تماشا

7,326

چند دن پہلے کا ذکر ہے. ہالینڈ سے آئے ایک دوست کو ہندوستان تک پہنچانے کے لیئے واہگہ کی سرحد تک جانا ہوا۔ مجھے کئی بار یہ جگہ دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے مگر غروبِ آفتاب سے پہلے پرچم اُتارنے کی تقریب جس کے لیے واہگہ کی سرحد مشہور ہے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ سرحد سہ پہر ساڑھے تین بجے مسافروں کے لیے بند کر دی جاتی ہے۔ چنانچہ اس سے پہلے پہلے دوست کو رخصت کر کے ہم تقریب دیکھنے کے لیے سیڑھیوں پر جا بیٹھے۔ لاؤڈ سپیکر پر نہایت بلند آواز میں قرآنِ کریم کی تلاوت چل رہی تھی۔

آج سے کچھ سال پہلے تک ہندوستان کی طرف کی سرحد بہت سادہ تھی۔ لوہے کے جنگلے کے پیچھے ایک سادہ سا دروازہ تھا جس ہر مہاتما گاندھی کی تصویر ہوا کرتی تھی۔ لوگوں کے بیٹھنے کے لیئے جگہ بھی کم تھی۔ پاکستان کی طرف کی سرحد اس کے مقابلے میں بہت شاندار تھی۔ عالمگیری دروازے کی طرز پر ایک بلند دروازہ اور تھیٹر نما سیڑھیاں لوگوں کے بیٹھنے کے لیے تھیں۔ اب ہندوستان نے اپنی طرف پاکستان سے کہیں زیادہ شاندار اوپن ائیر تھیٹر تعمیر کیا ہے جس پر جے پور طرز کے گلابی اور سنہرے گنبد ہیں۔ پاکستان کی طرف یہ تبدیلی آئی ہے کہ آسمان میں چھید کرتا ہوا ایک بے حد بلند پرچم کھڑا کیا گیا ہے جو ہندوستان کی طرف دور دور تک نظر آتا ہوگا۔ آہستہ آہستہ دونوں طرف لوگوں کا ہجوم بڑھ رہا تھا اور دونوں ہی طرف کان کے پردے پھاڑ دینے والے لاؤڈ سپیکرز پر فلک شگاف قومی نغمے چل رہے تھے۔ ان میں سے کوئی ایک نغمہ بھی خوبصورت اور دل کو چھو لینے والا نہیں تھا۔ حیرت ہے پاکستان کے پاس ایک سے ایک دلکش ملّی نغموں کا خزانہ بھرا پڑا ہے مگر اس تقریب کے لیئے بالکل بیکار نغمے چل رہے تھے جن میں شور کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ آواز اتنی اونچی تھی کہ دوسری طرف سے کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ یہ ایک مقابلے کی صورت تھی۔ مجھے اشتیاق تھا کہ دیکھیں اُس طرف کونسے نغمے چل رہے ہیں۔ دو گانوں کے بیچ چند سیکنڈ کے وقفے میں جو آواز وہاں سے آئی اس سے یہی اندازہ ہوا کہ اُن کے گانے بھی اسی قدر بے ہودہ تھے۔

تھوڑی دیر بعد چودہ پندرہ برس کا ایک لڑکا سڑک کے بیچ میں آ کر گانوں پر ناچنے لگا۔ ایک معذور شخص جس نے پاکستانی پرچم کے رنگوں کا جھولدار لباس پہن رکھا تھا، ایک ہاتھ میں بیساکھی اور دوسرے میں پرچم تھامے ایک ٹانگ پر اُچھلتا ہوا مجمعے کے سامنے آیا اور ایک دائرے میں رقص کرنے لگا۔ دو چار cheer leaders بھی تھےجو نعرے لگوا رہے تھے اور مجمعے کو گرما رہے تھے۔ تقریب کے بعد یہ سب نکلتے ہوئے ہجوم سے بخشش پانے کے لیے ایک طرف کھڑے نظر آئے۔ نغمے روک کر لاؤڈ سپیکر سے اُسی بلند آواز میں اذان نشر کی گئی۔ خواتین نے سر ڈھانپ لیے۔ اذان ختم ہوئی تو دوپٹے واپس کندھوں پر چلے گئے، نماز کے لیئے کوئی نہیں اُٹھا اور نعرے بازی دوبارہ شروع ہوگئی۔ اعلان ہوا کہ کسی بھی قسم کے سیاسی اور نفرت انگیز نعرے لگانے کی سخت ممانعت ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ لاؤڈ سپیکر پر نعرے بازی شروع ہوئی اور سڑک پر ڈھول بجنے لگا۔ سیاہ وردیوں میں ملبوس اونچے شملے سروں پر سجائے سرحد کے محافظ حرکت میں آئے۔ پریڈ کرتے ہوئے ان کے جوتے کی نوک پیشانی تک جاتی تھی اور ایڑھیوں کے زمین پر لگنے سے آواز پیدا ہوتی تھی۔ ہندوستان کے محافظوں کی بھی کم و پیش یہی حالت تھی۔ ان کے شملے کیسری اور وردیاں خاکی تھیں۔ دونوں طرف کے جوان پریڈ کرتے ہوئے سرحد تک جاتے۔ پھر ان میں سے کوئی عجیب و غریب طریقے سے آنکھیں نکال کر اور بازو اکڑا کر دوسری طرف دیکھتا۔ کچھ دیر میں محافظوں نے اپنی جگہیں سنبھالیں، بگل بجا اور جھنڈے اُتارے جانے لگے۔ پرچم اُتر گیا تو اسے بڑے میکانکی انداز میں تہ کیا گیا اور ایک محافظ نہایت ادب کے ساتھ اسے اپنے ساتھ لے آیا۔ تقریب ختم ہوئی اور مجھے گہری سوچوں میں گُم چھوڑ گئی۔

