نواز شریف اور ان کے بچوں کا مستقبل

3,988

شیخ سعدی کی ایک حکایت ہے کہ ایک بادشاہ اپنی رعایا سے غافل تھا۔ بے انصافی اور ظلم کا عادی تھا۔ اس وجہ سے ملک تباہ و برباد تھا اور عوام مسائل کا شکار تھے۔ ایک روز وہ کم فہم اور ظالم بادشاہ اپنے دربار میں فردوسی کی مشہور رزمیہ نظم شاہنامہ سن رہا تھا۔ بادشاہ ضحاک اور فریدوں کا ذکر آیا تو اس نے اپنے وزرا سے سوال کیا کہ آخر ایسا کیوں ہوا کہ ضحاک جیسا بڑا بادشاہ اپنی سلطنت گنوا بیٹھاؤ اور فریدوں ایک بڑا بادشاہ بن گیا۔ جب کہ اس کے پاس نہ لاؤ لشکر تھا اور نہ بڑا خزانہ ؟ ایک دانا وزیر بولا بادشاہ سلامت اسکی وجہ یہ تھی کہ فریدوں خلق خدا کا خیر خواہ اور ضحاک لوگوں پر ظالم تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ ضحاک کو چھوڑ کر فریدوں سے جا ملے اور وہ بادشاہ بن گیا۔ بادشاہی، لشکر اور عوام کی مدد سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ یہ بات سن کر بادشاہ وزیر سے ناراض ہو گیا اور اسے جیل خانے بھجوا دیا۔ کچھ ہی دن بعد کرنا خدا کا کیا ہوا کہ بادشاہ کے بھائی بھتیجوں نے بغاوت کر دی۔ اور رعایا بھی انکی طرف دار ہو گئی۔ کیونکہ ہر شخص بے تدبیر بادشاہ کے ظلم سے پریشان تھا۔ شیخ سعدی وضاحت کرتے ہیں کہ جو شخص ظالم، جابر اور مغرور ہو جائے۔ وہ اپنی سلطنت خود ہی اپنے ہاتھ سے گنوا دیتا ہے اس کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں پڑتی۔

راقم نے دنیا نیوز میں 20 اپریل 2017 کو کالم لکھا تھا “گئے تھے نماز بخشوانے الٹے روزے گلے پڑ گئے“۔ جو ابھی بھی اسی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ تقریباً ایک سال قبل لکھے اس کالم میں پیش گوئی کی تھی کہ عدالت وزیراعظم نواز شریف کو نااہل کر دے گی، پھر ان پر کیسز بنیں گے اور 2017 کے آخر میں ان کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہو جائے گا۔

اپنے کالم میں راقم نے یہ بھی کہا تھا کہ عدالت اور دیگر ادارے شریف فیملی کو اپنا مؤقف واضح کرنے کا بھرپور موقع دینگے۔ لیکن بالآخر ان نواز شریف اور ان کے بچوں کو پابند سلاسل ہونا ہی پڑے گا۔ اور نواز شریف کا نام پاکستان کی سیاست میں ایک قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گا۔ تقریباً ایک سال کے عرصے میں اس تجزیے کی زیادہ تر باتیں درست ثابت ہو چکی ہیں۔ اورامید ہے کچھ رواں سال کے آخر تک پوری ہو جائیں گی۔

کہتے ہیں کہ ہر انسان سے غلطی ہوتی ہے۔ لیکن عقل مند ان غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھتا ہے اور ان کو دہراتا نہیں۔ جبکہ بے وقوف شخص بار بار انہی غلطیوں کو دہراتا ہے اور اپنی طاقت کے نشے میں اگلی بار اس سے بھی زیادہ گہری دلدل میں دھنستا ہے۔ نواز شریف 38 سال سے سیاسی میدان کے کھلاڑی ہیں۔ صوبائی اور قومی سطح پر 5 بار صاحب اقتدار رہے۔ ہر بار اپنی غلطی سے عہدہ گنوایا اور جب عہدے سے الگ ہوئے تو خود کو سدھارنے اور ماضی کی غلطیاں نہ دہرانے کا عزم کیا۔ لیکن جونہی دوبارہ اقتدار میں آئے پھر غلطیاں دہرانے والی پرانی روش۔

