عاصمہ جہانگیر کی موت پر جہالت کا جشن

7,910

یقین مانیے عاصمہ جہانگیر کی موت کی خبر سن کر ایسا دکھ ملا کہ خود کو سنبھال نہیں پارہا، ان کی کسی بات سے تو اختلاف یقیناً کیا جا سکتا ہے مگر انکی جرت مندی اور بہادری سے ہرگز انکار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ایک خاتون ہوتے ہوئے مردوں سے بھی زیادہ بہادر تھیں۔ انہوں نے ہمیشہ ببانگ دہل شدت پسندی کیخلاف تن تنہاء جنگ لڑی جسکی پاداش میں ہر طرف سے انہیں آئے روز دھمکیاں ملتی رہیں اور وہ چپ چاپ سہتی رہیں۔ لیکن جب نڈر و بے باک خاتون کو خاموش کرنے کی ہر کوشش ناکام گئی تو پھر آخری حربہ یعنی ‘غدار وطن اور اسلام دشمن کا ٹائٹل’ استعمال کیا گیا جو اکثر آزمایا جاتا ہے، ان لوگوں کے خلاف جو ہمیشہ عام لوگوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔

81681-ykwaocjzhc-1518346085

مگر پھر بھی عاصمہ جہانگیر ظلم کے خلاف بولنے پر خاموش نہ ہوئیں بلکہ زیادہ طاقت کے ساتھ بولنے کی کوشش جاری رکھی کیونکہ وہ اس فلسفہ پر یقین رکھتی تھیں کہ ظلم ظلم ہوتا ہے اور جب ظلم بڑھتا ہے تو پھر مٹ بھی جاتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ وہ وکیل اور سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے لیے بھی سرگرم رہتی تھیں۔ اس کے علاوہ عدلیہ بحالی تحریک میں بھی انہوں نے کافی فعال کردار ادا کیا حتیٰ کہ انہیں کئی تصاویروں میں ایسی گستاخیوں پر دور آمریت میں ریاستی غنڈہ گردی کیخلاف بھی آواز اٹھاتا دیکھا جا سکتا ہے۔

1632182-download-1518345393-703-640x480

انہوں نے سوگواران میں ایک بیٹا اور 2 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ انکے نظریات سے اختلاف اپنی جگہ لیکن میری دعا ہے کہ خداوند تعالیٰ انکی مغفرت اور لواحقین کو صبر و جمیل عطاء فرمائے۔ افسوس صد افسوس کہ اس جدید دور میں بھی پرانی اور گندی سوچ کے گندے لوگ موجود ہیں۔ عاصمہ جہانگیر سے شدید اختلاف کرنے والوں کی آنکھوں سے بھی انکی موت کی خبر سنی کرآنسو رواں ہوگئے مگر ایک موصوف جن کی ساری زندگی دوسروں کو لعن تان اور گالی دیتے گزری نے عاصمہ جہانگیر کی موت کے بعد بھی ان کو نہیں بخشا اور نفرت بھری ٹوئٹ کرڈالی جس میں موصوف نے لکھا کہ “آج میں خوش ہوں کہ اسلام اور پاکستان دشمن عاصمہ جہانگیر جہنم واصل ہوگئی ہے”۔

6a6c9754aaa74b33be9850827439a6f3_18

درحقیقت عاصمہ جہانگیر نہ تو پاکستان کے خلاف تھیں اور نہ ہی اسلام کے خلاف تھیں بلکہ وہ تو ان موصوف جیسے ناسور نظریات کی مخالف تھیں جنہوں نے ہمیشہ اپنے قول و فعل سے انتہاء پسندی اور فساد کو ابھار کر ہماری قوم میں نفرت، نفرت اور محض نفرت پھیلا کر پاکستانی قوم کو تقسیم در تقسیم کردیا۔ بہادر عاصمہ جہانگیر مرحومہ نے اپنی ساری زندگی جمہوریت کی بقاء اور انسانی حقوق کیلئے وقف کردی تھی جس پر انہیں ناصرف تاریخ پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کیونکہ وہ ہمیشہ امن اور محبت کی خواہ تھی۔ انہوں نے کئی مظلوموں کے کیس بغیر لالچ اور پیسہ کے جیت کردکھائے، شائد اس لیئے کے وہ مظلوموں کے حقوق کیلئے اپنی آواز بلند کرنا خود پر فرض سمجھتی تھی۔ یاد رکھئیے یہ پاکستان کیلئے بہت بڑا صدمہ ہے۔ اب کون بولے گا اقلیتوں کے حقوق کیلئے؟ اب کون لڑے گا غریب و بے بس مظلوموں کے حقوق کی جنگ؟ لیکن ایک امید اب بھی باقی ہے اور وہ یہ کہ جو بیج انہوں نے بوئے ہیں، وہ انشاء اللہ پھل پھول کر انہی کی طرح کئی مظلوموں کی آواز بنیں گے مگر عاصمہ جہانگیر کا خلا کوئی بھی پر نہیں کرپائے گا۔

آخر میں چند اشعار؛

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

مصنف معروف صحافی و قلم کار ہیں جبکہ دنیا نیوز اور ایکسپریس کےلیے بلاگ لکھتے ہیں اور ہمہ وقت جمہوریت کی بقاء اور آزادئ صحافت کےلیے سرگرم رہتے ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی اے ماس کیمونی کیشن کررہے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر، فیس بک اور ای میل پر رابطہ کیلئے نیچے دیئے گئے لنکس پر کلک کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

7 تبصرے

  1. Basit کہتے ہیں

    Ab wo Allah kay hazoor paish ho chuki. Allah kay insaf per koi banda aitraaz nai ker sakta. Ab un ka faisla Allah ne kerna hai, na keh akhbaraat mein column aur blog likhnay walon ne. Un se shadeed ikhtilaaf apni jagga, per wafat ke bad ab maamla Allah k sapurd ker daina chaheye. Dushman maray tay khushi na kerye, Sajna vee mar jana.

