پیپلز پارٹی میں جمہوریت کا چراغ کب روشن ہوگا؟

3,190

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے فوجی طالع آزمائوں کے دور میں ملک میں جمہوریت کی بحالی اور جمہوریت کی بقا کے لئے گراں قدر جدوجہد کی ہے لیکن یہ پارٹی ابھی تک خود اپنے اندر جمہوری قدروں کو نہیں چھو سکی ہے۔ تازہ تریں ثبوت خود پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے، سینٹ کے چئیرمین رضا ربانی کو دوبارہ انتخاب کے میدان سے خارج کر کے دیا ہے۔

یہ ان کا اپنا فیصلہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس مسئلے پر پارٹی میں کوئی مشاورت نہیں ہوئی۔ وڈیرے کی طرح ان کا بس یہ کہنا تھا کہ میں نہیں چاہتا (رضا ربانی دوبارہ منتخب ہوں)۔

senate-chairmanship-asif-zardari-gets-a-big-boost-1520536384-7866

اس کے بعد انہوں نے اپنے فیصلہ کے بارے میں جو وضاحت کی وہ بڑی مضحکہ خیز نظر آتی ہے۔ آصف علی زرداری نے شکایت کی ہے کہ آئین کی اٹھارویں ترمیم کے بارے میں رضا ربانی نے پارٹی کے اعتراضات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ شاید زرداری یہ بھول گئے کہ اٹھارویں ترمیم قومی اسمبلی نے 8 اپریل 2010ء کو منظور کی تھی اور سینیٹ نے سات روز بعد 15 اپریل کو منظور کی تھی۔ اور خود زرداری نے جو اس وقت صدر تھے اس ترمیم پر دستخط کئے تھے۔ اُس وقت رضا ربانی سینیٹ کے چئیرمین نہیں تھے، محض ایک ممبر تھے۔ سینیٹ کے چئیرمین کے عہدہ پر ان کا انتخاب مارچ 2015ء میں ہوا تھا۔ اگر بقول زرداری اٹھارویں ترمیم کے سلسلہ میں پارٹی کو اعتراضات تھے تو پارٹی قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کے بل پر ان کا مداوا کر سکتی تھی۔ اب آٹھ سال بعد جب دریائے سندھ میں اتنا پانی بہہ گیا، اس بارے میں زرداری کا شکوہ اور اس کا الزام رضا ربانی پرتھوپنا دانشمندانہ نظر نہیں آتا۔ یہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی میں کوئی جمہوری عمل رائج نہیں۔

1653810-farhatullahbabar-1520447194-290-640x480

اپنی پارٹی کے چئیرمین سینیٹ کے خلاف سرے عام الزام تراشی کسی طور جمہوری نہیں کہی جا سکتی۔ اگر رضا ربانی سے پارٹی کے مفادات کے خلاف عمل کرنے کی شکایت تھی تو پارٹی کی کور کمیٹی میں(اگر کور کمیٹی با اختیار ہے) اس پر بحث ہونی چاہیے تھی اور رضا ربانی کی سر زنش ہونی چاہئے تھی۔

انہیں غالباً احساس نہیں کہ انہوں نے رضا ربانی کے نام کو القط کر کے ایک تجربہ کار پارلیمانی دیو قامت شخصیت کو گنوا دیا ہے جو 1993ء سے سینیٹ کے چھ بار ممبر منتخب ہو چکے ہیں۔ اور 1997ء میں بے نظیر بھٹو نے انہیں پارٹی کے سیکریٹری کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز کیا تھا۔ پھر سینیٹ کے چئیرمین کی حیثیت سے انہوں نے ایوان میں تمام جماعتوں کا ایسا بھر پور اعتماد حاصل کیا تھا کہ جس کی مثال نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ سوائے زرداری کے دوسری تقریباً تمام جماعتیں بشمول مسلم لیگ ن انہیں دوبارہ چئیرمین منتخب کرنے کے لئے پر جوش تھیں، ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ زرداری کی ان کا نام رد کرنے میں کیا مصلحت پوشیدہ ہے۔

