جہانگیر پاپا! کاش عمران انکل ایمپائر کے ذریعے جی ٹی روڈ ریلی رکوا دیتے

18,483

ایسا کونسا معاملہ ہے جس پر شور نہیں مچایا گیا ۔ ۔ کس کس بات پر واویلا نہیں کیا گیا. پانامہ کیس فیصلہ، سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ، فیض آباد دھرنا، ختم نبوت کی شق کا معاملہ، یہاں تک کہ معصوم بچی زینب  کے کیس تک کو استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی مگر وائے ہو اس عوام پر۔

ووٹ پھر نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کو دیتی ہے!

این اے 120، پی پی 20 اور اب لودھراں کا ضمنی انتخاب!

تحریک انصاف جائے تو کہاں جائے۔ ۔ عمران خان کرے تو کیا کرے

سب کچھ تو وہ کر چکے مگر عوام ہے کہ بس شیر ہی کی دیوانی ہے!

کیا عوام کو یہ نظر نہیں آتا کہ نواز شریف کو کرپشن کی بنیاد پر ملک کی عدالت عالیہ نے نااہل قرار دیا؟

کیا عوام کو یہ معلوم نہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں لیگی حکومت ملوث تھی؟

ختم نبوت کی شق، زینب قتل کیس اور اس طرح کے دیگر معاملات جن کو جواز بنا کر لیگی حکمرانوں سے استعفے مانگے گئے، کیا عوام نے یہ معاملات بھلا دئیے؟ اگر نہیں !تو پھر بار بار انہیں ہی کیوں ووٹ دیتی ہے؟

بظاہر تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ عوام کے دِلوں پر مرثیہِ نااہلیِ نواز شریف کا پرسوز جملہ ‘مجھے کیوں نکالا’ اپنا کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

شائد یہی وجہ ہے کہ ابھی تو ضمنی الیکشن کا کھیل چل رہا ہے جس میں لیگی کھلاڑی عمران خان کی ٹیم کی درگت بنانے میں مصروف ہیں ویسے ہی جیسے 2011ء کے ورلڈ کپ کے وارم اپ میچزز  میں بھارتی ٹیم نے مخالفین کی ایسی درگت بنائی تھی کہ کرکٹ شائقین و پنڈت ورلڈ کپ کی اصل گیم شروع ہونے سے پہلے ہی بھارتی ٹیم کو فاتح قرار دے چکے تھے!

اٹھائیس جولائی وہ دن تھا کہ جب پاکستان میں ہر شخص ہی
خود ساختہ آزمودہ تجزیہ نگار بن بیٹھا تھا ۔ ۔  ہر محفل میں زیر بحث ایک ہی موضوع تھا، ہر گفتگو کا ایک ہی آغاز تھا اور ایک ہی اختتام تھا۔

کسی گلی کے  راستے میں، کسی رکاوٹ کی طرح کھڑے چند لوگوں کی صحبت سے لے کر کسی آفس میں پڑھے لکھے لوگوں کی آپسی گفتگو تک، محلے کے چند بزرگ افراد کی بیٹھک سے لے کر سیاسی حلقوں اور اقتدار کے ایوانوں تک،ہر جگہ صرف ایک ہی بات دہرائی جارہی تھی۔ ۔

’نواز شریف آج نااہل ہوگئے اور آج کے بعد نواز لیگ ختم اور پی ٹی آئی کا دور شروع!’

نامور تجزیہ نگار جن کی تحریر پڑھتے ہوئے ان کے مداح و قارئین عجیب سا فخر محسوس کرتے ہیں، وہ میڈیا پر ببانگ دہل یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ آج سپریم کورٹ کا یہ تاریخی فیصلہ مسلم لیگ نواز کی سیاسی قبر ثابت ہوگا اور عوام اب اسی سیاسی قبر پر فاتحہ پڑھتے ہوئے آئندہ الیکشن میں ووٹ دیں گے کیونکہ انتخابات کے نتائج کے بعد جو پارٹی اقتدار پر براجمان ہوگی اس پارٹی کی کامیابی کی بنیاد سپریم کورٹ کا یہی فیصلہ بنے گا۔
مگر یہ لکھتے ہوئے میرے ہونٹوں پر چلبلی سی ہنسی نمودار ہورہی ہے کہ سیاسی قبر تو بن رہی ہے مگر کسی اور کی!

ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو پڑنے والی اس پھینٹی کی وجوہات تو لاتعداد ہیں مگر بحیثیت ووٹر میری طرح باقی لوگوں کے اذہان میں ایک وجہ آسانی سے سمجھ میں آتی ہے اور وہ وجہ ہے یوسی اور علاقائی سطح پر پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ !

نواز لیگ کا تنظیمی ڈھانچہ اس قدر واضح اور منظم ہے کہ بلدیاتی سطح پر ہر ووٹر مقامی لیگی عہدیدار کو جانتا اور پہچانتا ہے۔  یہی مقامی عہدیدار الیکشن کے دن ووٹر کو متحرک کرتا ہے جبکہ پی ٹی آئی کا دور دور تک کوئی نام و نشاں نہیں ملتا۔

انہیں وجوہات میں ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ نواز شریف نے نااہلی کے بعد جب جی ٹی روڈ ریلی کا فیصلہ کیا تو مخالفین نے تو مخالفت کی ہی تھی نواز لیگ کے اپنے بھی اختلاف کرتے ہوئے خلاف ہوگئے
ریلی کا فیصلہ جس نے بھی لیا آج اس فیصلے کے مثبت نتائج مرتب ہورہے ہیں۔
پنجاب صرف لاہور کا نام نہیں جہاں کے لوگوں کو شائد ملکی سطح پر ہونے والی گیم کا پتہ ہو گا۔ پنجاب کے دیگر شہروں میں کروڑوں ووٹرز بستے ہیں جن کو شائد ہی نااہلی و دیگر معاملات کا پتہ ہوگا اور  نااہلی کے فیصلے کے بعد ان ووٹرز کو ایک موقف پر متفق اور یکجا کرنا بہت ضروری تھا۔

یہ وہ یارکر بال تھی جس کو کھیلتے ہوئے نواز شریف یا تو آؤٹ ہو جاتے یا شاٹ مارنے کے چکر میں خود کو زخمی کروا کر گراؤنڈ سے باہر چلے جاتے مگر جی ٹی روڈ ریلی کی مشکل ترین پچ پر نواز شریف نے ‘مجھے کیوں نکالا‘ شاٹ کھیلتے ہوئے اس یارکر کو شاندار انداز میں باؤنڈری سے باہر پھینکا۔

اور نتائج اب سامنے آرہے ہیں جس سے نواز لیگ اور تحریک انصاف  کے رہنما  بخوبی واقف ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اب پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ اسی موقف کو پرجوش انداز میں پیش کرتے ہیں۔

بہرحال ذاتی طور پر لودھراں الیکشن میں بدترین شکست پر علی خان ترین کے لئے نہایت دکھ ہوا۔

سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کی سلطنت کے اس شہزادے کی تاج پوشی کی ساری امیدیں بھسم ہوگئیں۔ عمران خان، شیخ رشید نے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے الیکشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلسہ بھی کیا پھر بھی کچھ نہ ہوا۔

جہانگیر ترین نے وفاداریاں خریدنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر پھر بھی کچھ نہ ہوا۔

کل رات علی خان ترین نے الیکشن ہارنےکے بعد جہانگیر ترین سے یہ ضرور کہا ہوگا۔

‘جہانگیر پاپا! عمران انکل کاش اپنے ایمپائر کو بولتے کہ جب سب کچھ کر دیا تھا تو جی ٹی روڈ ریلی بھی رکوا دیتے’۔

نبیل عباس پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے طالب علم ہیں۔ یہ دنیا نیوز سے منسلک ہیں۔ دلچسپ موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. محمد ناصر احمد کہتے ہیں

    واہ واہ
    کمال ھو گیا
    ممولے کو لڑوا دے شہباز سے
    طبلچی ڈھنڈورچی
    مداح سرایٰ کو حاشیہ برداری
    سے الگ نہ کر ۔ ورنہ
    طفل مکتب کا مراسلہ یا
    میر متکلم کا پھر مشاھرہ
    کم رھا ھو گا

  2. Usman Buttt کہتے ہیں

    جناب عالی مقام جان کی امان پا کرعرض کرنا چاہوں گا کہ یہ سب کرپشن اور جو بھی بدعنوانیاں ہوئی ان کا پاکستان مسلم لیگ نواز پارٹی پر صرف اور صرف الزام ہے جو کہ ابھی تک ثابت نہیں ہوا، تو صرف الزامات کی بنیاد پر کوئی اپنا سیاسی نظریہ کیوں تبدیل کرلے وہ بھی اس پارٹی کے لیے جس پر بھی الزامات لگتے ہیں، زرا سوچیے

تبصرے بند ہیں.