ازخود نوٹس : بیوروکریسی میں تقسیم کیوں؟

3,552

وفاقی یا صوبائی مقابلے کا امتحان پاس کرنے والے جب سول سروس کا حصہ بنتے ہیں تو بیوروکریٹ کا لفظ ان کا تعارف بن جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ دوست رشتےدار کسی بھی جگہ اپنے تعارف کے ساتھ انکے تعارف کی گنجائش بھی نکال ہی لیتے ہیں۔ فخر کیوں نہ ہو یہ بیوروکریٹس ہی تو ہیں جو اداروں میں انتظامی امور سنبھالے ہوئے ہیں اور ہمارے معاشرے میں “بڑے صاحب” کہلوانے کا سرٹیفیکیٹ بھی تو صرف ان بیوروکریٹس کے پاس ہی ہے۔

نیلی بتی، سڑکوں پر بجتے ہوٹرز، شاہانہ دفاتر، خانساموں کی  فوج اور عملے کی جانب سے  آؤ بھگت جیسے محرکات ھی ہیں جس کی وجہ سے ہر سال ہزاروں امیدوار اس مقابلے کے امتحان کو پاس کرنے کیلئیے سالوں کی محنت بھی کرتے ہیں اور صرف کچھ لوگ ہی بیوروکریٹ بن پاتے ہیں۔ پبلک سرونٹ یعنی عوامی خدمت گار، عوام کی خدمت کے جذبے سےسرشار تو ہیں۔ مگر پہلے ان کی اپنی خدمت کا سامان ہونا بہت ضروری ہے۔ بیوروکریسی اس “ذاتی خدمت” کے جذبے میں اتنی سنجیدہ ہے کہ عوام تو دور کی بات وہ اپنےاندرونی معاملات میں بھی تذبذب، تعصب، گروہ بندی اور حق تلفی کا شکار ہے۔

اس بات کی واضح مثال حال ہی میں ایک ڈی ایم جی آفیسر سابق ڈی جی، ایل ڈی اے احد چیمہ کی نیب کی جانب سے گرفتاری پر نظر آئی جب بیوروکریسی میں ڈی ایم جی اور پی ایم ایس آفیسرز دو مختلف دھڑوں میں تقسیم نظر آئے۔ یہ خلیج کیوں موجود ہے؟ اس سوال کے جواب کیلئیے کچھ حقائق جاننے ضروری ہیں۔

ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ (DMG) جسکا نیا نام پاکستان ایڈمسٹریٹو سروسز (PAS) ہے، یہ‎ فیڈرل سول سروس ہے جبکہ پی ایم ایس صوبائی سول سروس ہے۔ دونوں سول سروسز مقابلے کے امتحان کے ذریعہ سول سروس کا حصہ بنتی ہیں۔ دونوں کے امتحانات ہر لحاظ سے یکساں اور برابر ہیں۔

‎اس کے باوجود ڈی ایم جی افسران خود کو اعلیٰ تصور کرتے ہیں اور صوبائی افسران کا استحصال کرتے ہیں۔ پی ایم ایس اور ڈی ایم جی میں تنازعات کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔

پہلی بات تو یہ کہ بیوروکریسی میں سیٹوں کی تقسیم بڑی غیر منصفانہ اور غیر قانونی بھی ہے۔ ‎ڈی ایم جی گروپ نے 1993 کی عبوری حکومت کے دور میں ایک غیر قانونی سیٹ شیرنگ فارمولا طے کروایا جس کے تحت صوبے کی تمام اہم آسامیوں پر براجمان ہو گئے اور صوبائی افسران کی ترقی کا راستہ روک دیا۔

جبکہ سیٹ شئیرنگ کا یہ فارمولا 1993 میں عبوری وزیراعظم معین قریشی کی حکومت میں طے ہوا تھا اور یہ متنازعہ فارمولا یا کوئی بھی پالیسی عبوری حکومت (interim govt)کا مینڈیٹ نہیں ہوتی۔ اس فارمولا کی قانونی حیثیت پر بھی بہت سوالیہ نشان ہیں۔

غیر انصافی پر مبنی اس فارمولے کی وجہ سے ڈی ایم جی کے 200-250 افسران نے اپنے لیے بڑے گریڈز میں زیادہ سیٹیں حاصل کی اور پی ایم ایس کے 1200 افسران کے لیے صرف چند سیٹیں چھوڑیں جس سے پی ایم ایس افسران کی ترقی بہت دیر سے ہوتی ہے بلکہ اکثر 19 گریڈ میں ریٹائر ہو جاتے ہیں اور اس طرح صوبے کا قیمتی سرمایہ (human resource) نا انصافی کا شکار ہو کر ضائع ہو جاتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ، ‎ڈی ایم جی افسران تمام اہم آسامیوں (چیف سیکرٹری، سیکرٹری، سیکرٹری ٹو سی ایم، سیکرٹری ٹو پی ایم، سیکرٹری فنانس) پر بھی قابض نظر آتے ہیں اور اس طرح حکومت کی باگ ڈور اصل میں ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور یہ اپنی کلاس کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ صوبے اور وفاق کی تمام اہم آسامیاں دوسرے سروس گروپس کے لیے شجر ممنوعہ ہیں اور اس طرح یہ گروپ ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکا ہے بلکہ ایک رائے تو یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے رجسٹرار سپریم کورٹ بھی ڈی ایم جی گروپ کا ہی ہوتا ھے۔

