ایم کیو ایم کو استاد جون کی بد دعا ہے

5,745

1992ء میں پاکستان کے بڑے شہر کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے علاقے میں مشاعرہ ہو رہا تھا۔ ملک کے نامی گرامی شعراء حضرات سٹیج پر براجمان تھے۔ اچانک ایک صاحب اپنے باڈی گارڈز کے ساتھ ہال میں داخل ہوتا ہے، ہال میں افراتفری پیدا ہو جاتی ہے اور لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہر بندہ بھائی کو سلام کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہے لیکن ایک شخص اپنی مستی میں مگن بیٹھا رھتا ہے۔ یہ بات بھائی اور اس کے گارڈز کو ناگوار گزرتی ہے کہ اس شہر میں کوئی بندہ ان کو نظر انداز کرنے کی جرات کرے۔ ایک بندہ چیختا ہے، ‘اس حرام زادے کو اٹھا کر باہر پھینک دو۔’ بھائی کے باڈی گارڈز اس باغی شخص پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور یہ مست باغی اپنے جوتے ہال میں چھوڑ کر جاتا ہے۔

ہم بات کر رہے ہیں پاکستان کے نامور شاعر جون ایلیا اور90ء کی دہائی میں کراچی میں دہشت کی علامت سمجھے جانے والے عظیم احمد طارق کی۔ ویسے تو اس عشرے میں ایسے کئی واقعات رونما ہوئے جب متحدہ قومی موومنٹ کے بھائیوں نے شہر کے شرفاء کی چوارہوں کے بیچ میں درگت بنائی لیکن یہ واقعہ ان واقعات سے کچھ مختلف تھا اور اس واقعہ کے بعد حالات پھر کبھی بھی پہلے جیسے نہیں رہے۔ اس واقعہ سے پہلے تک ایم کیو ایم اپنے عروج کی طرف گامزن تھی اور اس کے بعد زوال کا جو سلسلہ شروع ہوا، لگتا ہے اب یہ اپنے آخری مراحل میں ہے۔

معروف شاعر جون ایلیا ویسے تو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں لیکن ان کا ایم کیو ایم کے ساتھ کچھ گہرا رشتہ تھا۔ جون ایلیا کاخاندان جو کہ خود بھارت سے ہجرت کر کے آیا تھا ایم کیو ایم کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے جون ایلیا کے بڑے بھائی رئیس امرہوی متحدہ کے تین فکری بانیوں میں سے ایک تھے۔ جب الطاف حسین امریکی شہر لاس اینجلس کی سڑکوں پر ٹیکسی چلا رہے تھے تو یہ فکری بانی، عظیم احمد طارق ڈاکٹر عمران فاروق کے ساتھ مل کر مہاجر سٹوڈنٹس فیڈریشن کو سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے میں مصروف تھے، جس میں بعد میں الطاف حسین، آفاق احمد اور عامر خان بھی شامل ہو گئے۔

جب عظیم احمد طارق نے اپنے اس محسن کی پٹائی کرائی تو ٹھیک اس کے دو دن بعد ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کا آغاز ہو گیا اور کراچی شہر ایم کیو ایم پر تنگ ہو گیا، کچھ قیادت باہر گئی تو کچھ زیر زمین چلی گئی۔ آپریشن کے آٹھ ماہ بعد جب عظیم احمد طارق منظر عام پر آیا تو اس کے ہاتھو ں میں اب کی بار جو الم بغاوت تھا وہ اپنی ہی جماعت کی قیادت کے خلاف تھا۔ اس نے الطاف حسین اور آفاق احمد سے علیحدگی کا اعلان کردیا اور اپنی علیحدہ پارٹی کے ہوم ورک پر کام شروع کر دیا لیکن اس کو کچھ عرصے بعد ہی قتل کر دیا گیا، جب وہ رات کے وقت اپنے سسرال میں سو رہا تھا۔

ڈاکٹر عمران فاروق کو بھی لندن کی گلیوں میں نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ الطاف حسین کے انجام کا تو سب کو پتہ ہے لیکن جو ایم کیو ایم کی باقیات بچی تھی اب اس پر قبضہ کے لیے جو لڑائی چل رہی ہے اس کو آپ روزانہ ٹی وی پر دیکھتے ہوں گے۔

اس ساری بحث کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ گلشن اقبال مشاعرے واقعہ کے بعد ایم کیو ایم کو بانی خاندان کے چشم وچراغ جون ایلیا کی بد دعا لگی۔ اس دن کے بعد حالات پھر کبھی بھی پہلے جیسے نہیں رہے اور اس دن سے شروع ہونے والا زوال اب آخری مراحل میں ہے۔ آخر میں جون ایلیا صاحب کا وہ شعر جو شاید انھوں نے ایم کیو ایم کے مستقبل کو مد نظر رکھ کر ہی لکھا تھا۔

کہیں باہر سے نہیں گھر سے اٹھا ہے فتنہ

شہر میں اپنے ہی دفتر سے اٹھا ہے فتنہ

اسرار قیصرانی روزنامہ خبریں میں بطور سب ایڈیٹر کام کر رہے ہیں، میگزین میں آرٹیکل اور فیچر لکھتے ہیں۔اس سے پہلے سٹی ٹی وی گروپ کے ساتھ منسلک رہے ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Ahmad zaheer کہتے ہیں

    ایم کیو ایم کو صرف جون ایلیا کی نہیں بلکہ ہزاروں بے گناہوں کی بد دعائیں ہیں

  2. Awais Ahmad کہتے ہیں

    بہت دلچسپ پوائنٹ اٹھایا ہے۔ مزہ آیا یہ تحریر پڑھ کر۔ بہت خوب۔

تبصرے بند ہیں.