھے ہیں اسے دھونے کے لیے انہیں اس سے اچھا موقع نہیں ملا جو انہوں نے ضائع نہیں کیا۔

آصف علی زرداری پاکستان کی سیاست کی رگ رگ سے واقف ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ کون کس کیلیبر کا ہے اور اسے کس محاظ پہ فتح کرنا ہے۔ مہینوں پہلے آصف زرداری کا یہ بیان دینا کہ میں ن لیگ کو سینیٹ فتح نہیں کرنے دوں گا اور بالکل وہی ہوا اس نے ن لیگ کو سینیٹ فتح نہیں کرنے دیا گویا اس بات عندیہ ہے کہ کسی بھی کام کے لیے وہ پلاننگ پہلے سے کر کے بیٹھے ہوتے ہیں۔

چئیرمین سینیٹ کی سیٹ اگر ن لیگ کے ہاتھ سے گئی ہے تو اپنی غلطیوں کی وجہ سے گئی ہے۔ کچھ وہ لوگ جو پرانے ہمدرد اور اتحادی تھے اب صرف باتوں کی حد تک اتحادی رہے، اصل میں گیم آصف زرداری کر گیا۔

سینیٹ الیکشن اور چئیرمین سینیٹ کی تقرری کے بعد اگر کوئی یہ کہے کہ اسکا اثر جنرل الیکشن پر پڑے گا اور ن لیگ اپنی ساکھ کھو بیٹھی ہے تو یہ سراسر غلط سوچ اور تجزیہ ہے۔ جنرل الیکشن میں وہ خامیاں جو آج تک ن لیگ فیس کرتی آئی ہے اس کو اوورکم کرکے مزید اچھے انداز میں ابھرے گی اور جنرل الیکشن میں ن لیگ واضع برتری کے ساتھ کامیابی حاصل کرے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. kashif ahmed کہتے ہیں

    buhot acha or haqeeqat pasandana tajziya ha

  2. رانا علی زوہیب کہتے ہیں

    بہت شکریہ کاشف احمد صاحب

تبصرے بند ہیں.