اپنے دوستوں کا عمو

2,422

آج جب کہ سائبیریا سے آنے والے برفانی طوفان نے لندن کو گھیر لیا ہے، ہر طرف برف کی سفید چادر بچھی ہوئی ہے اور یخ بستہ ہوائیں سائیں سائیں کرتی ہوئی ایک عجیب خاموشی کو توڑ رہی ہے، ایسے میں پرانی یادوں کے جھونکے نے مجھے گھیر لیا ہے۔

اتنا طویل عرصہ گزر گیا ہے۔ بہت کم لوگوں کو یہ یاد ہوumer quereshi 1گا کہ پاکستان کے شروع کے زمانہ میں کراچی سے انگریزی کا ایک اخبار “ٹائمز آف کراچی” کے نام سے شائع ہوتا تھا۔ یہ زیڈ اے سلہری نے شروع کیا تھا۔ آرام باغ اور برنس روڈ کے درمیان پتلی پتلی گلیوں میں سے ایک گلی میں چند کمروں کے مکان سے یہ اخبار نکلتا تھا۔ ایڈیٹر اس کے عمر قریشی تھے جو اس زمانہ میں امریکا کی جنوبی ریاست کیلیفورنیا کی یونیورسٹی سے پڑھ کر تازہ تازہ پاکستان لوٹے تھے۔

یہ بات سن باون تریپن کی ہے۔ میں اس زمانہ میں روزنامہ امروز کراچی سے وابستہ تھا اورمیرے بہت ہی قریبی اور نہایت شفیق دوست مرحوم محمد اختر ٹائمز آف کراچی میں رپورٹر تھے۔ میں جب بھی ان سے ملنے ٹائمز آف کراچی کے دفتر جاتا تو وہاں کراچی کے سیلے اور چپ چپے موسم میں ہر وقت بو ٹائی اور تین پیس سوٹ میں ملبوس عمر قریشی کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ اب بھی امریکا میں رہ رہے ہوں اور ان پر اَن مٹ پکی مغربی چھاپ لگ چکی ہے۔

download-(1)

لیکن یہ محض اوپری رنگ تھا، اندر ان کے خالص مشرقی دل دھڑکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ ان کو قریب سے نہیں جانتے تھے وہ انہیں ایک غصیلہ دیسی صاحب اور نَک چڑھا، مغرور شخص سمجھتے تھے۔

ٹائمز آف کراچی، عمر قریشی کی ادارت میں بڑا معیاری اخبار تھا اور ان کے ساتھ ذہنی اپچ رکھنے والے نوجوان صحافی تھے جنہوں نے صحافت میں نئی جہتیں تراشی تھیں لیکن سلہری صاحب کے اس زمانے میں سیاست میں بہت زیادہ الجھنے اور طالع آزمائی کی وجہ سے یہ اخبار زیادہ دن نہیں چل سکا اور بہت جلد بند ہوگیا۔

ایڈیٹر کی حیثیت سے یہ عمر قریشی کے لئے پہلا اور آخری تجربہ تھا۔ اس زمانہ میں دو دوست کراچی کے سماجی اور دانشور حلقوں میں تیزی سے ابھر رہے تھے اور بہت مقبول تھے۔ ایک عمر قریشی جو اپنے دوستوں میں عمو کہلاتے تھے اور دوسرے ذوالفقار علی بھٹو جو اپنے احباب میں زلفی کے نام سے مشہور تھے۔ عمو اور زلفی دونوں بمبئی میں اسکول میں ساتھ تھے اور پھر امریکا میں یونیورسٹی میں بھی ساتھ تعلیم حاصل کی اور یہ دونوں ایک ساتھ ہی وطن لوٹے تھے لیکن انہوں نے الگ الگ شعبون میں اپنی قسمت آزمائی۔

cricket-commentator-omar-kureshi-s-6th-death-anniversary-today-3005

ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ چیف کورٹ میں وکالت شروع کی اور سن اٹھاون میں پہلے مارشل لاء کے دور میں فوج کی سرپرستی میں سیاست کے میدان میں قدم جمائے۔

عمر قریشی نے دشتِ صحافت میں قسمت آزمائی۔ ٹائمز آف کراچی بند ہونے کے بعد انہوں نے روزنامہ ڈان میں کرکٹ پر تبصرہ نگاری شروع کی۔ سن پچاس کے وسط میں جب ونود منکڈ کی کپتانی میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم پاکستان کے پہلے دورہ پر آئی تو جمشید مارکر کے ساتھ مل کر عمر قریشی کرکٹ کمنٹری کے میدان میں اترے اور ایسا نام پیدا کیا کہ وہ لوگ بھی جو انگریزی نہیں سمجھتے تھے ان کی کمنٹری بڑے شوق سے سنتے تھے اور ان کے نام کی مالا جپتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمر قریشی نے پاکستان میں کرکٹ کے شائقین کو بہت کچھ دیا۔ شروع شروع میں تو انہیں کرکٹ کے کھیل کی پیچیدگیوں، باریکیوں اور اعدادوشمار کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا لیکن ان کا ذہن بلا کا اکتسابی تھا کہ بہت جلد انہوں نے کرکٹ پر پورا عبور حاصل کر لیا تھا۔

