وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

1,461

تعلیمی اداروں کا اصل حسن ان کی علمی، تخلیقی، تحقیقی، جسمانی اور تفریحی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ تقریری مقابلوں، مباحثوں اور مکالموں سے نوجوان نسل اپنے مسائل سمجھنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوتی ہے۔ جیت کی لذت اور ہار کی شدت ان کے جواں جذبوں کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہے۔

ایک دورتھا جب درسگاہوں میں ہر قسم کی تحریری اور تقریری سرگرمیاں ہوتی تھیں۔ قومی اور ملی تقریبات کے ساتھ ساتھ مصوری اور خطاطی کے مقابلے، تصویری نمائشیں، کتاب میلے، بیت بازی، مشاعرے، موسیقی کی محفلیں، کٹ پتلی تماشے اور ڈرامے سال بھر جاری رہتے۔ خصوصاً گرلز کالجز میں مینا بازار سجتے، برائیڈل، میوزیکل اور میجیکل شو ہوتے۔ بڑے اداروں میں گلبانی، چمن آرائی اور آرائشِ گل کا اہتمام ہوتا۔ یہ ادارے تہذیبی تربیت کا گہوارہ ہوا کرتے تھے لیکن چار دہائیاں پہلے خطے کے سیاسی حالات نے ان سرگرمیوں کو قومی اور ملی تقریبات تک محدود کر دیا۔ دس سال پہلے حکومت نے اس کمی کو شدت سے محسوس کیا اور ہر سال یوتھ فیسٹیول منانے کا فیصلہ کیا۔ مباحثے، تقریری مقابلے، مضمون نویسی، حُسنِ قرأت، نعت خوانی، شاعری، گائیکی اور خطاطی کے مقابلے ہوئے۔ پھر ملک کو دہشت گردی نے آ لیا اور ہر قسم کی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئیں۔ رہی سہی کسر سمارٹ فونز نے نکال دی۔ ایوان سنسان، میدان ویران اور کتب خانے خالی  ہو گئے۔ اب  پھر ماحول نے کروٹ لی ہے اور چمن میں تازہ کونپلیں پھوٹنے لگی ہیں۔ جس کی ایک جھلک گورنمنٹ ڈگری کالج فار گرلز کی ہفت روزہ تقریبات میں دیکھنے میں آئیں۔

DSC_0036

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کہوٹہ کا شمار تحصیل کے اوّلین اداروں میں ہوتا ہے۔ جو بابا کھیم سنگھ بیدی نے انیسویں صدی کے اواخر میں خالصہ پرائمری اسکول کے نام سے کھولا۔ سن سینتالیس میں سکول بند ہو گیا۔ 1982 میں اس میں انٹر کالج برائے خواتین کی منظوری ہوئی اور 1996 میں اسے ڈگری کالج کا درجہ دے دیا گیا۔ 2013ء میں اس حلقے کے ایم این اے اور موجودہ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے اس ادارے میں خصوصی دلچسپی لینی شروع کی۔ تین منزلہ سائنس بلاک کی نئی عمارت تعمیر ہوئی، کالج لائبریری اور مختلف لیبز کو اپ گریڈ کیا گیا، کالج کا میرٹ بہتر بنایا گیا، نوخیز تصورات اور مذاقِ لطیف کی پرورش کے لیے کالج نے اپنا میگزین ردائےعلم کے نام سے نکالا۔ طالبات کی تعداد بتدریج بڑھتے ہوئے اس سال 900 تک پہنچ چکی ہے۔ پچھلے سال پنجاب یونیورسٹی کے بی ایس سی کے امتحان میں اس کالج کی طالبہ مریم جبیں نے تحصیل بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور کالج انتظامیہ اگلے ماہ کالج کے پہلے کانوکیشن کا اہتمام کرنے جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ادارے نے اپنی بے رنگ روایات کی تجدید کی ٹھانی اور عزمِ نو سے جنوری کے آخری ہفتے میں ہفت روزہ تقریبات منعقد کیں۔

تقریبات میں شرکت کے لیے مہمان کالج پہنچے تو طالبات کے بینڈ نے استقبالیہ دھنوں سے استقبال کیا۔ ڈھم ڈھم کی آوازیں مرد ڈھولچیوں سے منسوب ہیں۔ یہ نسائی لطافت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ان کا ساز تو ڈھولکی ہے۔

DSC_0008

بینڈ مارچ کرتا ہوا مہمانوں کو پنڈال تک لے گیا جہاں نیلے آسمان تلے تین منزلہ بلڈنگ کے حصار میں کالج کی طالبات جنوری کی سرمست دھوپ میں بیٹھی تھیں۔ تقریبات کے لیے اس سے اچھا موسم شاید کوئی نہ ہو۔ نیلا آسمان، مہربان دھوپ، انگڑائی لیتی بہار، دلکش سٹیج، قطار اندر قطار بیٹھی طالبات۔ آج اردو مباحثے کا اہتمام تھا۔ مباحثے سے قبل ہی ماحول قرارد داد کی حمایت کا اعلان کر رہا تھا کہ وجودِ زن سے ہے تصویرِ کا کائنات میں رنگ۔ چٹانوں کے دامن میں واقع کہوٹہ میں ابلتے چشمے کی جل ترنگ  اور جھرنوں کی گنگناہٹ سے ہم سالہاسال سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ آج امڈتی آبشاروں کی صداؤں پر تکلم قربان ہو گیا۔ مہمانانِ خصوصی میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین سکستھ روڈ، سیٹلائٹ ٹاون، راولپنڈی کی سابق پرنسپل میڈم رفعت ناہید اور ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز(پنڈی ڈویژن) پروفیسر شیر احمد ستی تھے۔ اس موقع پر پروفیسر عارف جاوید خان نے لطیف گفتگو سے ماحول کو کشتِ زعفران بنا دیا۔

