عدت کی حدت

(عمر چیمہ کی عمران خان سے دشمنی کی اصل وجہ کیا ہے؟)

16,306

عمر چیمہ پاکستان کے ایک صحافی ہیں۔ ان کی وجہ شہرت پانامہ پیپرز اسکینڈل بریک کرنے والی عالمی صحافتی تنظیم آئی سی آئی جے سے ان کا تعلق اور پاکستان میں پانامہ پیپرز کی تحقیق کرنے والے صحافی کے طور پر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اب یہ عمران خان کی شادی کی خبر بریک کرنے اور ہاتھ دھو کر عمران خان کے پیچھے پڑ جانے کی وجہ سے بھی مشہور ہو چکے ہیں۔ آج ہی انہوں نے ایک اور اسٹوری لکھی ہے جس کے مطابق عمران خان نے اپنی تیسری شادی اپنی موجودہ اہلیہ سے دوران عدت ہی کر لی تھی۔ عمر چیمہ کی اس اسٹوری کے تانے بانے بظاہر سنی سنائی باتوں کی مدد سے بنے گئے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی اسٹوری میں مصدقہ اطلاعات کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ اس نے یہ کہا اور فلاں ذرائع نے یوں بیان کیا وغیرہ جیسے الفاظ کا سہارا لے کر ایک سنسنی خیز خبر بنا رہے ہیں۔

جب ہم نے یہ اسٹوری پڑھی تو ہمارے ذہن میں جو سوال ابھرا وہ یہ تھا کہ ایک صحافی ہونے کے علاوہ آخر ایسا کیا ہے جو عمر چیمہ کو عمران خان کے خلاف انتہائی ذاتی قسم کے حملے کرنے پر مسلسل اکسا رہا ہے۔ چناچہ ہم نے تحقیق شروع کر دی۔ اور پھر جو نتائج ہمارے سامنے آئے وہ ششدر کر دینے والے تھے۔ ہم عمر چیمہ کی عمران خان سے دشمنی کی تہ تک پہنچ گئے ہیں اور اس بلاگ کے توسط سے ہم وہ نتائج آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔

یہ تین ہزار سال قبل کی بات ہے کہ عمران خان اور عمر چیمہ اپنے پچھلے جنم میں افریقہ کے ملک ٹمبکٹو کے باسی تھے۔ عمر چیمہ کا اپنا مرغیوں کا فارم تھا جب کہ عمران خان دیسی انڈوں کے تھوک کے ڈیلر تھے۔ عمران خان کو ہر وقت اپنے گاہکوں کے لیے دیسی انڈوں کی تلاش رہتی تھی اور اس سلسلے میں انہوں نے عمر چیمہ کا مرغیوں کا فارم تاڑ رکھا تھا۔ رات کو جب مرغیاں انڈے دے کر فارغ ہوتیں اور عمر چیمہ سکون کی نیند سو جاتے تو تب عمران خان چپکے سے ان کے مرغیوں کے فارم میں گھس جاتے اور تمام انڈے اٹھا لاتے۔ اگلے روز عمران خان وہ تمام انڈے سستے داموں اپنے گاہکوں کو بیچ دیتے تھے۔ تقریباً آٹھ برس کے مسلسل نقصان کے بعد عمر چیمہ کو عمران خان پر شک ہو گیا اور مزید چار برس کے بعد ایک رات عمر چیمہ نے عمران خان کو انڈے چراتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ عمران خان کا کام تمام کرتے ایک زوردار زلزلہ آ گیا اور ٹمبکٹو کا وہ علاقہ زمین میں دھنس گیا۔ اس طرح عمر چیمہ کا انتقام ادھورا رہ گیا۔

اس واقعے کے تیرہ سو سال کے بعد یعنی آج سے کوئی سترہ سو سال قبل ان دونوں کا دوسرا جنم بحر اوقیانوس کے کنارے واقع جزیرے برموڈا پر ہوا۔ عمر چیمہ اور عمران خان ایک ہی اسکول میں پڑھتے اور ایک دوسرے کے ہمسائے بھی تھے۔ عمران خان بچپن سے ہی شرارتی تھے جبکہ عمر چیمہ سنجیدہ اور اپنے آپ میں گم رہنے والے تھے۔ عمران خان ہر وقت عمر چیمہ کو مارتے پیٹتے رہتے اور ان کا کھانا چھین کر کھا جاتے تھے۔ عمر چیمہ جسمانی طور پر کمزور تھے لہٰذا وہ جواب میں کچھ نہیں کر پاتے تھے۔ ایک مرتبہ عمران خان نے اسکول میں عمر چیمہ کے یونیفارم پر نیلی روشنائی انڈیل دی جس کا عمر چیمہ کو نہایت رنج ہوا اور انہوں نےعمران خان سے بدلہ لینے کی ٹھان لی۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ بدلہ لے سکتے ایک طوفان آیا اور ان دونوں کو اٹھا کر برموڈا ٹرائی اینگل میں لے گیا۔ دونوں اس میں گم گئے اور پھر واپس نہیں نکل سکے۔

