تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں

1,436

سینٹ الیکشنز ہوئے اور اب چیئرمین سینٹ بھی منتخب ہو گئے۔الیکشن کیسے ہوئے، چئیرمین  اور ڈپٹی چئیرمین کیسے منتخب ہوئے اس بحث کو ایک جانب رکھیں ۔ سینیٹ الیکشنز کے نتائج کے ساتھ ہی وہ تمام مفروضے اور خواہشات دم توڑ گئیں جن کے مطابق جمہوریت کو بہت بڑا خطرہ لاحق ہے اور بہت جلد ہی خدانخواستہ کچھ ہونے والا ہے اور اس طرح کے کئی مفروضے دم توڑ گئے۔ یہ سب ایک جمہوری عمل کا حصہ ہے اور بہت خوش آئند بات ہے کہ جمہوریت فروغ پا رہی ہے۔ اوکھے سوکھے ہو کر لیکن جمہوریت چل رہی ہے۔ ایک ڈکٹیٹڈ جمہوریت!

سینٹ الیکشن کی ٹکٹیں کیسے دی گئیں، اس کی کہانیاں زبان زدِ عام ہیں۔ الیکشن کیسے ہوئے، کون کتنے  کا بکا، کس کی بولی کتنی لگی، یہ باتیں کوئی راز نہیں ہیں۔ یہ ہماری پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے لئے باعثِ شرم بات ہے کہ وہ نمائندے جو عوام سے ان کے مسائل حل کرنے اور ان کی ترجمانی کے وعدے کر کے اسمبلی میں پہنچتے ہیں تو وہ ایم۔ پی۔ ایز۔ اپنی بولیاں لگواتے ہیں۔ وہ لوگ جو خود کو رہنما سمجھتے ہیں، وہ لوگ اسحاق ڈار جیسے اشتہاری کو ٹکٹ بھی دیتے ہیں اور جتواتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسحاق ڈار پاکستان کسی صورت نہیں آئیں گے۔ جیسے ہی آئیں گے ائیرپورٹ سے دھر لئے جائیں گے اور نہ ہی شریف خاندان انہیں واپس آنے دے گا۔

آج ہماری سیاسی جماعتوں کے لئے سیاہ دن تھا۔ ایک وہ شخص جو کہ کاروباری ہے، جس کا کوئی سیاسی پسِ منظر نہیں، جس کے بھائی کا1971ء کے گھپلوں اور فراڈ کا کیس نیب نے سپریم کورٹ میں پیش کیا، جنہوں نے ہمیشہ مفاد کی سیاست کی ہے ، پہلے مسلم لیگ کے ساتھ ان کی وفاداریاں مشہور ہیں اور اب اپوزیشن کے ساتھ۔اسے اس ملک کے اہم ترین اداروں میں سے ایک ادارے کے مقدس ترین حصے کا چیئرمین منتخب کر دیا گیا ہے۔

اس شخص کو چئیرمین منتخب کیا گیا ہےجو کہ ان معاملات کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ  سنجرانی کے عقب میں وہ قوت ہے جس کا نام ہم لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ رکھا ہوا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ سیاسی معاملات میں اس قوت کا کردار نہیں ہونا چاہئے لیکن پاکستان میں اس قوت کا کردار ایک مسلمہ حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

یہاں سوال یہ بھی ہے اس قوت کو مضبوط کون کر رہا ہے؟ یہ ہمارے سیاست دان ہی ہیں جو اپنے ہی گھر میں نقب لگا رہے ہیں۔ ستم ظریفی کی بات یہ تو ہےرضا ربانی جیسے نظریات کے پکے شخص کو سادق سنجرانی کو ووٹ دینا پڑا۔

اس تمام معاملے میں کچھ لوگ بلوچستان کارڈ بھی استعمال کرتے نظر آئے کہ اس سے بلوچستان کے لوگوں کی محرومیاں ختم ہو جائیں گی اور انہیں حقوق ملنا شروع ہو جائیں گے ۔ انہیں یہ پتا ہونا چاہئیے کہ  بلوچستان کے مسائل کا حل بلوچستان کے لوگوں کی حقیقی نمائندگی ہے نہ کہ وہاں کے کسی غیرمعقول شخص کا سینٹ چیئرمین بننا۔ اگر یہی بلوچستان کے مسائل کا حل ہے تو ایک دفعہ پہلے ظفر اللّٰہ خان جمالی وزیراعظم پاکستان رہ چکے ہیں، جن کا تعلق بھی بلوچستان سے تھالیکن وہ بلوچستان کے مسائل کا کوئی حل نہیں نکال سکے تھے۔ ان کی ذاتی محرومیاں تو ہمیشہ دور ہوتی ہیں لیکن بلوچ عوام کے مسائل کا کوئی حل نہیں نکلا۔ اگر اس میں واقعی بلوچستان کا مفاد ہوتاتو اختر مینگل جیسے بلوچ کبھی بھی ان کی حمایت سے انکار نہ کرتے۔

