بے زباں پر ظلم نہ کر، یہ خدا سے تیرا شکوہ کریں گے

3,021

یوں تو پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس بات کا دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جانور بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں اور شفقت کے حقدار ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی اس سوچ کو اجاگر کرنے کی خاطر گھروں میں جانور اور پرندے لا کر پالنا شروع کردیتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس شوق کا رجحان موجود ہے۔ بہت سے لوگوں نے اپنے گھروں میں نسلی کتے، بلیاں اور کئی اقسام کے رنگ برنگے پرندے پال رکھے ہیں اور ان کی بہت اچھی طرح سے پرورش کرتے ہیں، وقت پر کھانا پانی دیتے ہیں، مگر ان جانوروں کا کیا جو گلی محلوں میں آوارہ گھومتے ہیں اور کسی کو نقصان پہنچانا تو دور کی بات روز انسانی ظلم و ستم سہتے ہیں اور اپنی زندگی کے دن گنتے ہیں۔

گلی محلوں میں ذیادہ تعداد بلیوں اور کتوں کی ہے جو کہ سارا دن صرف کھانا اور رات کو آرام کرنے کی خاطر پناہ گاہیں ڈھونڈتے ہیں، مگر ہمارا ظالم معاشرہ اپنے ارد گرد انہیں برداشت نہیں کرتا، بس جہاں کوئی کتا یا بلی دیکھی پتھر اٹھایا اور دے مارا، یہ بھی نہ سوچا کہ کیا بیتتی ہوگی ان بے زباں جانوروں پر۔ وہ یقین کریں ہمیں انسان نہیں مانتے ہوں گے کیونکہ انسان کو تو قدرت نے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے اور ساری سمجھ بوجھ دی ہے، پھر بھی احمقوں والی حرکتیں کرتے ہیں۔ کبھی غور سے کسی بلی یا کتے کی طرف دیکھیں پھر بتائیں کیا ان کو دیکھ کر کوئی چیز مارنا درست ہوگا۔ ان معصوم جانوروں کو جنہوں نے تمھارا کچھ بگاڑنا تو دور کی بات کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا اور تم اس کو اس لیے مارتے ہو کہ وہ کتا ہے یا بلی ہے۔ ان کتوں اور بلیوں کی زندگی ویسے ہی بہت مختصر ہوتی ہے۔ اکثر بھوک سے مرجاتے ہیں تو کئی تیز ٹریفک کی زد میں کچل دیے جاتے ہیں۔ اتنی مشکل زندگی گزارنے والوں پر انسانی مخلوق ظلم کرنے لگ جائے تو کتنی غلط بات ہوگی، وہ بھی قدرت کی تخلیق ہے اور معاشرے میں ان کی اپنی ایک الگ جگہ موجود ہے۔ یقین جانیں ہماری یہ چھوٹی چھوٹی خطائیں خدا کی نظر میں بہت بڑی ہوتی ہیں اور اپنی ان خطاؤں کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم توبہ بھی نہیں کرتے اور بے چین رہتے ہیں۔

ایک عہد کرلیں کہ آج کے بعد گلی، محلوں یا چھتوں پر ان جانوروں کو دیکھ کر شیطانی حرکتیں نہیں کریں گے اور ان کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی جانوروں سے شفقت کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بے زباں ہیں ان پر ظلم نہ کیا کرو، یہ خدا سے تیرا شکوہ کریں گے۔ بلی کے بارے میں فرمان مصطفیٰ ﷺ  ہے کہ اگر بلی کو مارنا زیادہ ضروری ہے تو روئی کے گولے سے اس طرح مارو کہ وہ بھی اسے نہ لگ پائے۔  ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا رحمدلی دین کا حصہ ہے، جو رحمدل نہیں اس کا کوئی دین نہیں، وما علینا الالبلاغ المبین۔

عثمان بٹ صحافت کے طالب علم ہیں اور دنیا نیوز کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    A very nice article. It needs a lot of effort to train our children about caring the animals. We never teach kids to treat animal with love.

تبصرے بند ہیں.