الفاظ کی طاقت اور نہ ٹوٹنے والا سحر

3,491

کتنے آدمی تھے؟ یہ وہ تین الفاظ ہیں جو بھارتی فلم کے ایک ولن کی زبان سے ادا ہوتے ہی امر ہوگئے۔ یہ تین الفاظ ستر کی دہائی میں نہ صرف فلم کی جان بنے بلکہ ولن گبر سنگھ  ” امجد خان” کی پہچان بھی بن گئے۔ فلم میں دیکھنے اور سننے کو اور بھی بہت کچھ تھا لیکن یہ تین الفاظ اس فلم سے اور امجد خان سے ایسے جڑ گئے کہ آج چالیس سال بعد بھی ‘کتنے آدمی تھے’ کا ذکر ہو تو فورا ‘شعلے’ کی یاد آتی ہے۔ صرف ان تین الفاظ کا ایسا سحر ہے جو آج تک  ٹوٹ نہیں پایا۔

kalia-jan1

دنیا میں اصل قوت الفاظ ہی کی ہے۔ اس کائنات کی ابتداء ایک لفظ سے ہوئی۔ الفاظ ہی کی بدولت انسان کو جانوروں سے ممتاز بنایا گیا ہے۔ الفاظ کی طاقت بچپن سے لے کر مر جانے تک  ہماری زندگی کے ہر موڑ پر عیاں ہوتی ہے۔ مصنف الفاظ کے دم سے  قاری کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے، شعراء کا کمال بھی الفاظ ہی کے دم سے ہے۔ الفاظ ہی امید کے چراغ روشن کرتے ہیں اور الفاظ ہی مایوسی کی تاریکیاں پیدا کرتے ہیں۔ الفاظ ہنساتے ہیں اور الفاظ ہی رلا بھی دیتے ہیں۔ سارا جھگڑا الفاظ کا اور صلح و دوستی بھی الفاظ ہی کی بدولت ہے۔ اپنی کارکردگی بیان کرنی ہو، محبت کا اظہار کرنا ہو، کسی پر الزام لگانے ہو یا اپنا دفاع کرنا ہو انسان الفاظ کا ہی سہارا لیتا ہے۔ ایک بہترین مقرر، اداکار یا صداکار وہ ہوتا ہے جس کے الفاظ زبان سے ادا ہوتے ہی سامعین کے دل میں گھر کر جائیں۔ کئی بار تو ایسا ہوتا ہے کہ ہم واقعات بھول جاتے ہیں لیکن الفاظ ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔

میڈیا کی آزادی کے بعد پاکستان کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ ہمارے سیاستدانوں نے بھی تقریر کرنے کے نت نئے طریقے آزمائے ہیں کچھ لوگ کامیاب ہوگئے اور کچھ بری طرح پٹ گئے۔ کچھ سیاستدانوں کے الفاظ ذہن میں نقش کرگئے اور کچھ کے الفاظ کی چھاپ دیواروں پر نظر آئی، کئی الفاظ نعرے بن گئے اور کئی گانوں میں استعمال ہونے لگے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آج کل میڈیا سوشل میڈیا اور ہماری محفلوں میں جو سیاست کی بازگشت ہے وہ سب انہی لفظوں کا گورکھ دھندا ہے۔ آج ہم ایسے ہی کچھ الفاظ کو یاد کریں گے جو گزشتہ برسوں میں ہماری سماعتوں سے ٹکراتے ہی امر ہوگئے۔

nawaz-sharif-is-taking-pakistan-in-right-direction-8106aa4c70f1f9298422d4397928d33a

