ہندوستانی شہزادی صوفیہ دلیپ سنگھ

 جو انگلستان کی خواتین کی تحریک میں پیش پیش تھی۔

3 4,592

انگلستان میں خواتین کے حق رائے دہی کے لئے تحریک کی کامیابی کا صد سالہ جشن 6 فروری کو بڑی دھوم دھام سے منایا گیا۔ 6 فروری 1918ء کو پچاس سال کی طویل تحریک کے بعد برطانوی پارلیمنٹ نے پہلی بار تیس سال سے زیادہ عمر کی خواتین کو ووٹ کا حق دینے کا قانون منظورکیا تھا۔ خواتین کی یہ تحریک جوSuffragette کہلاتی تھی، 1867ء میں شروع ہوئی تھی جس کی روح رواں ایملین پینک ھرسٹ تھیں۔ خواتین کے ووٹ کے حق کے لئے اس تحریک کے دوران، مظاہروں کے ساتھ ساتھ، پوسٹ بکس نذر آتش کئے گئے، گرجا گھروں میں بم کے دھماکے کئے گئے، خواتین نے بھوک ہڑتال کی، پولس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور بڑی تعداد میں خواتین جیل گئیں۔

اس تحریک کی کامیابی کے جشن مناتے وقت لوگ اُس ہندوستانی شہزادی کو بھول گئے جو اس تحریک میں پیش پیش تھیں۔ نام ان کا شہزادی صوفیہ دلیپ سنگھ تھا جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پوتی تھیں، جو تحریک کے دوران قیمتی فر کا کوٹ پہنے، کندھے پر ایک بڑا سا تھیلا ڈالے اور بینر لئے لندن کی سڑکوں پر مظاہروں میں آگے آگے رہتی تھی۔

rani sophia 3

شہزادی صوفیہ دلیپ سنگھ نے 18 نومبر 1910ء کو جو بلیک فرائی ڈے کہلاتا ہے مسز پینک ہرسٹ کے ساتھ چار سو خواتین کے جلوس کی قیادت کی جو پارلیمنٹ تک گیا۔ اس موقع پر مظاہرین اور پولس میں جھڑپیں ہوئیں جن میں ڈیڑھ سو خواتین زخمی ہو ئیں۔ پھر 1911ء میں شہزادی صوفیہ نے اس ہندوستانی خواتین کے دستہ کی قیادت کی جس نے ساٹھ ہزار Suffargette خواتین کے کورونیشن جلوس میں شرکت کی۔

princess sophia (2)

شہزادی صوفیہ دلیپ سنگھ انگلستان کی خواتین کی اس تحریک میں بھی پیش پیش تھیں جو ٹیکس کی ادائیگی کے خلاف تھی۔ اس تحریک کا نعرہ تھا “No Vote, No Tax” شہزادی صوفیہ نے اپنے پالتو کتے کی لائیسنس فیس ادا کرنے سے یہ کہہ کر صاف انکار کردیا تھا کہ جب خواتین کو ووٹ کا حق نہیں تو ان پر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔ 14 شلنگ کا جرمانہ ادا کرنے سے انکار پر ان کی ہیرے کی انگوٹھی ضبط کر کے نیلام کر دی گئی۔ ان کی ایک ساتھی نے یہ انگھوٹی خرید کر ان کے حوالہ کر دی۔

princess sophia duleep singh

برطانوی حکومت سخت پریشان تھی کہ اس ہندوستانی شہزادی سے کیسے نبٹا جائے، جو ملکہ وکٹوریہ کے چہیتے مہاراجہ دلیپ سنگھ کی بیٹی ہے اور ہندوستان میں سکھوں کی آخری سلطنت کے فرما روا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پوتی ہے اور اپنے والد مہاراجہ دلیپ سنگھ کی طرح ملکہ وکٹوریہ کی چہیتی ہیں۔ ملکہ وکٹوریہ نے ان کا 200 پونڈ کا الائونس مقرر کیا تھا اور ہمپٹن کورٹ میں ایک تین منزلہ کوٹھی رہایش کے لئے دی تھی۔

rani sophia 4

شہزادی صوفیہ دلیپ سنگھ، 8 اگست 1876ء میں لندن کے امراء کے علاقہ بیلگریویا میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد مہاراجہ رنجیت سنگھ کے سب سے چھوٹے بیٹے مہاراجہ دلیپ سنگھ تھے۔

