ٹرمپ انتظامیہ کا نیا چہرہ بے نقاب ہوگیا

2,474

صدرٹرمپ کے اپنے خاص انداز سے ٹیوٹر پر وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن کی اچانک برطرفی کے بعد ان کے عہدے پر سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو کی تقرری اور مائیک پومپیو کی جگہ جینا ہاسپیل کی سی آئی اے کی سربراہ کی حیثیت سے نامزدگی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کا نیا چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔

ریکس ٹلر سن کی، جنہوں نے ٹرمپ کو احمق قرار دیا تھا، صدر کے ساتھ کشیدگی اسی وقت سے شروع ہوگئی تھی جب ٹلر سن نے امریکا کی داخلی سیاست میں مداخلت پر روس کے خلاف تادیبی پابندیاں عاید کرنے پر زور دیا تھا لیکن ٹرمپ نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ٹرمپ کی مخالفت کی بناء پر ان شکوک و شبہات کو تقویت پہنچی تھی کہ صدارتی انتخاب کے دوران ٹرمپ اور روسیوں کے درمیان گٹھ جوڑ تھا۔ ٹرمپ نے اس تاثر پر پردہ ڈالنے کے لئے ایران کے جوہری سمجھوتہ پر ٹلر سن سے اختلافات کو اچھالا تھا اور ٹرمپ نے برطرفی کی وجہ بھی یہی بتائی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری سمجھوتہ کو منسوخ کرنے کے بارے میں نئے وزیر خارجہ مائیک پومپیو ان کے ہم خیال ہیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ مائیک پومپیو نہ صرف ایران کے جوہری سمجھوتے کے سخت خلاف ہیں بلکہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے بھی زبردست حامی ہیں۔اب تک ریکس ٹلر سن کی وجہ سے شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ محاذ آرائی نے زیادہ جارحانہ انداز اختیار نہیں کیا تھا لیکن اب مائیک پومپیو کے وزیر خارجہ کے عہدہ پر نامزدگی کے بعد خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی رو نما ہوگی۔

tillersonrex_011117gn6_lead

مائیک پومپیو جو چار بار کینسس سے ایوانِ نمائندگان کے ممبر منتخب ہو چکے ہیں، صدر ٹرمپ کے قریبی حلقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ایران کے جوہری سمجھوتہ کے اتنے ہی مخالف ہیں جتنے کہ ٹرمپ ہیں بلکہ ٹرمپ سے بڑھ کر وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لئے جارحانہ اقدامات کے حامی ہیں۔ اس معاملہ میں وہ ٹرمپ سے زیادہ اسرائیلی وزیر اعظم نتھن یاہو کے موقف کے قریب ہیں۔ ایران دشمنی کی وجہ سے اسرائیل اور سعودی عرب، مائیک پومپیو کی تقرری پر بے حد خوش ہیں۔ لیکن امریکا کے مسلمان مائیک پومپیو کو اسلام دشمن قرار دیتے ہیں اور اسی بناء پر امریکا کے مسلمانوں کی تنظیم CAIR نے مائیک پومپیو کی وزیر خارجہ کے عہدہ پر نامزدگی کی مخالفت کی ہے۔ مائیک پومپیو پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ امریکا کی اسلام دشمن اور نسل پرست تنظیم ACT کے قریب ہیں۔

mike

 

بہت سے امریکی اس بات پر خوش ہیں کہ صدر ٹرمپ نے مائیک پومپیو کی جگہ پہلی بار ایک خاتون کو سی آئی اے کی سربراہ مقرر کیا ہے، لیکن انہیں غالباً علم نہیں کہ یہ نئی سربراہ، جینا ہسپیل کون خاتون ہیں۔ انہیں صدر ٹرمپ نے پچھلے سال سی آئی اے کی نائب سربراہ کے عہدہ پر مقرر کیا تھا۔ یہ تیس سال سے زیادہ عرصہ سے سی آئی اے سے منسلک رہی ہیں اور خفیہ قید خانوں میں قیدیوں سے پوچھ گچھ کے دوران ایذا رسانی کے نہایت پر تشدد پروگرام کی بانی رہی ہیں۔

Work20

سی آئی اے میں ان کے پرانے ساتھیوں نے انکشاف کیا ہے کہ جینا ہاسپیل ہی کی نگرانی میں خفیہ جیل میں القاعدہ کے مشتبہ قیدیوں ابو زبیدہ اور عبد الرحیم الناشری کو واٹر بورڈنگ کی بہیمانہ ایذا رسانی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ جینا ہسپیل کی نگرانی میں ابو زبیدہ کو ایک ماہ میں 83 بار واٹر بورڈنگ کی ایذا دی گئی۔ انہیں ایک بکس میں بند رکھا گیا اور انہیں نیند سے محروم رکھا گیا۔ ابو زبیدہ کا سر اس بری طرح سے دیوار سے ٹکرایا گیا کہ وہ ایک آنکھ کی بینائی کھو بیٹھے۔

