پختونوں کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے

1 388

ﺟﺐ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﻧـﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﺟﻮﻕ ﺩﺭﺟﻮﻕ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﻧـﮯ ﻟﮕـﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﭘﭩﮭﺎﻥ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻗﯿﺲ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﺗﮭﺎ ﺍﭘﻨـﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ کے ﺴﺎﺗھ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺍﻗﺪﺱ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﮐﮯ ﮨﺎﺗھ ﭘﺮ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﮔیا۔ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﺨﺘﻮﻥ ﮨﯽ ﻭﺍﺣﺪ ﻗﻮﻡ ہــﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺬﮨﺐ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﭘﺨﺘﻮﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋـﮯ ﮐﮧ آﭖ ﭘﮩﻠـﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﺨﺘﻮﻥ؟ ﺗﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﭘُﺨﺘﻮﻥ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺩﮦ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠـﮯ سے ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﮞ، یہ تو تھا پختون قوم سے متعلق اسلامی تاریخ کا جائزہ، آئیے اب چلتے پاکستان، جہاں یہ واحد قوم ہے جس نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور اب تک دیتے آرہے ہیں۔

پختون قوم وہ مظلوم قوم ہے جسے ہر طاقتور نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔ انکے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ انگریز دور میں پختون قوم کی تقسیم کا آغاز ہوا، کچھ حصہ پنجاب میں شامل کیا گیا، کچھ بلوچستان میں اور فاٹا کے نام سے ان کے لیے الگ علاقہ بنایا گیا، جو باقی بچ گئے انہیں ” این۔ ڈبلیو۔ ایف۔ پی” کا نام دے دیاگیا۔ جب پاکستان بننے کا وقت آیا تب بھی پختونوں کے ساتھ زیادتی رواں رکھتے ہوئے باقی تین صوبوں میں الیکشن کروائے گئے جبکہ پختون خواہ میں ریفرنڈم کروایا گیا جس کا خدائی خدمتگاروں  “باچا خان” نے بائیکاٹ کیا تو پختون خوا پاکستان میں شامل کر لیا گیا، قیام پاکستان کے بعد بھی پختونوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی جاری رہی، روز اول سے پختون رہنما پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے دشمن بن گےَ۔ باچا خان، ولی خان، عبدالصمد خان اچکزئ، اجمل خٹک، ڈاکٹر خان، انکے ساتھ جو کچھ پنجابی اسٹیبلشمنٹ نے کیا وہ تاریخ گواہ ہے اور یہی پختون تھے جنھوں نے ایوب خان کے مقابلے میں قائد ملت کی بہن فاطمہ جناح کا ساتھ دیا لیکن پھر بھی غدار ٹھرے۔ پھر چاہے آزادی کشمیر کا جہاد ہو، 1965 کی جنگ ہو، 1971 میں شیخ مجیب سے ملاقات ہو، 90،000 جنگی قیدیوں کی رہائی ہو، شملہ معاہدہ ہو، آمریت کے خلاف کلمہ حق کہنا ہو، ہر موقع پر پختون قوم نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا لیکن پھر بھی غداری کے مرتکب قرار پائے۔

اگرچہ بات کریں دور حاضر کی تو زمانہ جدید میں بھی انہی غریت مند پختونوں نے پاکستان کی سلامتی و استحکام کیلئے سب سے بڑھ کر قربانیاں دیں، وہ چاہے انہیں آئی ڈی پیزکی صورت میں بےگھر ہونا پڑا یا ڈرون حملوں میں بےگناہ مارا جانا، مگر انہوں نے ہمیشہ اپنے وطن پر اپنے جان و مال نچھاور کیے۔ بڑے تو بڑے ان کے بچوں نے بھی اعتزاز احسن شہید سمیت سانحہ اے پی ایس کی شکل میں درجنوں بچوں نے اپنی دھرتی کو اپنے لہو سے دھویا ہے جبکہ سر پر دھشتگردوں کی گولیاں کھا کر ملالہ یوسفزئی کی صورت میں دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا لیکن افسوس کہ پھر بھی ہم نے انہیں اس سب کے باوجود بھی غداری کا سرٹیفیکیٹ بخشا۔ اس سے بھی بڑھ کر ظلم یہ کیا کہ خود زخمی اور اپنے بھائی کی شہادت دینے والے احمد نواز جو آج دنیا بھر میں اسلام و پاکستان کا مثبت چہرہ سامنے لارہا ہے کا حال تک نہیں پوچھا کہ وہ اس وقت کس حال میں ہے؟