59d626da5ca11

یسے ہی وڈیرا شاہی انداز سے زرداری نے اپنے نہایت قابل اعتماد اور تجربہ کار سینیٹ کے سابق ممبر فرحت اللہ بابر کو اچانک اپنے ترجمان کی عہدہ سے برطرف کردیا۔ گو کوئی وضاحت نہیں کی گئی لیکن کہا جاتا ہے کہ زرداری، سینیٹ میں فرحت اللہ بابر کی الوداعی تقریر پر سخت ناراض ہیں، جس میں انہوں نے شکایت کی تھی کہ پارلیمنٹ کے اختیارات پر دوسرے اداروں نے شب خون مارا ہے۔ فرحت اللہ بابر نے بے بیکانہ انداز سے کہا تھا کہ جب چیف جسٹس قسم کھا کے کہتے ہیں کہ میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تو انہیں تشویش ہوتی ہے۔ اور انہیں تشویش ہوتی ہے جب جج صاحبان اپنے وقار کے لئے توہین عدالت کا سہارا لیتے ہیں۔ اور آئین اور قانون کی جگہ اشعار کوٹ کرتے ہیں۔

Asif-Ali-Zardari_2078819b

ابھی تک سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ یہ نہیں سمجھ سکے ہیں کہ زرداری کو اس تقریر پر کیوں اعتراض ہے۔ یہ تو فوج کے بارے میں زرداری کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی تقریر کی نسبت بہت ملائم اور مدلل تقریر ہے جو بڑی حد تک عوام کی رائے کی ترجمانی کرتی ہے۔

ہر جمہوری پارٹی کی یہ شان ہوتی ہے کہ اس کے اراکین کو پارٹی کے سربراہ کے فیصلوں سے اختلاف کا حق ہوتا ہے۔ اور یہی باہمی مشاورت ایک مضبوط جمہوری روایت ہے۔ ہمارے سامنے قائد اعظم کی مثال شمع راہ ہے جن کے فیصلوں پر حسرت موہانی اور بنگال کے ممتاز رہنما ابوالہاشم نے کھل کر اختلاف کیا لیکن قائد نے ان کی رائے قیمتی مشورہ کی طرح تحمل سے سنی۔ قائداعظم جمہوری اقدار پر ایمان رکھنے والے قائد تھے جنہوں نے مسلم لیگ کو ایک حقیقی جمہوری پارٹی کے طور پر فروغ دیا اور یہی ان کی ایک بڑی طاقت تھی۔

بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی جو ملک کی ایک بڑی پارٹی ہے کسی طور سے جمہوری کہلانے کی حقدار نہیں ہے۔ پارٹی کو قائم ہوئے نصف صدی گزر گئی لیکن اب تک ایک بار بھی اس کی قیادت کا انتخاب نہیں ہوا اور نہ پارٹی کے دوسرے عہدیداروں کا۔ یہ صحیح ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو پارٹی کے بانی تھے اور ان کے ساتھیوں نے انہیں دل و جان سے پارٹی کا سربراہ قبول کیا تھا۔ لیکن ان کے بعد پارٹی کی سربراہ کی حیثیت سے بیگم نصرت بھٹو کا کوئی انتخاب نہیں ہوا اور نہ ان کے بعد بے نظیر بھٹوکسی انتخابی عمل سے گزریں۔

local-25c71203ba8e7b13ba3eb1e630d07abb

دنیا کی سیاسی جماعتوں میں پیپلز پارٹی واحد مضحکہ خیز پارٹی ہے کہ جس کا سربراہ وصیت کے مطابق مقرر ہوا ہے۔ اس وصیت کی پارٹی کے مقتدر رہنمائوں نے دور سے بس ایک جھلک دیکھی تھی۔ ان میں سے کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ وصیت کو غور سے پڑھ سکیں۔ بلا شبہ یہ بے نظیر بھٹوکے قتل کے بعد نہایت جذباتی دور تھا لیکن جمہوری پارٹی کیلئے لازم تھا کہ کچھ توقف کے بعد جمہوری انداز سے پارٹی کے سربراہ اوردوسرے عہدے داروں کے انتخابات عمل میں آتے، جن میں پارٹی کے رہنمائوں اور کارکنوں کو حصہ لینے کا موقع ملتا اور دراصل جمہوری عمل ہی سے کارکنوں کو قوت حاصل ہوتی ہے اور ان کی اپنی قیادت کے تئیں وفا داری کو فروغ ملتا ہے۔
280205-baznzqaeeNusratbhuttoPHOTOAFPFILE-1319413889-879-640x4801963ء میں جب پنڈت جواہر لعل نہرو کا انتقال ہوا تو میں دلی میں تھا۔ وہ وقت بھی جب کہ ہندوستان، چین کے ساتھ جنگ میں خفت آمیز کاری شکست کھا کر ابھی سنبھلا بھی نہیں تھا، کانگریس کے رہنمائوں اور کارکنوں کے لئے بے حد جذباتی تھا، گو ان کی صاحبزادی اندرا گاندھی کو ان کا جانشین تصور کیا جاتا تھا لیکن اس بارے میں نہرو کی کوئی وصیت نہیں تھی بلکہ کانگرس کے صدر کامراج کو یہ فرض سونپا گیا کہ وہ نہرو کے جانشین کا انتخاب، کانگریس کے تمام اراکین پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے ممبروں سے صلاح مشورہ کر کے اتفاق رائے سے کریں۔ جس کے نتیجہ میں لال بہاددر شاستری وزیر اعظم منتخب ہوئے ان کے حریف مرار جی ڈیسائی نے بڑے تحمل سے پارٹی کا جمہوری فیصلہ قبول کیا۔