نواز شریف صاحب کے نظریے کا پول یوں تو کئی بار کھل چکا ہے لیکن اس کی تازہ مثال ان کا چیئرمین سینٹ کے امیدوار کی صورت میں نظر آتی ہے۔ ظفرالحق وہی ہیں جو کہ ضیاءالحق جیسے ڈکٹیٹر کے وزیرِ اطلاعات اور وزیرِ مذہبی امور رہے ہیں اور جب نواز شریف صاحب جیل میں تھے اور بیگم کلثوم نواز ان کی رہائی کے لئے جدوجہد کر رہی تھیں تب بھی ظفر الحق صاحب نظر ہی نہیں آئے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے۔

یہ نوازشریف صاحب تھے جو فیصل مسجد جا کر ضیاء الحق کی قبر پر بلند و بانگ وعدے کیا کرتے تھے لیکن آج انہیں ذولفقار علی بھٹو صاحب شہید لگتے  ہیں۔ وہ نواز شریف جو پرویز رشید کو سینٹ چیئرمین نامزد نہیں کر سکے، ان کے نظریے کی طاقت کا احساس یہیں سے ہو جاتا ہے کہ میاں صاحب دباؤ برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر دباؤ برداشت کر سکتے تو مشرف کو ملک سے باہر نہ جانے دیتے۔ وہی مسلم لیگ (ن) جو کہ ایک دن پہلے تک رضا ربانی کو ووٹ دینے پر رضا مند تھی جو کہ ضیاءالحق کے دور میں قید و بند کی صعبتیں کاٹ رہے تھے، وہ ان کے متبادل امیدوار لائی تو کیا لائی۔ کہاں اتنی اونچائی اور کہاں اتنی پستی!پیپلز پارٹی میں وہ انفرادی فیصلوں کی روش قدرے کم پائی جاتی ہے، جو مسلم لیگ ن میں کوٹ کوٹ کے بھری ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کی نظریاتی اساس گھٹتی نظر آتی ہے۔

وہی زرداری صاحب جو کہ رضا ربانی صاحب کو ٹکٹ تک دینے پر رضامند نہیں تھے اور رضا ربانی جیسے پروقار آدمی کے لئے جو لہجہ استعمال کرتے نظر آئے وہ نہایت قابلِ مذمت ہے۔ زرداری صاحب کی ربانی صاحب سے ناراضگی کی وجہ صرف اتنی ہے کہ انہوں نے ربانی صاحب کو کچھ دفعہ بلایا لیکن ربانی صاحب نہیں گئے اور زرداری صاحب نے اس معاملے کو انا کا مسئلہ بنا لیا۔ انہیں رضا ربانی کو سینٹ کا ٹکٹ بھی بلاول بھٹو نے لے کر دیا۔ لیکن اختتام پر بھی زرداری صاحب نے سر خم کیا تو اس قوت کے ہاں ہی کیا۔

افسوس کی بات تو یہ بھی ہے کہ یہ ہی پیپلز پارٹی آگے جا کر تمام جماعتوں کو جمہوریت کا درس دے گی اور اس کی اہمیت کے سبق بھی پڑھائے گی۔ آج کی سیاست وہ گندہ جوہڑ بن چکی ہے، جہاں کوئی اصول گندگی کی تہہ میں کہیں دب گئے ہیں اور مفادات تمام اصولوں اور ضابطوں پر بھاری آگئے ہیں اور اس سیاست سے چند مخصوص سیاسی قوتوں کو اور غیر سیاسی قوتوں کو تو فائدہ ہوتا ہے لیکن وہ عام شہری جو کہ ایک نئے کل کی امید رکھتے ہوئے ان سیاستدانوں کو ووٹ دیتا ہے۔ اس کے لئے صرف شرم کے سوا کچھ نہیں ہے۔

یہاں پڑھیں: غلاظت سے بھرے جوہڑ کا نام سیاست ہے!

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.