خواتین کے حقوق کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کو خراج عقیدت پیش کرتی ایک علامتی کہانی

1,151

سوتے ہوئے میں نے کروٹ لی تو ایک لمحے کے لیے میری آنکھ کھلی۔ وہ ایک لمحہ نہایت عجیب تھا۔ مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے کوئی انہونی ہو گئی  ہو۔ میں ایک دم سے اٹھ بیٹھا۔ بلکہ نہیں میں ایک دم سے اٹھ بیٹھی تھی۔

میرے لمبے بال میرے شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے گھبرا کر اپنے جسم پر ہاتھ پھیرا تو میرے حلق سے ایک چیخ نکل گئی۔ وہ ایک نہایت سریلی چیخ تھی۔   اپنی آواز مجھے بالکل اجنبی لگی۔ نہیں مگر وہ اجنبی کہاں تھی۔ وہ تو جانی پہچانی آواز تھی۔ وہ میر ی   بیوی کی آواز تھی جو میرے حلق سے نکلی تھی۔ میں نے تھوک نگلتے ہوئے بستر پر نظر ڈالی۔  اب مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں کیا لکھوں۔  کیا یہ لکھوں کہ میری بیوی میرے برابر بے خبر سو رہی تھی۔ مگر میں ایسا کیسے لکھ سکتا ہوں جبکہ میر ےساتھ والے بستر پر خود میں سویا ہوا تھا۔ یعنی میرا شوہر خراٹے لے رہا تھا۔  اور میں بطور بیوی حیرت کے شدید جھٹکے سے دوچار بستر پر ہکا بکا بیٹھا ہوا تھا/ بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ کیا ماجرا تھا؟ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ کیا میری جنس ایک دم سے راتوں رات تبدیل ہو گئی تھی۔ مگر اگر ایسا ہو بھی گیا تھا تو میرے ساتھ والے بستر پر جووجود موجود تھا اس کو میں کس خانے میں فٹ کروں؟کیا اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہوگا؟

میرا ذہن پوری طرح کام کر رہا تھا۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ کل رات تک میں ایک مرد تھا۔ میری دو ماہ پہلے شادی ہوئی تھی۔ میری بیوی میرے خاندان والوں کی پسند تھی۔ میں نے مارے باندھے شادی کی حامی بھر لی تھی اور پھر یہ شادی ہو بھی گئی تھی۔ چونکہ اس شادی میں میری ذاتی پسند شامل نہیں تھی اس لیے اپنی بیوی کے ساتھ میرا برتاؤ کچھ خاص گرم جوشی والا نہیں تھا۔ ایک فاصلہ تھا جو شروع دن سے میری وجہ سے ہمارے بیچ  میں تھا۔ میری سرد مہری کی وجہ سے اکثر میں نے اپنی بیوی کی آنکھیں سرخ اور متورم ہوتے ہوئے دیکھی تھیں۔ میرے پوچھنے پر وہ ٹال جایا کرتی تھی۔ اس وقت میں نہیں سمجھ پایا تھا مگر اس وقت مجھے اپنی ایک ایک بات، ایک ایک جنبش تک یاد آ رہی تھی اور ہر یاد ایک تازیانہ تھا جو میری روح پر برس رہا تھا۔

مجھے یاد آیا کہ میری پسند کا کھانا تیار کرتے وقت  پیاز کاٹتے ہوئے میری بیوی کی انگلی پر چھری سےزخم آ گیاتھا۔ میں اسی وقت کسی کام سے وہاں سے گذرا تو اس نے بے ساختہ اپنی لہولہان انگلی چھپانے کے لیے اپنا ہاتھ مصالحوں کے ڈبوں کے پیچھے کر دیا۔ وہاں کچھ نمک گرا ہوا تھا۔ زخم پر نمک لگا اور میری بیوی کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔  مگر اس نے مجھے نہیں بتایا۔ بعد میں جب میں نے زخم دیکھا اور دریافت کیا تو اس نے کچھ نہیں ہوا کہ کر بات ٹال دی تھی۔ میں پروا کیے بغیر ٹی وی پر کرکٹ میچ دیکھنے میں مصروف ہو گیا تھا۔ پھر جب ایک مرتبہ گرم تیل کے چھینٹے اڑ کر اس کے بازو اور چہرے پر گرے تھے تب میں نے بجائے اس کو مرہم لگانے اور ڈاکٹر کے پاس لے کر جانے کے اسے سخت سنائی تھیں کہ تمہیں ٹھیک سے کھانا بنانا بھی نہیں آتا۔ اور اس کو تکلیف میں روتا چھوڑ کر اپنے دوست سے ملنے چلا گیا تھا۔ اسی طرح کی کافی باتیں اب مجھے بار بار یاد آ رہی تھیں اور میری پیشانی عرق ندامت سے بھیگتی جا رہی تھی۔

میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی بیوی یعنی شوہر کو جگا کر اس کو بتاؤں کے اس وقت مجھ پر کیا بیت رہی ہے۔  فیصلہ تو میں نے کر لیا مگر مجھے ایک بات الجھن میں ڈالے ہوئے تھی۔ کیا معلوم جب وہ بیدار ہو تو وہ کس حیثیت میں مجھ سے بات کرے۔ کیا وہ مجھ سے میری ہی حیثیت میں بات کرے گی/گا۔ یعنی اس میں کوئی تبدیلی ہو گی یا نہیں۔ یا پھر وہ بھی میری طرح  تبدیلی  پرپریشان ہو جائے گی/گا۔ اگر وہ میری ہی حیثیت میں ہوئی/ہوا تو کیا مجھ سے بے رخی برتے گی/گا۔  یہ بہت مشکل سوال تھا اور اس سے زیادہ مشکل اپنے آپ کو تسلی دینا کہ وہ مجھ سے محبت سے پیش آئے گی/گا۔ پھر ایک اور سوال میرے ذہن میں ابھرا اور مجھے لرزا گیا۔  اگر وہ میری حیثیت میں ہوا تو کیا وہ مجھے طلاق دے دے گی/گا؟  یا حالات کو پوری طرح سمجھ کر کوئی سمجھوتہ کر کے زندگی گذار دے گی/گا؟  میں نے سوچا کہ اگر یہ واقعہ میری بیوی کے ساتھ پیش آتا  اور وہ مجھے اس وقت جگاتی تو میں کیا کرتا؟ جواب بہت واضح تھا۔ میں اسے اس کے ماں باپ کے گھر بھیج دیتا اور ساتھ کاغذ کا ایک ٹکڑا بھی تھما دیتا۔ اس جواب نے مجھے بدحواس کر دیا۔ جب میں نے خود کو اس کی جگہ پر رکھ کر سوچا تو مجھے اپنا آپ بہت چھوٹا لگنے لگا۔ جب میں نے اس کو اپنی جگہ پایا تو میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے کہ وہ مجھ سے میری حیثیت میں کیا سلوک کرے گی/گا۔

میں نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی بیوی/شوہر کا کاندھا چھوا۔ وہ کسمسائی/کسمسایا۔ میں نے کاندھا ہلایا۔ اس کی آنکھ کھل گئی۔  میں خوف زدہ مگر پر امید نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا/دیکھ رہی تھی۔ وہ چند سیکنڈ میری طرف خالی نظروں سے دیکھتی رہی/رہا۔ یہ چند سیکنڈ مجھ پر صدیوں سے بھاری گذرے۔ پھر وہ مسکرائی/مسکرایا۔ نہایت نرمی اور پیار سے میرا رخسار چھوا۔  میری آنکھوں سے آنسو کا ایک قطرہ ٹپ کر کے اس کے ہاتھ کی پشت پر گرا۔  اور پھر میری اپنی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ تم فکر مت کرو۔ میں ہوں نا۔ سب سنبھال لوں گی۔

میرے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور میں نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ میرا بدن ہچکیوں کی وجہ سے مسلسل  ہل رہا تھا۔ اور میرے کانوں میں میری اپنی آواز کہیں دور سے آ رہی تھی۔ کیا ہوا آپ کو؟ ایسے کیوں رو رہے ہیں؟   رفتہ رفتہ میری آواز تبدیل ہو کر میری بیوی کی آواز میں بدل گئی۔ اور میں نے سنا وہ کہ رہی تھی۔ کیا ہوا آپ کو؟ کیا کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ لیا ہے؟ میں نے اپنے سینے پر ایک نرم و نازک ہاتھ محسوس کیا اور میری آنکھیں ایک جھٹکے سے کھل گئیں۔ میرا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا۔  حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے اور سر بھاری تھا۔میری بیوی میرے اوپر جھکی تشویش ناک نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا اور اسے اپنے اندر سمیٹ لیا۔

نوٹ: آج خواتین کے حقوق کا عالمی دن ہے۔ یہ علامتی کہانی ان عظیم خواتین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے لکھی گئی ہے جن کے بنیادی حقوق بھی ان سے چھین لیے جاتے ہیں مگر وہ انتہائی صبر اور شکر سے اپنی زندگی گذار دیتی ہیں۔  ان میں ہماری مائیں بھی ہیں اور بہنیں بھی۔ بیویاں بھی ہیں اور بیٹیاں بھی۔  اگر اس کہانی کو پڑھ کر آپ کے دل میں یہ احساس جاگ جائے کہ عورت بھی برابر کی انسان ہے اور وہ تمام حقوق رکھتی ہے جو ایک مرد کو دیئے گئے ہیں اور آپ یہ عہد کر لیں کہ آپ خواتین کے حقوق کسی قیمت پر بھی پامال نہیں کریں گے تو یہ کہانی اپنا مقصد پورا کر لے گی۔

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Iffat Navaid کہتے ہیں

    خواتین کے احساسات اجگر کرتی ایک حساس اور عمدہ کہانی ، آپ کب آئیں گے ، یا فون پر پوچھ لیا جائے دیر کیوں ہوگئی ۔
    ان محبت بھرے سوالات کے جوابات بھی جھڑک کر دیئے جاتے ہیں۔سو کر اٹھیں یا آفس سے آئیں لاکھ موڈ کا خیال کرتے ہوئے اچھی بات کرو لیکن مزاج ہی نہیں ملتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش مرد اپنے گھر کی خواتین کے نازک احساسات کی قدر کریں

تبصرے بند ہیں.