پہلے اسٹیبلشمنٹ کے پاس نواز شریف کے مقابلے میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی آپشن موجود تھی۔ کیونکہ وہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک مقبول شخصیت تھیں۔ 1999 کے بعد جنرل پرویز مشرف نے تین اور پھر 2008 کے بعد پیپلز پارٹی نے دو وزیراعظم بدلے لیکن کوئی بھی عوام میں مقبول نہ ہوسکا۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے پاس نواز شریف کا کوئی متبادل نہ تھا۔ چنانچہ 2013 الیکشن کے بعد نواز شریف ایک بار پھر وزیراعظم بنے۔ لیکن اس بار بھی انہوں نے اداروں کو آئین اور قانون کے بجائے اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق چلانا چاہا۔ جس کے باعث اسٹیبلشمنٹ کا ان سے اعتماد کم ہوتا گیا۔ 38 سال میں نواز شریف نے تو اپنی عادات نہ بدلیں لیکن اسٹیبلشمنٹ نے اپنا رویہ بدل لیا۔ اور نواز شریف پر ہمیشہ کیلئے اپنا اعتماد ختم کر دیا۔

اس بداعتمادی کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اول تو یہ کہ اب اسٹیبلشمنٹ کے پاس عمران خان کی صورت میں ایک اچھا متبادل موجود ہے جو عوام میں بھی مقبول ہے جبکہ شہباز شریف بھی ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بُک میں شامل رہے ہیں اور اس بار قومی سطح پر قیادت کیلئے رضا مند بھی نظر آرہے ہیں۔ دوئم یہ کہ نواز شریف اپنی صاحب زادی مریم نواز کو اپنا جاں نشین بنانا چاہتے ہیں۔ مریم نواز کی قیادت پر مسلم لیگ ن کے اندر بھی دو دھڑے ہیں۔ ایک دھڑا ان کے ماتحت کام نہیں کرنا چاہتا جبکہ دوسرا پوری طرح راضی ہے۔ ڈان لیکس سمیت بعض ایسے فیصلے جن کی وجہ سے نوازشریف کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی، ان کے پیچھے اصل میں مریم نواز ہی کا ہاتھ تھا جس کی وجہ سے اسٹیمبلشنٹ بھی کافی ناراض نظر آئی۔

درست کہا جاتا ہے کہ اولاد بھی ایک امتحان ہے۔ میاں محمد شریف مرحوم ایک باکمال شخصیت تھے جنہوں نے اپنی اولاد کی تربیت کرکے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم تک بنوا دیا۔ لیکن اس حوالے سے میاں نواز شریف اتنے خوش قسمت ثابت نہیں ہوئے۔ ان کے دونوں صاحب زادے سیاسی طور پر بالکل ہی ناموزوں ہیں۔ جبکہ انہوں نے اپنی صاحب زادی مریم نواز کو اپنا سیاسی جانشین بنایا لیکن مریم نواز سے بھی کچھ ایسے فیصلے ہو گئے،جن کی وجہ سے نواز شریف کو بالواسطہ یا بلا واسطہ وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔ یہی نہیں مریم نواز کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے اندر ایک خاموش لاوہ پک رہا ہے جو کبھی بھی ابل سکتا ہے۔ ایک اکثریتی دھڑا ان کو اپنا اگلا پارٹی قائد دیکھنے پر رضا مند نہیں۔

ایک تو مشکلات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں دوسری جانب نواز شریف بھی اداروں کے مخالف بیانات کی بھرمار کیے جا رہے ہیں۔ جس کے نتائج ان پر مزید منفی ہو کر ہی مرتب ہونگے۔ اور حالات و واقعات اور نیب کیسز سے بظاہر لگ یہی رہا ہے کہ نواز شریف اور ان کے بچوں کو تمام تر مزاحمت کے باوجود جیل کا منہ دیکھنا ہی پڑے گا۔