گزشتہ کئی روز سے اسلام آباد میں نقیب اللہ محسود کے قاتل رائو انوار کی گرفتاری کیلئے ہزاروں لوگوں نے دھرنا دیا ہوا ہے۔ اس مجمع سے خطاب کرنے والوں کی کمی نہیں مگر ایک تقریر ایسی بھی تھی جو مجھے خود کو بار بار سننے اور پھر اس پر سمجھنے اور سوچنے پر مجبور کردینے لگی۔ یہ تقریر کی گئی تھی برادرم حامد میر کی طرف سے جنہوں نے بہت ہی اہم  بات کہی کہ “ایک نقیب اللہ محسود کا قاتل رائو انوار تو ہمیں پتہ ہے لیکن وہ جو شخص باہر بیٹھا ہے جس کا نام پرویز مشرف ہے وہ ہزاروں قبائلی پختونوں کا قاتل ہے، اس کو بھی واپس لائو اور عدالتوں میں پیش کرو،  اور اگر رائو انوار اسلام آباد میں ہے تو حکومت مگرمچھ کے آنسو نہ بہائے، نقیب اللہ محسود  کا قاتل جہاں بھی چھپا ہے، ہمیں عوام کو بتا دے، اس کو ہم خود پکڑ کر لائینگے لیکن پاکستان کی عوام کیساتھ ڈبل گیم مت کھیلا جائے۔

یقیناً ڈبل گیم تو ضیاء الحق کی دور سے ہی چلا آ رہا ہے، اس وقت بھی انہی سادے لوح پختوں کو اسلام اور جہاد کے نام پر افغانستان سے روس کو شکست دلوائی گئی تاکہ افغان پختونوں پر امریکہ قابض ہوسکے۔ میرے خیال میں ہر طرف سے پختونوں کے ساتھ زیادتیاں کی گئی حتیٰ کہ دوسروں کی جنگ میں دھکیل کر انہیں مروایا گیا۔ بالآخر آئین پاکستان کا مذاق بنانے والے پرویز مشرف نے بھی انہی پختونوں کو کچلا جو سلسلہ آج تک چلا آ رہا ہے۔ ان پختونوں کو نقیب اللہ محسود کی شکل میں کچلنے کیلئے پاکستان کے امن کے دشمن رائو انوار جیسوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے اور اب جبکہ مجرم بےنقاب ہونے لگا تو اسے چھپاکر تحفظ دے دیا گیا۔

اگر نقیب اللہ محسود کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا تو پھر ان پختونوں کو اپنا قاتل خود سے پکڑنے سے بھی کوئی نہیں روک پائے گا، جو ہم سب کیلئے نقصان دہ ہے، لہذا وقت سے پہلے ہمیں غلطی کا تدارک کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ وہ قوم ہے جب ایک دفعہ اندرا گاندھی نے بیان دیا کہ پاکستان ہم سے لڑنے کی غلطی کبھی نہ کرے کیوں کہ ہمارے پاس سکھ قوم ہے جن کے رات کو بارہ بج جاتے ہیں اور پھر وہ کچھ نہیں دیکھتے۔ اس کے جواب  میں اس وقت کےصدر ایوب خان نے کہا کہ بھارت کو بھی یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہمارے پاس پختون قوم کا پورا صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) ہے جن کے چوبیس گھٹنے بارہ بجے رہتے ہیں اور یہی قبائلی پختون تھے جنہوں نے افواج پاکستان کے ساتھ مل کر ہندوستان کو 1965ء کی جنگ میں شکست سے دوچار کیا تھا۔ لہذا جو پختونوں کا دشمن ہے، وہ پاکستان کا دشمن ہے اور جو لوگ پاکستان کے دشمنوں کو تحفظ دیتے ہیں، وہ ہم سب کے دشمن ہیں۔ ان کالی بھیڑوں کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔ اگر ایسے پیشہ ور مجرموں کو تحفظ دے کر یوں پاکستان کے آئین کیساتھ کھیلاجاتا رہا تو اس سے پاکستان کا مذاق بنے گا، جب پاکستان کا مذاق بنے گا تو ان ہزاروں شہیدوں کی قربانیاں ضائع جائیں گی جنہوں نے اپنے ملک  کے بہتر مستقبل اور استحکام کیلئے اپنی جانوں کے نظرانے پیش کیئے ہیں۔

مصنف معروف صحافی و قلم کار ہیں جبکہ دنیا نیوز اور ایکسپریس کےلیے بلاگ لکھتے ہیں اور ہمہ وقت جمہوریت کی بقاء اور آزادئ صحافت کےلیے سرگرم رہتے ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی اے ماس کیمونی کیشن کررہے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر، فیس بک اور ای میل پر رابطہ کیلئے نیچے دیئے گئے لنکس پر کلک کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Kifayat ullah کہتے ہیں

    I think this type of half baked journalists should avoid prattling their own way. No pakhtune are oppressed. They are brave and independent in their nature. No one can rule them. As far Naqeeb khan is concerned, the monster Rao and his master Zardari will must reach the end. Corrupt and children of Hindu I.e. Achakzai, bacha khan, wali Khan etc are black spot on the face of pakhtune. Pakhtune do not own them.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.