ویلنٹائن سے پہلے کچھ چیزیں حرام تھیں

1,942

فروری کا مہینہ جیسا ہی شروع ہوتا ہے ہر طرف ایک چیز کا تذکرہ شروع ہوجاتا ہے اور وہ ہے ویلنٹائن ڈے، جی ہاں عام فہم میں اسے محبتوں کا دن کہتے ہیں تاہم جیسے جیسے حالات بدلے اس کو فحاشی کے دن کا لقب ملا۔

تحریر کے ابتدا میں ہی آپ قارئین کے سامنے یہ بات رکھتا ہوں کہ میں اس کے حق میں نہیں البتہ مخالفت میں بھی بات نہیں کررہا کیونکہ میرا ماننا ہے کہ محبت ایک ایسا عنصر ہے جس کے لیے کوئی علامتی دن مخصوص نہیں ہونا چاہیے۔

خیر کچھ لوگ جو دائیں بازو کے نظریات سے زیادہ قربت رکھتے ہیں وہ اس کو فحاشی کا دن قرار دیتے ہیں کیونکہ اُن کا ماننا ہے کہ جو عورت کسی مرد سے پھول لیتی ہے وہ اچھی ، شریف یا پاک دامن خاتون نہیں کہلاتی (حتی کہ اگر چودہ فروری کو وہ مجبور جسم فروش جو چودہ فروری کو دھندے پر نہیں جاتی, یہ پھول لینے والی اس سے بھی بدتر ہوتی ہے.)

28124344_1740217642704042_1541823334_o

ویلنٹائن کی تاریخ بہت مبہم ہے، اس بارے میں کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ کسی عیسائی شخص نے بادشاہ کی بیٹی کو 14 فروری کے روز پرپوز کیا یعنی اُس سے اظہار محبت کیا جس کے بعد بادشاہ نے اُسے زندان میں ڈالا اور یوں ویلنٹائن کا اظہار محبت رہتی دنیا تک قائم رہا۔

پاکستان میں بسنے والے کچھ لوگ اس دن کی شدید حد تک مخالفت کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ اُن کا ماننا ہے یہ مغربی تہوار ہے جس کی وجہ سے عورت کا مقام و مرتبہ مسخ ہوتا ہے اور وہ اس دن کو منا کر محض فاحشہ ہوجاتی ہے۔

دائیں بازو کی سوچ کے حامل افراد یا طبقہ ویلنٹائن پر اس قدر شدید ردعمل دیتے ہیں کہ وہ عورت کو بازاری، فاحشہ، قرار دیتے ہیں بات یہی ختم نہیں ہوتی بلکہ ناجائز اولاد زنا جیسے القابات بھی عورت کو سننے پڑتے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ بھی ہو نشانہ عورت کو ہی بنایا جاتا ہے جیسے کہ تم کسی کو پھول دو گے، مبارک باد دو گے یا ملو گے تو تمھاری بہن بیٹی بھی محفوظ نہیں رہے گی وغیرہ وغیرہ۔۔۔

20150214123324

ویلنٹائن منانے والے دائیں بازو کی سوچ اور نظریات والے طبقے سے اس قدر لڑتے ہیں کہ بعض اوقات تو وہ اکیلے رہنے کے باوجود 14 فروری کو گلاب ہاتھ میں تھامے نئے کپڑے پہن کر کہیں نکل جاتے ہیں تاکہ محبت کا پیغام دے سکیں۔

اس دن کا منانا جائز ہے یا ناجائز، یہ ایک طویل بحث ہے محض اس بنیاد پر ویلنٹائن ڈے کو نہ منایا جائے کہ یہ مغربی ثقافت کا دن ہے تو ہمیں بہت ساری چیزوں کے بارے میں سوچنا پڑے گا جیسے کہ نئے سال کی آمد، انگریزی کلینڈر کے حساب سے ملنے والی تنخواہ، ہمارے گھروں میں استعمال ہونے والی اشیاء، ٹی وی، لباس اور سب سے بڑھ کر اتوار کے روز کی تعطیل کیونکہ یہ بھی مغربی روایات کی عکاس ہیں۔

