پاکستان میں رائج نظامِ عدل

2,059

کوئی بھی معاشر ےخواہ وہ کفر پر ہی قائم  کیوں نہ ہو، اگر اس کا عدل کا نظام معیاری ہے تو اس معاشرے کو کوئی طاقت ترقی  کرنے سے  نہیں روک سکتی۔ مظلوم کوانصاف اور مجرم کو سزا  دلانے والا نظام اگر انصاف پر مبنی ہو تو  معاشرہ نہ تباہ وبرباد ہوسکتا ہے اور نہ ہی پستی کبھی اس کا مقدربن سکتی ہے۔

ہمارا پیارا ملک پاکستان جو دین اور لا الہ الا ﷲ کی بنیاد پر قائم ہوا، یہ لاکھوں لوگوں کی قربانیوں کے بعد معرضِ وجود میں آیا۔ ہزاروں لوگ اپنی جانوں پر کھیل کر یہاں اس سر زمین پاکستان میں آئے۔ ان کی سوچ تھی کہ یہاں وہ آزادی سے رہیں گے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاریں گے اور ریاست انہیں سستا انصاف دے گی مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہوا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس مملکت خداداد میں عدل کا نظام اسلامی طریقہ اور خلفائے راشدین کے طرزِعمل کا مظہر ہوتا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ یہاں کا نظامِ عدل طبقاتی رہا، امیر اور غریب کے لیے علیحدہ علیحدہ معیار مقرر ہوئے۔ اب صورتحال ایسی ہے کہ عدالتیں اپنا فرض انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں نا کام نظر آرہی ہیں۔ امیر چاہے جتنا بڑا جرم کرے اس کو پروٹوکول کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔اور ہوتا کیا ہے اس کے اثرورسوخ کی وجہ سے عدالتوں پر مختلف ذرائع سے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔اسی طرح وہ عدالتوں سے با عزت بری کا لفظ ڈھٹائی سے استعمال کرتے ہوئے باہر آجاتے ہیں۔

ہزاروں مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جیسے پٹرولیم گیس کا کیس آیا جس میں سابق وزیر پڑولیم گیس پر 460 ارب روپے کرپشن کا الزام ہے۔ بحیثیت وزیر اس نے صدارت کو نقصان پہنچایا، یہ کیس اب تک عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

ایان علی منی لانڈرنگ کا کیس آج تک کچھ بنتا نظر نہیں آرہا۔ ایان علی ماڈل پر الزام ہے کہ اس سے 5 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم جو کہ پاکستانی 5 کروڑ بنتے ہیں بیرونِ ملک جاتے ہوئے ائیرپورٹ پر دوران چیکینگ پکڑی گئی ،کیس عدالت میں زیرِسماعت ہے۔ ملزمہ کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا ہےاور وہ بیرونِ ملک جا چکی ہیں۔

دوسری طرف غریب کو ریاست انصاف کے وسائل ہی نہیں مہیا کرتی۔ وکیلوں کی بھاری بھرکم فیس اور مقدمات میں طوالت اس قدر بڑھا دی جاتی ہے کہ وہ اپنے حق کی جنگ لڑتے لڑتے ہمت ہار جاتے ہیں۔ اپنی مرضی کی تاریخیں لینا اور اپنا مرضی کا جج مقرر کروانا اور جج سے اپنی مرضی کا فیصلہ لینا یہاں کامیابی سمجھی جاتی ہے۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ نظامِ عدل کو بہتر کرنے کے لیے سفارشات کا مرتب کرے اور  عوام کو سستا انصاف مہیا کرے۔

سعدیہ سرور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ایم ایس سی کر رہی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ پر یہ گہری نظر رکھتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.