ٹیل اینڈر کا چھکا

2,269

تماشائیوں کا شور کانوں کے پردے پھاڑرہا تھا۔ اسٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز مد مقابل تھے اور میچ تھا چوتھے ورلڈ کپ کا۔ یہ 16 اکتوبر 1987 کا دن تھا۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو جیت کے لیے 217 رنز کا ہدف دیا تھا۔ پاکستان کی ٹیم اس ورلڈ کپ میں موسٹ فیورٹ قرار دی جا رہی تھی۔ عمران خان اس ورلڈ کپ کو اپنا آخری ورلڈ کپ قرار دے چکے تھے۔ پوری قوم عمران خان کو ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھاتےہوئے دیکھنا چاہتی تھی۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھی اس وقت دنیا کی بہترین ٹیم کہلائی جاتی تھی۔ اس میچ میں فتح ویسٹ انڈیز کو سیمی فائنل میں پہنچا سکتی تھی۔ چناچہ یہ میچ ویسٹ انڈیز کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ پاکستان یہ میچ اس لیے جیتنا چاہتا تھا تاکہ سیمی فائنل میں اسے بھارت سے مقابلہ نہ کرنا پڑے جو دوسرے گروپ میں سر فہرست تھا۔

217 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ ابتدا میں ہی لڑکھڑا گئی اور 110 رنز پر پاکستان کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ کپتان عمران خان کریز پر موجود تھے اور ان کا ساتھ دے رہے تھے وکٹ کیپر سلیم یوسف جو اس وقت تک اپنی بیٹنگ کے حوالے سے بالکل نہیں جانے جاتے تھے۔ جب صرف پندرہ رن جیت کے لیے رہ گئے تو ویسٹ انڈیز کے شہرہ آفاق باؤلر کورٹنی والش نے یکے بعد دیگرے عمران خان اور سلیم یوسف کو آؤٹ کر دیا۔ ایک رن کے اضافے کے بعد 1986 میں شارجہ میں آسٹریلیشیا کپ کے فائنل میں سب سے قیمتی سنگل بنانے والے توصیف احمد بھی رن آؤٹ ہو گئے۔ آخری اوور میں پاکستان کو جیت کے لیے چودہ رنز درکار تھے جب کہ پاکستان کے نو کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔ کریز پر ٹیل اینڈرز سلیم جعفر اور عبدالقادر موجود تھے ۔ آخری اوور ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر کورٹنی والش کو کرنا تھا۔

پہلی گیند پر عبدالقادر نے ایک رن لے لیا۔ دوسری گیند پر سلیم جعفر بھی ایک رن لینے میں کامیاب ہو گئے۔ تیسری گیند پر اوور تھرو کی بدولت دو رنز مزید بن گئے اور اس طرح پہلی تین گیندوں پر پاکستان چار رنز بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ آخری تین گیندوں پر بظاہر ناممکن دکھائی دینے والا دس رنز کا پہاڑ جیسا ہدف سامنے تھا۔ عبدالقادر جنہیں اس میچ میں کوئی وکٹ نہ مل سکی تھی کورٹنی والش کے سامنے تھے۔ کورٹنی والش نے بھاگنا شروع کیا۔ گیند کافی آگے گری۔ عبدالقادر نے اپنی بائیں ٹانگ پیچھے ہٹاتے ہوئے زور سے بلا گھمایا اور گیند باؤنڈری لائن کے اوپر سے پرواز کرتی ہوئی تماشائیوں میں جا گری۔ یہ ایک زوردار چھکا تھا۔ اس چھکے کے ساتھ ہی قذافی اسٹیڈیم میں موجود پاکستانی شائقین کرکٹ دیوانے ہو گئے۔ ہر کسی کا چہرہ جوش سے تمتما رہا تھا۔ پرشور نعرے بلند ہو رہے تھے۔ جیت صرف چار رنز کی دوری پر کھڑی مسکرا رہی تھی۔ پاکستان کے ڈریسنگ روم کے حوصلے بلند ہو چکے تھے۔ چھکا کھانے کے بعد کورٹنی والش کی سٹی گم ہو چکی تھی۔ عبدالقادر نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور آخری دو گیندوں میں مطلوبہ رنز بنا کر ویسٹ انڈیز کے پنجوں سے پاکستان کے لیے ناقابل یقین فتح چھین لی۔ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو ورلڈ کپ سے ناک آؤٹ کر دیا تھا۔

نواز شریف بھی عین اس وقت آؤٹ ہوئے جب ان کی حکومت کا صرف ایک سال باقی رہ گیا تھا۔ ان کے ٹیل اینڈرز اب اسکور کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ لودھراں میں تحریک انصاف نے لائن اور لینگتھ کا خیال رکھے بغیر گیند پھینکی اور مسلم لیگ ن کے امیدوار نے بالکل عبدالقادر کی طرح چھکا لگا کر مسلم لیگ ن کو سیمی فائنل میں پہنچا دیا ہے۔ مگر تحریک انصاف ویسٹ انڈیز کی طرح ورلڈ کپ سے باہر نہیں ہوئی۔ جیسے کرکٹ میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ایسے ہی سیاست میں بھی کچھ کہنا دشوار ہوتا ہے۔ پاکستان کی مضبوط ترین کرکٹ ٹیم اس ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا سے شکست کھا گئی تھی۔ پاکستان کی شکست کا ذمہ دار آسٹریلیا کا صرف ایک کھلاڑی تھا جس کا نام اسٹیو وا تھا۔ اس با کمال کھلاڑی نے اننگز کے آخری اوور میں سلیم جعفر کو اٹھارہ رنز جڑ دئیے اور پاکستان انہی اٹھارہ رنز سے میچ ہار گیا تھا۔

