ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے 

4,559

زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے

غزل کو زندگی بنا کر اسی کی دھن میں دن رات مست رہنے والے ناصر کاظمی 2 مارچ 1972 کو دام اجل میں آئے۔ لیکن آج بھی اپنی شاعری سے لوگوں کے دلوں میں زندہ وجاوید ہیں۔

ناصر رضا کاظمی آٹھ دسمبر انیس سو پچیس کو انبالہ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد لاہور میں زیر تعلیم رہے لیکن اعلیٰ تعلیم کی تکمیل نہ ہو سکی۔download

ناصر کاظمی نے بر صغیر کی آزادی کے ہنگام کو دیکھا اور اس کے ہمراہ آئے دکھ اور الام اُن کی روح کو جھنجوڑ گئے۔ ہجرت کے صدمے سے دوچار ایسی ہی کسی کیفیت میں ناصر نے کہا ہو گا۔

تو جو اتنا اداس ہے ناصر
تجھے کیا ہو گیا بتا تو سہی
ایک اور شعر میں ناصر کہتے ہیں
شہر اجڑے تو کیا، ہے کشادہ زمینِ خدا
اک نیا گھر بنائیں گے ہم، صبرکر، صبر کر

شعر گوئی کا آغاز جوانی میں ہو گیا۔ شاعری کے علاوہ موسیقی سے بھی گہری دلچسپی تھی۔

کبھی دیکھ دھوپ میں کھڑے تنہا شجر کو
ایسے جلتے ہیں وفاؤں کو نبھانے والے

اس طرح کے کئی لازوال شعر ان کی تخلیق ہیں۔ ناصر کاظمی نے میر تقی میر کی پیروی کرتے ہوئے غموں کو شعروں میں سمویا اور ان کا اظہار غم پورے عہد کا عکاس بن گیا۔

دنیا نے مجھ کو یوں ہی غزل گر سمجھ لیا
میں تو کسی کے حسن کو کم کر کے لکھتا ہوں

جذبے کی شدت، اظہار کی سادگی اور تصویری پیکر سازی ان کی شاعری کے بنیادی عناصر رہے۔ دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی، نیت شوق بھر نہ جائے کہیں جیسی غزلیں بھی اسی کی عکاس ہیں، کیفیت، روانی اور لہجے کی نرمی کا بڑا دخل ان کی غزلوں میں نمایاں رہاہے۔ پہلا مجموعہ “برگ نے” ان کی زندگی میں شائع ہوا۔ دوسرے دو مجموعے “دیوان” اور “پہلی بارش” ان کی وفات کے بعد سامنے آئے۔ یہ مجموعے صرف غزلوں پر مشتمل ہیں جس کی بنیاد پر ناصر کاظمی کے مقام و مرتبے کا تعین ہوتا ہے۔

Nasir_Kazmi_Tribute_Gourmet_Khawateen1ناصر نے غزل کی تجدید کی اور اپنی جیتی جاگتی شاعری سے غزل کا وقار بحال کیا اور میڈیم نور جہاں کی آواز میں گائی ہوئی غزل ’’دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا ‘‘ منہ بولتا ثبوت ہے۔

نئے کپڑے بدل کرجاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

خلیل حیدر کو ناصر کی اس غزل نے پہچان دلوائی۔ ناصر کاظمی جدید غزل کے اولین معماروں میں ہیں۔ چند مضامین لکھے اور نظمیں بھی لکھیں لیکن ان کی شناخت غزل کے حوالے سے قائم ہے۔”نشاطِ خواب“ نظموں کا مجموعہ ہے۔ سٔر کی چھایا ان کا منظوم ڈراما ہے۔ انتخاب نظیر اکبرآبادی، کلیات ناصر کاظمی اور مضامین کا ایک مجموعہ، خشک چشمے کے کنارے بھی شائقینِ اردو نثر سے داد وصول کر چکا ہے۔

گئے دنوں کا سراغ لیکر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کرگیا وہ

