آنٹی پلیز! اپنا راستہ ناپیں

2,173

آج پوری دنیا خواتین کا عالمی دن منا رہی ہے۔ آج کے اس عالمی خواتین کے دن کا تھیم ‘پُش فار پراگریس’ یعنی ایک دوسرے کو ترقی کے لیے آگے دھکیلنا ہے۔

پاکستان میں خواتین کو ان کے حقوق دلانے کے لیے ہر سال، ہر دن، ہر لمحے اسی تھیم کی ضرورت ہے۔ اگر ہمیں ترقی کرنی ہے تو ایک دوسرے کا بازو بننا ہے، ایک دوسرے کو سہارہ دینا ہے اور ترقی کی راہ پر آگے دھکیلنا ہے لیکن حقیقت میں ہم اس کا الٹ کرتے ہیں۔

international-womens-day_759_thinkstock1

ہم خواتین ہی ہیں جو ہر سطح پر ایک دوسرے کے حقوق سلب کرتی ہیں۔ ہم اپنی ہا ہائے اور دیگر باتوں سے اپنے ارد گرد رہنے والی خواتین کی زندگیاں تاریک سے تاریک تر کرتے جاتے ہیں۔

آپ اپنے ارد گرد موجود کسی خاتون سے بات کر لیں، ان کی دکھوں بھری زندگی کی ذمہ دار کوئی نہ کوئی عورت ہوگی۔ میں ایسی تمام عورتوں کو آنٹی کہتی ہوں۔

یہ آنٹی نما خواتین وہ ہوتی ہیں جن کی زندگی کا مقصد بس شادی کرنا ہوتا ہے۔ یہ اسی دن کے لیے جیتی ہیں، جب ان کی زندگی کا یہ دن گزر جاتا ہے تب یہ بوکھلا جاتی ہیں کہ اب کیا کریں؟ تب یہ ایسی خوفناک آنٹیاں بن جاتی ہیں جن کا ڈسا پانی بھی نہیں مانگتا۔

aunt-clipart-aunt-loud-outfit-450x450

ان کا کام بس ادھر ادھر فون کرکے چغلیاں کرنا اور انٹرنیٹ پر دوسروں کا پیچھا کرنا ہوتا ہے۔ یہ جب بھی منہ کھولتی ہیں، ہا ہائے کا ایک طوفان امڈ آتا ہے بالکل اس کھلونے کی طرح جس کا بٹن دبائو تو گانا چل پڑتا ہے۔ یہ آنٹیاں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں۔ ان کا بٹن لڑکی کو دلہن کے لباس میں دیکھ کر ہی کچھ دیر کے لیے بند ہوتا ہے اس کے اگلے دن پھر خوشخبری کی گردان کے ساتھ چل پڑتا ہے۔ پاکستان کی آبادی میں ہوئے خطرناک اضافے کا ایک بڑا کریڈٹ ان آنٹیوں کی خوشخبری کی فرمائشوں کو جاتا ہے۔

آپ ان کے فون کا کال لاگ چیک کریں۔ دن بھر میں دس پندرہ کالز لازمی ہوگی اور یہ تمام کالز رشتے داروں، ملنے ملانے والوں اور ہمسایوں کو کی گئی ہوگی۔ کالز کا مقصد ہر گھر کے حالات و واقعات سے مکمل آگاہی لینا اور پھر اس پر حسبِ ضرورت ہا ہائے کرنا ہوتا ہے۔

1151859

دو منٹ کے چسکے کے لیے یہ آنٹیاں بھول جاتی ہیں کہ ان کی باتوں سے کسی کی زندگی کس حد تک متاثر ہو رہی ہے۔ ان کی ذرا سی باتوں کی وجہ سے ایک خاندان اپنی بیٹیوں پر اتنی سختی کرتا ہے کہ ان کا سانس لینا محال ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ہمارے بھی آج وہی مسائل ہیں جو بیس سال پہلے ہماری مائوں کے تھے اور اس سے بھی تیس سال پہلے ان کی مائوں کے تھے۔

