برطانیہ میں مسلمانوں کی سرزنش کا دن منایا جائے گا؟

4,043

برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کی پولیس، ان خبروں کے بارے میں تفتیش کر رہی ہے کہ پورے برطانیہ میں لوگوں کو ایسے خطوط ملے ہیں جن میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ 3 اپریل کو “Punish a Muslim Day” منائیں۔

punish a muslim day 2

خطوط کے علاہ سوشل میڈیا پر بھی عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ 3 اپریل کومسلمانوں کے یومِ سزا پر ان کو بھر پور طور پر تشدد کا نشانہ بنائیں۔ شمال مشرقی انگلستان میں انسداد دہشت گردی کی پولس نے، جو ان خطوط کے بارے میں مربوط تفتیش کر رہی ہے، بتایا ہے کہ لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف نہایت مخاصمانہ خطوط ملے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف معاندانہ اقدامات پر نگاہ رکھنے والی تنظیم “Tell MAMA” کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نہایت خبیثانہ خطوط لندن، یارک شائیر اور مڈلینڈ میں ملے ہیں۔ یہ سخت نفرت بھرے خطوط ہیں۔

ان خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ میں حال میں کتنی تیزی سے اسلام دشمنی میں اضافہ ہوا ہے۔ یورپ سے برطانیہ کی علیحدگی کے ریفرنڈم اور خاص طور پر حال میں دہشت گرد حملوں کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسانے اورمسلمانوں کے خلاف نفرت بھرے حملوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

kill all muslims

بریڈ فورڈ کی لیبر ممبر پارلیمنٹ ناز شاہ کا کہنا ہے کہ اس قسم کے خطوط ان کے شہر بریڈ فورڈ میں بھی تقسیم کیے گئے ہیں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ انہوں نے مسلمانوں اور دوسری برادریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ چوکس رہیں اور کوئی بھی مشتبہ کارروائی دیکھیں فوراً اس کی اطلاع پولیس کو دیں۔

A general view of two Muslim women and a child in London.

پچھلے دنوں عدالت نے، نسل پرست تنظیم برٹن فرسٹ کی جنرل سیکریٹری جیڈیا فرانسسن کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزام میں نو مہینے اور چئیرمین گولڈنگ کو ساڑھے تین ماہ قید کی سزا دی ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.