کشمیری نوجوان جس نے قائد اعظم محمد علی جناح کو پاکستان بنانے میں مدد کی

2,655

تحریک پاکستان میں کشمیریوں کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے پرایئویٹ سیکرٹری کا انتخاب بھی کشمیر سے ہی کیا تھا۔ عظیم قائد کے اس عظیم دست راست نے ایک صاف ستھری سیاسی زندگی سے ثابت کیا کہ وہ آج بھی ریاست جموں و کشمیر کے غیر متنازعہ لیڈر ہیں۔ پاکستان بنانے میں میری مدد میرے ٹائپ رائٹر اور سیکرٹری نے کی۔ جی ہاں یہ الفاظ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے آزاد کشمیر کے سابق صدر اور تحریک پاکستان کے ممتاز کارکن خورشید حسن خورشید کے بارے میں کہے تھے۔

K H khurshid

تحریک پاکستان کے عروج کے سالوں میں ایس پی کالج سرینگر کے اس ہونہار طالبعلم نے دیگر آزادی پسند طلبہ کے ساتھ ملکر مسلم سٹوڈنٹس یونین کی بنیاد رکھی اورکشمیری طلبہ کو منظم کیا جس پر انہیں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے جالندھر کنونشن میں کشمیری طلبہ کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا۔ نواب بہادر یارجنگ کی وفات کے بعد مسلم کانفرنس کا ایک وفد قائد اعظم سے ملنے گیا جس میں کے ایچ خورشید بھی شامل تھے جنہیں قائد اعظم نے اپنے ساتھ بطور پرائیویٹ سیکرٹری کام کرنے کو کہا۔

K H Khurshid With Sheikh Abdullah in 1964 In Rawalpindi

کے ایچ خورشید نے جہاں قائد اعظم کے ساتھ رہ کر تحریک پاکستان میں جاندار کردار ادا کیا وہاں انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام کو حق رائے دہی دلانے میں بھی جدوجہد کی۔ 1946 میں جب تحریک پاکستان فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی تھی تو اس دوران قائد کے دست راست کے ایچ خورشید کو اپنی والدہ کی وفات کی اطلاع ملی۔ قائد اعظم نے کے ایچ خورشید کو سرینگر میں والدہ کے جنازہ میں شرکت کر نے کی اجازت دی جس پر کے ایچ خورشید نے قائد سے کہا کہ ان کی والدہ کو سرینگر میں دفنانے والے کافی لوگ ہیں لیکن اس وقت جب تحریک پاکستان آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے تو اس موقع پر میں جناب قائد آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ۔ یوں کے ایچ خورشید اپنی والدہ کے جنازے میں شرکت کے لئے سرینگر نہیں گئے بلکہ تحریک پاکستان کے کام میں قائد کے ساتھ مشغول رہے۔

KH Khurshid Mazar

ایوب خان نے کے ایچ خورشید کو یکم مئی 1959ء کو آزاد کشمیر کا صدر تعینات کیا اور 5 اگست 1964ء کو وفاقی حکومت سے اختلافات پر انہوں نے اپنے عہدے سے استعفٰی دیا۔ کے ایچ خورشید 3 جنوری 1924ء کو آبی گزر سرینگر میں پیدا ہوئے اور 11 مارچ 1988ء میرپور سے لاہور عام مسافر ویگن میں سفر کے دوران جی ٹی روڈ پر ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔

K H Khurhsid Mazar in Muzaffarabad11

کے ایچ خورشید آزاد کشمیر کی سیاست میں ایمانداری اور صلاحیتوں کے اعتبار سے آج بھی کوئی ثانی نہیں رکھتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے اس عظیم لیڈر کو سابق صدر آزاد کشمیر میر واعظ محمد یوسف شاہ کے قریب اپر اڈا مظفرآباد میں سپرد خاک کیا گیا۔ کے ایچ خورشید کا مزار قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کی طرح تعمیر کیا گیا جہاں آج بھی دنیا بھر سے ان کے پرستار اور عقیدت مند انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے آتے ہیں۔

محمد اسلم میر دنیا میڈیا گروپ مظفرآباد آزاد کشمیر میں بیورو چیف کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اسلم میر گزشتہ 18 سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Wani Rahat کہتے ہیں

    K H Khurshid was a real icon of Azad Jammu and Kashmir politics who gave first time the right of vote to the people of AJK. His honesty is still matchless when he was travelling from Mirpur AJK to Lahore in a private van that met an accident near Dina on GT Road and K H Khurshid died on the spot. When the pockets of deceased K H Khurshid were searched only Rs:22 were found.. Khurhsid Sb was a complete honest and graceful leader of Kashmir. Rest in peace sir.

  2. Iftikhar کہتے ہیں

    If you want to save Pakistan please separate religion from politics. Otherwise Pakistan will destroy

تبصرے بند ہیں.