جیسے کرکٹ میں کبھی کبھار صرف ایک کھلاڑی پورے میچ کا پانسہ پلٹ دیتا ہے ایسے ہی سیاست میں بھی بعض اوقات ایک سیاست دان بڑی بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ سیاست میں ایسے کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہےجو کسی بھی وقت کھیل کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب سینیٹ کے انتخابات کی آمد آمد ہے۔ اگر ہم اس کو عام انتخابات سے قبل سیمی فائنل تصور کر لیں تو سینیٹ کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کی پرفارمنس دیکھ کر ہی عام انتخابات میں ان کی ہار یا جیت کے امکانات پر بات کی جا سکے گی۔ سینیٹ کے انتخابات سے قبل بلوچستان حکومت کی تبدیلی معنی خیز ہے۔ مسلم لیگ ن کی صفوں میں بظاہر کوئی دراڑ دکھائی نہیں دے رہی مگر اس بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ نواز شریف کی مزاحمتی سیاست اور مریم نواز کا مسلم لیگ ن میں بڑھتا ہوا اثر کوئی نیا گل بھی کھلا سکتا ہے۔

کرکٹ میں اصل کردار ان کھلاڑیوں کا ہوتا ہے جو میدان میں کھیل رہے ہوتے ہیں۔ آؤٹ ہو کر ڈریسنگ روم میں بیٹھ جانے والے سینیئر کھلاڑی یا کپتان اپنے کھلاڑیوں کو مشورہ یا ہدایت تو دے سکتے ہیں مگر میدان میں حریفوں کا سامنا میدان میں موجود کھلاڑیوں کو ہی کرنا ہوتا ہے۔ اگر انتخابی سیاست کو میدان سمجھا جائے تو نواز شریف آؤٹ ہو کر ڈریسنگ روم لوٹ چکے اور میدان میں شہباز شریف موجود ہیں۔ عمران خان بھی میدان میں ہیں۔ نواز شریف شور شرابا کر سکتے ہیں اور ڈریسنگ روم سے ہدایات جاری کر سکتے ہیں مگر میدان میں شہباز شریف کو ہی کھیلنا ہے۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ شہباز شریف عمران خان کی تیز رفتار گیندوں کا سامنا کر نے کے لیے سیدھے بلے سے کھیلیں گے یا پھر کراس بیٹ شاٹ لگا کر کھیل میں سنسنی پیدا کریں گے۔ میچ ابھی باقی ہے۔

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

7 تبصرے

  1. کاشف احمد کہتے ہیں

    آپ کا تجزیہ بلکل درست ہے پکچر ابھی باقی ہے

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      اب آپ نصرت جاوید صاحب کا آج کا کالم پڑھیں۔ خاص طور سے آخری دو پیراگراف۔

  2. Abdul Majid کہتے ہیں

    Extremely stupid article. Writer has somehow tried to pose as if PTI was winning every election untill lodhran. Dude, come to real life, PTI has something like 30 seats in NA, they have lost almost every by-election since 2013. These days, they are not able to gather 5,000 people in jalsas. PMLN had absolutely no campaign in lodhran, had an unknow candidate. Still the beat them with 25k in lodhran and 40k in chakwal. I don’t know what you smoke.

    Only chance that PTI has is that, PMLN is banned from running in general elections. Even then people would prefer to vote independent candidates rather than PTI.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      I wonder if you read the article with open eyes. I resembled PMLN with Pakistan Cricket Team who was favorite in 1987 World Cup and won 5 our of their 6 pool matches. Where did I say that PTI is doing well in elections? It is all about PMLN.
      In your own words, “PMLN had absolutely no campaign in lodhran, had an unknow candidate. Still the beat them with 25k in Lodhran and 40k in chakwal.” So I wrote the same. An unknown candidate who hit a last ball six and won match for PMLN. Nobody was expecting PMLN victory in Lodhran.
      You should read this article again and then once again to understand and then read again to write a comment.

      Thank you.

      1. Abdul Majid کہتے ہیں

        No need to get personal, dear. PTI of today is no West Indies of 87. They were super-power, PTI is just a little puppy who people born in 80s admire for some ridiculous reasons. Your last paragraph is even worse, who told you that a politician has to be in electoral politics to survive? Did Altaf Hussain ever contested an election? As I have said earlier, You PTI supporters only dream of hidden forces somehow take this whole N league out of the picture.
        Let’s just face it, you have written a stupid article without any logical coherence, so just move on. No need to get personal with random people who comment in this space.

        1. Awais Ahmad کہتے ہیں

          Nawaz Sharif & Altaf Hussain? Are you serious? Do you really believe Nawaz Sharif is Don and running Sicilian Mafia? Nawaz Sharif is a politician and he fights in political field. Being corrupt is another thing but he is not Don. However, I am happy that Nawaz Sharif supporters compares him with Altaf Hussain. Atleast it helps understanding the mindset of PMLN supporters.

  3. جاوید صدیقی کہتے ہیں

    اس سے زیادہ گھٹیا کالم ممکن نہیں ہے. پتہ نہیں کیوں چھاپی جاتی ہیں بے سروپا تحریریں.

تبصرے بند ہیں.