عام انتخابات اور افسر شاہی کی وفاداریاں

3 2,647

پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ اگر کوئی حکومت انتظامی اصلاحات کے ذریعے سماجی معاشی اور سیاسی منظر نامے میں نوکر شاہی کے اثرات اور دخل اندازیوں کو ڈھنگ سے جانچ کر سفارشات بنانے اور ریفارمز کے اطلاق واسطے سنجیدہ دکھائی دی تو وہ ذوالفقار علی بھٹو کا دور تھا۔ پبلک سروس سیکٹر میں طاقت کے بنیادی ڈھانچے کو انتظامی اصلاحات 1973ء نے یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا۔ اس پالیسی کے بنیادی اقدامات میں انتظامی عملے کی تبدیلی کے ساتھ سی۔ایس۔پی اکیڈمی کا خاتمہ اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے قیام شامل تھے۔ جوائنٹ پری سروس ٹریننگ پروگرام کو اس پالیسی کے تحت متعارف کروایا گیا۔ 1973ء کی انتظامی صلاحات پالیسی یا سفارشات کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایڈمنسٹریشن میں نوآبادیاتی نظام کی باقیات سے صحیح معنوں میں چھٹکارہ ملنے کی راہیں کھل گئیں۔

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ انتظامی اصلاحات 1973ء کی سفارشات خالصتاً سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر تشکیل دی گئیں تو شاید ہم جانے انجانے میں یہ بھی تسلیم کررہے ہوتے ہیں کہ نوآبادیاتی نظام کی میراث بیوروکریسی کی اتھارٹیز کو چیلنج کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کو عوامی مقبولیت اور سپورٹ حاصل تھی۔ سول سروس کے طاقتور طبقے کو ٹارگٹ کرنے کی ایک وجہ شاید وزیراعظم آفس میں بھرپور طریقے سے کام کرنے کی راہ میں اس کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنا تھا۔ وہ افسر شاہی کو  عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے سامنے جوابدہ بنانا چاہتے تھے جو شاید ان کے نزدیک عوامی فیصلوں میں سیاستدان کو بھرپور آزادی دینے میں مددگار ثابت ہوتا۔ کوٹہ سسٹم بہرحال میرے نزدیک ہمیشہ ہی قابلِ تنقید موضوع رہے گا۔ لیکن اس تحریر کا مقصد فی الحال سول سروسز ریفارمز کمیٹی کے آج کل ہونے والے اجلاسوں کے مضمرات اور آنے والے عام انتخابات میں ان کے اثرات ہیں۔ یہ بحث پھر کسی تحریر کے لیے اٹھائے رکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں آمریت کے ادوار نے نوکر شاہی کو کیا بنا دیا اور ہر ادارے کی سربراہی کیسے وردی میں لپیٹتے چلے گئے۔

کچھ عرصہ قبل تک شہرِ اقتدار میں ہر دوسر بندا یہ جانتا تھا کہ موجودہ وزیرِ داخلہ سول سروسز ریفارمز کے کتنے پرجوش داعی ہیں۔ اور کسی ایک گروپ کو مکمل اتھارٹی دینے کے خلاف ہمیشہ کُھل کر اظہارِ رائے بھی کرتے رہے ہیں۔ خدا جانے کیا ہوا کہ اِن دنوں سول سروس ریفارمز کمیٹی کی میٹنگز میں وزیراعظم اور وزیرِ داخلہ احسن اقبال کے علاوه آٹھ بیوروکریٹس شامل ہیں اور ان سب کا تعلق DMG  گروپ سے ہے۔ وزیراعظم کے معاونین خصوصی بیرسٹر ظفراللہ، زاہد حامد اور خواجہ ظہیر کا تعلق DMG گروپ سے رہا ہے۔ ان کے علاوہ آٹھ سرونگ سیکرٹریز اس کمیٹی کا حصہ ہیں جو سول سروس ریفارمز کا بیڑا اٹھائے بیٹھی ہے۔ مقصد اب ان کا سی۔ایس۔پی سٹم کی بحالی ہے جو بھٹو صاحب نے ختم کیا تھا۔ ہمارے ہاں سول سروس کے باره گروپس ہیں۔ جن میں آفیسرز کی تعداد تقریباً پانچ ہزار ہے اور ان میں سے ڈی۔ایم۔جی افسران کے تعداد لگ بھگ چھ سو ہوگی۔ لیکن کمال حیرت کا مقام ہے کہ تمام صوبائی اور وفاقی سیکرٹریز کی آسامیوں پر صرف اسی گروپ کا قبضہ ہے۔ نقصان اس کا یہ ہوا ہے کہ توازن کی عدم دستیابی کے باعث ڈی۔ایم۔جی گروپ مکمل مافیا کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اور ہمیں گاہے بگاہے تقسیمِ ہند کے بعد سی ایس پی کی شکل میں موجود مافیا کی یاد تازہ کرواتا رہتا ہے۔ آج کی طرح اُن کا بھی ہر ادارے اور محکمے پر قبضہ تھا ۔ پروفیشنلز کو رعونت کا نشانہ بنانا اس طبقے کو بھی یونہی بھاتا تھا۔ 1973ء میں وہ نظام ختم کر کے سی ایس ایس کے باره پیشہ ورانہ گروپ بنائے گئے۔ جن کا مقصد سپیشلائزڈ ٹریننگ کے ذریعے ہر شعبے میں پیشہ ورانہ سروس کو فروغ دینا تھا لیکن جمہوریت اور آمریت کے ادوار میں مختلف قوانین ، دھونس اور دھاندلی کے ذریعے یہی کلاس ملک پر حکومت کرتی رہی ہے یوں ہم براؤن گوروں کے جوتے کی نوک پر جیتے چلے جارہے ہیں۔