    1. Sajjad کہتے ہیں

      Insan khata ka putla kaha jata ha balka khata ka putla ha. Or agr koi Muslim bhai bahan dunia sa chala jaya chaya vo jitna b bura ho usy bura ni kahna chaya q k ham nahi janta k Allah k han us ka ky makam ha ky darja ha.
      Sub kah raha ha k wo mazlom ka sath dana wali thi mazlom ka ortono k haq k lya awaz bulan kart thi jo aj k door ma koi ni karta.
      Allah Paak unha janat ma jaga atta kara. Ameen

  2. Kifayat ullah کہتے ہیں

    Puttar pehley taleem mukammal karo aur achhey marks lo taa keh tumhain kisi maroof university main parrhney ka mouqa miley. Tum Asma Jahangir ko maan na banao pehley kuchh seekh lo.

  3. میاں حامد کہتے ہیں

    ملک رمضان صاحب اور جناب باسط صاحب
    ٓالسلام علیکم ورحمۃاللہ
    ملک صاحب؛ عاصمہ صاحبہ ضرور ایک مشہور خاتون تھیں؛ لیکن آپ بھی جانتے ہیں کہ انہوں نے ایک خاص ایجنڈا کے تحت صرف ان معاملات کو اٹھایا جو کہ مغرب کے پسندیدہ تھے۔ اور وہ حکومت سے خاصی بڑی رقم وصول بھی کرتی رہی ہیں مختلف مقدمات کے نام پر۔ موصوفہ نے کبھی بھی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر آواز بلند نہیں کی نہ بھارت کی مذمت کی بلکہ انکے ساتھ ملکر رقص کرتی رہی ہیں۔ پاکستان میں شہید ہونے والے آدھے سے زیادہ افراد کا تعلق فاٹا اور پختون خواہ سے ہے لیکن انہوں نے ان مظلوموں کے لئے کبھی آواز نہیں اٹھائی۔
    جیسا کہ باسط صاحب نے درست طور پر کہا ہے کہ انکا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ اسلئے بہتر ہےکہ انکو خوامخواہ میڈیا میں ہیرو کے طور پر پیش نہ کریں نہ سرکاری اعزاز کا مطالبہ کریں۔ ورنہ پھر ایک بہت بڑا طبقہ اسکے خلاف آواز اٹھائے گا اور آپ مرنے والی کو مزید تکلیف میں مبتلا کر دیں گے۔ اسلئے میڈیا اور لکھنے والوں کو چاہئے کہ اس معاملہ میں خاموشی اختیار کریں نہ کہ اسے مزید کسی بیرونی ایجنڈاے کو پورا کرنے کا باعث بنانے کی کوشش کریں۔

  4. Shoaib Mansoor کہتے ہیں

    hum ney waqehi eik nadar or bahadur shakhsiyat ko kho diya hai. Woh andherey main umeed ki eik kiran theen. Pakistan jesa mulk jahan na soch azaad hai or na hi in insaan, eise jahalat zada moaaeshrey main haq ki awaz uthana koi aam baat nahi. Kamaal ki baat yeh hai key na sirf unho ney jaabir hukmaraano key aagey qalama-e-haq buland kiya balkey jaahil or jaabir awaam key saamney bhi bari bahaduri sey kalama-e-haq buland karti raheen. Fikri tor per boney moaashrey main jahan her zee aqal shakhs ko “kaafir” yaa “maghrib ka agent” keh kar apna qomi faraz poora kiya jaae wahan aisi shakhsiyat ka paida hona hi kisi mojzey sey kam nahi…

    Khuda karey key Asma Jahangir jese log is ghutan zada moaashrey main paida hotey rahain, taakey mukamal tabahi sey bachney ki koi to umeed bandhi rahey… ameen

  5. bali کہتے ہیں

    Is Bahadur Kharoon kay pechay India/Amrica/Europe ki musliman dusman taqatain theen, is lia bohat bahadur ho gai thee, is nay tamaam umer Islam dushmani ka saboot dia, moulvi ki ghar say bhagi beti ka muqadma to lara, kia is nay Qasoor kay 300 bachoon kay haq main awaz uthai. or ab haraam khooron kay muqadmain lar rahi thee. Bal Thakray ki asheerbad bhi is ko hasil thee, Writer ziada choocha na banay, tum sub bazameer lafaz faroosh insann ho, yad rakho tumharay aik aik lafaz kaa bhi hisaab ho ga,

  6. Muzaffar کہتے ہیں

    Jo Pakistan ki na ho ski wo ksi aur ki kia ho gi ..Mery bhai kia saabat krna chahty hein..?????…Hum log aisy logon ky krtooton ki waja sy dunya sy itna peechy hein..wo to mar gi lakin tum jaisy logon ko chor gi bakwaas krny k liye.

تبصرے بند ہیں.