بات تین لفظوں سے شروع ہوئی تھی تو آج کل پاکستان میں سب سے زیادہ مشہور و معروف تین لفظ “مجھے کیوں نکالا” ہیں۔ پاناما کیس میں نااہلی کے بعد سے نوازشریف کی “مجھے کیوں نکالا” کی تین لفظی مہم کا اثر کیا نکلا، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ نوازشریف کے بعد باری آتی ہے ان کے سیاسی حریف عمران خان کی۔ عمران خان کے فن خطابت اور ان کے جملوں نے مخالفین کو ایک عرصہ پریشان کئے رکھا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کا نعرہ تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے۔ آیا اور آتے ہی چھا گیا۔ ٹی وی کا  خبرنامہ ہوا یا اخبار کی سرخیاں ہر جگہ تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے کے چرچے تھے۔ اس کے بعد دھرنے کا دور شروع ہوا اور عمران خان کے بھی تین لفظ “ایمپائر کی انگلی” ہٹ ثابت ہوئے۔ اس کے بعد “سونامی آگئی ہے” بھی کافی مقبول ہوئے بلکہ “ایمپائر کی انگلی” کہنے پرسیاسی مخالفین آج بھی خان صاحب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

53f5ecb24bd8a

شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

بدنام  اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

مخالفین جتنی مرضی تنقید کریں عمران خان کے نعرے اور الفاظ کو جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ کسی کے حصے میں نہیں آسکی۔ پاناما کیس میں نوازشریف کا نام آنے کے بعد گو نواز گو کا نعرہ کتنا مقبول ہوا، یہ لکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔

اب ذکر پاناما کیس کا آ ہی گیا ہے تو کیوں نہ اس کے فیصلے پر بھی بات کرلی جائے۔ پاناما کیس کے فیصلے کے دوران استعمال کئے گئے الفاظ میں سے “گاڈ فادر” اور “سسیلین مافیا” نے بھی خوب داد سمیٹی۔ عدالتی فیصلوں سے یاد آیا  لفظ بابا رحمتا بھی آیا اور آتے ہی چھا گیا۔ فیس بک ہو یا واٹس ایپ ، سیاستدان ہو یا تجزیہ کار ہو کوئی بابا رحمتا کا ورد کرتا نظر آیا۔

سیاست میں فن تقریر کی بات ہو اور بھٹو کی یاد نہ آئے یہ ممکن ہی نہیں۔ بھٹو کی گفتگو اور تقریر کرنے کی بھرپور صلاحیت کس کو یاد نہیں ہوگی لیکن ہم بات کر رہے ہیں۔ آج کے دور کی اور آج کے دور میں ہمارے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھٹو کا انداز اپنانے اور مائیک گرانے کی کوشش کی جو خاصی کامیاب نہیں ہوئی۔ شہبازشریف جب وزیراعلیٰ بنے  تو انہوں نے مرحوم حبیب جالب کی نظم ” اس دستور کو صبح بےنور کو میں نہیں مانتا” میں نہیں مانتا” کو اپنی تقریر میں استعمال کیا تو سننے والے محظوظ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

245810_2408948_updates

آصف زرداری کی تو ہنسی ہی اتنی کمال ہے کہ الفاظ بھی شرما جائیں لیکن آصف زرداری کا اینٹ سے اینٹ بجا دینے والا فقرہ بھی بہت مشہور ہوا تھا وہ الگ بات ہے اس کے بعد زرداری صاحب کو کچھ عرصہ کیلئے ملک سے دور رہنا پڑا۔

senate-chairmanship-asif-zardari-gets-a-big-boost-1520536384-7866

آصف زرداری کے بعد بلاول کی باری آتی ہے لیکن بلاول پہلے الفاظ کا استعمال اور تقریر کا فن سیکھ لیں تو شاید کچھ مقبول ہو فی الحال تو وہ اپنے مخصوص انداز پر ہی کافی شہرت بٹور لیتے ہیں۔

پرویز مشرف کا ایک جملہ ” میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں” ایسا عام ہوا تھا کہ میرے اپنے کئی دوست اس کی نقل کرتے تو زار و قطار ہنس پڑتا تھا۔ اگر بات ہو سیاستدانوں کے الفاظ مقبول ہونے کی تو ہم  چودھری شجاعت حسین کے “مٹی پائو” کیسے بھول سکتے ہیں۔ یقینناً مٹی پائو پڑھتے ہی آپ مسکرا اٹھے ہوں گے اور یہ ہی ان الفاظ کی مقبولیت کی گواہی ہے۔

