سیاستدان پر جوتا پھینکنا، قابل مذمت یا قابل تعریف؟

1,087

سابق تاحیات نا اہل وزیر اعظم نواز شریف جوتا کلب کے ممبر بن گئے، بلکہ ممبر کے ساتھ ساتھ صدر ہی بن گئے کیوں کہ ماضی میں جن شخصیات کی جانب جوتا اچھالا گیا وہ ان کے قریب سے گزرا۔ گو کہ یہ بھی کم بے عزتی کی بات نہیں تھی اور اس عمل کو ان تمام شخصیات نے بہت واضح محسوس کیا۔ بقول شاعر،

عشق اتنا قریب سے گزار
میں سمجھا ! ہو گیا مجھ کو

حالیہ صدی میں جوتا پھینکنے کے عمل کا آغاز سابق امریکی صدر جارج بش سے ہوا جن پر زبردستی جنگ مسلط کرنے پر ایک مسلمان صحافی نے جوتا اچھالا تھا۔ عوامی خواہشات کی بجائے بزور طاقت فیصلے مسلط کرنے پر صدر جارج بش کے بعد یہ سلسلہ پوری دنیا میں چل نکلا اور دنیا کے کئی ممالک میں سربراہان مملکت اس فہرست میں شامل ہوتے گئے۔

download

چلتے چلتے یہ سلسلہ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان ( جس کے باگ ڈور اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے لہذا میں تو ایلیٹ جمہوریہ پاکستان ہی کہتا ہوں ) میں بھی پہنچا۔ جوتا کلب کے پہلے ممبر پاکستان میں 2008 میں وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم بنے، جن پر آغا جاوید پٹھان نامی شخص نے جوتا اچھالا تھا۔

Arbab-Ghulam-rahim

بعد ازیں 2017 میں جب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید پی ایس ایل کا فائنل دیکھنے لاہور پہنچے تو ریلوے اسٹیشن پر فقیر محمد نامی بزرگ شہری نے شیخ رشید پر اپنا جوتا پھینک دیا۔

Sheikh-Rasheed-Media-Talk

رواں برس وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اپنے آبائی حلقے نارووال میں اسٹیج خطاب فرما رہے تھے کہ بلال حارث نامی شخص نے احسن اقبال پر جوتا اچھال دیا۔

183519_7221535_updates

11مارچ 2018 کو جس دن نواز شریف پر جوتا پھینکا گیا اسی دن فیصل آباد جلسے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر بھی جوتا پھینکنے کی کوشش کی گئی مگر کپتان کے ٹائیگرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کپتان کو جوتا کلب میں داخل ہونے سے بچا لیا۔

5aa4e9950d30f

پاکستان میں سیاسی شخصیات صرف جوتا کلب کی ہی ممبر نہیں بنی بلکہ چند ایک شخصیات کے حصے میں منہ کالا کرانے کی سعادت بھی آئی ہے۔

24ستمبر 2007 کو ایک شخص نے سپرے کر کے احمد رضا قصوری کا منہ کالا کر دیا تھا جبکہ 10 مارچ 2018 کو اپنے ہی حلقے میں وزیر خارجہ پاکستان خواجہ محمد آصف، حارث نامی نوجوان کے ہاتھوں اپنا منہ کالا کروا بیٹھے۔

black-out

کسی معزز شخص پر جوتا پھینکنا بے شک ایک قابل مذمت فعل ہے مگر سوال ہے یہ کہ کیا قابل مذمت فعل صرف جوتا اچھالنا ہے، جب ایک ہی رات میں پٹرول کی قیمت آسمان کو چھونے لگتی ہے، جب لاہور کے جنرل اور جناح ہسپتال میں خواتین سردی میں ٹھٹھرتی برآمدوں میں بچوں کو جنم دیتے ہیں یہ قابل مذمت افعال نہیں ہیں۔

khawjaasifink

نواز شریف کو جوتا پڑنے کے بعد مریم نواز شریف نے جلسے میں کہا کہ آج مجھے بہت تکلیف ہوئی ہے۔ جب نواز شریف کی جی ٹی روڈ سے واپسی کے دوران ایک بچہ پروٹول کی گاڑی کی زد میں آکر جان کی بازی ہار گیا تب کسی کو تکلیف نہیں ہوئی۔

کچھ عرصہ قبل ترکی کی عوام نے فوج کی جانب سے مارشل لاء نافذ کرنے کی چال کو جان پر کھیل کے روک دیا۔ اور ترکی کے عوام ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے، ہمارے حکمرانوں نے بھی ترک جمہوریت ڈے بڑے زور و شور سے منا کر عوام کو ترغیب دینے کی کوشش کی اور زبردستی ذہن نشین کروانے کی کوشش کی کہ اگر آئندہ ہمیں نکالا گیا تو عوام ٹینکوں کے سامنے لیٹ جائیں گے۔

