پاکستان مسائل کا شکار کیوں؟

1,667

اگر آپ کا خیال ہے کہ مسائل کا گڑھ صرف ہمارا ملک ہے تو آپ کی سوچ غلط ہے، کیونکہ ہر معاشرے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ اچھے لوگ ہمیشہ اپنے معاشروں کو خوب سے خوب تر بنانے میں لگے ہوتے ہیں اور دوسری طرف برے لوگ اپنی لاعلمی یا جاہلیت کی وجہ سے آس پاس کے ماحول کو گندہ کررہے ہوتے ہیں۔

اپنے ملک کا یہ حال دیکھتے ہوئے ہم سوچتے ہیں کہ ایسا بگاڑ ترقی یافتہ ممالک میں کیوں نہیں ہے؟ حالانکہ وہاں بھی یہ سب ہو رہا ہوتا ہے لیکن وہ سب مل کر اپنے حکمرانوں و عوامی دلچسپی کے ساتھ معاشرے میں گندگی کی وجہ بننے والے اسباب کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں ان کا  معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔

کیا کبھی آپ نے یہ بھی سوچا کہ پاکستان دن بدن مسائل کا شکار کیوں بنتا چلا جارہا ہے؟ ہم وہ پڑھی لکھی جاہل قوم ہیں جسے صفائی کے بورڈ پڑھنا تو آتا ہے مگر گلی کوچوں اور سڑکوں پر  گندگی نہ پھینکنے کاعمل نہیں آتا،  ہمیں درختوں کے سائے تلے بیٹھنا تو آتا ہے مگر ان کی حفاظت کرنا نہیں آتا، ہمیں مجرموں کا تحفظ کرنا تو آتا ہے مگر ان کو انہی کے جرم کی سزا دلوانا نہیں آتا، ہمیں بچے پیدا کرنا تو آتا ہے مگر ان کی اچھی تربیت کرنا نہیں آتا۔

اس سب کی وجہ یہ ہے کہ ہم خود پرست قوم ہیں اور جو لوگ صرف اپنا فائدہ سوچتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہی ہوتے ہیں۔ وہ لوگ کیسے اپنے  معاشرے کو بہترین معاشرہ بنا سکتے ہیں جو جھوٹی غیرت کے نام پر اپنی جگر گوشوں کی بے رحمی سے جان لے لیتے ہوں اور پھر ڈھنڈورا یہ پیٹتے ہوں کہ پسند کی شادی بے حیائی ہے۔

ایک دفعہ اللہ تعالی کی طرف سے وحی آئی کہ: اے امت مسلمہ کے سردار صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم اپنی بیٹی کا نکاح حضرت علی رضہ سے کر۔ جب وقتِ نکاح آیا تو آپﷺ مبارک قدموں سے  چل کر اپنی عزیز بیٹی کے پاس گئے اور پوچھا کہ اے بیٹی میں تمھارا نکاح  حضرت علی رضہ کےساتھ کردوں؟ یہ سب اس لیے کیا گیا کہ  آپ ﷺ نے اپنی امت کوپیغام دینا تھا کہ شادی کے سلسلے میں اپنی اولاد پر زبردستی نہ کرو۔ یہی ہماری ناکامی ہے کہ اللہ اور اسکے رسول کو تو مانتے ہیں مگر ان کی ایک نہیں مانتے۔

اس حوالے سے دینی تعلیمات عام کرنے کے دعویدار بھی بھی کسی سے کم نہیں کیونکہ وہ مذہب کو چھوڑ کر مسلک کے چکر میں پڑ گئے ہیں۔ اس طرح ہماری ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے اسکولوں اور کالجوں کا نظام تعلیم بہتر نہیں ہوا کیونکہ وہ اب دین اسلام کوچھوڑ چھاڑ کر ڈانس کلاسز اور فحاشی پھیلانے کے اڈے بنتے چلے جارہے ہیں۔ اگر معاشرہ بہتر بنانا مقصود ہو اور پاکستان کو مسائل کے بجائے امن سلامتی کا گہوارہ بنانا ہے تو پہلے ہمیں خود کو انفرادی طور پر بہترین انسان بننا ہوگا اور اسکے بعد معاشرے کی بھلائی کا سوچنا ہوگا۔

ایک استاد کا قصہ مشہور ہے جس نے اپنے ایک شاگرد کو دنیا کا نقشہ دیا۔ یہ نقشہ مختلف ٹکڑوں میں پھٹا ہوا تھا۔ استاد نے شاکرد کو حکم دیا کہ اسے صحیح سے جوڑ دو۔ اب شاگرد پریشان ہو گیا کہ وہ کیسے اس نقشے کو بالکل ٹھیک جوڑ سکتا ہے؟ اتنے میں اچانک اس کی نظر نقشے کے ٹکڑوں کے ڈھیر میں ایک انسانی آنکھ پر پڑی۔ دراصل نقشے کے دوسری طرف انسانی آنکھ چھپی تھی۔ پس اس نے ٹکڑوں میں نقش انسانی جسم کے اعضاء  تلاش کرنا شروع کیے، جب اعضاء ٹھیک جگہ رکھ دیے تو سارا نقشہ اپنی اصل شکل میں جڑ گیا۔ جب وہ اپنے استاد کو نقشہ دکھانے گیا تو انہوں نے پوچکا کہ یہ تم نے کیسے جوڑا تو اس نے پوری کہانی تفصیل سے سنا دی۔

استاد نے شاگرد کو شاباش دی اور ساتھ ہی یہ کہا کہ میں تمھیں درحقیقت یہی سمجھانا چاہتا تھا کہ جب انسان بگڑتا ہے تو معاشرہ بھی بگڑ جاتا ہے اور جب معاشرے بگڑ جائیں تو قوموں کی قومیں بگڑ جاتی ہیں۔ اسی طرح اگر ہم نے اپنے معاشرے کو بہتر بنانا ہے تو سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو ٹھیک کرنا ہوگا۔

مصنف معروف صحافی و قلم کار ہیں جبکہ دنیا نیوز اور ایکسپریس کےلیے بلاگ لکھتے ہیں اور ہمہ وقت جمہوریت کی بقاء اور آزادئ صحافت کےلیے سرگرم رہتے ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی اے ماس کیمونی کیشن کررہے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر، فیس بک اور ای میل پر رابطہ کیلئے نیچے دیئے گئے لنکس پر کلک کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Hafiz Farhan کہتے ہیں

    Behtreen…

تبصرے بند ہیں.