اس ساری کارروائی سے جو لوگ محظوظ ہوتے ہیں یا جن کی تخلیقی سوچ کا یہ شاخسانہ ہے، اُن سے نہایت ادب سے میرے چند سوال ہیں:

اس قدر بلند اور چیختی چنگھاڑتی ہوئی آواز میں ہم تلاوت اور اذان کس کو سنا رہے ہیں؟ ہندوستان والوں کو؟ اوّل تو یہ کہ وہ سماعتیں جو ان کی تقدیس سے نا آشنا ہیں، انہیں یہ پاک کلمات زبردستی سنوا کر ہم خود ان کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ دوسری طرف سے کسی بھجن، اشلوک وغیرہ کی آواز نہیں آئی۔ دوم اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر کے کیا ہم ان مقدس کلمات کی توہین نہیں کر رہے؟

یہ کیا تماشا ہے؟ یہ مجمع، شور شرابا، نعرے بازی، ڈھول تاشے، یہ سب کس لیے ہے؟ کیا حبّ الوطنی کے اظہار کے یہی طریقے ہیں؟ کیا دشمن پر دھاک اسی طرح بٹھائی جاتی ہے؟

آفرین ہے ان دونوں ملکوں پر جن کے عوام ستّر برس سے اپنی قسمت کے جاگنے کے منتظر ہیں۔ جہاں غُربت ایک بھوکے بھیڑیے کی طرح انسان کے درپے رہتی ہے اور حکومتیں عام آدمی کو اسی طرح کے کھیل تماشوں اور جہالت میں اُلجھائے رکھتی ہیں۔ گلے پھاڑ پھاڑ کر اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے والے وہی عام پاکستانی تھے جن کی اکثریت ان نعروں کی معنویت سے ناواقف ہے، جہالت میں بھٹکتی ہے اور جینےکا سلیقہ نہیں رکھتی۔ وطن اور دین کے نعروں کے ساتھ ساتھ اوچھے مذاق، گالیاں، عورتوں کو تاڑنا اور فقرے کسنا بھی چل رہا تھا۔ واہگہ کی سرحد پہ ہر شام ہندوستان، پاکستان کے کروڑ ہا غریب عوام کی تقدیر کا سورج ڈوبتا ہے۔

تہذیب یافتہ ممالک میں سرحدیں اس طرح سے نہیں ہوا کرتیں۔ کینیڈا اور امریکہ کی سرحد پر بنے گھروں کے باورچی خانے اور غسل خانے ایک ملک میں اور بیٹھنے اور سونے کے کمرے دوسرے ملک میں ہوتے ہیں۔ یورپ میں بھی یہی عالم ہے۔ میری نظر سے ایک تصویر گزری جس میں سرحد پر بنا ایک ریسٹورنٹ دکھایا گیا تھا۔ فرش پر ایک لکیر کھنچی تھی۔ ایک طرف آسٹریا اور دوسری طرف جرمنی لکھا تھا۔ پوری دنیا میں سرحدیں، سرحدیں ہی رہتی ہیں، انہیں تماشا گاہ نہیں بنایا جاتا۔

