زوجی سیاست بمقابلہ جوگی سیاست

3,909

تحریک انصاف نے اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ تحریک کے قائد عمران خان کی اتوار 18فروری کو بشریٰ مانیکا کے ساتھ شادی انجام پا گئی ہے۔

imran-khan-bushra-maneka-marriage_650x400_41519002333

عمران خان کی تیسری شادی سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستان میں سیاست دانوں کی ازدواجی زندگی کی بے حد اہمیت ہے اور وہ غیر شادی شدہ رہنا گوارا نہیں کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی امریکا اور مغربی ممالک کی طرح سیاسی رہنما اپنی ازدواجی زندگی کو نمایاں طور پر پیش کرتے ہیں، مغربی ممالک میں تو سیاست دان ہمیشہ اپنی بیگمات کو آگے رکھتے ہیں، خاص طور پر انتخابات میں سیاسی رہنما اپنی بیویوں کو کبھی پیچھے نہیں چھوڑتے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام کے سامنے ان کی ”فیملی مین ” کی امیج پیش کی جائے تاکہ سیاست دانوں کی زندگی میں استقامت کو اجاگر کیا جاسکے اور عوام سے داد وصول کی جائے کہ سیاست رہنما کس قدر اپنی بیوی بچوں اور اپنے اہل خانہ کی دیکھ بھال کرنے والا انسان ہے۔

اس کے مقابلہ میں ہندوستان میں معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ وہاں زوجی سیاست کی جگہ جوگی سیاست اور برہم چاری سیاسی رہنماوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ ہندوستان کی سیاست میں وہ سیاسی رہنما زیادہ مقبول رہتے ہیں جو ازداوجی زندگی کی ذمہ داریوں اور الجھنوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر گاندھی جی کو لیں، گو ان کی 13سال کی عمر میں کستور با سے جو ان سے ایک سال بڑی تھیں، شادی ہوئی تھی اور ان کے پانچ بچے ہوئے تھے لیکن 1906ء میں جب گاندھی جی کی عمر 37 سال تھی، انہوں نے اپنی بیوی سے عمداً علیحدگی اختیار کر لی اور برھم چاری ہوگئے۔ اسی کے بعد انہیں سیاسی میدان میں شہرت ملی اور عوام میں مقبولیت حاصل کر کے باپو کہلائے۔

220px-Gandhi_and_Kasturbhai_1902

اسی طرح جواہر لعل نہرو کی اہلیہ کملا نہرو، 1936ء میں انتقال کر گئیں جب جواہر لعل کی عمر 53 سال تھی۔ یوں انہوں نے اپنی زندگی کے بقیہ 28 سال اپنی اہلیہ کے بغیر لیکن شہرت اور مقبولیت کے ساتھ گزارے۔

Jawaharlal_Nehru_with_Kamala_Nehru_after_marriage,_standing_outside_the_wedding_camp

نہرو کی صاحبزادی اندرا گاندھی، فیروز گاندھی سے 1942ء میں رشتہ ازدوج میں بندھی تھیں لیکن صرف بارہ سال ان کے ساتھ رہیں۔ اپنے شوہر فیروز گاندھی کے انتقال تک وہ اپنے والد نہرو کے ساتھ تین مورتی بھون میں رہیں اور فیروز گاندھی نے ممبر پارلیمنٹ کے بنگلہ میں 1960ء تک اکیلی زندگی گذاری۔ فیروز گاندھی سے علیحدگی کا زمانہ تھا جب وہ کانگرس کی صدر منتخب ہوئیں اور تیزی سے اقتدار کی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی 1966ء میں وزارت اعظمیٰ کے عہدہ تک پہنچیں۔ اپنے سکھ محافظ کے ہاتھوں قتل سے پہلے اندرا گاندھی نے 29 سال غیر شادی شدہ زندگی گزاری۔

feroze-gandhi-reuters

اسی طرح مرار جی دیسائی نے بمبئی کے وزیر اعلیٰ، ہندوستان کے وزیر خزانہ اور آخر میں وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز رہے، اپنی نوے سالہ زندگی کا بیشتر حصہ اپنی اہلیہ جگرابین کے بغیر گزارا۔

ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جن کی جشودا بین کے ساتھ سولہ سال کی عمر میں 1968ء میں شادی ہوئی تھی، تھوڑے دن بعد ہی اپنی بیوی کو چھوڑ کر ہمالیہ میں سنیاس لے لیا۔اس کے بعد سے وہ برہم چاری کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ان کی شادی کا راز 2014ء میں اس وقت کھلا جب عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت ان سے سوال کیا گیا تھا کہ آیا ان کی شادی ہوئی ہے، اس وقت انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ان کی 36 سال پہلے شادی ہوئی تھی لیکن وہ اپنی اہلیہ سے علیحدہ رہے ہیں۔

maxresdefault

پاکستان میں چونکہ مذہبی عقیدہ کے مطابق ازدواجی زندگی کی بڑی اہمیت ہے اس لئے شادی شدہ سیاسی رہنما عوام میں زیادہ مقبول ہیں۔ پاکستان کے شادی شدہ سیاست دانوں کے مقابلہ میں ہندوستان کے مشہور سیاسی رہنما، بھر پور ازدواجی زندگی سے محروم رہے ہیں اور چونکہ ہندو مذہب میں سنیاسیوں، جوگیوں اور برہم چاریوں کی بے حد عزت کی جاتی ہے اور احترام کیا جاتا ہے اس لئے ان سیاست دانوں کو وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جن کی زندگی جوگیوں اور برہم چاریوں ایسی ہو۔ نریندر مودی کا دعویٰ ہے کہ وہ چونکہ ازداوجی زندگی کی ذمہ داریوں کے جال سے آزاد رہے ہیں اس لئے وہ با آسانی کرپشن سے پاک رہے ہیں۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    بہت خوب۔ بہت مزے کا تجزیہ کیا ہے اور عمران خان کی شادی کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔

  2. آصف جیلانی کہتے ہیں

    شکریہ اویس احمد صاحب۔ ہندوستان کے ایک اور جوگی سیاست دان اٹل بہاری واجپا ئی کا ذکر رہ گیا جنہوں نے اب تک شادی نہیں کی۔

    1. awa کہتے ہیں

      کوئی بات نہیں سر۔ اتنے بھی کافی ہیں۔ مطلب تو واضح ہو ہی گیا ہے۔ کیونکہ لیڈر تو کافی ہیں جو فارغ الزوجہ ہیں۔

  3. Saif کہتے ہیں

    Article was informative but title is abusive and that too appearing on front page. Don’t know how you correlated the title with contents of article.

تبصرے بند ہیں.