اردو غزل کے رجحان ساز شاعر سید ناصر رضا کاظمی عمر کےآخری وقت تک کسی نہ کسی صورت ریڈیو پاکستان کے ساتھ منسلک رہے۔ اس کے علاوہ ناصر کاظمی مختلف ادبی جریدوں، اوراق نو، ہمایوں اور خیال کے مدیر بھی رہے۔

ڈھونڈیں گے لوگ مجھ کو ہر محفل سخن میں
ہر دور کی غزل میں میرا نشان ملے گا

عشق اور ہجرت کے شاعرناصر کاظمی نے شاعری میں اپنی لفظیات اور حسیات کے پیمانے رومانوی رکھے۔ اس کے باوجود اُن کا کلام عصرِ حاضر کے مسائل سے جڑا رہا۔ چھوٹی بحر کی خوبصورت پیرائے میں لکھی گئی غزلیں اور منفرد استعارے اُن کی شاعری کو دیگر ہم عصر شعرا کے اُسلوبِ کلام سے ممتاز کرتے ہیں۔

معروف ادیب ممتاز مفتی نے اُن کے بارے میں کہا تھا کہ ناصر کاظمی نہ صرف شاعر تھے بلکہ شاعر دکھائی بھی دیتے تھے۔ ایک گہری سوچ اور فکر اُن کے چہرے پر ہمہ وقت ڈیرہ جمائے رہتی تھی۔

ناصر کاظمی کی کتبے پر اُنہی کا یہ زبان زد عام شعر درج ہے.

دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. میاں حامد کہتے ہیں

    بہن ربیعہ کنول
    السلام علیکم ورحمۃاللہ

    بہت اچھا مضمون لکھا ہے ماشاللہ ، عنوان بھی بہت خوب چنا ہے۔ اور موضوع کا احاطہ بھی بہت خوبصورتی سے کیا ہے۔ سلسلہ جاری رکھیں تو امید ہے ہمیں اچھے لکھنے والے میسر رہیں گے۔

  2. Awais Ahmad کہتے ہیں

    بہت اچھا لگتا ہے جب شخصیات پر لکھاجائے اور تحریر سے انصاف ہو۔ بہت اچھی کاوش ہے۔ سلامت رہیئے۔