اس واقعے کے سترہ سو سال کے بعد موجودہ زمانے میں عمر چیمہ اور عمران خان کا تیسرا جنم ہوا ہے۔ اس مرتبہ قدرت نے عمر چیمہ کے ساتھ ایک عجیب کام کر دیا۔ عمر چیمہ کو پہلے دونوں جنموں کے تمام واقعات خواب میں دکھا دئیے جس سے انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ عمران خان ہی ہیں جو ان کو پچھلے دو جنموں سے ناک میں دم کیے ہوئے ہیں۔ عمر چیمہ نے اس مرتبہ صحافت کا پیشہ اختیار کیا کیونکہ پچھلے دونوں جنموں میں وہ عمران خان سے اپنی کمزوریوں کی بنا پر معتوب ہوتے رہے چناچہ اب وہ مار نہیں کھانا چاہتے تھے۔ قدرت عمران خان کو ایک مقبول انسان بنا کر عمر چیمہ کے سامنے لے آئی۔ عمران خان نے تیسری شادی کا ڈول ڈالا تو عمرچیمہ کو پچھلے دونوں جنموں کا بدلہ چکانے کا موقع مل گیا۔ انہوں نے ایک اسٹوری بنا کر اخبار میں چھاپ دی اور عمران خان کا بیڑہ غرق کرنے کی پوری کوشش کی۔ ان کی بدقسمتی سے عمران خان نے اس معاملے کو ہینڈل کر لیا۔ عمر چیمہ اس جنم میں اپنا بدلہ لازمی لینا چاہتے ہیں چناچہ انہوں نے ایک بار پھر ایک اور اسٹوری اخبار میں چھاپ دی جس میں انہوں نے عمران خان پر دوران عدت نکاح کر لینے کا الزام لگا دیا ہے۔ یہ ایک خطرناک حملہ ہے۔ عمران خان اس حملے سے کیسے بچتے ہیں یہ ہم سب کو دیکھنا ہے۔ لیکن ایک بات یقینی ہے۔ اور وہ یہ کہ عمرچیمہ اس مرتبہ عمران خان کو چھوڑیں گے نہیں بلکہ وہ ہر قیمت پر اپنا پچھلے دو جنموں کا بدلہ ضرور چکانے کی کوشش کریں گے۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو انہیں پتا نہیں کتنے سو سال مزید انتظار کرنا پڑے گا۔

نوٹ: یہ تمام معلومات غیبی ذرائع کی مدد سے حاصل کی گئی ہیں۔ ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید کچھ باتیں بھی بتائی ہیں مگر وہ شائع کرنا مناسب نہیں ہے۔

ںوٹ 2: یہ ایک فرضی اورطنزیہ تحریر ہے جس کا مقصد قارئین کے لیے مزاح کا سامان پیدا کرنا ہے۔ عمران خان اور عمر چیمہ کے پچھلے دوجنموں کی داستان محض ایک خیالی کہانی ہے۔ براہ کرم اس کو بالکل ایسے ہی درست سمجھیئے جیسے عمر چیمہ کی عمران خان سے متعلق آج کی اسٹوری درست سمجھی جائے گی۔

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

12 تبصرے

  1. Faisal کہتے ہیں

    Aaj hi IK ka statement aaya hai jis mn Mir Shakeel kaay leay kaha hai kay agar pakarna hai tu Shoaib Sheikh kay bajaye Mir Shakeel ko pakrna chaiay .. Uss kay baad yeh Story break ki gai hai .. Yeh black mailing ka case warna Jang kab saay islam ka sacha follower ban gia hai .. Masiwai Friday ko aik Islami parcha nikalnay kay aur kia Islam ki khidmat kar rha hai…

