عورت کی عزت اور اُس کا لباس

2,488

کیا عورت کو معاشرے میں عز ت اور مقام پانے کے لیے عبایہ یا مشرقی لباس پہننا ہوگا؟ یہ وہ سوال ہے جس نے مجھے یہ بلاگ لکھنے پر مجبور کیا۔ خواتین کے عالمی دن پر ہر کوئی عورت کی آزادی کے بارے میں بات کرتا ہے لیکن اصل میں عورت اس وقت تک آزادی سے لطف اندوز نہیں ہو سکتی جب تک مرد کی سوچ عورت کے لباس کو لے کر تبدیل نہیں ہوگی۔

ایک عام سوچ ہے کہ اگر عورت مشرقی لباس پہنے تو وہ قابلِ احترام اور اگر وہ ہی عورت مغربی لباس پہنے تو وہ عزت کے قابل نہیں ہے۔ اُس کو ایسے گھورا جاتا ہے کہ انسان اپنی ہی نظروں میں شرمندہ ہو جائے۔ پچھلے چند دنوں سے میں بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال سے دوچار ہوں۔ گرچہ میں ایک خود اعتماد اور بہادر لڑکی ہوں۔ گزشتہ چند دنوں میں مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں مردوں کی نگاہوں کا نشانہ بن رہی ہوں۔ اس تمام تر صورتِ حال کو دیکھ کر دماغ میں یہ سوال آتا ہے کہ کیا مشرقی مردوں کا معیارِ عزت لباس میں چھپا ہے۔ مغرب کے ایجاد کردہ کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہوئے، ہاتھ میں مغربی موبائل فون پکڑے مغربی پینٹ شرٹ پہنے ہوئے مرد جب کیسی عورت کو مغربی لباس میں دیکھتے ہیں تو فوراً اس کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں اور اسے ہراساں کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔

ضروری تو نہیں کہ عورت اگر ماڈرن ہے تو وہ ہر ایک سے دوستی کرلے یا اگر وہ کسی سے خوش اخلاقی سے بات کر رہی ہے تو اس کے اس فعل کا غلط مطلب نکالا جائے۔ اگر ایسی ہی متوسط سوچ رکھنی ہے تو ہمارا اتنے پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ۔

میرے خیال میں پاکستانی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کے ہمارے معاشرے میں تربیت صرف اور صرف بیٹی کی ہی کی جاتی ہے۔ اگر کچھ دھیان بیٹے کی تربیت پر بھی دیا جائے تو مرد کی سوچ بھی قدرِ بہتر ہو۔

ہمارے یہاں کے لوگ اسلام کو صرف اور صرف اپنی من مرضی یا سہولت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جہاں اپنی سہولت ہو وہاں اسلام یاد آ جاتا ہے اور جہاں عورت کے حقوق کی بات آئے، وہاں اسلام کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اب ملالہ یوسف زئی کو ہی لے لیں جب اسکی ایک مغربی لباس میں تصویر وائرل ہوئی تھی تو ہماری قوم نے تہلکہ مچا دیا تھا اور اسکو کافر ہی قرار دے دیا تھا۔ مرد حضرات بھی تو جینز پہنتے ہیں انہیں تو کافر قرار نہیں دیا جاتا۔

ملالہ یوسف زئی کے بارے میں جو باتیں سننے کو ملیں وہ تو قابلِ ذکر بھی نہیں، بس اپنے معاشرے کے لوگوں کی سوچ پر ترس اور رحم آتا ہے، یہ ابھی بھی پتھر کے دور میں جی رہے ہیں۔

ہماری خواتین اپنی روزمرہ کی زندگی میں ایسے کئی مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔ جو خواتین لوکل بس، رکشہ، ٹیکسی وغیرہ پر سفر کرتی ہیں، وہ اپنے گھر سے لے کر اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے تک جس قسم کی صورتِحال سے گزرتی ہیں اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ گلی محلے کے لڑکوں سے لے کر بس کنڈیکٹر تک عورت کو ہراساں کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

کہنے کو تو ہمارا معا شرا ایک مہذب معاشرہ ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیوں عورت یہاں محفوظ نہیں؟ کیوں اِس کو ہر قدم پر ایک مرد کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ بھی محض اس لیے کے وہ دوسرے مردوں سے محفوظ رہ سکے۔ کیا یہ ایک ترقی یافتہ ملک کی نشانی ہے؟

مہذب معاشرہ تو وہ ہوتا ہے جہاں عورت کی عزت کا پیمانہ اس کے لباس کو نہیں سمجھا جاتا۔ مہذب معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں کسی عورت کو قدم قدم پر ایک مرد کا سہارہ محض اس لیے نہ لینا پڑے کہ وہ دوسرے مردوں سے بچ سکے۔

عورت کو اپنے حقوق کے لیے خود بلا خوف و خطرہ آواز اٹھانی ہو گی نہ کہ کسی کا انتظار کیا جائے کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے۔ ہمیں معاشرے میں اپنے مقام کو منوانا ہوگا۔ ہمیں ہماری قابلیت سے جانچا جائے نہ کہ ہمارے لباس سے اور اس بات کو بھی سمجھا جائے کہ عزت کا تعلق کردار کی پاکیزگی سے ہوتا ہے نہ کے لباس سے اور یہ بات ہمیں مردوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔

سیدہ ثنا بتول کاظمی نے حال ہی میں صحافت میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے۔ یہ مستقبل میں کل وقتی صحافی بننا چاہتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.