  3. ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے – RK Mirza

    […] http://blogs.dunyanews.tv/urdu/?p=5278 ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے تحریر: ربیعہ کنول مرزا #RK_Mirza ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے غزل کو زندگی بنا کر اسی کی دھن میں دن رات مست رہنے والے ناصر کاظمی 2 مارچ 1972 کو دام اجل میں آئے ۔ لیکن آج بھی اپنی شاعری سے لوگوں کے دلوں میں زندہ وجاوید ہیں ۔ ناصر رضا کاظمی آٹھ دسمبر انیس سو پچیس کو انبالہ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد لاہور میں زیر تعلیم رہے لیکن اعلیٰ تعلیم کی تکمیل نہ ہو سکی۔ ناصر کاظمی نے بر صغیر کی آزادی کے ہنگام کو دیکھا اور اس کے ہمراہ آئے دکھ اور الام اُن کی روح کو جھنجوڑ گئے۔ ہجرت کے صدمے سے دوچار ایسی ہی کسی کیفیت میں ناصر نے کہا ہو گا۔ تو جو اتنا اداس ہے ناصر تجھے کیا ہو گیا بتا تو سہی ایک اور شعر میں ناصر کہتے ہیں شہر اجڑے تو کیا، ہے کشادہ زمینِ خدا اک نیا گھر بنائیں گے ہم، صبرکر، صبر کر شعر گوئی کا آغاز جوانی میں ہو گیا ۔ شاعری کے علاوہ موسیقی سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ کبھی دیکھ دھوپ میں کھڑے تنہا شجر کو ایسے جلتے ہیں وفاؤں کو نبھانے والے اس طرح کے کئی لازوال شعر ان کی تخلیق ہیں۔ ناصر کاظمی نے میر تقی میر کی پیروی کرتے ہوئے غموں کو شعروں میں سمویا اور ان کا اظہار غم پورے عہد کا عکاس بن گیا۔ دنیا نے مجھ کو یوں ہی غزل گر سمجھ لیا میں تو کسی کے حسن کو کم کر کے لکھتا ہوں جذبے کی شدت، اظہار کی سادگی اور تصویری پیکر سازی ان کی شاعری کے بنیادی عناصر رہے۔دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی، نیت شوق بھر نہ جائے کہیں جیسی غزلیں بھی اسی کی عکاس ہیں ،کیفیت، روانی اور لہجے کی نرمی کا بڑا دخل ان کی غزلوں میں نمایاں رہاہے۔ پہلا مجموعہ “برگ نے” ان کی زندگی میں شائع ہوا۔ ۔ دوسرے دو مجموعے “دیوان” اور “پہلی بارش” ان کی وفات کے بعد سامنے آئے۔ یہ مجموعے صرف غزلوں پر مشتمل ہیں جس کی بنیاد پر ناصر کاظمی کے مقام و مرتبے کا تعین ہوتا ہے۔ ناصر نے غزل کی تجدید کی اور اپنی جیتی جاگتی شاعری سے غزل کا وقار بحال کیا اور میڈیم نور جہاں کی آواز میں گائی ہوئی غزل ’’دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا ‘‘ منہ بولتا ثبوت ہے۔ نئے کپڑے بدل کرجاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے خلیل حید ر کو ناصر کی اس غزل نے پہچان دلوائی ۔ ناصر کاظمی جدید غزل کے اولین معماروں میں ہیں۔ چند مضامین لکھے اور نظمیں بھی لکھیں لیکن ان کی شناخت غزل کے حوالے سے قائم ہے۔”نشاطِ خواب“ نظموں کا مجموعہ ہے۔ سٔر کی چھایا ان کا منظوم ڈراما ہے۔ انتخاب نظیر اکبرآبادی‘،کلیات ناصر کاظمی اور مضامین کا ایک مجموعہ ’خشک چشمے کے کنارے‘ بھی شائقینِ اردو نثر سے داد وصول کر چکا ہے۔ گئے دنوں کا سراغ لیکر کدھر سے آیا، کدھر گیا وہ عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کرگیا وہ اردو غزل کے رجحان ساز شاعر سید ناصر رضا کاظمی عمر کےآخری وقت تک کسی نہ کسی صورت ریڈیو پاکستان کے ساتھ منسلک رہے۔اس کے علاوہ ناصر کاظمی مختلف ادبی جریدوں، اوراق نو، ہمایوں اور خیال کے مدیر بھی رہے۔ ڈھونڈیں گے لوگ مجھ کو ہر محفل سخن میں ہر دور کی غزل میں میرا نشان ملے گا عشق اور ہجرت کے شاعرناصر کاظمی نے شاعری میں اپنی لفظیات اور حسیات کے پیمانے رومانوی رکھے اس کے باوجود اُن کا کلام عصرِ حاضر کے مسائل سے جڑا رہا۔ چھوٹی بحر کی خوبصورت پیرائے میں لکھی گئی غزلیں اور منفرد استعارے اُن کی شاعری کو دیگر ہمعصر شعرا کے اُسلوبِ کلام سے ممتاز کرتے ہیں۔ معروف ادیب ممتاز مفتی نے اُن کے بارے میں کہا تھا کہ ناصر کاظمی نہ صرف شاعر تھے بلکہ شاعر دکھائی بھی دیتے تھے۔ ایک گہری سوچ اور فکر اُن کے چہرے پر ہمہ وقت ڈیرہ جمائے رہتی تھی۔ ناصر کاظمی کی کتبے پر اُنہی کا یہ زبان زد عام شعر درج ہے دائم آباد رہے گی دنیا ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا […]

تبصرے بند ہیں.