تخلیق کا اک لمحہ ہے بہت۔ ۔ ۔ بیکار جئے سو سال تو کیا

1,756

جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے
ہم نے سب کچھ کر دیکھا ہے
ہم نے اس بستی میں جالب
جھوٹ کا اونچا سر دیکھا ہے

حبیب جالب کو دنیا سے رخصت ہوئے 25 برس بیت گئے۔ ان کو انقلابی اور آمریت کے خلاف آواز اٹھانے والا شاعر کہا جاتا ہے۔ آمریت اور جمہوریت سے قطع نظر ان کی کاٹ دار شاعری ا ٓج کے ماحول اور معاشرے پر پوری اترتی ہے۔
large-p-24-aحبیب جالب کی زندگی اور شاعری ایک ہی فکر وفلسفے سے عبارت تھی۔ وہ حکمرانوں کی منافقت کا پردہ اپنی شاعری میں کھلے عام چاک کرتے رہے اور اس میں استعاروں اور تشبیہات کا تکلّف تک زیادہ گوارا نہ کیا۔

اے چاند یہا ں نہ نکلا کر
بے نام سے سپنے دیکھا کر
یہاں اُلٹی گنگ ا بہتی ہے
اس دیس میں اندھے حاکم ہیں
نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
نہ لوگوں کے وہ خادم ہیں
ہے یہاں پہ کاروبار بہت
اس دیس میں گردے بکتے ہیں
کچھ لوگ ہیں عالی شان بہت
اور کچھ کا مقصد روٹی ہے
وہ کہتے ہیں سب اچھا ہے
مغرب کا راج ہی سچا ہے
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

جالب سال 1928 میں ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام حبیب احمد تھا۔ تاہم تقسیم کے بعد وہ پاکستان آگئے اور کراچی میں اس وقت کے مشہور روزنامہ امروز سے وابستہ ہوئے۔

حبیب جالب متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور ایک عام آدمی کے انداز میں سو چتے تھے۔ وہ پاکستان کے محنت کش طبقے کی زندگی میں تبدیلی کے آرزو مند رہے۔ وہ اپنی انقلابی سوچ کے تحت آخر دم تک سماج کے محکوم عوام کو اعلیٰ طبقات کے استحصال سے نجات دلانے کا کام کرتے رہے۔

جہل کے آگے سر نہ جھکایا میں نے کبھی
سِفلوں کو اپنا نہ بنایا میں نے کبھی
دولت اور عہدوں کے بل پر جو اینٹھیں
ان لوگوں کو منہ نہ لگایا میں نے کبھی
میں نے چور کہا چوروں کو کھل کے سر محفل
دیکھ اے مستقبل

جالب کے سرکش قلم نے محکوم اور مجبور انسانوں کو ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونے کا حوصلہ دیا، ان کا ہر شعر مظلوم کے دل کی آواز ہے۔ اُن کی نظموں کے پانچ مجموعے: برگِ آوارہ، سرمقتل، عہدِ ستم، ذکر بہتے خون کا اور گوشے میں قفس کے شائع ہوچکے ہیں۔

مساوات کے دیپ گھر گھر جلیں گے
سب اہل وطن سراٹھا کے چلیں گے

jalib_040916-104139-326x400

ترقی پسند اور عوامی شاعر نے آمریت کے خلاف دل کھول کر لکھا۔ شہرہ آفاق نظم دستور سے جالب نے ایسی شہرت پائی جو آج تک قائم ہے۔

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

جالب کی اس نظم پر مقدمہ قائم ہوا اور اُنہیں حوالۂ زنداں کر دیا گیا۔ اسی دور میں اُن کے ایک شعری مجموعے “سر مقتل” پر پابندی عائد ہوگئی۔ مگر جالب کی مزاحمت جاری رہی۔

غزلیں تو کہی ہیں کچھ ہم نے ان سے نہ کہا احوال تو کیا
کل مثل ستارہ ابھریں گے ہیں آج اگر پامال تو کیا
جینے کی دعا دینے والے یہ راز تجھے معلوم نہیں
تخلیق کا اک لمحہ ہے بہت بیکار جئے سو سال تو کیا

آمریت کے ہاتھوں سے باگ ڈور جمہوریت کے ہاتھ آئی۔ عوام کے لئے بلند بانگ دعوے شروع ہوئے تو عوامی شاعرجالب کچھ یوں گویا ہوئے۔

نہ جاں دے دو، نہ دل دے دو
بس اپنی ایک مل دے دو
زیاں جو کرچکے ہو قوم کا
تم اس کا بل دے دو

حبیب جالب کا انداز دوسرے شعراء سے جدا ہے وہ موسیقی سے بھی بخوبی واقفیت رکھتے تھے جسکے اثرات کا انداز انکی شاعری کی نغمگی سے لگایا جا سکتا ہے۔

حبیب جالب نے کئی معروف فلموں کے لئے بھی نغمہ نگاری کی جن میں مس 56، ماں بہو اور بیٹا، گھونگھٹ، زخمی، موسیقار، زمانہ، خاموش رہو، کون کسی کا، یہ امن، قیدی، بھروسہ، العاصفہ، پرائی آگ، سیما، دو راستے، ناگ منی، سماج اور انسان شامل ہیں۔ انہیں مشہور پاکستانی فلم زرقا میں گیت لکھنے پر شہرت حاصل ہوئی۔ جس کےبول یوں تھے:

تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے ابھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

جب ریاض شاہد نے اپنی فلم “یہ امن” کا آغاز کیا تو ایک بار پھر جالب ہی کے لکھے ہوئے لازوال گیت منظر عام پر آئے اور ایک گیت نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے تھے، جس کی سوچ بھی بین الاقوامی تھی.

ظلم رہے اور امن بھی ہو‘ کیا ممکن ہے تم ہی کہو

large-Habib Jalib being beaten up at a WAF protest during the Zia regime

کراچی پریس کلب نے انہیں اپنی اعزازی رکنیت پیش کرکے اپنے وقار میں اضافہ کیا تھا اور ان کی وفات کے بعد 2008ء میں حکومت پاکستان نے انہیں نشانِ امتیاز عطا کیا۔

کسی بھی حکومت کے سامنے نہ دبنے والا یہ شاعر بالآخر بیماریوں سے بے بس ہو گیا جس کا اظہارحبیب جالب نے ان الفاظ سے کیا،

بہت تذلیل تو کر لی ہماری زندگانی کی
اجازت موت کی اب، ہم کو بن کے رحم دل دے دو

جالب نے اپنی موت کا نتیجہ بھی خود ہی لکھ دیا تھا،

اب رہیں چین سے بے درد زمانے والے
سو گئے خواب سے لوگوں کو جگانے والے

عوام کا یہ شاعر65 برس کی زندگی گزار کر 12 مارچ کواس دنیا سے کوچ کر گیا تھا۔ انہیں قبرستان سبزہ زار اسکیم لاہور میں سپرد خاک کیا گیا۔

یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا
جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. Rafaqat کہتے ہیں

    Thank you. Nice

  2. میاں حامد کہتے ہیں

    السلام علیکم، ربیعہ بہن بہت اچھا لکھا ہے۔ ماشااللہ، امید ہے سلسلہ جاری رکھیں گی۔

  3. عزمی انصاری کہتے ہیں

    بہت عمدہ خاص کر اشعار کے انتخاب پر

تبصرے بند ہیں.