دس سال کی عمر میں شہزادی صوفیہ اپنے والد اور تین بہنوں کے ساتھ لندن سے غائب ہوگئیں۔ مہاراجہ دلیپ سنگھ اپنے بچوں کے ساتھ خاموشی سے ہندوستان واپس جانا چاہتے تھے لیکن عدن کی بندرگاہ پر پکڑے گئے اور واپس لندن لائے گئے۔

1903ء میں شہزادی صوفیہ نے اپنی بہن بمبا کے ساتھ نئے بادشاہ ایڈورڈ ہفتم کے دلی دربار میں شرکت کی تھی۔ اس کے بعد 1907ء میں دوبارہ ہندوستان گئیں اور امرتسراور لاہور میں اپنے عزیزوں سے ملاقات کی۔ اسی دوران ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے رہنمائوں، گوکھلے اور لالہ لاجپت رائے سے ملاقاتیں کیں۔

princess shphia

پہلی عالم گیر جنگ کے دوران شہزادی نے ریڈ کراس میں شمولیت اختیار کی اور انگریزوں کی فوج میں شامل جو ہندوستانی فوجی زخمی حالت میں برائیٹن لائے جاتے تھے ان کی طبی نگہداشت اور تیمار داری کی۔

شہزادی صوفیہ دلیپ سنگھ نے دو جنگیں دیکھیں اور ہندوستان کو آزاد ہوتے دیکھا اور 22 اگست 1948ء کو 71 سال کی عمر میں سوتے میں انتقال کر گئیں۔ انہیں لندن کے گولڈرس گرین کی لاش بھٹی میں نذر آتش کیا گیا۔ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی کہ ان کی راکھ ہندوستان پر نچھاور کر دی جائے۔

شہزادی صوفیہ کے والد مہاراجہ دلیپ سنگھ کی بھی داستان عجیب و غریب ہے۔ مہاراجہ دلیپ سنگھ، ہندوستان میں سکھوں کی سلطنت کے آخری مہاراجہ تھے۔ 1839ء میں ان کے والد مہاراجہ رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد، یکے بعد دیگرے، تین بھائیوں نو نہال سنگھ، دھیان سنگھ اور شیر سنگھ کے قتل کے بعد 1843ء میں پانچ سال کی عمر میں مہاراجہ دلیپ سنگھ تخت نشین ہوئے تھے۔ لیکن انگریزوں نے انہیں پندرہ سال کی عمر میں تخت سے اتار کر سکھ سلطنت کا خاتمہ کردیا اور انہیں انگلستان جلاوطن کر دیا۔

Maharajah_Duleep_Singh_

مہاراجہ دلیپ سنگھ ابھی پنجاب میں تھے کہ ان کے عیسائی اتالیق ، بھجن لال کے اثر اور دبائو میں آکر عیسایت قبول کر لی تھی۔ انگلستان میں اس زمانہ میں ملکہ وکٹوریہ کا راج تھا۔ مہاراجہ دلیپ سنگھ نے انگلستان آنے کے بعد مشہور ہیرا کوہ نور، ملکہ وکٹوریہ کو تحفہ میں پیش کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی بناء پر وہ ملکہ وکٹوریہ کے چہیتے بن گئے۔ ملکہ انہیں پیار سے پنجابی مہاراجہ کہتی تھیں اور دربار میں وہ ” بلیک پرنس ” کے لقب سے مشہور ہوئے۔

