عصر حاضر میں پاکستانی قوم کا ایک المیہ

1,131

کچھ عرصہ قبل تک ایسا ہوتا تھا کہ خبریں اخبارات اور پاکستان ٹیلی ویژن سےملا کرتی تھیں۔ اس وقت بھی خبر کی تصدیق کے لیے بڑے بوڑھے بی بی سی ریڈیو سنا کرتے تھے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا تھا کہ خبر پر یقین ہی نہ آ سکے۔ بہرحال معتبراخبارات میں شائع ہو جانے والی اور ٹی وی پر چلنے والی خبریں مستند کہلائی جاتی تھیں۔ اس وقت ایک ہی بیانیہ ہوا کرتا تھا اور وہ ریاست کا بیانیہ ہوتا تھا۔

پھر وقت بدلا اور اخبارات میں نت نئے اضافے ہوئے۔ اور کچھ عرصہ مزید گزرنے پر نجی ٹی وی چینل بھی نمودار ہو گئے۔ تب بھی خبر کا اعتبار قائم رہتا تھا۔ وقت نے مزید کروٹ لی اور سوشل میڈیا نے تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا۔ ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ننھا مگر مہلک ہتھیار آ گیا جس کو اسمارٹ فون کہا جاتا ہے۔ یہی ہتھیار کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ کی صورت میں بھی موجود ہے۔ میں اس کو ہتھیار کیوں کہ رہا ہوں؟ اس لیے کہ میرا ماننا ہے کہ کسی جاہل کے ہاتھ میں آ جانے والی ہر ایجاد مہلک ہوتی ہے اور ہاتھ میں آئی مہلک چیز کو ہتھیار کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے؟

ہاتھ میں ہتھیار آ جائے تو اس کے استعمال کے لیے جی مچلنے لگتا ہے۔ ہمارے ملک کے نوجوانوں کا دل ویسے ہی مچلتا رہتا ہے اسی لیے خبروں میں منچلوں کا ذکر بہت ہوتا ہے۔ خیر۔ اسمارٹ فون سے مسلح ہماری نسل نے نہ صرف صحافیانہ انداز اپنایا بلکہ اس ہتھیار کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کی تربیت اور تطہیر کا بیڑا بھی از خود اٹھا لیا اور اب اس بھاری بوجھ تلے کراہ رہے ہیں۔ کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کس کو تربیت کی ضرورت ہے اور کون “تربیت یافتہ” ہے۔ جو تربیت یافتہ ہے وہ اسمارٹ فون کا استعمال صنعت دروغ گوئی کے فروغ کے لیے کر رہا ہے اور جس کو تربیت کی ضرورت ہے وہ بھی دوسروں کو تربیت دینا چاہتا ہے۔

یہ تازہ خیال اتوار کے دن بھارتی مقبول اداکارہ سری دیوی کے حادثاتی انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر اپنی قوم کے صالحین کے افکارِ تازہ دیکھ کر آیا۔ سری دیوی اسی اور نوے کی دہائی میں بھارت اور پاکستان میں یکساں طور پر مقبول ہیروئین تھیں۔ اتوار کی صبح ان کے انتقال کی خبر نے مداحوں کو ششدر کر دیا۔ قدرتی طور پر سوشل میڈیا پر پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔ ہر کوئی اپنے انداز میں اپنی پسندیدہ ہیروئین کو خراج تحسین پیش کر رہا تھا۔ مگر اس وقت سوشل میڈیا پر ایک اور مہم چلنی شروع ہوئی جس میں پاکستانی قوم کی غیرت کو جھنجھوڑ کر یہ کہا جا رہا تھا کہ اگر سری دیوی کے مرنے اور کرکٹ سے فرصت مل گئی ہو تو شام پر بھی نظر ڈال لیں۔ وہاں پر قیامت برپا ہے اور مسلمانوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے مطابق اسی دن روس کی بمباری سے پچاسی بچوں سمیت پانچ سو افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ قدرتی طور پر دل اس صدمے سے متاثر ہوا۔ مگر رات آتے آتے ایسی خبریں گردش کرنے لگیں کہ شام میں صورت حال وہ نہیں جو بیان کی جا رہی ہے۔ بی بی سی نے بمباری میں تین ہلاکتوں کی خبر جاری کی تھی۔

