المیہ اس ملک کی جنونیت کا 

1,195

عاصمہ جہانگیر، ایک للکارتی وکیل،حق کی آواز، ایک با ہمت اور حوصلہ مند خاتون ایک عہد کی صورت رخصت ہوئی۔ عاصمہ جہانگیر کی زندگی اور بے تحاشا خدمات پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن آج میں اس مذہبی، سیاسی اور معاشرتی جنونی قوم کا المیہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔

سیاسی اختلافات پر لوگوں کی زندگی جہنم کر دینے والی قوم، مذہب کے نام پر مشعال خان کو بے گناہ مار دینے والی قوم اور معاشرتی اختلافات پر نفرتوں کی بڑی دیواریں کھڑی کردینے والی قوم آخر کس طرح ترقی یافتہ اقوام کا مقابلہ کر پائے گی۔

اب عاصمہ جہانگیر کے چلے جانے کے بعد جس طرح یہ قوم سوشل میڈیا پر اپنی مذہبی جنونیت اور جاہلیت کا مظاہرہ کر رہی ہے وہ میرے لیے پریشان کن بھی ہے اور افسوسناک بھی۔ مرحومہ پر لگائے جانے والے سیاسی اور مذہبی الزامات جہاں ایک طرف ہماری سطحی سوچ کے عکاس ہیں، وہیں ہماری مجموعی لاعلمی اور جاہلیت کا ماتم بھی ہیں۔

ان پر سب سے بڑا الزام یہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ قادیانی ہیں، حالانکہ ان کو جاننے والوں کو بخوبی پتا ہے کہ ایسا کچھ نہ تھا۔ ان پر دوسرا بڑا الزام آج ملک سے غداری کا لگایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی لغو اور بے ہودہ ہے۔ کیا ملک کے غدار کبھی اتنے آزاد بھی ہوا کرتے ہیں؟ اس الزام میں بلا تحقیق مایہ ناز صحافی حامد میر صاحب کی تصاویربھی شئیر کی جارہی ہیں جو کہ ایک محب وطن پاکستانی کے ساتھ ظلم اور نا انصافی ہے۔

ان پر تیسرا الزام نواز شریف کی حمایت کا ہے جو کہ ہر پاکستانی کا بنیادی سیاسی حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کے سیاستدان کو سپورٹ کر سکتا ہے۔ باخبر لوگ جانتے ہیں کہ وہ اخیر عمر میں کن خدشات کے تحت نواز شریف کے حق میں بولتی رہی ہیں۔

میرے ایک دوست اپنے سوشل میڈیا پرکل دوپہر سے عاصمہ جہانگیر کی وفات کی خوشیاں مناتے پائے جاتے ہیں۔ میں نے بات کرنے کی کوشش کی تو جواب یہی تھا کہ وہ قادیانی تھیں۔ حوالہ جات اور تحقیق کا پوچھا تو کسی گھٹیا سی طالبانی ویب سائٹ کا لنک اٹھا لائے جہاں کسی نے پاکستان کے تمام بڑے لوگوں کو ہی قادیانی بنا رکھا تھا۔

بحیثیت ایک پاکستانی کے، میں آج عاصمہ جہانگیر کے ساتھ ساتھ مشعال خان اور عبد الستار ایدھی سے بھی شرمندہ ہوں کہ اس قوم نے جاتے جاتے یہ بے بنیاد الزامات ان پر لگائے۔ ہمیں خود کو بدلنا ہوگا ورنہ داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

 

عمر انعام اسلام آباد میں مقیم ایک نوجوان صحافی ہیں۔ یہ نیوز ون اور بول ٹی وی سے منسلک رہے ہیں۔ آج کل انگریزی اخبار دی نیشن کے ساتھ منسلک ہیں اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں امریکن سٹڈیز میں ایم فل کے طالب علم ہیں۔ ملکی اور عالمی سیاست انکے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ ان سے ٹویٹر کے ذریعے @UmerInamPk پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. عبدالباسط کہتے ہیں

    مجھے ان لبرل لوگوں کی سمجھ نہیں آتی ـ یہ ہر وقت آزادئ اظہار کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں پر جب کوئی ان کے کسی ممدوح کے خلاف کوئی یہ حق استعمال کرتا ہے تو ان کو دوسروں کی اظہارِ رائے کی آزادی بری لگتی ہے ـ ان کے نزدیک اظہارِ رائے کی آزادی صرف اسلام اور اس کی مقدس ہستوں کے خلاف ہی استعمال ہونی چاہیئے ـ عاصمہ جہانگیر ایک متنازعہ شخصیت تھیں ـ ہر بندے کو حق حاصل ہے کہ وہ کھل کر ان کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرےـ لبرل حضرات جی بھر کر ان کی تعریف و توصیف کریں ـ بلاگ لکھیں، کالم لکھیں ان کے قصیدے کہیں ان کے “کارناموں” پرکتابیں تحریر کریں ان کو کوئی نہیں روکتا ـ لیکن جو لوگ محترمہ کو پسند نہیں کرتے ان کو بھی اپنی بات کہنے دیں اور اسے برداشت بھی کریں ـ اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ ان نام نہاد لبرلز میں برداشت کا مادہ ہے ہی نہیں ـ یہ چاہتے ہیں کہ ہر بندہ وہی بات کرے جو یہ سننا چاہتے ہیں اور اگر کوئی یہ نا کرے تو وہ شدت پسند یا بنیاد پرست یا جاہل ہے ان کے نزدیک ـ میں نے موصوفہ کے بارے میں ان لبرلز کے جتنے بھی کالم یا بلاگ پڑھے ہیں اس میں محترمہ کے کارناموں کا ذکرکم ہے اور ان کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کرنے والوں کا رونا زیادہ رویا گیا ہے ـ باقی وہ محترمہ اب اسی اللّہ کے حضور پیش ہو گئی ہیں جس سے ان کی مڈبھیڑ تھی وہ اب جو چاہے ان کے ساتھ معاملہ کرے جس کا فیصلہ ظاہر ہے اس عظیم ہستی نے محترمہ کے بارے میں کسی کے کالم، بلاگ یا تاثرات پڑھ کر نہیں کرناـ

  2. Wsqas jutt کہتے ہیں

    Thank you umer for writing this.

تبصرے بند ہیں.