دہشتگردی ختم کرنے کا شرطیہ نسخہ

3,285

کہتے ہیں ایک بادشاہ کی عدالت میں کسی ملزم کو پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے مقدمہ سننے کے بعد اس کے قتل کا حکم دیا۔ جب ملزم کوقتل گاہ کی جانب لے جایا جا رہا تھا تو اسے سوچ آئی کہ موت تو اب آکر ہی رہنی ہے تو اس نے بادشاہ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ قیدی کچھ کہہ رہا ہے تو اس نے اپنے وزیر سے پوچھا کہ یہ قیدی کیا کہہ رہا ہے۔ وزیر بہت نیک دل تھا اس نے سوچا اگر ٹھیک بات بتا دی تو بادشاہ مزید غصے میں آکر اس کو قتل سے پہلے ہی کسی اور سزا میں مبتلا نہ کر دے۔ وزیر نے جواب دیا ملزم کہہ رہا ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو غصے کو ضبط کر لیتے ہیں اور لوگوں سے بھلائی کرتے ہیں۔ یہ سن کر بادشاہ متاثر ہوا اور ملزم کی رہائی کا حکم دیا۔ قریب ہی ایک دوسرا حاسد وزیر کھڑا سب ماجرا دیکھ رہا تھا۔ فوراً بادشاہ سے بولا کہ پہلا وزیر جھوٹ بول رہا ہے سچ تو یہ ہے کہ ملزم آپ کو گالیاں دے رہا ہے۔ بات سن کر بادشاہ بولا، اے وزیر! تیرے اس سچ سے کی بنیاد بغض اور حسد ہے۔ پہلے وزیر کا جھوٹ بہتر ہے جس سے کسی کی جان بچ گئی۔ اے حاسد! یاد رکھ، اس سچ سے جس سے کوئی فساد پھیلے، ایسا جھوٹ بہتر ہے جس سے کوئی برائی دور ہو۔

موجودور میں تاریخ کو با آسانی دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ نائن الیون سے پہلے کی دنیا اور نائن الیون کے بعد کی دنیا۔ زمانہ قدیم میں یونان،روم،فارس اور مصر دنیا پر چھائے تھے۔ یہاں سالہا سال لاتعداد جنگیں لڑی گئیں۔ جن میں لاکھوں انسان لقمہ اجل بنے۔ حضرت عیسیٰ کے بعد کے حالات پر اگر نظر دوڑائی جائے تو 12ویں صدی عیسوی کے بعد یورپ میں بڑی لڑائیوں کا آغاز ہوا جو 17ویں صدی پر آکر کچھ تھما۔ ایشیاء کے خطے پر نظر دوڑائیں تو چنگیز خان، ہلاکو خان، تیمور لنگ کا دور کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ برصغیر کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو سرزمین ہندوستان دوسروں کیلئے سونے کی چڑیا رہی۔ یہ ایرانی، افغانیوں کے حملوں کا شکار رہا۔ پھر انگریزوں اور فرانسیسیوں کے رحم و کرم پر رہا۔
19ویں اور 20ویں صدی میں برصغیر میں جنگ آزادی لڑی گئی۔ دنیا میں دو جنگ عظیم لڑی گئیں۔ 80کی دہائی میں سوویت یونین کی لڑائی دنیا پر اثر انداز ہوتی رہی۔

اگر بات نائن الیون کے بعد کے دور کی کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گزشتہ تمام ادوار کی جنگوں اور لڑائیوں سے زیادہ خطرناک اور شدید جنگ اس دور میں ہو رہی ہے۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو زبردستی دھکیلا گیا۔ اور سب سے زیادہ قیمت بھی پاکستان نے ہی چکائی ہے۔ گزشتہ 16سال سے افواج پاکستان اور بہادر قوم دہشتگردوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ اور اب بڑی حد تک دہشتگردی پر قابو پا لیا گیا ہے۔ لیکن مکمل طور پر قابو پانے میں ابھی وقت درکار ہے۔
انسان کو اگر کسی چیز یا کسی نقطے کی وجہ سمجھ نہ آسکے تو اس کو اس شے یا نقطہ کے پس منظر میں جانا چاہیئے۔ اس سے ملحقہ عناصر پر غور و خوض کرنا چاہئیے۔ قتل و غارت اور خونریزی تو کئی ہزار سالوں سے ہو رہی ہے۔ مگر اس کے اس قدر بھیانک اثرات پہلے نہ تھے جتنے آج مرتب ہو رہے ہیں۔