  2. Zahid کہتے ہیں

    Your story should actually be just considered true like Imran Khans allegations on his Opponents, Oh but Omer Cheema’s story had substance and evidence which you, IK and his other lovers could not question and hence came with the idea to ridicule Omer Cheema instead, I do not think this kind of Journalism or politics works anymore, people are quite smart to figure out and do their own 2+2 , and by the way they might have started book reading when they were may be 3 or 4 not 5 so may even have better sense of figuring it out what makes sense or not.
    Good effort on your part though. with or your be treated just like Imran Khan

  3. زاہد علی شاہ کہتے ہیں

    آپ کا ادارہ کس قسم کےلوگوں کے کالم اور تجزیے شائع کرنا شروع ہوگیا ہے،جس کو کوئی کام نہیں ملتا وہ بھی قلم اٹھاتا ہے اور تجزیہ کار اور کالم نگار بن جاتا ہے ۔جناب اویس احمد صاحب ہوسکتا ہے ایک بہت اچھے بینکار ہوں اور بہت اچھے انسان بھی ہوں گے،مگر ان کی یہ تحریر کہاں سےصحافتی معیار پر پورا اترتی ہے اور اس تحریر کیسے اور کس میرٹ کے تحت شائع کیا گیا ہے۔محترم اویس صاحب کی یہ تحریر تحریک انصاف کے ایک کارکن یا عمران خان سے محبت کرنے والے ایک مداح کی اندھی محبت کا ثبوت تو ہوسکتی ہے مگر کالم یا تجزیے کے کسی بھی پہلو یا معیار پر پورا نہیں اترتی حتی کہ ایک مضمون کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتی چاہے ایک فکاہیہ مضمون سمجھ کر ہی کیوں نہ پڑھا جائے،مضمون نگار سے نہ تو میری کوئی شناسائی ہے اور نہ ہی کسی عداوت یا مخاصمت کاکوئی شائبہ ہے مگراتنا ضرور ہے روزنامہ دنیا ور دنیا ٹی وی کی جو ساکھ اور معیار میری نظر میں تھا وہ انتہائی بری طرح مجروح اور متزلزل ہوا ہے،کیونکہ تنقید نگاری کا بھی ایک اسلوب اور معیار ہوتا ہے،اعلیٰ شخصیات پر تنقید نگاری ہر دور میں ہوتی رہی ہے ،اگر تحریر کا یہ ہی معیار رہ گیا ہے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔
    خیراندیش
    زاہد علی شاہ

    1. تحریم عظیم کہتے ہیں

      زاہد علی شاہ بہت شکریہ آپ کے کمنٹ کا۔ آپ اویس احمد کے بلاگ سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں لکھنا آتا ہے اور ہمارا ادارہ یہاں ان سب لکھاریوں کو جگہ دیتا ہے جو مہذب الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ بطور مدیر میری یہی کوشش ہے کہ دنیا بلاگز کو ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جائے جہاں ایک عام شہری اپنے خیالات کا اظہار کر سکے، اپنے مسائل بتا سکے اور معاشرے کی اصلاح و بہتری میں اپنا حصہ ڈال سکے۔

  4. Umer کہتے ہیں

    Apne vallo bakwas tay bari keeti oo youthiyay but we all know imran is a fu**** adulterer and story is 100% true

  5. Abdul Basit کہتے ہیں

    Hahaha. Maza aa gia ap ka blog perh ker. Sada khush rehain sir.

  6. Amjad Ali کہتے ہیں

    Thankyou for wasting time

  7. یوشع منیب کہتے ہیں

    چیمہ ویسے ہاتھ دھو کر ہی اسکے پیچھے پڑگیا ہے ۔ بندہ کوئی کرپشن کے سکینڈل نکالے ۔ اسے اب چھوڑ دے

  8. Adeel کہتے ہیں

    totally rubbish article

  9. M.Mushtaq کہتے ہیں

    The most idiot blog of the year.

  10. muhammad saeed کہتے ہیں

    Lagta hay Owais Ahmad nay Imran Khan or Umar Cheema ka pichli janamon ma apnay bank say insurance karaai thi.

  11. ZAHID کہتے ہیں

    KYA BAKWAAS BAAZI HEY ? SHADI , IDDAT & Tallaq yeh Sharri Battain hain Aap nay Kahani likh di Haan kuch Sach hey to LIKHO .

تبصرے بند ہیں.