جب میں نے موت کی آخری ہچکی دیکھی

2,377

میرے جیسے نوجوان کا شمار ان نوجوانوں کی فہرست میں ہوتا ہوگا جو زندگی کی تلخ حقیقتوں کے بارے ذرہ بھر آگاہی نہیں چاہتے، جو اپنی زندگی صرف اپنے ڈھنگ سے جینا چاہتے ہیں، ایسے انداز میں جینا چاہتے ہیں جو سب سے الگ ہو مگر زندگی ہے کہ بار بار ہمیں مکتبِ وقت کا طالب علم بنانے پر تلی ہوئی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ زندگی میں کسی انسان کا سب سے بڑا استاد وقت ہوتا ہے جس کے سبق انسان مرتے دم تک نہیں بھول پاتا، کسی بھی  انسان کے پاس اس استاد کی پہنچ سے راہ فرار ہے ہی نہیں۔

مگر کہیں نہ کہیں انسانوں کی بھیڑ میں کچھ ایسے افراد بھی  موجود ہیں جو اس استاد کو بہت ناپسند کرتے ہیں اور اس کے اسباق سے روگردانی کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور پھر وہی ہوتا ہے جو سب کو معلوم ہے۔

استاد کا ڈنڈا چلتا ہے اور سرکش طالب علم پٹتا ہے۔ ان پٹنے والے طالب علموں میں میرا نام بھی شامل ہے۔ یہ وہ مکتب ہے جہاں ‘مار نہیں پیار‘ کا سرے سے کوئی وجود نہیں۔

چند روز قبل میں زندگی کی ایک نشست میں استاد کے ایک اور سبق کا شکار ہوا ہوں۔ جب میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا، جب کسی کی لالچ کی وجہ سے ایک دلبرداشتہ شخص موت کی آخری ہچکی سے دوچار تھا، میرا وہ عزیز کسی اور کی نہیں بلکہ ‘اپنے’ کی بے رحم لالچ کا شکار ہوا اور میں قریب کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔

جب ایک عزیز کی سانسیں زندگی بھر ساتھ نبھانے کے بعد اچانک دھوکہ دیتے ہوئے اکھڑنے لگیں، آنکھوں کی پتلیاں اس قدر ساکن ہوگئیں کہ جیسے ان میں کبھی حرکت تھی ہی نہیں،  اس لمحے جو اس پر گزر رہی تھی، شائد ہم پاس کھڑے ہوتے ہوئے بھی محسوس نہ کر پائے۔ وہ جو دیکھ رہا تھا، بصارت رکھتے ہوئے بھی وہ ہم نہیں دیکھ پائے۔

اس لمحے کے دوران اس  کا صحت سے بھرپور جسم بھی اس قدر بے جان ہوگیا کہ کندھوں پر اٹھا کر اس مٹی کے سپرد کرنا پڑا جس جگہ سے زندگی میں وہ خود اور نہ ہی ہم واقف تھے۔ موت تو ہر کسی کا مقدر ہے یہ تقدیر کی وہ واحد حقیقی تحریر ہے جس سے ہر انسان واقف ہے۔

اس تمام تر واقعے میں ایک سبق میرے وجود میں سرایت کرگیا۔

زندگی بھر ایک ساتھ رہنے والے، بچپن، جوانی کی ایک ایک ساعت حسین یادوں کو سیمٹتے ہوئے بسر کرنے والے بھی کبھی بھی ایک دوسرے کے اپنے نہیں ہوسکتے۔ کوئی کسی کا اپنا ہو ہی نہیں سکتا۔ بستر مرگ پر علالت کی وجہ سے چلنے پھرنے سے قاصر شخص بھی جب لالچ سے دوچار ہوتا ہے تو کسی اپنے کو ایسا رنج دے بیٹھتا ہے کہ وہ اپنا اسی صدمے سے ہی زندگی کو ہی خیر باد کہہ جاتا ہے۔ یہ لالچ ہی ہے جو ایک شخص کو اتنا بے حس و بے شرم کردیتی ہے کہ وہ شخص کسی اپنے کی میت پر ایک آنسو بہانے کی بھی توفیق کھو بیٹھتا ہے۔

میڈیا میں کام کرتے ہوئے آئے روز کئی ایسی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں جو کم از کم مجھے تو حقیقت سے کوسوں دور معلوم ہوتی تھیں۔ جیسے کہ بھائی ہی بھائی کا قاتل نکلا وغیرہ نوعیت کی خبریں۔ ۔

مگر اب سبق مل چکا ہے کہ سب کچھ ممکن ہے۔ جب انسان کی آنکھوں پر لالچ کا پردہ پڑتا ہے وہ اسی اندھے پن میں کسی بھی گھٹیا حد  کو تجاوز کرنے کی صلاحیت میں آسکتا ہے۔

استاد کا یہ سبق  نہ چاہتے ہوئے بھی مل  تو چکا ہے اور حفظ ہوچکا ہے مگر ساتھ ساتھ اب بھی دل میں  کہیں نہ کہیں یہ خواہش موجود ہے کہ زندگی کچھ ایسا انتظام کردے کہ وقت کے ان تلخ حقائق سے بھرپور اسباق سے جان آزاد ہوجائے۔

مگر شائد ایسا ممکن نہیں ۔ ۔  کیوں ممکن نہیں؟ شائد میرے پاس کوئی راہ فرار نہیں!

نبیل عباس پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے طالب علم ہیں۔ یہ دنیا نیوز سے منسلک ہیں۔ دلچسپ موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.