DSC_0088

تقریب کے بعد ظہرانے کے لیے جانے لگا تو کالج کے درو دیوار کو دیکھ کر رشک آ رہا تھا۔ کسی دیوار پر کچھ نہیں لکھا تھا اگر یہ بوائز کالج ہوتا تو دیواروں پر تو کیا درختوں پر بھی نام لکھے ہوتے۔ بلکہ یہ لائبریری کی کتابوں تک کو نہیں بخشتے۔

اگلے دن پنجابی تقریری مقابلہ ”عقل نہ ہووے تے موجاں ہی موجاں” پر دھماکہ دار  تقریری اور اس کے بعد وطن پر پوئٹری کا مقابلہ ہوا ۔۔۔ مہمانوں میں گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ کے پرنسپل پروفیسر عبدالمنعم شامل تھے۔ تقریب کے آخر میں مہمان شعرا نے کلام پیش کیا ۔۔۔ پیس پوئٹ پروفیسر محمد شناذر کی شاعری کے درد انگیز تاثر، حسن ظہیر راجہ کا جذبوں کے والہانہ  اظہار اور جاوید احمد کے شعری ترنم  کو طالبات سراہا رہی تھیں اور میں چشمِ تصور سے دیکھ رہا تھا کہ اگلی مرتبہ یہ سلسلہ ڈسٹرکٹ سے ڈویژن تک پھیل گیا ہے۔ دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ پہاڑی پوٹھوہاری کی شیرینی بھی ماحول میں گھلی ہوئی ہے۔ روایتی چوڑیاں، ڈھولکیاں، چھاج، چرخے سے کالج کی دیواریں سجی ہوئی ہیں۔ وزیرِ اعظم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہو چکے ہیں اور اپنے خواب کی تعبیر حیرت افزا مسرت سے دیکھ رہے ہیں۔

ان مباحثوں اور تقریری مقابلوں میں ضلع راولپنڈی کے طالبات کے بہت سے کالجز نے حصہ لیا۔ مجموعی طور پر پہلی پوزیشن خیابانِ سر سید کالج راولپنڈی، دوسرے نمبر پر گورنمنٹ کالج برائے خواتیں بی بلاک، راولپنڈی اور تیسری پوزیشن کورنمنٹ کالج برائے خواتین مری روڈ راولپنڈی نے حاصل کی۔

DSC_0178

DSC_0197

ہفتہ 28 جنوری کو ہفت روزہ تقریبات اپنی پوری آب و تاب کو پہنچ گئیں۔ رنگا رنگ فن فیئر نے کالج میں رنگ و نور کی کہکشائیں بکھیردیں۔ جھلملاتے پہناؤں، نت نئی ڈشز، موسیقی، ڈھول کی تھاپ پر رقص، گیمز اور مختلف سٹالز جن میں جیولری، میک اپ کا سامان، مہندی ۔۔۔ طالبات کی پسند کی ایک سے ایک چیز تھی۔ آج کا دن ان کی زندگی کے یادگار دنوں میں سے ایک تھا۔ پرنسپل صاحبہ نے اپنے سٹاف کے جذبے اور ویژن کو سراہا جس کے باعث نسلِ نو کے ذوق کی تسکین  ہو سکی۔

DSC_0200

اس سنگلاخ دھرتی کی مٹی میں سنگریزوں کی کثرت ہے۔ اگر تھوڑی سی محنت کی جائے تو یہ سونے کی طرح چمکنے لگتے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ وسائل نہیں بلکہ مثبت سوچ اور تعاون کی کمی ہے۔ اگر کالج کی ترقی کے لئے حکومتی ادارے کالج انتظامیہ سے تعاون کریں تو یہ ایک مثالی ادارہ بن سکتا ہے۔

دو دن سپورٹس کے لیے وقت تھے۔ صرف انڈور گیمز ہی ہو سکیں۔ ایک سو بیس سال پہلے پرائمری اسکول کے لیے جو رقبہ مختص کیا گیا تھا اب اس سے بھی کم رقبہ ہے۔ کالج سے ملحق پنجاب گورنمنٹ کا کافی بڑا پلاٹ تجاوزات کی زد میں ہے۔ اگر یہ جگہ کالج کو الاٹ کر دی جائے تو گراونڈ کی کمی پوری ہو سکتی ہے۔

 

مصنف اردو گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں لیکچرار ہیں۔ اس کے علاوہ صدر کہوٹہ لٹریری سوسائٹی بھی ہیں۔ سابق مدیر کالج میگزین امکان۔ ادب، سیاحت اور تاریخ سے خصوصی لگاؤ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.