1993‎ کے سیٹ شیئرنگ فارمولا کے خلاف پی ایم ایس  افسران نے کیس دائر کیا ہوا ہے لیکن ڈی ایم جی گروپ کا رجسٹرار اس کے آڑے آ رہا ہے اور کیس لگنے نہیں دیتا۔

اور تیسرا یہ کہ ‎سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود جونئیر ڈی ایم جی گروپ کے افسران سینئیر آسامیوں پر براجمان ھیں۔ پنجاب میں ڈی سی کی سیٹ گریڈ 19 کی ہے لیکن گریڈ 18 کے ڈی ایم جی افسران تعینات ہیں۔ اسی طرح کمشنر اور سیکرٹری کی سیٹ گریڈ 21 کی ہے لیکن گریڈ 19 اور 20 کے ڈی ایم جی افسران ان سیٹس پر براجمان ہیں۔ احد چیمہ گریڈ 18 میں ہوتے ہوئے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن رہے ہیں۔ اسی طرح ڈی جی، ایل ڈی اے کی آسامی گریڈ 20 کی ہے لیکن احد چیمہ گریڈ 19 میں ہوتے ہوئے اس سیٹ پر تعینات رہے۔ مندرجہ بالا مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر افسران کو نوازا جاتا ہے جس سے دیگر افسران میں بد دلی جنم لیتی ‎ہے۔

چوتھی بات یہ کہ ‎ڈی ایم جی گروپ کے افسران خود کو تمام اداروں ‎اور احتساب سے بالا تر سمجھتے ہیں۔ اسے لیے احد خان چیمہ اور فواد حسن فواد جیسے افسران کو احتساب کی گرفت سے بچانے کے لیے ڈی ایم جی گروپ کے افسران کی طرف سے پنجاب میں ہڑتال کی جا رہی ہے۔

پانچویں بات یہ کہ، ‎ڈی ایم جی گروپ کے نا صرف پی ایم ایس افسران سے اختلافات ہیں بلکہ دیگر سروس گروپس مثلاً سیکریٹریٹ گروپ، ان لینڈ ریونیو سروس، فارن سروس، انفارمیشن گروپ، پولیس سروس بھی اس گروپ کے ڈسے ہوتے ہیں اور شدید اختلاف رکھتے ہیں۔

ان پانچ پوائنٹس کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس استحصالی میں  بہت ساری آسامیاں یا تو خالی رہ جاتی ہیں یا اضافی چارج کے ساتھ دفتری امور میں کام کے دبائو کا باعث بنتی ہیں۔ ظاہر ہے جب ایک افسر دو تین اضافی چارج کے ساتھ کام کر رہا ہوگا تو “صاحب ابھی میٹنگ میں ہیں” یہ جملہ خدمت کروانے کے لیے قطاروں میں لگی عوام کے حصے میں آئے گا۔  سائیلین اپنی درخواستیں لیے اپنی خدمت کروانے کیلئیے دفتروں کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ اس وقت بیوروکریسی نے کیوں ہڑتال نہیں کی جب سابقہ ڈی پی او بہاولنگر شارق کمال کو ایم این اے عالم داد لالیکا کے خلاف کارروائی  کی وجہ سے ضلع بدر کیا گیا۔ ہڑتال تو جب بھی بنتی تھی جب لاہور میں ایک پی ایم ایس آفیسر اے سی شالیمار صفدر ورک کو نیب نے گرفتار کیا تھا جیسے احد چیمہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اور کیا اس ہڑتال کی گنجائش سول سروس کنڈکٹ رولز 1966 میں بھی ہے؟ اگر ماضی میں پی ایم ایس افسروں کی ہڑتال پر گرفتاریں اور انکوائریاں ہو سکتی ہیں تو سگار پیتے اور ہیٹ پہنے ان ڈی ایم جی افسران کے خلاف کیوں نہیں؟ اگر نہیں تو کیا اس ڈی ایم جی لابی کو کوئی قانون کے دائرے میں کبھی لا بھی پائے گا؟

لیکن یہ بیچاری عوام کیا جانے کہ  سول سرونٹس کی ترجیحات تو اعلٰی افسر شاہی کو بچاناہے، اور اپنے ذاتی مفاد کیلئیے دفاتر کو تالے لگانا ہے۔ کرپشن کا صرف الزام لگا اور بڑے صاحب برا مان گئے۔ اس سے پہلے کے عوام برا مانیں اور  از خود نوٹس لیں، حکمران اپنی ترجیحات بدلیں اور عوام کو اپنا خدمت گار نہ سمجھیں بلکہ خود پبلک سرونٹ بنیں۔

مصنف ایک نجی ٹی وی چینل میں اینکر ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی کارکن بھی ہیں اور بطور کارپوریٹ ٹرینر بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.