خصوصاً پاکستان کا ذکر کریں تو گزشتہ 16سال میں بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، عوام باشعور ہوئی ہے، کئی بڑے بڑے کرپٹ عناصر کے چہرے عوام پر بے نقاب ہوئے ہیں، کئی محکموں کی مجرمانہ غفلتیں قوم کے سامنے آئی ہیں۔ دہشتگردی کے ناسور سے بھی عوام متاثر ہوئے ہیں۔ بظاہر تمام پہلو مختلف نظر آتے ہیں لیکن اگر غور کیا جائے تو ان سب میں  ایک تعلق مشترک ثابت ہوتا ہے اور وہ ہے میڈیا۔ جی ہاں! میڈیا نے پاکستانی عوام کو اتنا باشعور اور ہر معاملے سے اتنا آگاہ کر دیا ہے کہ اب اس قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ناممکن سا لگتا ہے۔ کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا واقعہ رونما ہو جائے تو فوراً سے پہلے میڈیا پر آجاتا ہے۔ کوئی خبر میں سب سے پہلے ہے تو کسی کے پاس فوٹیج سب سے پہلے۔ ہر ٹی وی چینل سب سے پہلے کے چکر میں بریکنگ پہ بریکنگ نیوز چلاتا ہے۔

میری ناقص رائے میں میڈیا انجانے میں اتنے سال سے دہشتگردوں کو کسی حد تک سہولت کار بنا ہوا ہے۔ دہشتگردوں کا صرف ایک ہی مقصد ہے تباہی پھیلانا اور لوگوں کے دلوں میں خوف اور ڈر بٹھانا۔ کہیں پر ایک دھماکا یا خودکش حملہ ہو جائے تو میڈیا ایسی سنسنی پھیلاتا ہے کہ خیبر سے کراچی کشمیر سے گوادر تک ہر بندہ سہم جاتا ہے۔ کوئی چھوٹا یا معمولی دھماکا بھی ہو جائے تو فورا سے پہلے بریکنگ پر بریکنگ سے اسے بڑا سانحہ بنادیا جاتا ہے۔ ناصرف دیگر علاقوں میں اپنے گھروں میں موجود شہریوں کو ڈرا دیا جاتا بلکہ دہشتگردوں کو بھی اس سانحے سے ہونے والی معلومات بیٹھے بٹھائے دے دی جاتی ہیں۔ اب تک پکڑے جانیوالے کئی دہشتگرد اس بات کا انکشاف کر چکے ہیں کہ ان کے ٹھکانوں پر پاکستان بھر کے ٹی وی چینلز چل رہے ہوتے ہیں،اور ان کے بھی مانیٹرنگ سیلز ہیں۔ جہاں بیٹھ کر وہ اپنے ناپاک منصوبوں کی تکمیل کو آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں۔

حکمران اور آرمی چیف اگر اس تجویز پر غور کریں۔ پیمرا سمیت میڈیا ہاؤسز کو باقاعدہ پابند کیاجائے کہ کسی بھی تخریب کاری کی خبر اور فوٹیج نشر نہ کی جائے۔ نہ دہشتگردی کی خبر چلے گی، نہ عوام کو اس پتہ ہوگا نہ خوف و ہراس کی فضا قائم ہوگی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دہشتگرد وں کو بھی اپنی کارروائی کے بعد کی صورتحال پتہ نہیں لگ سکے گی۔ خدا نخواستہ اگر کہیں پر دھماکا یا دہشتگردی ہوتی ہے تو باقی ملک کے عوام کو پتہ نہ بھی چلے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ واقعہ کی اطلاع ریسکیو حکام اور امدادی ٹیموں کو ملنا ضروری ہے، سکیورٹی اداروں کو ملنا ضروری ہے، نہ کہ عام شہریوں کو۔ جس خبر کا جس سے تعلق ہے اس تک ہی پہنچے تو معاشرے کیلئے بہتر ہے۔ غیر ضروری طور پر تشہیر سے فضا میں بدمزدگی، ڈر اور خوف جیسے عناصر تو عام شہری کے دل و دماغ میں سرایت کرینگے ہی نا۔