دوسری اہم بات یہ کہ مجھے اس دن کے ماننے پر حجتیں دینے والوں کی خدمت میں ایک گزارش کرنی ہے اور وہ یہ کہ جناب والا نئے سال کا آغاز اور اُس پر ہونے والا جشن بھی ایک وقت میں گناہ سمجھا جاتا تھا، ٹی وی کو گھروں میں رکھنے کو گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا مگر جیسے جیسے حالات تبدیل ہوئے ان سب چیزوں کو رکھنے کی اجازت دی گئی اور آج تقریبا ہر ہی فقہ کا عالم ان پر بیٹھ کر اپنے درس و دروس بیان کررہا ہوتا ہے۔

28052978_1740218089370664_648230277_n

سب سے اہم بات یہ کہ جب انٹرنیٹ پاکستان پہنچا تو اسے اسلام مخالف مغربی اور یہودی سازش قرار دیا گیا، فیس بک استعمال کرنے والوں کو متنبہ کیا گیا مگر وقت گزرا اب یوٹیوب ہو یا فیس بک انٹرنیٹ پر تقریبا ہر جگہ ہی درس و دروس کے ویڈیوز اور اسلامی تعلیمات اور دیگر تشریحات میسر ہیں۔

ویسے بھی من الحیث القوم ہم قلیل المدتی سوچ رکھنے والا معاشرہ ہیں، کل کو سب کچھ فراموش کردیتے ہیں اگر حافظہ مضبوط رہتا تو یاد آتا ہے ملکی پالیسی کے تحت ایک بار جہاد کو سب سے افضل عمل قرار دیا گیا اور پھر مجاہدین کو سرکاری سطح پر ہی مسلح افراد یا پھر دہشت گرد قرار دے کر پھانسیاں یا مقابلے کیے گئے۔

ویلنٹائن ڈے بالکل مغربی تہوار ہے، اسے سیلیبریٹ نہیں کرنا چاہئیے بلکہ اس دن پر سرکاری سطح پر پابندی عائد کی جائے اور جو لوگ فحاشی پھیلائیں انہیں گرفتار کر کے سخت سزائیں دی جائیں، مگر حضور والا یہ پالیسی ہمیشہ رکھیے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ کل آپ اس دن کو بھی نئے سال کی آمد کی طرح سرکاری سطح پر منانا شروع کریں۔

بس مجھے یہ خدشہ ہے کہ ہمارا قول اور فعل جو آج ہے اُسے کل بھی رہنا چاہیے کیونکہ اچھی قومیں تضاد کی نظر نہیں ہوتیں۔

مصنف نجی ادارے میں صحافتی امور سرانجام دے رہے ہیں۔ حق سننے اور لکھنے کے شوق نے کالم نگاری ، تجزیہ نگاری اور خبروں کے علاوہ موسیقی اور شاعری میں بہت دلچسپی بڑھا دی۔

Twitter @UmairDabeer

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    Really? I mean are you serious?

  2. qutub کہتے ہیں

    bakwas

  3. Shirazi کہتے ہیں

    Love is an integral part of the whole universe. Denying or defying is a self deceit. Calling “Fahashi” a love is indeed an inexcusable act. The bond between any relationship is love. Knife in hand of a murderer takes life yet in hand of a surgeon gives life. It all depends…. Let’s give due respect to the word Love…

  4. میاں حامد کہتے ہیں

    جناب عمیر بھائی، اس کالم کا مقصد سمجھ میں نہیں آیا، بھائی جان بہت اچھے اچھے موضوعات ہیں لکھنے کے لئے،، میرا خیال ہے کہ آپ جیسے باصلاحیت شخص کو قومی کردار بنانے میں اپنا وقت اور قلم لگانا چاہئے۔ ان نئی نئی بحثوں میں الجھنے سے خود بھی بچیں اور ہمیں بھی محفوظ رکھیں۔

تبصرے بند ہیں.