8e4878be564a81b5d4eb21c661f1feb1

بلا شبہ پاکستان میں سوائے جماعت اسلامی کے تقریباً سب جماعتوں میں جاگیردارانہ موروثی نظا م ہے۔ اکا دکا کسی جماعت میں انتخابات ہوتے بھی ہیں تو وہ محض دکھاوے کے ہوتے ہیں۔ اوپر قیادت ڈاٹ کی طرح ایسی جمی رہتی ہے کہ نیچے سے کسی کارکن کو انتخابی سیڑھیاں طے کر کے اوپر جانے کا کوئی موقع نہیں ملتا۔ صد حیف پاکستان پیپلز پارٹی میں تو وصیتی قیادت کا مقابلہ کرنے یا اسے للکارنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو صحیح معنوں میں عوامی جمہوری پارٹی بننے اور عوام کی خواہشات کے مطابق ان کے مسائل حل کرنے کے لئے جماعتی انتخابات اور جمہوری عمل بے حد ضروری ہے۔

مجھے یاد ہے کہ 1967ء میں بھٹو صاحب جب لندن میں پیپلز پارٹی کی داغ بیل ڈالنے کے جتن کررہے تھے تو ان سے طویل ملاقاتیں رہتی تھیں۔ اس وقت اس پارٹی کا ان کا جو وژن تھا اور پاکستان میں عوامی انقلاب کا ان کا جو عزم تھا اس میں وہ بنیادی طور پر اپنے جاگیردارانہ مزاج کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکے۔ انہیں عوام سے بھی شکایت تھی۔ جولائی 1973ء میں جب بھٹو صاحب سے لندن میں آخری ملاقات ہوئی تھی تو میں نے ان سے شکایت کی تھی کہ آپ نے پیپلز پارٹی ایک بیوروکریٹ وقار احمد کے حوالے کر دی ہے تو سخت ناراض ہوئے اور کہنے لگے میں کیا کروں میں عوام کواپنے مسائل کے بارے میں کھل کر بات کرنے کا موقع دینے کے لئے عوامی کچہریاں لگاتے لگاتے تھک گیا لیکن لوگ اپنے علاقوں کی ترقی، اسکولوں، ہپستالوں کے قیام اور روزگار کے منصوبوں کے بجائے اپنی ذاتی چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر رہ جاتے تھے۔ مجھے اس زمانہ میں محسوس ہوتا تھا کہ بھٹو صاحب بے حد کرب میں مبتلا ہیں اور وہ اپنی پارٹی کے مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ پر امید نہیں تھے۔ اور اب بھی پیپلز پارٹی کا مستقبل کوئی امید افزا نہیں ہے۔

l_196264_021653_updates

پنجاب جو ایک زمانہ میں پیپلز پارٹی کا مضبوط قلعہ تھا وہ مسمار ہو چکا ہے، خیبر پختوں خوا میں اسے قدم رکھنے کی جگہ ملنی مشکل ہے۔ ویسے زرداری بلوچستان میں گٹھ جوڑ کر کے اپنی کامیابی پر بہت خوش ہیں۔ بس لے دے کر سندھ رہ گیا ہے جہاں پرانے وفا دار وڈیروں کی وجہ سے پارٹی کا برہم باقی ہے۔ پیپلز پارٹی کو ایک مقبول عوامی جماعت کی حیثیت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پارٹی میں جمہوریت طلوع ہو۔ لیکن یہ کب طلوع ہوگی، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.