Pervez Musharraf

شیخ رشید ویسے تو بڑے بیان باز قسم کے شخص ہیں وہ کسی نیوز چینل کو دو منٹ کا بیپر دے دیں تو کئی خبریں بن جاتی ہیں لیکن شادی سے متعلق ان کا جو بیانیہ اس کی شہرت زبان زد عام ہے۔ شیخ صاحب کا کہنا ہے کہ جب دودھ باہر سے مل جاتا ہے تو گائے گھر میں کیوں باندھی جائے۔

اس کے بعد “ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یا جعلی ” آپ کو اسلم رئیسانی کے یہ  الفاظ تو آج بھی یاد ہی ہوں گے نہ صرف یاد ہوں گے بلکہ آپ ان الفاظ کا کہیں نہ کہیں استعمال بھی کرچکے ہوں گے۔

اور آخر میں ایک ایسا جملہ جسے شہرت کا وہ مقام حاصل ہے جو کسی اور کو شاید ہی حاصل ہوا ہو۔ فیض آباد دھرنے کے دوران خادم حسین رضوی کی شعلہ بیانی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن ہم نے کالم کا آغاز تین الفاظ سے کیا تھا تو اختتام بھی تین الفاظ سے ہی کریں گے۔ خادم حسین رضوی کی زبان سے تین الفاظ  “پین دی سری” ادا ہونے کی دیر تھی کہ باقی تمام الفاظ کی چکا چوند اور شہرت پھیکی  پڑ گئی۔

khadim-hussain-rizvi

“پین دی سری” کا ایک ایسا سیلاب آیا کہ وہ تبدیلی، میں نہیں مانتا اورایمپائر کی انگلی جیسے الفاظ کی شہرت اور مقبولیت کو بہا لے گیا۔ ان تین الفاظ کی خاصیت یہ ہے کہ وہ سیاستدانوں، طلباء اور نواجوانوں میں یکساں مقبول ہوئے۔

میں ایسے ہی تو نہیں اتنی دیر سے کہہ رہا تھا کہ ہم الفاظ کی دنیا میں رہتے ہیں، الفاظ ہمارا کردار ہیں ہمارا ماحول ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ  الفاظ کے صحیح استعمال کی توفیق نعمت ہے اور یہ نعمت بھی کم انسانوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس نعمت سے مالامال کرے۔ آمین۔

ہائر ایجوکیشن کیلئے چائنہ میں مقیم ہیں ۔ حالات حاضرہ پر بحث،صحافت اور سیروسیاحت کے شوقین ہیں۔ پاکستان کے بڑے صحافتی اداروں میں بطور صحافی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. خاکی کہتے ہیں

    آب نے الفاظ کی ادائیگی کے متعلق زبردست لکھا اس موقع پر میں یہ کہوں گا کہ کسی شخص سے محبت کی وجہ بہت حدتک اخلاق ہوتاہے،اگر آپ کا اخلاق اچھا ہے تو لوگ آپ کو پسند کرینگے وگرنہ بداخلاقوں سے جان چھڑانا ہی مناسب ہے،دوسری بات عمران خان اگر ایسی زبان استعمال نہ کرتے تو شاہد آج تک ہم سیاستدانوں کو ہی اپنا مسیحا سمجھتے اب ہر کوئی یہی کہتا ہے یار یہ سیاستدان کرپشن کے علاوہ کچھ نہیں کرتے ہمارے ملک میں ایسا ہی ہورہاہے۔

  2. Awais Ahmad کہتے ہیں

    Hahahaha fantastic write-up. Brilliant.

    1. محمدیاسین کہتے ہیں

      اویس احمد۔ا ورخاکی صاحب ۔ آپ دونوں ےکےالفاظ کا بہت شکریہ ۔۔ بےشک اچھے الفاظ حوصلے کو بلندی بھی عطا عطاکرتےہیں

  3. Abid salim کہتے ہیں

    Waqt he zaya kia hai.

تبصرے بند ہیں.