اب پریشانی بڑھی کہ حقیقت تک کیسے پہنچا جائے۔ سوشل میڈیا پر جو کچھ بتایا اور شیئر کیا جا رہا ہے وہ ہولناک ہے۔ خاص طور سے بچوں کی ایسی ایسی دردناک تصویریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ انسان ان کو دیکھ کر شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ سمجھ سے باہر ہے کہ ایسی تصاویر شیئر کرنے کا کیا فائدہ ہو گا۔ انسانی فطرت ہے کہ ایک جیسی چیز بار بار دیکھنے سے وہ اس چیز کا عادی ہو جاتا ہے۔ ہماری قوم ویسے ہی تشدد پر یقین رکھتی ہے۔ ایسی تصاویر دیکھنے سے قوم کی نفسیات پر کیا اثر ہو گا اس بارے میں کسی نے کچھ سوچا ہی نہیں۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی ہمارے چھوٹے بچوں کی بھی ہے۔ ان کے اذہان پر اس کا کیا اثر ہو گا اس کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کچھ عرصہ قبل غالباً کراچی میں ایک کم سن نوجوان نے اپنی بہن کو چھری سے ذبح کر ڈالا اور گھر کے باہر گلی میں اس کے تڑپنے اور مرنے کی ویڈیو بناتا رہا تھا۔ اسی سے ملتا جلتا ایک اور المیہ بھی ہم بھگت رہے ہیں۔ حالیہ واقعات میں کم سن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات میں چھوٹی عمر کے نوجوان ملوث ہیں۔ جو ملزم پکڑے گئے ہیں ان کی عمریں پندرہ سے پچیس سال کے درمیان ہیں اور وہ مبینہ طور پر انٹرنیٹ پر فحش فلمیں دیکھنے کے شوقین نکلے ہیں۔ اور ہمارے معاشرے میں اس قسم کے جراثیم تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔

شام میں جاری صورت حال کے بارے میں پاکستا ن کا الیکٹرانک میڈیا عمومی طور خاموش ہے۔ اخبارات میں بھی خال ہی کوئی خبر دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا کے ذریعے قوم کے ذہن کو جھنجھوڑا جا رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی صورت حال وہی ہے جیسی بیان کی جا رہی ہے؟ میری اب تک جس سے بھی اس موضوع پر بات ہوئی ہے اس نے محض سنی سنائی بات پر یقین کرتے ہوئے اپنا اخلاقی ، دینی اور ایمانی فرض نبھاتے ہوئے ایسی خبریں اور تصاویر آگے شیئر کی ہیں تاکہ امت مسلمہ کو خواب غفلت سے جگایا جا سکے۔ ہر کوئی اپنی اپنی بولی بول رہا ہے اور اپنی اپنی بولی کے سچ اور دیگر تمام بولیوں کے جھوٹ ہونے پر مصر ہے۔

ایسی صورت حال میں سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور ایک ایسی قوم جس میں خواندگی کا تناسب آبادی کا نصف بھی نہ ہو اور شعور کا یہ حال ہو کہ اپنے مجرموں اور لٹیروں کو سر آنکھوں پر بٹھایا جائے، ایسی قوم میں پروپیگنڈا کا ہتھیار نہایت کارگر ثابت ہوتا ہے اور ہو رہا ہے۔ چناچہ بہت ہوشیاری اورذہانت سے دیسی لبرلز، لبرل فاشزم، بنیاد پرست، اسلامسٹ، مولوی، سیکولر اور لا دین کی اصطلاحات قوم میں رائج کر دی گئی ہیں اور پہلے سے فرقہ واریت میں تقسیم قوم اب ان اصطلاحات کی بنیاد پر مزید تقسیم کا شکار ہو رہی بلکہ ہو چکی ہے اور اس تقسیم میں مشہور قلم کار، صحافی اور سائنسدان بھی شامل ہو گئے ہیں۔

اور یہی عصر حاضر میں پاکستانی قوم کا ایک المیہ ہے جس پر اگر فی الفور توجہ نہ دی گئی اور اس پر قابو پانے کے اقدامات جنگی بنیادوں پر نہ کیے گئے تو تابناک ماضی رکھنے والی یہ قوم جو اب اندھا دھند عقیدتوں اور نفرتوں میں بٹ چکی ہے ، کاحال خدانخواستہ عبرت ناک بھی ہو سکتا ہے۔

 

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.