بُت پرستوں نے اپنائی ہے رسمِ بُت شکنی

2,162

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ میں، جہاں 25 سال تک کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ کی حکومت رہی ہے، ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی فتح کے بعد جس جنونی انداز سے پوری ریاست میں لینن کے مجسمے مسمار کیے گئے ہیں، مجسموں کو توڑنے کا سلسلہ اب ایک وبا کی طرح پورے ہندوستان میں پھیل گیا ہے۔

مجسمہ شکنی کا تازہ ترین واقعہ، اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں پیش آیا ہے جہاں دلتوں کے قائد ڈاکٹر بھیم راو امبیدکر کے مجسمہ کو گرا کر پاش پاش کردیا گیا۔اس کی وجہ سے شہر میں دلتوں کے جذبات اتنے بھڑکے کہ انہوں نے میرٹھ ، موانا شاہراہ بند کر دی۔ دلتوں کے قابو سے باہر ہوتے ہوئے احتجاج کو ختم کرنے کے لئے حکام نے یقین دلایا کہ ڈاکٹر امبیدکر کا نیا مجسمہ نصب کر دیا جائے گا۔

dr ambedkar's statue broken in   aligarh

5 مارچ کو علی گڑھ میں بھی ڈاکٹر امبیدکر کے مجسمے کو توڑا پھوڑا گیا تھا۔

تریپورہ میں لینن کے مجسموں کی مسماری کے رد عمل کے طور پر کلکتہ میں ہندو قوم پرست جماعت جن سنگھ کے بانی شیاما پرشاد مکر جی کا مجسمہ توڑ دیا گیا۔ جن سنگھ ہی کے بطن سے موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جنم لیا ہے۔

dalit leader ambedkar's statue   vandalized in meerut

ادھر کیرالا میں گاندھی کے مجسمہ کو بھی توڑ پھوڑکا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جنوبی ریاست تامل ناڈو میں ،ڈی ایم کے کے بانی پیریار، ای وی راما سوامی کے مجسمہ کو توڑا گیا ہے ۔ تامل ناڈو میں جہاں عنقریب ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں پیریار کے مجسمہ کی مسماری کے خلاف پوری ریاست میں احتجاج کی آگ بھڑک گئی ہے۔

یہ صورت حال بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے بے حد تشویش ناک ہے اور ان حالات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی انتخابی شکست نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی نے، تریپورہ میں لینن کے مجسموں کی توڑ پھوڑ پر کئی دنوں تک خاموش رہنے کے بعد، اچانک پیریار کے مجسمہ اور لینن کے مجسموں کی مسماری کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے تمام ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ رہنمائوں کے مجسموں پر پولیس تعینات کریں اور عوام کو یقین دلایا ہے کہ مجسمے مسمار کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی مجسمہ شکنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

periyar-statue-vandalised

نریندر مودی کے اس بیان پر ہندوستان کے مسلمانوں نے ان سے سوال کیا ہے کہ جب 2000ء میں ان کی ریاست گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا تھا تو انہوں نے روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی بلکہ ان پر الزام ہے کہ وہ خود اس قتل عام کے ذمہ دار تھے جس میں تین ہزار سے زیادہ مسلمان جاں بحق ہوئے تھے۔ کیا مسلمانوں کی جانیں ان مجسموں سے ارزاں ہیں؟

پھر جب ایودھیا میں بابری مسجد شہید کی جارہی تھی تو تب بھی وہ خاموش رہے بلکہ خود ان کی پارٹی کی قیادت اس مسماری میں پیش پیش تھی۔
یہ کیسا انقلاب ہے کہ ”بُت پرستوں نے اپنائی ہے ، رسمِ بُت شکنی”.

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.