مشاہد حسین سید ۔۔۔۔۔ ایک اور سازش!

6,597

نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں مشاہد حسین ان کے وہی ہوتے تھے جو آجکل پرویز رشید ہیں، یعنی ’دانشور معتمد‘۔ اب ذرا لمحہ بھر کو سوچیں، اگر پرویز رشید نواز شریف کو چھوڑ کر عمران خان سے جا ملیں تو نواز شریف کو کیسا لگے گا؟ خود پرویز رشید کو کیسا لگے گا؟

بہرحال، مشرف کے اقتدار پر قابض ہوتے ہی مشاہد حسین نواز شریف کو چھوڑ کر مشرف کے زیرِسایہ بننے والی جماعت قاف لیگ میں شامل ہو گئے۔ پھر مشرف چلا گیا۔ اس کی جماعت کا اقتدار چلا گیا لیکن مشاہد حسین کے پاس قاف لیگ کی عطاء کردہ سینیٹرشپ ہنوز موجود ہے۔ قومی اسمبلی میں نون لیگ اور سینیٹ میں پی پی پی کی حکومت ہے اور مشرف دونوں کا دشمن نمبر ایک ہے لیکن اس کے باوجود مشاہد حسین ابھی تک سینیٹ کی کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین ہیں، کیوں؟ اور پھر کمیٹی برائے دفاع ہی کے سربراہ کیوں؟

مشاہد حسین مشرف کی بنائی ہوئی کنگز پارٹی یعنی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نون لیگ اور پی پی اور دیگر جماعتوں کو توڑ کر زبردستی تخلیق کردہ جماعت قاف لیگ کی عطاء کردہ سینیٹرشپ سے گیارہ مارچ کو ریٹائر ہوں گے۔ وہ چودھری شجاعت جنہوں نے مشرف کے ساتھ مل کر قاف لیگ بنائی، پیسہ پانی کی طرح بہایا اور وزیر اعظم پاکستان تک کے منصب پر فائز رہے، ان کو اور ان کے خاندان کو اقتدار سے باہر آئے اب تقریباً دس برس ہو چکے ہیں لیکن مشاہد حسین صاحب آج تک سینیٹر ہیں۔ آخر میاں صاحب کو مشاہد حسین کو اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ماننے کیلئے اور کیا ثبوت چاہئیے؟

چند روز قبل اچانک میاں صاحب اور مشاہد حسین کی ملاقات ہوئی اور پہلی ہی ملاقات کے بعد انکشاف ہوا کہ اب کی بار مشاہد حسین نون لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹ کا الیکشن لڑیں گے! کیوں؟ کیا میاں صاحب نہیں جانتے کہ مشاہد حسین اسٹیبلشمنٹ کے آدمی۔۔۔۔ بلکہ ان کی زبان میں ’مہرے‘ ہیں؟ تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ میاں صاحب نے ’مہروں کی سیاست‘ شروع کر دی؟

اصل سبب کیا ہے یہ تو میاں صاحب ہی بتا سکتے ہیں تاہم ایک عام آدمی کو اس سوال کے دو ہی جواب سمجھ آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ میاں صاحب نے سید صاحب کو ’کہیں‘ سے ڈکٹیشن لے کر اپنی جماعت میں شامل کیا اور سینیٹ کا ٹکٹ دیا ہے۔ دوم یہ کہ میاں صاحب اسٹیبلشمنٹ سے خوب لڑنے کے بعد اور بلوچستان میں چاروں شانے چت ہونے کے بعد اب تعلقات بحال کرنا چاہتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ نون لیگ کی جانب سے سینیٹر منتخب ہو کر سید صاحب ان کے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کریں گے۔

منیر نیازی یاد آ گئے

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے

سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

گیا تو اس طرح گیا کہ مدتوں نہیں ملا

ملا جو پھر تو یوں کہ وہ ملال میں ملا مجھے

ہر ایک سخت وقت کے بعد اور وقت ہے

نشاں کمالِ فکر کا زوال میں ملا مجھے

ایک سیاستدان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی ذات سے منسوب تضادات ہی ہوتے ہیں۔ جب اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کی حکومت میاں صاحب کی جھولی میں ڈال رہی تھی تو وہ خاموش تھے۔ جب اسٹیبلشمنٹ نے ان سے بلوچستان کی حکومت لے لی تو انہوں نے کہا، میرے خلاف سازش ہو گئی ہے۔ اسی کی دہائی میں جب انہیں مسند پر بٹھانے کیلئے مذہبی جماعتوں کا ووٹ بینک ان کی جھولی میں ڈال دیا گیا تاکہ وہ بی بی شہید سے مقابلے کے قابل ہو سکیں تو میاں صاحب خاموش رہے اور اب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں دراڑ آنے کے بعد جب ان سے یہ ووٹ بینک دو سے زائد دہائیوں کے بعد واپس لے لیا گیا ہے تو وہ فرماتے ہیں کہ یہ ان کیخلاف سازش ہے۔