57898880edbc6

الغرض عوام کو ترک عوام بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی مگر خود کسی لیڈر نے ترک لیڈر بننے کی کوشش نہ کی۔ اور عیش و عشرت کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ جے آئی ٹی بننے پر پہلے مٹھائیاں تقسیم کی گئیں بعد ازاں فیصلہ خلاف آنے پر پہلے جے آئی ٹی اور پھر عدالتوں کی تضحیک کی گئی۔ بھرے جلسوں میں ججز اور ان کے اہل خانہ پر زمین تنگ کرنے تک کی دھمکیاں دے کر جمہوریت کے حسن کو گہنایا گیا۔

جوتا پھینکنا ایک قابل مذمت فعل ہے مگر اب اقتدار کے ایوانوں میں براجمان موٹی تنخواہوں اور پروٹوکول لینے والوں کو سوچنا ہوگا کہ عوام ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اور انہیں خود کو عوام کی عدالت میں کیسے کلیئر کرنا ہوگا۔

میں مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایسا غلام شہری ہوں جسے کاغذات میں آزاد شہری ڈکلیئر کیا گیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ میں ایک دن بھی اپنے کام سے اپنی منشا کے مطابق چھٹی نہیں کر سکتا۔ اگر ایسا کرتا ہوں تو میرے اہلخانہ کے پاس کھانے کو ایک لقمہ بھی نہیں بچتا لہذا مجھ آزاد غلام کو روز سردی، گرمی سمیت ہر طرح کی موسمی شدت میں کام پر جانا ہوتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

5 تبصرے

  1. Sajid khan aurakzai کہتے ہیں

    Not agreed. Muntashir tahreer.

  2. Rizvi کہتے ہیں

    What a standard!!. Great intro of blogger. It would be better if ” dunya” provide account number too

  3. Iftikhar khan کہتے ہیں

    Siasatdaanon ky saath eissa SULUUK sarreehann GHALAT Aur Qabil e Muzammat hai!
    MAGHAR yeh dono to DAKAAIT AUR QAOMI KHAZANAZ KY CHORR HAIN! Inko Siasatdaanon kehna SIASATDAANON ko toheen hai!
    Eissay BADMAASHON Aur GHATTIA logon ky saath eissa SULUUK kernay walay ki JURRAT AUR JAZZBAZ ki tareef o pazeeraai kerni chahiay ! Allah sari pakistani Qaom ko inn CHORRON Aur GHUNNDON ky khilaaf uth kharra honay ki jurrat Aur himmat Ataa Fermaain . Ameen.

  4. Muhammad Zubair کہتے ہیں

    pichhlay kuch dino se jutay aur siyahi per taqriban har shobay se mutalliq logon ka tabsara sun aur parh lia. beshtar logon ne yahi kaha hai k ye kaam kabil e mazammat hai. laikin awami halkon se sirf aik he tabsara aya hai k ye kaam kabil e mazammat zarur hai laikin jin logon ko juta mara gaya hai wo na to siyasatdan hain na he unhon ne is mulko qoum ko kuch dia hai balke loota hai aur ab bhi dheet banay hue hain. meri zati raye mein sirf itna kahunga k ye muashray ka wo gund hai jo inhi logon ne pichhlay 70 sal mein is mulk ko dia hai. ab is qoum se inhain kun ummeed hai k ye qoum inhain phoolon k haar pehnayegi. Usool ki baat apni jaga laikin haqiqat yahi hai k jis qoum ko aap ne apni hukmarani qaim rakhne k chakar mein aj tak taleem nahi di shaoor nahi dia wo qoum ab apko yahi kuch de sakti hai. agar ye Usool man lia jaye k quran o hadees aur akhlaqiat ki roo se ye ghalat hai. to ye Usool bhi mann lena chahiye k quran o hadees aur akhlaqiat ko parhay bighair ya achhi tarbiat k bighair jootay ki he tawakko ki jasakti hai phoolon ki nahi. Kash hamare danishwar tabqay k log is buri chiz pr apni mazammat record karwane ki bajaye guzishta 70 salon mein apni danishmandi dikhate aur is qoum ko in luteron aur mafad parast tabqay se bachatay to ye din na dekhna parta. Meri koi baat kisi ko buri lagi ho to maafi chahta hun. laikin haqiqat yahi hai.

  5. farwa کہتے ہیں

    Xcellent Write-up Muzafar Asrar Wahid….
    keeep it Up!!!

تبصرے بند ہیں.