مہاراجہ دلیپ سنگھ کی پہلی شادی، ایک جرمن بینکر میولر کی بیٹی بمبا سے ہوئی، جس کی والدہ حبشہ کی ایک خاتوں تھیں جو میولر کی داشتہ تھیں۔ بمبا میولر کو قاہرہ میں عیسائی مشنریوں نے پالا تھا۔ بمبا میولر سے مہاراجہ دلیپ سنگھ کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں۔ شہزادی صوفیہ سب سے چھوٹی تھیں۔ بمبا میولر کے انتقال کے بعد مہاراجہ دلیپ سنگھ نے ہوٹل میں کام کرنے والی ایک ملازمہ ویدرل سے شادی کی جس سے ان کے دو بیٹیاں ہوئی۔ بتایاجاتا ہے کہ ویدرل کے ساتھ مہاراجہ دلیپ سنگھ سینٹ پیٹرس برگ گئے جہاں انہوں نے زارِ روس سے ملاقات کی اور درخواست کی کہ وہ ہندوستان پر حملہ کر کے انہیں ان کی پرانی سلطنت کے تخت پر بحال کردیں۔ زار روس نے یہ درخواست منظور نہیں کی۔

33 سال تک عیسائی رہنے کے بعد مہاراجہ دلیپ سنگھ نے جلاوطنی کے دوران سکھ مذہب کا مطالعہ کیا اور دوبارہ سکھ مذہب اختیار کرنے کی خواہش ظاہر کی لیکن برطانوی حکومت نے اجازت نہیں دی۔ انہیں عیسایت قبول کرنے، سکھ سلطنت کے تخت سے معزول کئے جانے اور ملکہ وکٹوریہ کی عنایات کے باوجود انگلستان میں جلا وطنی پر سخت تاسف تھا۔ اسی بناء پر انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ خاموشی سے ہندوستان جانا چاہا لیکن عدن میں پکڑے گئے۔ عدن ہی میں انہوں نے ایک تقریب میں سکھ مذہب دوبارہ اختیار کیا۔ انگلستان واپسی کے بعد برطانوی حکومت نے انہیں یورپ کے سفر کی اجازت دی۔ اور اسی دوران، 1893ء میں پیرس کے ایک ہوٹل میں 55 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ مہاراجہ دلیپ سنگھ کی خواہش تھی کہ ان کی میت ہندوستان لے جائی جائے اور وہاں آخری رسومات اد کی جائیں لیکن برطانوی حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی اور یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ انہیں انگلستان میں لیوڈین کے گرجا گھر کے احاطہ میں ان کی بیوی بمبا کے پہلومیں دفن کیا گیا۔

رنجیت سنگھ کی سکھ سلطنت کا یہ آخری تاجدار جس نے خوشنودی کے لئے کوہ نور ہیرا ملکہ وکٹوریہ کو تحفہ میں دیا، اس کے باوجود، وطن سے دور اپنی تمام خواہشوں کے دم توڑنے کے بعد مایوسیوں کے اندھیرے میں گم ہوگیا۔

میں لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہوں۔ میں نے صحافت امروز کراچی سے شروع کی ۔ انہتر سے پینسٹھ تک دلی میں جنگ کا نمایندہ رہا۔ پینسٹھ کی جنگ کے دوران دلی کے تہاڑ جیل میں قدید تنہائی کاٹی ۔ سن تیہتر سے تراسی تک جنگ لندن کا ایڈیٹر رہا. اس کے بعد بی بی سی اردو سروس میں سن دو ہزار دس تک پروڈیوسر رہا۔ ریٹائیرمنٹ کے بعد اب کالم نگاری کرتا ہوں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. SYED کہتے ہیں

    HI
    Seems it is incorrect. it is saying from 1969 to 1965.
    I think it should be from 1959 to 1965
    or
    from 1965 to 1969

    انہتر سے پینسٹھ تک

  2. Syed کہتے ہیں

    Nice Article

  3. طارق کہتے ہیں

    بہت دلچسپ اور معلوماتی تحریر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.