ن لیگ کی موجوده حکومت نے آتے ہی دو SROs جاری کئے جس کے ذریعے پرانا سی ایس پی سسٹم بحال کر دیا گیا اور آج صورتحال یہ ہے کہ وفاقی سول سروس کے چار ہزار سے زائد اور صوبائی سول سروسز کے دس ہزار کے قریب افسران ایک جانب ہیں اور ریاست کے ہر ادارے کا سیکرٹری ڈی۔ایم۔جی زدہ ہے۔ اس سے زیاده ظلم اس ملک پر ہو ہی نہیں سکتا کہ جن بابوؤں سے نجات کا خواب لیے نئی ریاست کا قیام عمل میں آیا اور جن کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے 1973ء میں ختم کیا، آج وہی لوگ دوباره طاقت کے نشے میں بدمست ہاتھی بنا دیے گئے ہیں۔ اس گروپ کی طاقت اور نیٹ ورک کا اندازہ یوں لگا لیجئیے کہ عام وزیر کی تو بات ہی نہیں سنتے اور ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں۔ تازہ ترین اور سامنے کی مثال وزیراعظم کے سیکرٹری اور ریاض حسین پیرزاده کے درمیان ہونے والی کشمکش ہے جس میں وزیراعظم کا سیکریٹری کامیاب ہوا۔ ن۔لیگ سے گزارش ہے کہ اس ملک اور اس کے اداروں پر رحم کریں اور ریفارمز کے نام پر دو  (قانونی تنظیمی احکامات) SROs کو پارلیمنٹ کا کور فراہم کرکے ریاست کو ماضی میں مت پھینکیے۔ ورنہ لوگ تو پھر سینیٹ میں آپ کو برتری نہ ملنے کی دعائیں مانگنے لگے ہیں ۔ قانون سازی کے ذریعے اگر سی۔ایس۔پی نظام مکمل صورت میں بحال کردیا گیا تو اس میں ہر ادارے اور وزارت کا سیکرٹری سی۔ایس۔پی ہوگا۔ یوں پروفیشنلز اور سول سروس کے باقی گروپس متاثر نہیں بلکہ ٹارگٹ ہوں گے۔

اس سلسلے میں ایک دُکھتی مثال بلوچستان سے ایک محترم خاتون افسر عذرا جمالی ہیں تعلق جن کا ای۔ایم۔جی گروپ سے ہے۔ انہیں وزیرِ اعظم کے سیکرٹری کے اثر و رسوخ کے باعث بھارت سے تعلق کے شبے میں انکوائری کی گردشوں میں پھنسا رکھا ہے۔ خاتون چونکہ ڈی۔ایم۔جی گروپ کے اقدامات پر تنقید کرنے کا “گناہ” سرزد کرتی رہی یں لہذا انہیں فارن پوسٹنگ کے دوران را سے تعلقات کا الزام لگا کر تحقیقات میں الجھا کر گزشتہ تین برس سے ٹریننگ اور پروموشن جیسے تمام معاملات پر قدغن لگا رکھی ہے۔ انکوائری افسر بھی ڈی۔ایم۔جی گروپ ہی سے تعینات کیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے اس مافیا کی جو سارے نظام کو دیو کی مانند اپنی گرفت میں جکڑتا جا رہا ہے۔