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

17 تبصرے

  1. کاشف احمد کہتے ہیں

    نواز شریف کی یہ غلطیاں ہی ہیں جس نے تین بار وزیراعظم رہنے کے باوجود انہیں اب تک مقبول لیڈر برقرار رکھا ہے اگر وہ یہ غلطیاں نہ کرتے تو ان کا نام بھی نہ ہوتا داستانوں میں

  2. محمد علی میو کہتے ہیں

    کاشف صاحب ، ہر عروج کو زوال ہے ۔سورج جتنا بھی گرم ہو کر آسمان پر چڑھے بالآخر اسے غروب ہونا ہی پڑتا ہے ۔ اور انسان پر زوال اس کی اپنی ہی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے آتا ہے ۔ بس فرق یہ ہے کوئی یہ غلطیاں جلدی کر جاتا ہے اور کوئی دیر سے ۔

  3. کاشف احمد کہتے ہیں

    عروج و زوال ایک فطری عمل ہے اور اللہ کی مرضی وہ کب کسی کو عروج دے اور کب زوال لیکن اگر کچھ لوگ زمینی خدا بن کر غیرفطری طریقوں سے کسی کے عروج کو زوال اور کسی کے زوال کو عروج میں بدلنے کی کوشیش کریں گے تو کامیاب نہیں ہونگے اور اگر ہو بھی گئے تو نتیجہ وہ بھی نہیں ہوگا جو وہ چاہتے ہیں تاریخ گواہ ہے اور لیڈر لوگ ہمیشہ اس کو مانتے ہیں جو ریڈ لائن کراس کرتا ہے ورنہ اگر پانچ سال پورے کرنا کامیابی ہوتی تو زرداری کی مثال آپ کے سامنے ہے

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      کاشف صاحب میں متفق ہوں آپ کی بات سے

  4. Athar کہتے ہیں

    Nawaz sharif ki galtian itni sangeen hoti jaaa rhi hn k ab unko retirment lyyy k ghr ka sakoon lyna chaheye….. keep it up acha likha

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Athar sab .interesting comments , thx for courage

  5. Zakirya کہتے ہیں

    Agree with you… Nawaz Sharif bar bar wohi galtian dohraty hn or phly sy bari mushkil me passsty hn….

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Zakirya Ji Han ab ye bat aam admi ko samjh ati ja rhi hai

  6. Athar کہتے ہیں

    Nawaz sharif ko abb retirement lyyy lyna chaheye… kafi arsaa badshat kr liiii
    Keep it up

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      thx Sir

  7. Athar shah کہتے ہیں

    Nawaz sharif ko abb retirement lyyy lyna chaheye… kafi arsaa badshat kr liiii
    Keep it up

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      agreed

  8. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    Zakirya ,thanks to be with me . yes MNS is reaping what he sowed in past

  9. عبدالغفار چشتی کہتے ہیں

    محمد علی میو صاحب آپ نے ٹھیک فر ما یا لیکن میں سمجھتا ھوں کہ و تعڈ و من تشاء وتو ذلو من تشاء لو گوں کو جب اقتدار ملتا ھے تو یہ عوام کی خدمت کا حلف ا ٹھا تے ہیں لیکن پھر تکبر اور رعونت کی بھینٹ چڑھ کرخادم بننے کی بجائے حاکم بن جاتے ہیں پھر اللہ تعالی انھیں مہلت عطا فر ماتا ھے تا کہ راہ راست پر آجا ئیں اور جب یہ لوگ راہ راست پر نہیں آتے اور اپنی آخرت سنوارنے کی بجائے اپنی دنیا سمیٹنے میں لگ جا تے ہیں تو اللہ تعالی ان لوگوں جہاں بھر کی ذلت و رسوائی ان کا مقدر بنا دیتا ھےشا ئدنواز شریف اور ان کی فیملی بھی انھیں حالات سے دوچا ر ھے انھیں بھی تو بہ کر نی چا ہئے اور اللہ تعالی سے ڈرنا چا ہئے اللہ تعالی بڑا رحیم اور کریم ھے اور تو بہ کر نے والوں کو پسند فر ما تا ھے

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      چشتی صاحب ،آپ درست فرما رہے ہیں ،

  10. Sarosh Latif کہتے ہیں

    Nice work sir

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      sarosh thx

تبصرے بند ہیں.