مختصر کہانی: آئینہ

2,886

جب کبھی ڈریسنگ ٹیبل یا دیوار پر لگے آئینے پر میری نظر پڑتی، مجھے میری ماں نظر آتی اور جب کبھی میرا شوہر کھانستا، مجھے محسوس ہوتا اس کے گلے میں میرے باپ کی آواز فٹ ہو گئی ہے۔

ڈیل ڈول اور مزاج میں واضح فرق کے باوجود مجھے اکثر اپنے شوہر پر اپنے باپ کا گمان ہوتا اور میں چونک پڑتی۔ میرے شوہر اور میرے باپ میں اگر کوئی قدر مشترک تھی تو وہ یہ کہ دونوں باپ تھے، بالکل اسی طرح جیسے میں اور میری ماں۔

میری ماں مجھ سے ہر لحاظ سے ایک مختلف عورت تھی مگر اب وہ مجھ سے بری طرح چمٹ چکی تھی اور میں کوشش کے باوجود اس سیدھی سادی، مذہبی اور احمق عورت کو اپنے وجود سے الگ نا کر سکی تھی جس سے میری کبھی نا بن سکی جیسے اپنے کماؤ باپ سے نا بن سکی تھی، جس نے سات بچے کمائے تھے اور انہیں اپنی دولت کہا کرتا تھا۔ اس نے اپنا ہر بچہ اپنے اس پورے ایمان سے پیدا کیا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لایا ہے۔ وہ دن بھر اپنے بچوں کے رزق کی فکر میں لگا رہتا اور اس کا ہر آنے والا بچہ دوسرے بچوں کا رزق کھاتا رہتا۔

میں گھر میں سب سے بڑی تھی۔ اسکول جاتی تھی، پڑھنا آ گیا تھا اور ہر قسم کی تحریر پڑھنے کا شوق تھا۔ پکوڑوں اور سموسوں میں لپٹے اخبار اور رسالوں کے پیپرز نے میرے اندر مطالعے کا شوق بھر دیا۔ جوں جوں مطالعہ کرتی گئی ذہن وسیع ہوتا گیا۔ ذہن میں بغاوت اور تبدیلی کے کیڑے نے سب سے پہلے اپنے ماحول سے نفرت، غربت سے گھن اور بہن بھائیوں سے بیزاری اور اپنی قابلیت کا احساس اجاگر کیا۔

ماں باپ کے خیالات مجھے بوسیدہ اور دقیانوسی لگتے تھے۔ زندگی میری تھی مجھے اپنے انداز سے گزارنے کا حق تھا۔ مجھے یقین تھا میں نیا راستہ منتخب کرلوں گی، نئی مملکت بنا لوں گی جہاں سب قاعدے قوانین میری مرضی کے ہوں گے۔ میری تمام تر چرب زبانی میرے والدین کو خاموش کر دیا کرتی بلکہ یوں کہنا چا ہئیے کہ کسی حد تک وہ مجھ سے مرعوب تھے۔

میں آزادی کی قائل تھی اور سوچ رکھا تھا کہ اپنی مملکت میں ہر شخص کو آزاد رکھوں گی۔ سو اپنے یقین کی منزلیں تیزی سے چڑھتی رہی اور انقلاب آگیا۔ سب کچھ میری مرضی سے ہوا، میں نے معاشرے، اقدار اور رسم و رواج کو روند کر وہ سب کچھ حاصل کر لیا جس کی آرزو تھی۔

میری ترقی پسند سوچ کے مطابق سب کچھ نیا ہو گیا۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ دنیا کے سب سے ترقی یا فتہ ملک چلی گئی۔ نئی تعمیر کے نئے خواب دیکھے گئے، بہت لوگ ہما رے قبیلے میں شامل ہو ئے۔ لوگ میری کاوشوں کو سراہتے، ہمیں اپنی ترقی پسند سوچ اور وسیع النظری پر فخر تھا۔

میرے تین بچے ہیں۔ تینوں جینئیس ہیں، جدید ٹیکنالوجی پر دسترس ہے۔ بچوں پر ہم نے کوئی پابندی نا لگائی۔ تینوں ہر طرح سے آزاد ہیں اور اپنی جوانی کی حدوں کو چھو رہے ہیں، بہت قابل ہیں۔ ہم ان کے سامنے کوئی بھی بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کیوں کہ اکثر وہ ہمیں بری طرح جھڑک دیتے ہیں۔ وہ اپنے دوستوں سے ہمیں ملوانے میں سبکی محسوس کرتے ہیں۔ ہماری نئی تعمیر کے نئے خواب انہیں فرسودہ لگتے ہیں۔ ہماری جدید طرز کی خوب صورت رنگ و روغن والی عمارت پرانی اور اس کے رنگ انہیں پھیکے لگ رہے ہیں۔ وہ اس عمارت کو جدید انداز سے دو بارہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کی ہر دیوار پر نیا مگر پکا رنگ کرنے کے خواہش مند ہیں۔

ہم ترقی پسندوں کو وہ قدامت پرست ہونے کا کثر طعنہ دیتے رہتے ہیں۔ بہت ذہین ہیں، ہمارے لب کھلنے سے پہلے ہی وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہم کیا کہنا چاہ رہے ہیں اور وہ ہاتھ کے اشارے سے ہمارے لب دوبارہ جوڑ دیتے ہیں۔ وہ چشمِ زدن میں سارے کا سارا نظام بدلنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے باپ کو مذہبی اور مجھے وہمی کہہ کر اکثر ہمارا مذاق اُڑاتے ہیں اور میں اور میرا شوہر انہیں اسی بے چارگی سے دیکھا کرتے ہیں جیسا کہ میری ماں اور باپ مجھے دیکھا کرتے تھے۔

عفت نوید کہانی کار ، کالم نگاراور ڈرامہ نگار ہیں ، وکالت کے پیشے سے وابستہ رہ چکی ہیں ۔ عمر کا زیادہ حصہ تدریس میں گزارا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

6 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    بہت عمدہ۔ کتنی خوبصورتی سے آپ نے زندگی کا سفر بیان کر دیا اور نسلوں کے درمیان ذہنی فاصلہ کی نشاندہی بھی کر دی۔

  2. Iffat Navaid کہتے ہیں

    بہت شکریہ اویس

  3. محمد یوسف کہتے ہیں

    بہت اعلیٰ

  4. نبیحہ ذھین کہتے ہیں

    بہت خوب، محترمہ آپ نے بہت عمدگی سے جنریشن گیپ کو موضوعِ تحریر بنایا ہے۔ متاثر کن تحریر تھی۔ مزید بھی لکھیں، آپ میں تحریر لکھنے کی خوبی ہے اسے ضرور آگے بڑھائیں۔

  5. Awais Bakhsh کہتے ہیں

    Very interesting and learning points for

  6. Azhar کہتے ہیں

    بہت عمدہ۔

تبصرے بند ہیں.