آج ہمیں کھیلوں کے میدان آباد کرنے میں دشواری ہے۔ دنیا میں خود کو پرامن ثابت کرنا پڑ رہا ہے مگر کوئی ماننے کو تیار نہیں۔ دنیا کا کوئی بھی شہری بطور سیاح پاکستان آنے پر مطمعن نہیں ہوتا۔ دنیا کا کوئی ملک اپنے شہری کو پاکستان کے سفر کرنے پر حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کو یہ کیسے پتہ چلا کہ ہم آئے روز دہشتگردی کا شکار ہیں۔ یہاں ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے۔ یہ کوئی ایک دو روز یا ایک دو سال کا قصہ نہیں۔ یہ گزشتہ 16سال کی تصویر ہے جو دنیا پاکستانی میڈیا چینلز کی آنکھ سے دیکھ رہی ہے۔ جب ہم ہی خود کو آفت زدہ دکھائیں گے تو باقی دنیا ہمیں کیونکر پرامن تسلیم کریگی۔ دنیا بھر میں آئے روز دہشتگردی کے درجنوں واقعات ہوتے ہیں لیکن اتنی تفصیلات کسی بھی ملک کا میڈیا نشر نہیں کرتا جتنا پاکستان میں کیا جاتا ہے۔

اگر حکومت، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، سکیورٹی ادارے، پیمرا سمیت تمام متعلقہ ادارے اس نقطے پر غور کریں اور کسی بھی دہشتگردی، فرقہ واریت، نسلی تعصب والی خبروں کے نشر کرنے پر پابندی لگا دیں تو میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس سے بحالی امن میں بہت مدد ملے گی۔ یہی قوم جو 16سال سے ایسی خبریں دیکھ دیکھ کر ذہنی مریض جیسی حالت میں ہے۔ ایک دو سال میں دوبارہ ہنستی کھیلتی نظر آئے گی۔ جب دنیا ہمارے ٹی وی چینلز میں سب اچھا ہی اچھا دیکھے گی اور وہاں سے بھی پاکستانی حالات سے متعلق منفی چھاپ ختم ہو جائیگی۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جہاں پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے وہیں اگر میڈیا بھی کندھے سے کندھا ملا لے تو پھر ستے خیراں ہی خیراں۔ کیونکہ کالم کے آغاز میں تحریر حکایت میں بادشاہ نے اپنے وزرا کو کہا تھا

وہ سچ جو فساد کا سبب ہو،بہتر ہے نہ وہ زبان پہ آئے
اچھا ہے وہ کذب ایسے سچ سے،جو آگ فساد کی بجھائے

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

5 تبصرے

  1. کاشف احمد کہتے ہیں

    میں آپ کی باتوں سے 100 فیصد متفق ہوںبہت اعلی سوچ ہے آپ کی اور دنیا بھر کا میڈیا اسی کو فالو رتا ہے یا کروایا جاتا ہے لیکن یہا ں سب سیاست کر رہے ہیں کیا ادارے اور کیا سیاستدان اور کیا صحافی اور کیا عوام سب سیاسی ہوگئے ہیں اور ملک پیچھے دہ گیا ہے

    آخر میں ایک بات کہوں برا نہیں مانیے گا آپ منا بھائی فلم کے اداکار سرکٹ کی طرح دکھتے ہیں

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      اور آپکی بات میں برا منانے والی کوئی بات نہیں ۔آپ کی مراد ارشد وارثی سے ہے جو بھارتی اداکار ہیں ۔ جی ہاں بہت سے لوگ اور دوست ارشد وارثی سمیت کئی اداکاروں سے میری مشابہت بتاتے ہیں ۔ میں نے برا نہیں مانا ہر کسی کی اپنی رائے ہوتی ہے

  2. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    کاشف صاحب مہربانی میری رائے سے اتفاق کرنے کیلئے

  3. کاشف احمد کہتے ہیں

    مجھے نام معلوم نہیں تھا اداکارکا ارشد وارثی بتانے کا شکریہ

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      آپ کا بھی شکریہ دوبارہ

تبصرے بند ہیں.