گزشتہ روز خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ایک فیچر سٹوری کرنے کے لیے مواد اکٹھا کر رہی تھی، معلوم ہوا کہ سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ نے راولپنڈی میں اس دن کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا جس کا مقصد ظاہری بات ہے معاشرے میں خواتین کے رتبے کو بہتر کرنا ہوگا۔ خواتین کو ان کے اصل مقام دکھانے کے لیے اس تقریب میں بہترین دلہن کے لباس کا بھی ایک مقابلہ رکھا گیا تھا۔ نو عمر طالبات جن کے ذہن ابھی ناپختہ ہیں، انہیں دلہن بنا کر اس مقابلے میں لایا گیا تھا۔ کیا یہ عورت کا اصل مقام ہے؟ کیا ایک عورت کی زندگی کا مقصد صرف دلہن بننا ہے؟ آج کئی دفعہ سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ فون کیا تاکہ معلوم ہو سکے اس مقابلے کے پیچھے کس کا زرخیز دماغ تھا، مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ غالب گمان یہی ہے کہ یہ بھی کسی خاتون کی کارستانی ہوگی۔

اب وقت ہے کہ ہم ایسی تمام خواتین کی حوصلہ شکنی کریں۔ ان کو واضح الفاظ میں ان کی حدود بتائیں اور ان کے ایسے تمام آئیڈیاز کو رد کریں جو ہماری اکیسویں صدی میں سانس لیتی نو عمر لڑکیوں کو اٹھارویں صدی کی زندگی گزارنے کی تحریک دیں۔

international-womens-day-images

اگر آپ ایک ایسا معاشرہ چاہتی ہیں جہاں آپ اور آپ کے بعد آنے والی دیگر لڑکیاں ایک مضبوط زمین پا سکیں تو ہمیں ایسی تمام آنٹیوں کو کہنا ہوگا، آنٹی پلیز! اپنا راستہ ناپیں۔

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں اور دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔ تحریم ٹویٹر پر اس آئی ڈی پر ٹویٹس کرتی ہیں۔
@tehreemazeem

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

7 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    This is the best article I read on the Women’s day.
    Ecxellent.

  2. naam mai kia rakha hai کہتے ہیں

    when my kids saw your display photo at the end they said who is this Aunty. Buhahaha
    its just a joke but hahaha

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      I am glad you had good laugh.

  3. asaf jilani کہتے ہیں

    میں اویس صاحبب سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ خواتین کے عالمی دن پر بہترین مضمموں ہے جس میں اہم مسایل کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ تحریم صاحبہ نے خواتین کے علمی دن کے موقع پر بہترین دلہن کے لباس کے مقابلہ کا ذکر کیا ہے۔ یہ ہمارے موجودہ معاشرہ کے رجحان کو بے نقاب کرتا ہے۔ شادیوں اور دلہن کی بناوٹ سجاوٹ کا مسلہ ہمارے ذہنوں پرایسا طاری ہوگیا ہے کہ جیسے یہی واحد مسلہ ہے۔ ٹی وی چینل پر ہر ڈرامے کا مسلہ بس شادی شادی اور شادی ہے۔ ان بے چاری لڑکیوں پر رحم کیا جائے جو غربت اور جہہیز کے مسلے کی وجہ سے گھروں میں بیٹھی ہیں۔ ان کے ساتھ کس قدر ظلم ہے ان کے مسلہ کے بجائے ٹی وی پر یہی مسلہ اہم نظر آتا ہے کہ دلہنکی مانگ سیدھی ہونی چاہئے یا آڑی۔ ہم معاشرہ کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ ؟

  4. عدنان کہتے ہیں

    لڑکیوں کے لیے آنٹیاں اور لڑکوں کے مولانا انکلوں نے جینا حرام کر رکھا ہے ۔

  5. Umer Inam کہتے ہیں

    A very realistic and unique advice to our women. yes, this is time to discourage these aunties to save many.

  6. طارق کہتے ہیں

    بہت خوب لکھا ہے. ‘آنٹیوں’ اور ‘انکلوں’ سب کو یہ سیکھنا پڑے گا کہ اپنے کام سے کام رکھنا اخلاقی لحاظ سے بہتر اور معاشرتی لحاظ سے مفید ہے

تبصرے بند ہیں.