اس سے پہلے 2002ء میں جینا ہسپیل تھائی لینڈ میں بلیک باکس نامی پُرتشدد پوچھ گچھ کی نگران بھی رہی ہیں۔ پچھلے دنوں نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ جینا ہسپیل نے قیدیوں سے پوچھ گچھ کے دوران واٹر بورڈنگ کی ویڈیو تلف کر دی تھیں تاکہ اس نوعیت کی ایذا رسانی کی کوئی شہادت باقی نہ رہے۔

جینا ہسپیل کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی ایذا رسانی کے دوران ان کے چہرے پر طمانیت سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ اس تشدد سے لطف اٹھا رہی ہیں۔ ایذا رسانی کے بارے میں امریکی سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ کی اشاعت کے بعد یورپ کے انسانی حقوق کے مرکز نے جرمنی کے پبلک پراسیکیوٹر جنرل سے مطالبہ کیا تھا کہ جینا ہسپیل کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے جائیں۔ امریکی سول رایٹس یونین کے جمیل جعفر نے جنیا ہسپیل کو جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ginahaspel

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جینا ہسپیل اور مائیک پومپیو دونوں صدر ٹرمپ سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ گوانتاناموبے کا عقوبت خانہ بند نہ کیا جائے۔ گزشتہ جنوری میں اسٹیٹ آف دی نیشن کے خطاب میں ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے وزیر دفاع جنرل میتیس کو ہدایت کی ہے کہ گوانتاناموبے کا قید خانہ کھلا رکھا جائے تاکہ گرفتار کیے جانے والے دہشت گردوں کو وہاں بند کیا جاسکے۔

ریپبلیکن سینیٹر رینڈ پال نے اعلان کیا ہے کہ وہ سینیٹ میں جینا ہسپیل اور مائیک پومپیو کی توثیق کی مخالفت کریں گے۔ ان کا کہنا ہے ان دونوں نے عراق کی جنگ کی زبردست حمایت کی تھی اور دونوں ایران کے خلاف جنگ کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مائیک پومپیو کے وزیر خارجہ مقرر ہونے کے بعد شدید خطرہ ہے کہ امریکا کی خارجہ پالیسی میں سخت گیری بڑھے گی، محاذ آرائی میں اضافہ ہوگا اور ایران کے ساتھ معرکہ آرائی، جنگ کی سرحدوں کو چھو لے گی۔

اس بات کا بھی شدید خطرہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کی شہہ پر امریکا بھر پور طریقہ سے ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے شام کی خانہ جنگی میں داخل ہو اور اسی کے ساتھ اسرائیل بھی اس خانہ جنگی میں کھلم کھلا کود پڑے۔ اس کی متوقع مداخلت کے دو مقاصد ہوں گے۔ اول شام میں ایران کا اثر توڑا جائے، دوم جولان کی پہاڑیوں پر اپنے پچاس سالہ تسلط کا دفاع کیا جاسکے۔اسرائیل کے لئے جولان کی پہاڑیوں پر تسلط اس بناء پر بے حد اہم ہے کہ یہ دریائے اردن کا منبع ہے جس پر اسرائیل کی زراعت کا دارومدار ہے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل میک ماسٹر بھی جلد استعفیٰ دے دیں اور ان کی جگہ اسرائیلی نژاد 56 سالہ خاتون سفراکاٹز مقرر کی جائیں۔ سفرا کاٹز تل ابییب کے قریب ہولون کے قصبہ میں پیدا ہوئی تھیں اور چھ سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ امریکا منتقل ہو گئی تھیں۔ اس وقت یہ ٹیکنولوجی کی مشہور کمپنی ORACLE کی نائب سربراہ ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران یہ ٹرمپ کی عبوری ٹیم میں بھی شامل تھیں۔

safra-catz-3_600x400

سفرا کاٹز کے ساتھ اس عہدہ کے لئے اقوام متحدہ میں سابق امریکی سفیر جان بولٹن کا نام بھی لیا جارہا ہے۔ جان بولٹن اپنی مسلم دشمنی کی وجہ سے مشہور ہیں اور اسلام دشمن تحریک ”کائونٹر جہاد” سے منسلک ہیں۔ یہ جان بولٹن وہی ہیں جنہوں نے عراق کی جنگ سے پہلے بڑھ چڑھ کر دعویٰ کیا تھا کہ صدام حسین کے پاس جوہری اسلحہ ہے۔ جان بولٹن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سفارت کاری پر یقین نہیں رکھتے بلکہ امریکا کی طاقت کے بل پر امریکا کی دھاک بٹھانے کے حامی ہیں۔

lead_960

غرض اب ایک سال گزرنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کا نیا اور اصلی چہرہ سامنے آرہا ہے۔ ایک جھلک تو پومپیو اور جینا ہسپیل کی تقرری کی صورت میں سامنے آگئی ہے اور ابھی اور نئے چہرے سامنے آنے والے ہیں۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.