سانحہ قصور کی مقتول بچیوں کو شھید کہا جاسکتا ہے؟

2,461

زینب قتل کیس نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا اور بے شمار سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایسے ہی کچھ سوالات کے جوابات ہم  اس تحریر میں تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس سارے واقعے میں ایک سوال جو کہ بہت بار اٹھایا گیا وہ یہ ہے کہ زینب قتل کیس میں ایسی کون سی بات تھی کہ یہ اتنا زیادہ ہائی لائٹ ہوا حالانکہ دوسرے گیارہ کیس بھی تو اسی شہر میں ہوئے تھے؟

اس کا جواب ہے کہ سوشل میڈیا نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ صبح کے ناشتے کے بعد میں نے جب نیٹ کھولا تو ٹویٹر اور فیس بک پر مجھے ایک بہت ہی معصوم سی پیاری بچی کی تصویر نظر آئی۔ اس کے چہرے پر ایک ایسی معصومیت تھی کہ جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اگر آپ اس تصویر کو دیکھیں تو آپ محسوس کریں گے کہ اس کا چہرہ عام سا چہرہ نہیں تھا۔ ایسے چہرے کبھی بھی عام نہیں ہوتے، ان کی ذہانت ان کے چہرے سے عیاں ہوجاتی ہے۔ ایسی بچیوں کا مسقبل ان کی پیشانی سے واضح ہوجاتا ہے۔

میرا اس تصویر کے متعلق پہلے تاثر یہ تھا کہ پاکستان کی ایک اور بیٹی نے کوئی ایسا کارنامہ اس چھوٹی عمر میں کردیا ہے کہ اس کی تصویر فیس بک، ٹوئٹر کے لئے آج کا سب سے بڑا ٹرینڈ بن گئی ہے۔ اسی تجسس میں، میں نے ایک تصویر کا لنک کھولا اور پڑھنا شروع کیا۔ جوں جوں میں پڑھتا گیا مجھے ایسا لگا کہ پوری دنیا میرے لئے بے معنی سی ہوگئی ہے۔ دل سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اپنے جذبات پر کیسے قابو پائوں۔ ذہن کو بار بار جھٹکتا تھا، ایسا نہیں ہوسکتا، کوئی شخص اتنا بے رحم ظالم بھی ہوسکتا۔ بس نہیں چلتا تھا کہ اس کا قاتل پکڑا جائے اور میں اس کی لاش کو پھانسی پر لٹکتا دیکھوں۔

اب آپ کو اس سوال کا جواب تو مل ہی گیا ہوگا کہ زینب کوئی عام لڑکی نہیں۔ اس کی صورت میں ایک کشش تھی جس نے معاشرے کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور یوں یہ کیس اس شدت کے ساتھ  ہائی لائٹ ہوا کہ صرف پاکستان سے ایک دن میں پانچ لاکھ افراد نے اس پر ٹویٹ کی۔ جبکہ اس دن یہ ٹوئٹر ٹرینڈ میں دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر رہا۔

ایک دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا زینب کے اس سفاکانہ قتل نے معاشرہ کی مجموعی سوچ کو تبدیل کیا؟

زینب کی موت نے پورے ملک میں ایک سوگوار سی کیفیت پیدا کردی ہے۔ بڑے دل گردے والے لوگوں کی آنکھوں میں بھی میں نے اس دن آنسو دبے دیکھے۔ شوبز سے وابسطہ لوگوں کو چینلز سکرین پربلک بلک کر روتے دیکھا۔ اینکر پرسن رپورٹر جن کی خود کش حملوں کی رپوٹنگ کرتے ہوئے آواز میں بھی لرزش نہیں دیکھی تھی، یوں روتے تھے کہ جیسے کوئی وہ کوئی غیر نہیں تھی بلکہ ان کی اپنی تھی۔

یہ زینب کی لاش تھی جس نے دیگر گیارہ بچیوں کے کیسسز کو بھی زندہ کردیا۔ اس کی موت نے معاشرے کے ضمیر کو جنجھوڑ کر رکھ دیا۔ دن رات سیاسی بحثیں کرنے والے بھی سب کچھ بھول کر صرف مجرم کی فوری گرفتاری اور اس کی عبرتناک سزا کے لئے بے تاب نظر آتے تھے۔

معاشرے میں ایسی بے چینی ایک دفعہ میں نے اس دن دیکھی جس دن اے پی ایس پشاور کا واقعہ ہوا تھا یا پھر اس  دن دیکھی جب یہ کیس سامنے آیا۔ لیکن اے پی ایس والے واقعہ میں ہمیں اپنا دشمن سامنے نظر آرہا تھا اور اس سے ہم یہ ہی توقع رکھتے تھے، لیکن یہ تو کوئی غیر نہیں تھا، اسی معاشرہ کا ایک ایسا فرد تھا۔