میاں صاحب کی یہ ’سازش سیاست‘ عین ممکن ہے کہ پنجاب کے اس بھولے ووٹر کو تو ان سے بے وفائی نہ کرنے پر آمادہ کر لے کہ جو جب ایک بار کسی کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے تو پھر روئے زمین پر اسے چھوڑ کر جانے والا آخری گروہ ہوتا ہے۔ پنجاب کا ووٹر سب سے آخر میں محمد علی جناح کے ساتھ ملا تھا۔ پنجاب کا ووٹر بھٹو کی پھانسی کو تقریباً دو دہائیاں گزر جانے کے بعد اور اس کی بیٹی کی حکومتوں میں یکسر نظرانداز کیا جانے کے بعد تھک کر اسے چھوڑ کر گیا تھا۔ کے پی اور سندھ کی طرح پنجاب کا ووٹر کبھی کسی ایم کیو ایم، یا مذہبی جماعتوں یا قوم پرست جماعتوں کے ساتھ نہیں ملا اور جب تک شہباز حکومت اس کیلئے معمولی سے معمولی اقدامات بھی اٹھاتی رہے گا، یہ نون لیگ کے ساتھ ہی رہے گا۔ آپ کو اچھا لگے یا برا مگر یہ ایسا ہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ دیگر صوبوں کا ووٹر ان کی اس دہرے معیار کی حامل سازش سیاست سے متاثر ہو گا۔ وفا کی بجائے تدبر اور تنقید کی نگاہ سے میاں صاحب کے سیاسی فلسفے کا مطالعہ کرنے والا ووٹر بڑی آسانی سے دیکھ سکتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو صرف اور صرف اُن مقامات پر سازشی قرار دیتے ہیں جب کھیل ان کے خلاف کھیلا جا رہا ہو لیکن جب جب وہ خود اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر دوسروں کیخلاف سازش کرتے ہیں یا اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں سے فوائد اٹھاتے ہیں،تب تب انہیں کہیں کوئی سازش نظر نہیں آتی۔ عدالتیں ان کو بار بار ریلیف دیتی رہیں، وہ خاموش رہے۔ پہلی بار ان کیخلاف فیصلہ دیا تو وہ دھاڑنے لگے۔ آصف زرداری، ڈاکٹر عاصم، شرجیل میمن یا کسی بھی اور پی پی رہنماء کیخلاف نیب میں مقدمہ بنے تو وہ کرپٹ، نواز شریف یا کسی بھی اور لیگی رہنماء کیخلاف مقدمہ بنے تو سازش۔ آصف زرداری کے ساتھی لاپتہ ہو جائیں تو وہ غدار، این اے ایک سو بیس سے نون لیگ کا کوئی جیالا غائب ہو جائے تو پھر سازش!

اگر قوم مان لے کہ میاں صاحب کے خلاف سازش در سازش ہو رہی ہے تو پھر کیا میاں صاحب قوم کو بتانا پسند کریں گے کہ نون لیگ کے انگنت پرانے اور وفادار کارکنان اور رہنماؤں کو چھوڑ کر انہوں نے سینیٹ کے ٹکٹ کیلئے مشاہد حسین سید ہی کا انتخاب کیوں کیا؟ کہیں وہ بھی آئندہ عام انتخابات سے قبل اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کوئی سازش تو نہیں کرنے جا رہے؟

فیض صاحب یاد آ گئے

نصیب آزمانے کے دن آ رہے ہیں

قریب ان کے آنے کے دن آ رہے ہیں

جو دل سے کہا ہے جو دل سے سنا ہے

سب ان کو سنانے کے دن آ رہے ہیں

ابھی سے دل و جاں سرِراہ رکھ دو

کہ لٹنے لٹانے کے دن آ رہے ہیں

ٹپکنے لگی ان نگاہوں سے مستی

نگاہیں چرانے کے دن آ رہے ہیں

چلو فیضؔ پھر سے کہیں دل لگائیں

سنا ہے ٹھکانے کے دن آ رہے ہیں

اور فیض کی سنی ہے تو اکبر الہ آبادی کی بھی سن لیں

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

اور اکبر کی سنی ہے تو چلتے چلتے کلیم عاجز کی بھی سن لیں۔۔۔۔ شاید وہ بھی نواز شریف ہی سے مخاطب ہیں۔۔۔

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

برسبیل تذکرہ:

اندرا گاندھی نے 1975ء میں بھارت میں ایمرجنسی لگا دی تھی جو اکیس ماہ برقرار رہی۔ اس دوران انسانی حقوق کی بھرپور پامالی کی گئی۔ حزب مخالف کے رہنماؤں کو پابندِ سلاسلکیا گیا اور صحافت کی آزادی پر بھی بھرپور قدغنیں عائد کی گئیں۔ اسی اثناء میں پندرہ اگست کو نئی دہلی کے لال قلعہ میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی موجود تھیں۔ کلیم عاجز نے مشاعرے کے دوران اندرا گاندھی کی طرف اشارہ کر کے یہ شعر پڑھا تھا جس پر انہیں شرکاء سے بے پناہ داد ملی تھی مگرتقریب کے منتظمین کی سانسیں رُک گئی تھیں۔

سلمان نثار شیخ لکھاری، صحافی اور محقق ہیں۔ وہ اردو اور اقبالیات کی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. bali کہتے ہیں

    Is jaisay begharat zameer faroosh laanti logoon ko jub chamak dihkao yeh raasta badal laitain hain, senate seat kay liay noon league main chalaa gia, haram khor

  2. الحسیب کہتے ہیں

    گنجا خود بھی تو پرلے درجے کا بغیرت اور حرام خور ھے. پاکستان میں جوسب سے گھٹیادرجے کا بغیرت اور کمینہ ھوتا ھے اسی کو سب سےاچھا سیاستدان کہاجاتاھے.

  3. کاشف احمد کہتے ہیں

    آج آپ کی تحریر میںزیادہ تر باتوں سے میں متفق ہوں اور آپ نے میاں صاحب پر تنقید بھی بہت حد تک جائز کی ہےچلیں آپ نے اتنا تو مان لیا کہ اس ملک میں ہر سیاسی حل چل کے پیچھے سازش ہوتی ہے شکریہ

  4. Nasir کہتے ہیں

    i say (only)…….good

تبصرے بند ہیں.