پدماوتی کے بعد اب جھانسی کی رانی کے خلاف معرکہ

2,955

ہندوستان میں فرقہ پرستی نے اب مذہب کی حدود سے نکل کر قبیلوں اور برادریوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ پچھلے سال پدماوتی فلم کے خلاف راجپوتوں کی کرنی سینا نے قیامت ڈھا دی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ فلم میں راجپوت ملکہ اور ہندوستان کے بادشاہ علائو الدین خلجی کے درمیان عشق دکھا کر راجپوتوں کی توہین کی گئی ہے۔ کرنی سینا نے، خود سوزی اور فلم دکھانے والے سنیما گھروں کو آگ لگانے کی دھمکی دی تھی۔ آخر کار فلم کا نام پدماوتی سے بدل کر پدماوت کر دیا گیا اور اس طرح اس آگ کو ٹھنڈا کیا گیا اور فلم کو نمائش کی اجازت ملی۔

اب برہمنوں کی تنظیم برہمن مہا سبھا نے جھانسی کی رانی کے بارے میں فلم ”مانی کرنیکا” پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے اور اسے برہمن جھانسی کی رانی لکشمی بائی، مانی کرنیکا کی توہین قرار دیا ہے۔ فلم میں جھانسی کی رانی کی شجاعت اور وطن کی آزادی کی خاطر انگریزوں کی فوج سے لڑائی پر اعتراض نہیں، اعتراض اس پر ہے کہ فلم میں جھانسی کی رانی کو ایک انگریز میجر رابرٹ ایلس سے عشق میں گرفتار دکھایا گیا ہے اور وہ بھی ناکام عشق۔

k-1

برہمن اس پر ناراض ہیں کہ یہ فلم، برطانیہ میں مقیم ایک ہندوستانی ناول نگار خاتون، جے شری مصرا کے اُس ناول پر مبنی ہے جس پر ہندوستان میں 2008 پابندی عاید کردی گئی تھی۔ گو جے شری مصرا کا اصرار ہے کہ ناول میں جھانسی کی رانی کوایسے پیش نہیں کیا گیا جس پر قومی جذبات کو ٹھیس پہنچے لیکن برہمن مہا سبھا کا استدلال ہے کہ اس ناول سے برہمنوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ وہ اس بات پر بھی سخت ناراض ہیں کہ ناول میں کہا گیا ہے کہ جھانسی کی رانی نے بڑی تعداد میں انگریزوں اور ان کے بیوی بچوں کو ہلاک کیا تھا۔

kangna1_inside_02061_020718022736

جہاں تک پدماوتی فلم پر تنازعہ کا تعلق ہے تو تاریخی اعتبار سے پدماوتی کی شخصیت متنازعہ مانی جاتی ہے لیکن جھانسی کی رانی کی تاریخی حیثیت مسلم ہے جس نے 1857کی آزادی کی پہلی جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا اور آج بھی ہندوستان کے بچے بچے کی زبان پر اس کی شان میں یہ گیت عام ہے۔ ”خوب لڑی مردانی وہ، جو جھانسی والی رانی تھی۔” لکشمی بائی جھانسی کی رانی کی بہادری اور شجاعت کے واقعات ہندوستان کی تاریخ کے صفحات میں اب بھی روشن ہیں۔

جھانسی کی رانی 1828میں بنارس کے برہمن گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ پیدائشی نام، مانی کرنیکا، یا مانو بائی، رانی لکشمی بائی تھا۔ تاریخ میں شہرت انہوں نے1842 میں جھانسی کے مہاراجہ گھندر رائو سے شادی کے بعد لکشمی بائی کے نام سے حاصل کی۔ وطن کی آزادی کے لئے لڑنے والی پہلی خاتون کی حیثیت سے شہرت، رانی جھانسی نے اس وقت حاصل کی جب انہوں نے  1857میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔

100h

ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف بغاوت کی بنیادی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جھانسی کی رانی کے شوہر مہاراجہ کے 1853میں انتقال کے بعد اس کا کوئی حقیقی وارث نہیں تھا اس بناء پر انگریزوں نے جھانسی کی ریاست ضبط کر لی۔ مہاراجہ سے جھانسی کی رانی کا ایک بیٹا ہوا تھا جو چار مہینے بعد ہی فوت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد مہاراجہ نے اپنے کزن کے بیٹے کو لے پالک لے لیا تھا لیکن انگریزوں نے اسے ریاست کا حقیقی وارث تسلیم نہیں کیا۔

ایک عرصہ تک تاریخ دانوں میں یہ تنازعہ رہا کہ آیا 1857میں جھانسی کی رانی کی انگریزوں کے خلاف لڑائی قوم پرست شورش تھی یا جھانسی کی ریاست پر اپنا حق منوانے کے لئے ذاتی جدوجہد تھی۔ لیکن جو بھی حقیقت ہو اس میں یہ شبہ نہیں کہ 1857کی جنگ آزادی میں جھانسی کی رانی کا اہم کردار تھا جنہوں نے پورے ملک میں قوم پرستی اور وطن کی آزادی کا بے مثال جذبہ بیدار کیا۔

Manikarnika-The-Queen-of-Jhansi-Movie-Official-Theatrical-Posters-1021x482

ایک روایت ہے کہ اس وقت جب انگریزوں کی فوج نے جھانسی کی رانی کے قلعہ کو گھیر لیا تھا تو انہوں نے اپنی پیٹھ پر اپنے لے پالک بیٹے کو بٹھا کر اپنے چہیتے گھوڑے بادل پر سوار ہو کر قلعہ کی چھت سے نیچے چھلانگ لگائی۔ گھوڑا تو مر گیا لیکن رانی اور ان کا بیٹا زندہ بچ گئے جو اپنے مسلم محافظوں، کمانڈر خدا بخش، بشارت علی اور غلام غوث کے پہرے میں کلپی فرار ہوگئے۔ جہاں رانی کے ساتھی، تانتیا توپے اور نواب آف بندہ ان سے آن ملے اور گوالیار منتقل ہوگئے جہاں انگریزوں کی فوج سے کئی روز تک گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ اسی لڑائی میں پھول باغ کے علاقہ میں جھانسی کی رانی شدید زخمی ہوگئیں۔ رانی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان کی موت کے بعد ان کی لاش کو نذر آتش کر دیا جائے تاکہ ان کی لاش انگریزوں کے ہاتھ نہ آسکے۔ غرض مئی 1857سے جون1858تک جھانسی کی رانی نے گوالیار اور جھانسی کے قلعوں میں انگریزوں کے خلاف ڈٹ کر معرکے لڑے اور جان دے دی۔

”مانی کرنیکا، جھانسی کی رانی” کے نام سے یہ فلم جس پر ہنگامہ ہے، ہندی فلم ڈائریکٹر رادھا کرشن جگرالامودی نے پچھلے سال اس کی شوٹنگ شروع کی تھی اور توقع ہے کہ اپریل میں یہ فلم ریلیز ہوگی۔ اس فلم میں کنگنا رانوت جھانسی کی رانی کا رول ادا کررہی ہیں۔

padmavati_kangana

اب دیکھنا یہ ہے کہ جھانسی کی رانی فلم پر احتجاج کرنے والے برہمن، پدماوتی کے خلاف آگ بھڑکانے والے راجپوتوں سے سبقت لے جاتے ہیں یا نہیں۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Mahmood Ahmad کہتے ہیں

    Shahndar mazmoon

  2. رضاعلی کہتے ہیں

    آپ نے پدماوتی کے بارے میں جو تاریخی کہا ہے تو اس کا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    یہ ایک دیو مالائی کہانی ہے جو سولہویں صدی میں ملک محمد جائسی نے لکھی تھی
    پلیز نوٹ کر لیں

تبصرے بند ہیں.