زینب کی موت نے نشاندہی کی  کہ ہماری سوسائٹی اندر سے اتنی کمزور اور بے بس ہے کہ ہم ظلم ہوتا دیکھتے ہیں لیکن اسے روکنا تو درکنار اس پر بات کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ اس کی موت نے اس احساس معاملے کو معاشرہ کے ہر طبقہ کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ اگر ان جنسی درندوں سے اپنے بچوں کو بچانا ہے تو انہیں ایجوکیٹ کرنا پڑے گا۔ جس بات پر ہم کھل کر بات کرنے سے گھبراتے تھے، اب اس جھجھک کو پش پشت ڈال کر ان پھول سی کلیوں کو اس خطرہ سے آگاہ کرنا پڑے گا۔ قانون سازی، تعلیم، مناسب آگاہی اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرکے اس برائی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

عام طور پر جب کوئی بھی معاشرتی تبدیلی آتی ہے تو اس کی رفتار بہت سست ہوتی ہے اور اس معاملے کے متعلق کچھ طبقہ فکر کے لوگ جن کا اس ایشو سے مفاد وابسطہ ہوتا ہے، دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ زینب کے قتل نے ہماری معاشرتی سوچ کو یک دم تبدیل کرکے رکھ دیا اور اس بات کو باور کروایا ہے کہ اب بچوں پر زیادتی کے ایشوز پر چپ نہیں رہا جاسکتا۔ جب سے یہ کیس سامنے آیا ہے، سوشل میڈیا سے لیکر ایک پسماندہ علاقہ کے پرائمری سکول کی ٹیچر تک نے اس پر کھل کر بات کی جو کہ معاشرے کی مجموعی سوچ میں تبدیلی کی نشاندہی ہے۔

ایک اور سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہم اس درندے کے ہاتھوں مرنے والی قوم کی بچیوں کو شھادت کا مرتبہ نہیں دے سکتے؟ اس کا جواب صرف ایک لفظ یعنی ہاں میں دیا جا سکتا ہے یا پھر یہ کبھی نہ ختم ہونے والی بحث میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں شھادت کا سرٹیفکیٹ بھی سماج کے کچھ ٹھیکیدار جیبوں میں لیے پھرتے ہیں۔

شھید کس کو کہا جاتا ہے؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ شھید کا خطاب اس فرد کو دیا جاتا ہے جو کہ اپنے مذہب، قوم، وطن یا کسی خاص نظریے کے پیچھے اپنی جان دیتا ہے۔ وطن، قوم، مذہب پر جانیں دینے والے کی بات بالکل صاف ہے کہ وہ شھادت کے رتبہ میں آتے ہیں اور جہاں نطریہ کی بات کریں تو اس پر تھوڑا بہت اختلاف ہوسکتا ہے۔

میرے نزدیک جب کوئی شھید ہوتا ہے تو اس کو شھید کرنے والے کی بری نیت اس میں شامل ہوتی ہے۔ آپ کا دشمن آپ پر حملہ آور ہوتا ہے، اس کے دفاع میں لوگ جاں بحق ہوتے ہیں۔ ایک دھشت گرد کوئی کارروائی کرتا ہے، اس کارروائی کے پیچھے اس کی بری نیت شامل ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر زینب اور ان گیارہ بچیوں کی بات کریں تو اس کے پیچھے ان کے قاتل کی ایک بری نیت شامل تھی، جبکہ دوسری جانب شھید ہونے والا اپنی جان تو دیتا ہے لیکن اپنی قوم کو ایک سبق اور پیغام بھی دے جاتا ہے، جس کے نتیجہ میں وہ قوم متحد ہوتی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کیلئے جان دی گئی ہے۔ زینب سمیت ان گیارہ بچیوں نے بھی اپنی جانیں دے کر ایک ایسے معاشرتی مسئلے کو اجاگر کیا ہے جس پر ہمیشہ آنکھیں بند کرلی جاتی تھیں۔ اس پر پہلے ہی کافی روشنی ڈالی جا چکی ہے، اس لئے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک شھادت ہی ہے کہ اپنی موت سے معاشرے میں تبدیلی کا آغاز کر جانا۔ اس کیس کے بعد نئی قانون سازی کی جارہی ہے۔ بچوں کو آگاہی دینے کے لئے اخلاقیات، مذہب اور معاشرتی اقدار میں رہتے ہوئے تعلیمی سطح پر سلیبس کا حصہ بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ پرنٹ، سوشل اور الیکٹرونک میڈیا پر کمپین چلائی جارہی ہے اور مجموعی طور پر معاشرہ میں اس برائی کے متعلق دبے الفاظ کی بجائے کھل کر بات کی جارہی جو کہ بہت بڑی تبدیلی ہے اورمعاشرے کی ان بیٹیوں کو شھادت کے مرتبہ پر فائز کرتی ہے۔

مصنف ایک سیاسی و سماجی ورکر ہیں اور ماضی میں صحافت کے پیشے سے منسلک رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    شہادت کے علاوہ اور کوئی لفظ موزوں ہی نہیں ہوتا ان تمام بچوں اور بچیوں کے لیے جنہیں یہ شعور بھی نہیں تھا کہ ان کو کس لیے مار دیا گیا۔ وہ کوئی بھی ہوں۔ کہیں بھی ہوں۔

  2. bali کہتے ہیں

    Yeh agar na bhi mari jaateen, qudrati mot mar jateen, to bhi nabaligh log sheed hain or apnay valdain kay liay maghfarat kaa zaria banain gay

تبصرے بند ہیں.