پہلے بنگالیوں اور ہمیشہ سے بلوچوں کا اعتراض یہی تو رہا ہے کہ پنجاب اپنی مرضی کا پنجابی سی۔ایس۔پی افسر صوبے میں لگا دیتا ہے جو مقامی معاملات کی بہتر سمجھ بوجھ رکھے بغیر سب نظام ہانکنے لگتا ہے۔ جب ہر صوبے کا صوبائی سروس نظام موجود ہے تو پوچھنا تو بنتا ہے کہ SROs کے تحت ایک جتھے کو نتھی کرنے کا مقصد کیا ہے جب کہ اٹھارویں ترمیم کے مطابق ایسی کسی بھی سروس پر پابندی لگ چکی ہے۔ لیکن اس سے ہمارے نمائندوں کو  حال کی گھڑی کوئی غرض دکھائی نہیں دیتی۔ اداروں کی آپسی نفرت، بغاوت اور عداوت میں پورے نظام کی جڑیں کھوکھلی تر ہوتی چلی جا رہی ہیں۔

آپ اپنے گرد چند بیوروکریٹس کو نوازنے کیلئے اس ملک کے ساتھ ظلم کرنے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں پہلے ہی ہسپتالوں کے ایم ایس کے طور پر ڈی ایم جی افسران کو لگانے کا قانون بن چکا ہے۔ اس ملک اور پیشہ وارانہ قابلیت کے حامل گروپس پر رحم کریں۔

ایس آر اوز کے ذریعے ایک گروپ کو نوازنے کا مطلب ہے کہ عام انتخابات میں پوری انتظامی مشینری کا تعاون حاصل کرنے کی پلاننگ۔ اگرچہ سیکرٹری الیکشن کمیشن بھی ڈی ایم جی شدہ ہے جو کہ سیکرٹری کابینہ کے عہدے پر بھی تعینات رہا ہے۔ جبکہ ہر ادارے کا سیکرٹری بھی ڈی ایم جی سے ہے۔

لہذا اس سارے معاملے کو اب انتخابی تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ مختصراً اور سادہ الفاظ میں اس چکر کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر DC ہوتا ہے اور اس وقت پنجاب کے 90 فیصد ڈی سیز اور 100 فیصد کمشنرز DMG گروپ سے ہیں۔ ڈسٹرکٹ رٹرننگ افسر انتخابات کے تمام مراحل کو نہ صرف جانچ پرکھ رکھتا ہے بلکہ ھدایات بھی جاری کرتا ہے۔ ایک اور معاملہ بھی یاد رہے کہ پنجاب میں تمام ترقیاتی کاموں کو ھیڈ کرتے افسران DDC سربراہان ہیں۔ ڈی۔ڈی۔سی یعنی ڈسٹرکٹ ڈوویلپمنٹ کمیٹی جس کا سربراہ ڈپٹی کمشنر ہوتا ہے اور تمام ضلع کے  MPAs اور  MNAs اس کمیٹی کے ممبر ہوتے ہیں۔ تمام ترقیاتی منصوبے اسی کمیٹی کے تحت منظور ہوتے ہیں اور چلائے جاتےہیں جبکہ صوبائی اور وفاقی فنڈز کمشنرز اکاؤنٹ میں منتقل ہوتے ہیں ،یہاں بھی قدرت کا کرشمہ ہے کہ تمام کمشنرز کا تعلق ڈی۔ایم۔جی گروہ سے ہی ہے۔ لطف یہ ہے کہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ جو کہ صوبوں میں ڈی۔ایم۔جی اور پی۔ایس۔پی افسران کے  تبادلے و تعیناتی کرتا ہے اس کا تعلق بھی مشہورِ زمانہ سپرمین کی اولاد DMG   گروپ سے ہی ہے۔ حسنِ اتفاق بھی شرما سا جائے۔ سیکرٹری کمیونیکیشن اور چئیرمین کیپیٹل ڈوویلمپنٹ اتھارٹی، چئیرمین NHA  بھی اسی گروپ کے افسران ہیں جو کہ تعمیراتی و ترقیاتی کاموں کو کنٹرول کرتے ہوئے انتخابات کے عمل پر اثر انداز ہونے کا مبینہ اختیار رکھتے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کے پرسنل سٹاف آفیسرز رہنے والے لاہور، گجرات، ملتان کے ڈی۔سیز، وزارتِ پانی کے سیکرٹری، پاور ڈویژن کے سیکرٹری صاحب بھی عظیم DMG گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک اہم نکتہ یاد رہے کہ پاور ڈویژن سیکرٹری تمام تر ایس۔ڈی۔اوز اور ایکسیئنز کو کنٹرول کرتا ہے۔ جن کے ذریعے کسی بھی ایم۔این۔اے کے حلقے میں بجلی سے متعلقہ ترقیاتی کام کروائے جاتے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے کمال فلسفیوں کے ساتھ ساتھ کوئی دھمال نیوز چینل اور ہمارے ہاں کے بقراط تحقیقاتی صحافی یا افلاطون اینکرز اس سارے کھیل پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ یا شاید معاملہ سمجھنے کی فرصت نہیں ہے۔ سول سروسز میں ریفارمز کی ضرورت ہے لیکن پہلے غیر قانونی اور ایک لحاظ سے غیر آئینی طور پر صرف ایک گروپ کو ہر بڑی پوزیشن میں بٹھانے کی روش پر بھی غور کرلیجیے اور اپنے دیرینہ مقاصد پر بھی بات کرلیں۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہی ڈی۔ایم۔جی گروپ عام انتخابات میں آر۔اوز کے فرائض نبھائے گا۔ بیروکریسی کو ناک کی پھنسنی بنایا ہوا ہے۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد متوازی فہرست نامی شے کا خاتمہ ہوچکا ہے اور اس تناظر میں اب صرف وفاقی اور صوبائی فہرستیں ہی ہونی چاہییں۔ لہذا اس محنت کی تو ضرورت نہیں بچتی کہ ڈی۔ایم۔جی یافتگان کو ڈسٹرکٹ لیول سے وفاقی سطح تک آبیاری کرتے تناور درخت بنائے جائیں کیونکہ ضلعی اور وفاقی حکومت کا ایسا کوئی آپسی تعلق نہیں جس کو گورننس کے معاملات سے نتھی کیا جائے۔

اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے مجھ جیسی کم فہم شہری یہ پوچھنے پر مجبور ہے کہ کیا عام انتخابات 2018ء ڈی۔ایم۔جی گروپ اور دو SROs  کی مار ہے ؟

افشاں مصعب زندگی پر لکھنا پسندکرتی ہیں – سیاست ، سماجیات اور نفسیات ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں – متعدد بلاگ پیجز پر ان کی تحاریر شائع ہو چکی ہیں – افشاں اسلام آباد میں مقیم ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    It is very nice to see Afshan Mas’ab’s article on Dunya after gap of almost 4 months and on very sensitive topic. Bravo

  2. جواد احمد خان کہتے ہیں

    میں کیا تبصرہ کرون, مس افشان کا شکریہ جنہوں نے اس عنوان کا انتخاب کیا اور میرے جیسے عام شہری کو سوچنے پر مجبور کیا کہ آخر وہ پچھلے دو سال سے سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری کر رہا ہے اس نیت سے کہ افسر شاہی واحد رستہ ہے اس ملک کے مساۂل کے جلدی اور دیرپا حل کا.اور اس امتحان میں بیٹھنے والے ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے ڈی ایم جی میں جانے کی. مگر آپکی اس تحریر سے میرے دماغ میں کئ سوالون کو جنم دیا کہ کیا تمام کے تمام ڈی ایم جی افسران اپنی ریاستی زمہ داریوں سے مبرا ہو کر اپنے سیاسی یا فوجی جو بھی آقاؤن کے آگے سر نگون ہوتے ہیں اگر ہان تو اس ناسور کو ختم کون کرے گا اور اگر ناہ تو ان شریف افسرون کا کیا مستقبل ہوتا ہے. اپ کے جواب کا انتظار ریے گا.
    ڈاکٹر جواد احمد خان

  3. اصغر نورانی کہتے ہیں

    بہت ہی بہترین تحریر ہے۔ ڈی ایم جی نے ہماری جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ یہ لوگ کبھی بھی ایک ادارے میں نہیں ٹکتے جہاں بھی اچھی تنخواه اور مراعات ہونگی وہاں چلے جاتے ہیں اور پھر ان کی نظر اگلی اچھی پوسٹ پر ہوتی ہے ۔ نتیجہ یہ کہ وه ادارے ان کی چراگاه بنے رہتے ہیں ۔ آج تک کسی ڈی ایم جی کو سزا ملی ہو تو بتا دیں حالانکہ ہر الٹے کام کا انتظامی حکم یہی دیتے ہیں۔ حج سکنڈل ہو یا رینٹل پاور لیکن سیاستدان تو جیل میں رہے لیکن یہ لوگ باہر۔
    ذرا چیک کریں کہ ان کے اثاثے کیا ہیں اور سب کے بچے باہر کے اداروں میں کیسے پڑھتے ہیں۔ اپنی دھونس اور دھاندلی کے ذریعے انہوں نے صوبائی اور وفاقی سروس خاص طور سیکرٹیریٹ کی سیٹوں پر قبضہ کیا ہوا ہے لیکن انہیں کوئ پوچھنے والا نہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.