سن باسٹھ میں، پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا ہندوستان کا دورہ کور کرنے کے لئے میں ہندوستان گیا تھا۔ کانپور میں کملاریٹریٹ میں جہاں پاکستانی ٹیم نے ڈیرہ ڈالا تھا، میں عمر قریشی کے ساتھ ایک ہی کمرے میں ٹہرا تھا۔ اس وقت کرکٹ کے بارے میں ان کے علم اور جانکاری سے میں بہت متاثر ہوا اور بڑی مدد ملی۔ اسی زمانہ میں انہوں نے اپنے خاندان کے بارے میں بڑی دلچسپ باتیں بتائیں۔

2005-03-17__sports05

ان کے والد فوج کی میڈیکل سروس میں کرنل تھے۔ ان کا تعلق پنجاب سے تھا اور عمر قریشی کی والدہ کشمیری تھیں۔ فوج کی ملازمت کی وجہ سے کرنل قریشی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تعینات رہے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عمر قریشی پیدا تو مری میں ہوئے لیکن بچپن انہوں نے پونا اور بمبئی میں گذارا۔ عمر قریشی کے آٹھ بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ ان کے ایک بھائی رفیع الشان قریشی۔ شانو۔ لند ن میں پاکستان کے ہائی کمشن سے وابستہ تھے اور ان کے بیٹے حنیف قریشی ہیں جنہوں نے برطانیہ میں انگریزی ادب میں بڑا نام پیدا کیا ہے۔

اور خود عمر قریشی کیا کم ہیں۔ انہوں نے کرکٹ پر جو لکھا سو لکھا اور بہت لکھا اور اسی کے ساتھ انہوں نے پانچ کتابیں لکھیں۔ آخری53ff1db1e667a کتاب، Once upon a Time سن دو ہزار میں شائع ہوئی تھی جس میں انہوں نے اپنے ماضی کے دریچوں کو وا کیا ہے اور تقسیم سے پہلے کے برطانوی راج، بمبئی میں قائد اعظم محمد علی جناح، ذوالفقار علی بھٹو، دیویکا رانی، دوسری عالم گیر جنگ، تقسیم اور کراچی کے اوائیلی دور کے بارے میں دلچسپ داستانیں لکھی ہیں۔ ان کی چار دوسری کتابیں، بلیک موڈ، آوٹ فار لنچ، دی سسٹم اور سایڈ آف ڈے لائٹ ہیں۔ انگریزی پر انہیں بلا کا عبور حاصل تھا اور انگریزی لہجہ بھی ایسا تھا کہ ریڈیو پر جب وہ بولتے تھے تو یہ تمیز کرنی مشکل ہوتی تھی کہ کوئی انگریز بول رہا ہے یا پاکستانی۔

سن ساٹھ کے عشرے میں ائیر مارشل نور خان انہیں پی آئی اے میں لائے اور انہیں پبلک ریلشنز کے ڈائریکٹر کے فرائض سونپے جو انہوں نے صحافت سے تعلق اور صحافیوں سے قریبی روابط کی بناء پر نہایت کامیابی سے انجام دیے۔ لیکن جنرل ضیاء کے دور میں عمر قریشی، بھٹو سے دوستی کی وجہ سے انتقام کا شکار بنے اور پی آئی اے سے برطرف کر دئے گئے۔ ایک فوجی آمر کی منتقم مزاجی نے ملک کو ایک ہیرے ایسے صحافی کی اہلیت سے محروم کردیا۔

بہر حال عمر قریشی کا نام پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ سے اتنا گھتا ہوا ہے کہ عبد الحفیظ کاردار، فضل محمود، حنیف محمد، ماجد خان اور عمران خان ایسے مایہ ناز کھلاڑیوں کے ساتھ ان کا ذکر لازمی ہے اور ان کے بغیر پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ ان کے بہت سے مداح تو انہیں پاکستان کی کرکٹ کا اعلیٰ کپتان قرار دیتے ہیں۔

آج عمرقریشی اس وجہ سے بھی بے حد یاد آرہے ہیں کہ 2005ء کے مارچ کے مہینے کی 14 تاریخ کو کراچی میں انہوں نے 77 سال کی عمرمیں آخری سانس لی تھی۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    This is an excellent article and a very good memoir. Thank you for writing this.

    1. آصف جیلانی کہتے ہیں

      شکریہ اویس صاحب۔ کرم ہے اور عنایت ہے آپ کی۔ یہ مجھ پر عمر قریشی کا قرض تھا جس کا اتارنا مجھ پر لازم تھا۔

تبصرے بند ہیں.