سینیٹ الیکشن اور اپ سیٹ

2,806

سینیٹ انتخابات نہیں ہوں گے، سینیٹ انتخابات روکنے کیلئے سازشیں کی جا رہی ہیں، سینیٹ انتخابات وقت پر ہوتے نہیں دیکھ رہا، کچھ عناصر اور نادیدہ قوتیں سینیٹ انتخابات کو روکنے یا تاخیر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ وہ خبریں یا جملے ہیں جو گذشتہ کئی دنوں سے کانوں میں پڑ رہے تھے لیکن 3 مارچ کو سینیٹ انتخابات منعقد ہوئے اور مسلم لیگ ن پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن کے ابھری۔

اس بار سینیٹ الیکشن اس لئے بھی اہم تھے کہ یہ انتخابات کسی بھی پارٹی کی پوزیشن مکمل تبدیل کر سکتے تھے۔ شاید اسی لئے آصف علی زرداری نے سر دھڑ کی بازی لگا دی اور سینیٹ انتخابات سے پہلے ن لیگ کو بلوچستان اسمبلی سے آئوٹ کروا دیا۔

سینیٹ پارلیمان کا ایوان بالا ہے جو 104 اراکین پر مشتمل ہے جن میں سے 46 نشستوں کیلئے 3 مارچ کو انتخابات ہوئے۔ حالیہ سینیٹ انتخابات میں بڑے بڑے اپ سیٹس دیکھنے کو ملے۔ سب سے بڑا اپ سیٹ تو یہ تھا کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی لیکن پھر بھی ن لیگ کے حمایت یافتہ امیدواروں نے سینیٹ کا معرکہ اپنے نام کرلیا۔ اگر بات پنجاب کی جائے تو پنجاب کی 12 سیٹوں میں سے 11 سیٹیں پاکستان مسلم لیگ ن نےاپنے نام کیں جبکہ ایک جنرل نشست پی ٹی آئی کے چودھری سرور لے اڑے جو بلاشبہ ایک اپ سیٹ ہی ہے۔

انتخابات سے پہلے ن لیگ کا دعویٰ تھا کہ وہ کلین سویپ کرے گی لیکن دعویٰ صرف دعویٰ ہی رہا۔ لیکن اس کے باوجود بھی اگر ہم ماضی سے مقابلہ کریں تو مسلم لیگ ن کے سینیٹ میں 26 اراکین موجود تھے جس میں سے 9 ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اپنے ارکان کی تعداد کے ساتھ مزید 15 سینیٹرز منتخب کروا سکتی تھی لیکن ن لیگ کے حمایت یافتہ 16 امیدوار کامیاب ہوئے۔ یعنی اس وقت مسلم لیگ ن کے 33 سینیٹرز ہیں اور اس طرح مسلم لیگ ن 18 سال بعد سینیٹ میں پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن گئی۔

اگر سندھ کی بات کی جائے تو سندھ میں یقیناً ایک بڑا اپ سیٹ دیکھنے کو ملا۔ سندھ کی دوسری بڑی جماعت ایم کیوایم کا مکمل صفایا ہوتا نظر آیا۔ اگر 5بار گنتی کے بعد بھی فروغ نسیم کامیاب نہ قرار پاتے توسینیٹ سے ایم کیو ایم کی پتنگ کٹ چکی تھی۔ ایم کیو ایم کو اس کی اندرونی لڑائیاں لے ڈوبیں لیکن اس کا فائدہ پیپلز پارٹی نے اٹھایا اور 11 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ انتخابات سے پہلے پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 25 تھی اور18 اراکین نے ریٹائر ہونا تھا جبکہ حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اپنے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی مدد سے 9 اراکین کو دوبارہ منتخب کروا سکتی تھی۔ لیکن آصف زرداری کی مفاہمتی سیاست نے کام کر دکھایا اور پیپلز پارٹی کے 12 امیدواروں نے میدان مار لیا اور اس طرح پیپلز پارٹی کے سینیٹرز کی تعداد 20 تک پہنچ گئی۔ اور اگر بلوچستان کے 5 آزاد امیدوار بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے جو کہ ہو جانے ہیں تو اسے کہتے ہیں سو سنار کی ایک لوہار کی۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کا راج رہا لیکن پھر بھی کئی اپ سیٹ دیکھے گئے۔ خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 7 تھی لیکن اس کے باوجود وہ 2 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی

پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد خواتین اور بہرہ مند تنگی جنرل نشستوں پر کامیاب ہوئے۔ صرف سات اراکین کے ساتھ دو نشستوں کا جیت جانا نہ صرف ایک بڑا اپ سیٹ ہے بلکہ یہ عمران خان کی دھاندلی اور ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کےمتعلق سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ جے یو آئی س کے مولانا سمیع الحق کو شکست ہوئی اور ن لیگ کے دلاور خان نے جیت کا سہرا اپنے سر سجا لیا۔ مولانا سمیع الحق کا سینیٹر نہ بننا ایک یقینناً ایک بڑا اپ سیٹ ہے۔ سینیٹ انتخابات میں جے یو آئی ف نے 2 نشستیں جیتیں اور جماعت اسلامی کو صرف ایک نشست مل سکی۔ فاٹا سے 9 سینیٹرز آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے جبکہ اسلام آباد کی دو دو سیٹیں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنے نام کرلیں۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا ایک اور مرحلہ مکمل ہوگیا۔ تمام سیاسی جماعتوں نے سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا، تاہم کئی اہم رہنمائوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔سینیٹ انتخابات میں تین سو ارکان اسمبلی نے حق رائے دہی استعمال کیا۔کئی دعوے دار اپنے اپنے گھروں میں آرام فرما رہے تھے یا پھر ٹی وی پر ووٹنگ کا نظارہ لے رہے تھے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سینیٹ انتخابات کو نہ کوئی اہمیت دی، نہ ہی قومی اسمبلی میں آنا گوارا کیا۔ اسی طرح مسلم لیگ ق کے چودھری پرویز الٰہی بھی غیر حاضر رہے اور ق لیگ نے کوئی سیٹ نہیں جیتی لہذا مسلم لیگ ق کا سینیٹ سے مکمل صفایا ہوگیا۔

عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید نے انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ ایم کیوایم کے فاروق ستار، وفاقی وزیرعبدالقادر بلوچ، عارف علوی، اسد عمر اور سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے بھی اپنا قیمتی ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ لیکن اس سارے منظر میں سندھ اسمبلی کی ایک خاتون رکن روبینہ قائم خانی ایسی بھی تھیں جو اپنے بیٹے کی موت کے باوجود ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے آئی تھیں۔

حالیہ انتخابات میں دیکھنے کو تو بہت اپ سیٹ ملے لیکن سب سے بڑا اپ سیٹ تو آزاد امیدوار اور چھوٹی جماعتوں کے ارکان کریں گے۔ یہ وہ طبقہ ہے جواپنا وزن جس کے پلڑے میں ڈالے گا ایوان بالا میں اس کی حکمرانی ہوگی۔ ایوان بالا میں حکمرانی کیلئے ہرجماعت کو 53 ووٹوں کی ضرورت ہے۔

ہائر ایجوکیشن کیلئے چائنہ میں مقیم ہیں ۔ حالات حاضرہ پر بحث،صحافت اور سیروسیاحت کے شوقین ہیں۔ پاکستان کے بڑے صحافتی اداروں میں بطور صحافی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.