چاہیئے تو یہ کہ ان تماشوں اور کھوکھلے جذبات کے دکھاوے کے بجائے دونوں ملکوں کی طرف سے اُن مظلوموں کی یاد میں ایک یادگار بنائی جائے جنہوں نے سنہ 1947ء کے ہنگاموں میں اپنی جانیں گنوائیں اور وہ لاکھوں لوگ جو بے گھر اور بے وطن ہوئے اور پھر انہیں مکان تو میسّر آئے مگر گھر کبھی نصیب نہیں ہوئے۔ اُن کے نظر نہ آنے والے زخم کبھی نہیں بھرے۔ یہ کھیل تماشے اور کھوکھلے نعرے سب نظر کا دھوکہ اور روح کی مردنی ہے۔ آج کا غم تو یہ ہے کہ بقول فیض

زرد پتّوں کا بن جو میرا دیس ہے
درد کی انجمن جو میرا دیس ہے۔۔۔۔

مصنف پنجاب یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز ہیں اور ادب اور ثقافت پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

7 تبصرے

  1. habib کہتے ہیں

    sorry to say,
    mayllay , social actives
    patang bazii , street cricket , all gone , ( how its gone ……….. need understand our social loss)
    results , kasur cases all round country…….. human ———-

    now some kind of nationalism is remaining in 80 % poor people of pakistan… now its going to killing by rich leaders,
    we must be understand who world want to alive these kind of values in there peoples for remain a nation.

    try to respect national values if you need any internationally your respect as a student of international study
    every where our introduction is always remaining where from you are ………
    maa or mulak aak hi jesay hotey hai ————-
    aaj mulak ki barri hai ——— next mother too ?

  2. ijaz khan کہتے ہیں

    Sir for the first time i read a wise man writing about this non sense activity at border. it is heart touching article. but we all have deaf ears. it is rather a stupid activity at for eating money from tourist.

  3. میاں حامد کہتے ہیں

    جناب ہارون اشرف صاحب السلام علیکم،
    یہ بڑی اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے لوگ، اب روز مرہ نظر آنے والے واقعات پر قلم اٹھا رہے ہیں۔ آپ نے اچھے طریقے سےایک معاشرتی تضاد کو عیاں کیا ہے۔ (وطن اور دین کے نعروں کے ساتھ ساتھ اوچھے مذاق، گالیاں، عورتوں کو تاڑنا اور فقرے کسنا بھی چل رہا تھا۔)
    میرے گزارش آپ سے اور دیگر صاحبان فکر و قلم سے یہ ہے کہ ہمیں، ان معاشرتی تضادات اور مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ انکے حل پر بھی بات کرنی چاہئے۔
    میرے خیال میں آپ کا یہ تجزیہ ایک ایسی معاشرتی بیماری کی نشاندہی کرتا ہے جس کا نام منافقت ہے۔ اس قسم کے کردار کے ساتھ شائد ہم ترقی تو درکنار، قائم بھی نہ رہ پائیں۔ عوام کی کردار سازی اور انکو یہ باور کرانا کہ اصل انسان وہی ہے جس کا کردار کچھ اصولوں اور ضوابط کا پابند ہو؛ بہت ضروری ہے۔ امید کرتا ہوں کہ آپ کا خوبصورت قلم اس موضوع پر ضرور شاہسواری کرے گا۔

  4. واجد علی کہتے ہیں

    آپ کا کالم اور تاجزیہ بھترین تھا پڑھ کر اچھا لگا شکریہ

  5. Muhammad Afzal کہتے ہیں

    Hamara masla ye he ke yaha jo char jamatay parh jata he apne aap ko sheikhspair samajna shuru ker leta he. Mazrat ke sath aap jese logo ko azadi ki qadar nahi he. Ye ap un logo se poocho jinho ne ye watan hasil krne ke liye qurbania di. Hamary abao ajdad ne apne gar baar choray he aur apne bhai behno ko apni ankho ke samne Qatal hote dekha he. Yehi wo jazba he jis ki waja se Ham border per akar kar un ki ankho me ankhe daal ker khare hote he. Aur hamari is hubbulwatni ko criticise krne walo agar Pakistan na bana hota to aap kissi hindo wakeel ke kuttay nehla rahe hotay.

  6. Malik کہتے ہیں

    Aur Jin sahiban ko ye activity pasand nhi wo border per Kia mango lene jata he. Jisko nahi dekhna wo apni ankhe aur moo band rakhe.

  7. mansooruddin faridi کہتے ہیں

    SALUTE TO YOU..BAHUT SHAANDAAR,LAJAWAB TEHREER,AAYENA DEKHA DIYA.AISA PAIGHAM HAI JO DONO MUMALIK KE JAHILON KE LIYE HAI..UN KE LIYE BHI JO JAZBAAT KO SIYAASI MAIDAAN MAIN BHUNATE HAIN…SIRF YEH KEH SAKTA HOON KI…بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دید اور پیدا

تبصرے بند ہیں.