پانامہ کے ہمسفرعلی جہانگیر صدیقی کو بنایا امریکہ کا سفیر

2,464

پاکستان اس وقت پوری دنیا میں سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار ہے اور ان حالات میں امریکہ میں پاکستان کے 27ویں سفیر کیلئے علی جہانگیر صدیقی کو نامزد کیا گیا ہے ۔

اس سے پہلے عزیز احمد چوہدری امریکہ کے سفیر تھے جن کو مارچ 2017ء میں امریکہ میں سفیر کی ذمہ داریاں دی گئیں تھی۔عزیز احمد چوہدری نے حال ہی ملازمت میں مزید توسیع کیلئے درخواست بھی دی، لیکن وزیر اعظم کی طرف سے توسیع کو مسترد کر دیا۔ صرف ایک سال کے بعد ان کی جگہ نئے سفیر کے طور پر پاکستان کے بزنس ٹائیکون جہانگیر صدیقی کے بیٹے کو ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں۔ جو کہ اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خان عباسی کے اگست 2017ء سے مشیر خاص ہیں۔ پانامہ لیکس میں علی جہانگیر صدیقی کا نام شامل ہے اور نیب میں جن افراد کے کیس پر اس وقت تحقیات ہو رہی ہیں ان میں بھی علی جہانگیر صدیقی کا نام بھی شامل ہے۔

علی جہانگیر صدیقی کا تعلق پاکستان کی اعلیٰ بزنس فیملی سے تعلق ہے۔اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ وہ پاکستان کے ایک کامیاب بزنس مین ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے ۔ JS Bank and JS Private Equity کے چیئرمین ہیں ۔ علی جہانگیر اور ان کے والد جہانگیرصدیقی کاکاروبار پاکستان سے باہر بھی کئی ممالک میں ہے۔ بعض حلقوں کا تو یہ بھی کہناہے کہ میر شکیل الرحمان کے ساتھ جیو اور جنگ گروپ میں بھی شراکت ہے۔ اور اسی طرح انڈیا کے ساتھ بھی کاروباری روابط بھی ہیں۔

کسی بھی ملک میں سفیر اس ملک کی نمائندگی کرتا ہے اور دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات کو بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جہاں پاکستان اندرونی سیاسی انتشار کا شکار ہے وہاں دنیا بھر میں سفارتی طور پر بھی الگ تھلگ ہوتا جا رہا ہے ۔ دنیا میں بھارت ہر وقت پاکستان کے خلاف سفارتی جنگ لڑ رہا ہے اور وہ اس میں بہت حد تک کامیاب بھی نظرآتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا نہ ہونا ہے ۔

ہمارے حکمران کرپشن اور لوٹ مار کی دنیا میں اتنے مصروف ہیں کہ 5 سالہ دور حکومت میں 4 سال تک وزیر خارجہ کا تقرر ہی نہیں کر سکے ۔ علی جہانگیر کے پانامہ لیکس اور نیب میں چلنے والے کیس کو درگزر کر کے صرف اس بات کو دیکھا جائے کہ امریکہ جیسے ممالک کیلئے ایک ایسے شخص کو سفیر مقرر کیا جا رہاہے جو اس فیلڈ میں بلکہ تجربہ نہیں رکھتا ۔ عالمی سطح کی سیاست تو دور کی بات ملکی سیاست میں بھی اس سے پہلے کوئی کردار ادا نہیں کیاہے۔جب سفارتی سطح پر مقابلہ بھارت جیسے ملک سے ہو تو امریکہ کے سفیر کیلئے قومی اسمبلی اور متعلقہ فورمز پر مشاورت پاکستان کی سلامتی کا تقاضا ہے۔

صرف ایک کامیاب بزنس مین ہونے کی وجہ سے کسی کو اتنی اہم پوسٹ پر تعینات کرنا کئی سوال پیدا کرتا ہے۔کوئی اس کو پانامہ کے ساتھی کو نوازنے کا کہہ رہا ہے تو کوئی بھارت کے طرف سے دیا گیا نام کہہ رہا ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ علی جہانگیر کو اس لیے سفیر لگایا کہ اس سے شریف برادران کی بیر ون ملک پراپرٹی کے معاملات سنبھالنے کاکا م جو لینا ہے۔ حقیقت جو بھی ہو امریکہ جیسے اہم ملک کیلئے سفیر کے معاملہ کو اتنی غیر سنجیدیگی سے لینا پاکستان کیلئے بہت سے مسائل کا باعث ہو گا۔

ذاتی مفاد سے بڑھ کر ملکی مفاد کو سامنے رکھنا ہو گا۔ آئندہ چند ماہ سیاسی شورو غل کے دوران جب میڈیا اور عوام کا رخ سیاسی میدانوں کی طرف ہو گا تو ایسی کئی تبدیلی اور تقریاں ہونے کا اندیشہ ہے۔ جو پاکستان کو مزید تنہائی کا شکار کرنے کا باعث بنیں گی۔ عدلیہ اور قومی سلامتی کے اداروں کو ایسی نوازشوں پر نظر رکھنی ہو گی ۔

صادق مصطفوی کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ روزگار کی وجہ سے سعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں۔ ملکی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.